اس آیت میں فرمایا ہے : اللہ کے بندے اس چشمہ سے پئیں گے اور اس میں ” عباد صالحین “ نہیں فرمایا، اس کا مطلب ہے : اللہ تعالیٰ کے تمام بندے اس چشمے سے پئیں گے خواہ وہ دنیا میں نیک رہے ہوں یا نہ رہے ہوں، البتہ کفار اس چشمہ سے بالا تفاق نہیں پئیں گے، اس سے واضح ہوا کہ ” عباد اللہ “ کا لفظ مؤمنین کے ساتھ خاص ہے، اسی طرح قرآن مجید میں جو ارشاد ہے :” ولا یرضی لعبادہ الکفر “ ( الزمر : ٧) اس آیت میں بھی ” عباد اللہ “ کا لفظ کفار کو شامل نہیں ہے اور اس کا معنی ہے : اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے کفر کے صدور پر راضی نہیں ہوتا