Site icon اردو محفل

کتاب العلم باب 32 حدیث نمبر 98

32- باب عظة الامام النساء وتعلیمھن

امام کا خواتین کو نصیحت کرنا اور ان کو تعلیم دینا

امام خواتین کو اخروی انجام کی یاد دلاۓ اور ان کو دین کے احکام اور عقائد اور مسائل کی تعلیم دے اور ادب سکھاۓ اور خصوصاً ان کو عورتوں کے مخصوص مسائل کی تعلیم دے۔

اس باب کی باب سابق کے ساتھ اس طرح مناسبت ہے کہ باب سابق میں یہ ذکر تھا کہ ایک شخص اپنی باندی اور بیوی کو تعلیم دے اور اس باب میں یہ ذکر ہے کہ امام عام خواتین کو تعلیم دے، لہذا باب سابق میں خاص تعلیم کا ذکر تھا اور اس باب میں عام تعلیم کا  ذکر ہے اور امام سے مراد ملک یا شہر کا سربراہ ہے یا شہر کا قاضی یا مفتی یا علاقہ کا بڑا عالم دین ۔

۹۸- حدثنا سليمان بن حرب قال حدثنا شعبة ،عن أيوب قال سمعت عطاء قال سمعت ابن عباس قال أشهد على النبي صلى الله عليه وسلم ، اوقال عطاء اشهد على ابن عباس أن رسول اللہ صلّی الله عليه وسلم . خرج ومعه بلال، فظن انه لم یسمع النسـاء فـوعـظـهـن وأمرهن بالصدقۃ فجعلت المرأة تلقي القرط والخاتم ، وبلال يأخذ في طرف ثوبه.

 

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سلیمان بن حرب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از ایوب انہوں نے کہا: میں نے عطاء سے سنا انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے کہا : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے متعلق شہادت دیتا ہوں یا عطاء نے کہا: میں حضرت ابن عباس کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور آپ کے ساتھ حضرت بلال تھے آپ نے یہ گمان کیا کہ آپ نے خواتین کو وعظ نہیں سنایا ہے، تو آپ نے ان کو وعظ کیا اور ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، پھر خاتون اپنے کانوں کی بالیاں اور انگوٹھی (حضرت بلال کی جھولی میں) ڈالتی اور حضرت بلال کپڑے کی ایک طرف کو پکڑے ہوۓ تھے۔

 

وقال إسماعيل عن أيوب، عن عطاء، وقال عن ابن عباس أشهد على النبي صلى الله عليه وسلم۔

اطراف الحدیث: ۸۲۳ – ۹۲۴-۹۷۵-۹۷۷-۹۷۹-۹۸۹۔۴۸۹۵-۱۴۴۹۱۴۳۱_۵۲۴۹۔۵۵۸۱۔۵۸۸۰۔۵۸۸۳۔۷۳۲۵

اور اسماعیل نے کہا از ایوب از عطاء اور کہا: از ابن عباس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں ۔

( صحیح مسلم : ۸۸۴ سنن ابوداؤد : ۷ ۱۱۴ – 1143 سنن نسائی : ۱۵۸۵ – ج ۳ ص ۱۹۲، سنن ابن ماجه: ۱۲۷۴ مسند ابویعلی :2701 صحیح ابن خزیمہ:1458، مسند الحمیدی:476 ، سنن داری :1611، مسند احمد ج ۱ ص ۳۵۷ طبع قدیم، مسند احمد : ۳۳۵۸۔ ج۵ ص۳۵۹ مؤسسة الرسالۃ بیروت )

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو وعظ کیا اور ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) سلیمان بن حرب الازدی البصری.

(۲) شعبہ بن الحجاج.

(۳)ایوب سختیانی، ان سب کا تعارف ہو چکا ہے.

(۴) عطاء بن ابی رباح مسلم المکی القرشی، حضرت عثمان کی خلافت کے آخر میں پیدا ہوۓ، انہوں نے کہا: میں حضرت عثمان کی شہادت کے وقت سمجھ والا تھا۔ یہ کبار تابعین میں سے تھے اورمفتی تھے ۸۰ سال کی عمر گزارکر ۱۱۵ ھ میں فوت ہوگئے.

