Site icon اردو محفل

کتاب العلم باب 25 حدیث نمبر 87

٢٥- باب تحريض النبي صلى الله علیه وسلم وفد عبدالقيس على أن يحفظوا الإيمان والعلم ويخبروا من وراءهم

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عبدالقیس کے وفد کو ایمان اور علم کی حفاظت پر برانگیختہ کرنا اور اپنے پیچھے چھوڑے ہوۓ لوگوں کو ان کی خبر دینا

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں سوال اور جواب کا ذکر تھا اور سوال کے جواب میں بھی ایک قسم کے علم پر ترغیب ہوتی ہے اور اس باب میں بھی علم پر ترغیب ہے ۔ امام بخاری کہتے ہیں:

وقال مالك بن الحويرث قال لنا النبي صلى الله عليه وسلم إرجعوا إلى أهليكم فعلموهم۔

اور حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ اور ان کو علم سکھاؤ۔

حضرت مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ کہ اپنی قوم کے چھ افراد کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے پھر اسلام لے آئے اور کافی دن آپ کے پاس رہے، پھر آپ نے ان کو ان کے گھر جانے کی اجازت دے دی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پندرہ احادیث روایت کی ہیں، جن میں سے دو حدیثوں پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں اور ایک حدیث کے ساتھ امام بخاری منفرد ہیں اور یہ حدیث وہ ہے جس پر دونوں متفق ہیں، یہ بصرہ میں رہے اور وہیں ۹۴ ھ میں فوت ہوگئے بہت بڑی جماعت نے ان سے احادیث روایت کی ہیں ۔ ( عمدة القاری ج ۲ ص ۱۴۹ خلاصة الخزرجی ج3 ص 66 )

امام بخاری نے یہاں جو حدیث ذکر کی ہے، وہ ایک حدیث کا قطعہ ہے، مکمل حدیث یہ ہے:

حضرت مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے،  اس وقت ہم، ہم عمر نوجوان تھے  ہم آپ کے پاس بیس راتیں ٹھہرے، پھر آپ نے یہ گمان کیا کہ ہم اپنے گھر والوں کی طرف مشتاق ہور ہے ہیں اور آپ نے ہم سے سوال کیا کہ ہم اپنے گھر میں کن کو چھوڑ کر آۓ ہیں، سو ہم نے آپ کو بتایا اور آپ بہت رفیق اور رحیم تھے، آپ نے فرمایا: تم اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جاؤ اور ان کو تعلیم دو اور ان کو( نیکی کا) حکم دو اور اس طرح نماز پڑھو، جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوۓ دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت آ جاۓ تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جو تم میں سے بڑا ہو وہ نماز کی امامت کرائے ۔

( صحیح بخاری: 6008 – 628 صحیح مسلم : ۶۷۴ سنن ابوداؤد : ۵۸۹ سنن ترمذی: ۲۰۵، سنن نسائی :۹۷۹ – 633 مسند احمد ج ۲ ص 640 )

