اِنَّ الۡاَبۡرَارَ يَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ كَاۡسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوۡرًاۚ – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Thursday، 26 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ الۡاَبۡرَارَ يَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ كَاۡسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوۡرًاۚ ۞
ترجمہ:
بیشک نیکو کار ایسے مشروب کے جام پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہے۔
الدھر : ٥ میں فرمایا : بیشک نیکو کار ایسے مشروب کے جام پئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہے۔
دنیا کے کافور اور جنت کے کافور کا فرق
اس آیت میں ” ابرار “ کا لفظ ہے، یہ ” بر “ کی جمع ہے، جیسے ” رب “ کی جمع ” ارباب “ ہے ” بر “ کا معنی ہے : نیک کام کرنے والا، اور اس میں ’ ’ کاس “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : گلاس، جام، آب خورہ۔
اس آیت پر ایک یہ سوال ہوتا ہے کہ اس میں فرمایا ہے کہ جنت کا مشروب کا فور کے ساتھ ملا ہوا ہوگا حالانکہ کا فور کا ذائقہ تلخ اور کڑروا ہوتا ہے تو جس مشروب میں کافور ملا ہوگا وہ لذیز نہیں ہوگا، اس کے حسب ذیل جوابات ہیں :
(١) کافور کا نام جنت میں ایک چشمہ ہے، جس کا پانی کافور کی طرح سفید ہوگا اور اس کی تاثیر کافور کی طرح ٹھنڈی ہوگی لیکن اس کا ذائقہ تلخ نہیں ہوگا بلکہ شریں ہوگا، اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جنت میں نیک لوگوں کو ایسا مشروب پلایا جائے گا جس میں کافور کے چشمہ کا پانی ملا ہوا ہوگا۔
(٢) اللہ تعالیٰ جنت کے چشمہ میں کافور کی خوشبو پیدا کر دے گا اور اس کا ذائقہ شیریں اور لذیز ہوگا اور کافور کی خوشبہ سے اس چشمہ کا نام کافورہو گا۔
القرآن – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 5
[…] آیت اِنَّ الۡاَبۡرَارَ يَشۡرَبُوۡنَ مِنۡ كَاۡسٍ كَانَ مِز… میں اور اس آیت میں فرق یہ ہے کہ ان بندوں کی اپنے مشروب […]