(۵) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۱۸۴)

صدقہ کا معنی صدقہ کی اقسام صدقہ کی فضیلت اور عورت کا اپنے مال سے شوہر کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنا

اس حدیث میں صدقہ کرنے کا ذکر ہے جو مال ثواب آخرت کے لیے خرچ کیا جاۓ وہ صدقہ ہے زکوۃ، قربانی اور نذر معین صدقہ واجب ہے اس کے علاوہ صدقات نافلہ ہیں، اس حدیث میں صدقات نافلہ کا ذکر ہے ۔

نیز اس حدیث میں’’ الفرط‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے : کانوں میں پہننے والی بالیاں خواہ سونے کی ہوں یا چاندی کی ۔ 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو صدقہ کرنے کا حکم اس لیے دیا کہ آپ نے اکثر خواتین کو دوزخ کے عذاب میں دیکھا تھا، حدیث میں

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر یا عیدالاضحٰی میں عیدگاہ گئے آپ خواتین کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: اے خواتین کی جماعت ! صدقہ کیا کرو کیونکہ مجھے دکھایا گیا ہے تم میں سے اکثر اہل دوزخ ہو ۔

( صحیح البخاری : ۳۰۴ صحیح مسلم : ۷۹ سنن ابوداؤد:4679 سنن نسائی: 1572 سنن ابن ماجه: ۱۲۸۸)

دوسری وجہ یہ ہے کہ اس وقت مسلمان بہت تنگی اور غربت کا شکار تھے اور ان کو مدد کی ضرورت تھی ۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نفلی صدقہ میں ایجاب اور قبول کی ضرورت نہیں ہوتی ، حضرت بلال اپنی جھولی پھیرتے جاتے تھے اور خواتین سے کچھ کہے بغیر ان کے سامنے سے گزرتے اور وہ اس میں اپنے زیورات ڈال دیتیں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صدقات عامہ کو سربراہ ملک اپنی صواب دید سے خرچ کرتا ہے اور یہ کہ صدقات دوزخ سے نجات کا سبب بن جاتے ہیں اور اس میں یہ بھی دلیل ہے کہ عورت اپنے مال کو شوہر کی اجازت کے بغیر صدقہ کرسکتی ہے۔ اس پر اعتراض ہے کہ اس کے معارض یہ احادیث ہیں:

عورت کے اپنے مال سے شوہر کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنے کی ممانعت میں احادیث

عمرو بن شعیب اپنے والد ( شعیب) سے اور وہ اپنے دادا ( حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ )سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کسی عورت کا شوہر اس کی عصمت اور اس کی حفاظت کا مالک ہو تو اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مال میں کوئی حکم نافذ کرے۔

( سنن ابوداؤد :٬3546 سنن نسائی :3765، سنن بیہقی ج 6 ص 60،  المستدرک ج ۲ ص ۴۷، کنزالعمال : ۴۴۷۸۳)

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا جائز نہیں ہے۔ (سنن ابوداؤد : ۴۵۴۷ سنن نسائی: ۲۵۳۹ مسند احمد ج ۲ ص ۲۰۷، سنن بیہقی ج 6 ص 60، الترغیب والترہیب ج ۲ ص 60 شرح السنۃ ج ۴ ص ۴۱۷ کنز العمال :۱۴۵۷۹)

احادیث مذکورہ کے جوابات

(۱) جس حدیث سے ہم نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ عورت اپنے مال سے شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ کر سکتی ہے وہ صحیح بخاری‘‘ کی حدیث ہے اور اس کے خلاف جو احادیث میں وہ سنن کی احادیث ہیں اور وہ صحیح بخاری‘‘ سے معارضہ کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

(۲) سنن کی مذکورہ احادیث اگر صحیح ہوں تو وہ اس پر محمول ہیں کہ افضل اور اولی یہ ہے کہ عورت اپنے مال میں سے بھی شوہر کی اجازت سے خرچ کرے اور اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرنا اگر چہ جائز ہے، مگر خلاف اولی ہے۔

(۳) عورت اپنے مال کے تہائی حصہ کو شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ کرسکتی ہے اور صحیح البخاری‘‘ کی یہ حدیث اس پر محمول ہے اور اپنے کل مال کو شوہر کی اجازت کے بغیر خرچ نہیں کر سکتی جس طرح وصیت میں ہوتا ہے اور سنن کی احادیث اسی پر محمول ہیں ۔

(۴) جس طرح شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر عورت کے لیے روزہ رکھنا جائز نہیں ہے لیکن اگر اس نے روزہ رکھ لیا تو وہ روزہ ہوجاۓ گا اسی طرح شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کا اپنے مال سے صدقہ کرنا جائز نہیں ہے لیکن اگر اس نے صدقہ کردیا تو وہ ادا ہو جائے گا اس طرح اگر وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلی اور خرید و فروخت کی تو اس کا بھی یہی حکم ہے ۔

عورت کے اپنے مال میں آزادانہ تصرف کرنے کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیات

قرآن مجید کی متعدد آیات سے ثابت ہے کہ اللہ تعالی نے عورت کو اپنے مال میں تصرف کرنے کی اجازت دی ہے:

وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن وقد فرضتم لهن فريضة فنصف ما فرضتم إلا أن يعفون۔(البقرہ:237)

اگر تم عورتوں کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دو اور تم ان کا مہر مقرر کرچکے ہو تو مقررہ مہر کا نصف ان کو دے دو یہ اور بات ہے کہ وہ اس نصف مہر کو بھی از خود معاف کردیں ۔