۸۷- حدثنا محمد بن بشار قال حدثنا غندر قال حدثنا شعبة، عن أبي جمرة قال كنت اترجم بین ابن عباس وبيـن الـنّـاس، فقال إن وفد عبد القيس اتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقال من الوفد او مـن الـقـوم؟ قـالـوا ربيعـة ، فقال مرحبا بالقوم او بالوفد، غير خزايا ولا ندامي، قالوا إنا نأتيك من شقة بعيدة ، وبيننا وبينك هذا الحي من كفار مضر ولا نستطيع أن نأتيك إلا في شهر حرام فمرنا بـامـر نخبر به من وراءنا ندخل به الجنة فـامـرهـم بـاربـع ونهاهم عن أربع أمرهم بالإيمان بالله عزوجل وحـدة قـال هـل تدرون ما الإيمان بالله وحده؟ قالوا الله ورسوله أعلم، قال شهادة ان لا إله إلا الله وأن محمداً رسول اللہ واقام  الصلوة، وإيتاء الـزكـوة، وصوم رمضان، وتعطوا الخمس من المغنم ونهاهم عن الدباء والحنتم والمرقت۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد بن بشار ن حددیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں غندر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ازابی جمرہ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور لوگوں کے درمیان ترجمہ کرتا تھا انہوں نے بیان کیا کہ عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا: یہ کون سا وفد ہے؟ یا یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: ربیعہ آپ نے فرمایا: اس قوم کو خوش آمدید ہو! یا اس وفد کو ! یہ نہ شرمندہ ہیں نہ نادم ہیں! انہوں نے کہا: ہم آپ کے پاس دور دراز کی مسافت سے آۓ ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کا یہ قبیلہ ہے اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینہ میں آنے کی طاقت رکھتے ہیں، آپ ہمیں کوئی جامع حکم بتائیے جس کی ہم اپنے پیچھے چھوڑے ہوۓ لوگوں کو خبر دیں اور اس وجہ سے جنت میں داخل ہوجائیں تو آپ نے ان کو چار کاموں کا حکم دیا اور چار کاموں سے منع فرمایا آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اللہ عز وجل وحدہ پر ایمان لائیں آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اللہ وحدہ پر ایمان لانے کی کیا تعریف ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں آپ نے فرمایا: اس کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور تم مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرو اور آپ نے ان کو کھوکھلے کدو، سبنر گھڑوں اور تارکول ملے ہوۓ برتنوں ( میں نبیذ پینے) سے منع فرمایا ۔

قال شعبة ربما قال النقير. وربما قال المقير قال إحفظوه وأخبروه من وراءكم۔

شعبہ نے کہا: بعض اوقات آپ نے نقیر کہا اور بعض اوقات مقیر کہا( کھوکھلا ) ۔ آپ نے فرمایا: ان باتوں کو یاد رکھو اور اپنے ‏پیچھے چھوڑے ہوۓ لوگوں کو ان کی خبر دو۔

صحیح البخاری: ۵۳ میں اس حدیث کی تخریج اور شرح تفصیل سے بیان کی جا چکی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں ۔

باب کے عنوان سے اس حدیث کی مطابقت بالکل ظاہر ہے ۔

تبلیغ اور تعلیم کے فرض عین اور فرض کفایہ ہونے کا محمل

علامہ ابوالحسن علی بن خلف بن عبدالملک ابن بطال البکری القرطبی المالکی المتوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ جس شخص کو کسی چیز کا علم حاصل ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ ان لوگوں کو اس کی تعلیم دے، جن کو اس کا علم نہیں ہے اور اب تعلیم دینا فرض کفایہ ہے، کیونکہ اب مکمل اسلام پھیل چکا ہے اور ابتداء اسلام میں جس شخص کو دین کی کسی بات کا علم ہوتا اس پر دوسروں کو اس کی تعلیم دینا فرض عین تھا، حتی کہ اسلام مشارق اور مغارب میں پھیل گیا اور اس کا تمام ادیان پر غلبہ ہوگیا جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اللہ تعالی کی نافرمانی کے عذاب سے ڈرایا تھا اسی طرح ابتداء اسلام میں علماء پر فرض عین تھا کہ وہ لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں ۔

اپنے ماتحت اور زیر اثر لوگوں کو نیک اعمال کی تلقین کا لزوم

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مؤمن پر لازم ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو تعلیم دے اور ان کو فرائض سکھاۓ کیونکہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ اپنے پیچھے چھوڑے ہوۓ لوگوں کو ان کی خبر دو اور قرآن مجید میں ہے:

قوا أنفسكم وأهليكم نارا. (التحريم:6)

تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔

اور اس وجہ سے بھی کہ انسان اپنے گھر والوں کے اعمال کا محافظ ہے اور اس سے ان کے اعمال کے متعلق سوال کیا جاۓ گا اور

اس حدیث میں خبر واحد کے حجت ہونے کا بھی ثبوت ہے ۔

کتاب الایمان‘‘ کے آخر میں باب’’ اداء الخمس من الايمان ‘‘ میں وفد عبدالقیس کی حدیث :۵۳ میں اس حدیث کی مفصل شرح گزرچکی ہے اور اب اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے ۔۔

(شرح صحیح البخاری لابن بطال ج ۱ ص ۱۵۴ دارالکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۴ھ )          ‏

Exit mobile version