یعنی عورت اپنے مال ( نصف مہر) میں اپنی مرضی سے تصرف کر کے اپنے سابق شوہر کو دے سکتی ہے ۔

واتوا النساء صدقتهن نحلة فإن طبن لكم عن شيء منه نفسا فكلوه هنيئا مريئا(النساء:۴)

 اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دو ہاں! اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کی کچھ رقم چھوڑدیں تو اس کو خوشی خوشی کھالوں یعنی عورتیں اپنے مہر کے مال میں سے اپنی مرضی سے تصرف کر سکتی ہیں ۔

فلا جناح عليهما فيما افتدت به. (البقره:۲۲۹)

اگر عورت خلع حاصل کرنے کے لیے اپنے مال میں سے کچھ

فدیہ دے تو شوہر اور عورت پر کچھ حرج نہیں ہے ۔

ان تمام آیات سے واضح ہوتا ہے کہ عورت اپنے مال میں اپنی مرضی سے تصرف کر سکتی ہے اور سنن کی مذکور الصدر احادیث چونکہ ان آیات کے خلاف ہیں اس لیے وہ معلل ہیں اور حدیث معلل ضعیف ہوتی ہے اس لیے’’صحیح بخاری‘‘ کی حدیث صریح کے مقابلہ میں ان کو ترک کر دیا جاۓ گا۔

عورت کے اپنے مال میں آزادانہ تصرف کرنے کے ثبوت میں احادیث صحیحہ

اسی طرح سنن کی یہ احادیث درج ذیل احادیث صحیحہ کے بھی خلاف ہیں:

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھ سے نبی ﷺ نے فرمایا: تم اپنی تھیلی کو باندھ کر نہ رکھو ورنہ تمہارے لیے بھی تھیلی کو باندھ دیا جاۓ گا ۔ ( صحیح البخاری: ۱۴۳۳ )

دوسری روایت میں فرمایا: تم گن گن کر نہ دو، ورنہ اللہ بھی تم کو گن گن کر دے گا ۔

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: تم جمع نہ کرو، ورنہ اللہ بھی تم پرجمع کرے گا، تم جتنا خرچ کر سکتی ہو خرچ کرو ۔ ( صحیح البخاری: ۱۴۳۴ صحیح مسلم :٬۱۰۲۹ سنن نسائی: ۷ ۲۵۴)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ھند بنت عتبہ بنت ربیعہ آئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ ! بے شک ابوسفیان کم خرچ ہیں کیا مجھ پر کوئی حرج ہے اگر میں ان کے مال سے اپنے عیال ( بچوں) کو کھلاؤں؟ آپ نے فرمایا: تم پر کوئی حرج نہیں ہے اگر تم دستور کے مطابق ان کو کھلاؤ ۔ ( صحیح البخاری: 2460، صحیح مسلم : ۱۴ ۱۷ سنن ابوداؤد : ۱۳۵۳۳ سنن نسائی : ۵۴۳۵ مسند احمد ج6 ص۳۹)

جب شوہر کے مال سے بھی عورت اس کی اجازت کے بغیر خرچ کر سکتی ہے تو اپنے مال سے تو، بہ طریق اولی خرچ کر سکتی ہے ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے مسلمان عورتو! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کی دی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کے کھر کا کنارہ ہو ۔ ( صحیح البخاری: 6017 )

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی عورت اپنی پڑوسن کو شوہر کی اجازت کے بغیر بھی کوئی ہدیہ دے سکتی ہے ۔

ان احادیث صحیحہ سے واضح ہوگیا کہ عورت شوہر کی اجازت کے بغیر شوہر کے مال میں بھی تصرف کر سکتی ہے اور اپنے مال میں  بھی تصرف کرسکتی ہے اور ’’ سنن ابوداؤد ‘‘اور’’ سنن بیہقی‘‘ کی مذکور الصدر احادیث چونکہ ان احادیث صحیحہ کے خلاف ہیں اس لیے وہ معلل اورضعیف ہیں اور وہ ان احادیث صحیحہ سے معارضہ کی صلاحیت نہیں رکھتیں ۔

اس حدیث میں عورتوں کو تعلیم دینے کا بھی ثبوت ہے اس مسئلہ پر ہم نے شرح صحیح مسلم میں بہت تفصیل سے لکھا ہے دیکھئے:

شرح صحیح مسلم:7387 ۔ ج ۷ ص ۹۷۲۔ ٬۹۵۲ اس کے بعض عنوان یہ ہیں:

(0) تعلیم نسواں اور عورتوں کے لکھنے کے متعلق خصوصی احادیث

(۲) عورتوں کے لکھنے کے جواز پر فقہاء اسلام کی تصریحات

(۳) مانعین کے شبہات اور ان کے جوابات ۔

* باب مذکور کی حد میث شرح صحیح مسلم : ۱۹۴۲ ۔ ج ۲ ص 662 پر مذکور ہے وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی ۔

 

Exit mobile version