٣٦- باب من سمع شيئا فراجعه حتى يعرفه
جس نے کسی بات کو سنا، پھر بات کرنے والے کی طرف رجوع کیا، حتی کہ اس بات کو سمجھ لیا
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں عورتوں کو تعلیم دینے کا ذکر تھا اور عورتوں کی عقل میں کچھ کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات انہیں عالم کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور اس باب میں یہی بیان کیا ہے کہ جب عالم کی بات سمجھ میں نہ آۓ تو پھر اس کی طرف رجوع کیا جاۓ ۔
۱۰۳- حدثنا سعيد بن أبي مريم قال أخبرنا نافع بن عمر قال حدثني ابن أبي مليكة أن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم كانت لاتسمع شيئا لا تعرفه، إلا راجعت فيه حتى تعرفة ، وأن النبي صلى الله عليه وسلم قال من حوسب عذب قالت عائشة فقلت أوليس يقول الله تعالى (فسوف يحاسب حسابا يسيرا»؟ (الانشقاق:۸ ) قالت فقال إنما ذلك العرض، ولكن من نوقش الحساب يهلك.اطراف الحدیث :۴۹۳۹-6536۔ 6537
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سعید بن ابی مریم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں نافع بن عمر نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے ابن ابی ملیکہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ، جب بھی کسی بات کو سنتیں، جو ان کو سمجھ نہ آتی تو وہ اس میں رجوع کرتیں حتی کہ اس کو سمجھ لیتیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص سے حساب لیا گیا، اس کو عذاب دیا گیا’ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: کیا اللہ تعالی نے قرآن میں یہ نہیں فرمایا: ’’ پس عنقریب آسان حساب لیا جاۓ گا‘‘؟ ( الانشقاق:8 ) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: یہ تو صرف حساب کو پیش کرنا ہے، لیکن جس سے حساب میں جرح کی گئی، وہ ہلاک ہو جاۓ گا۔
صحیح مسلم : 2876، سنن ابوداود : ۰۹۳ ۳ سنن ترمذی:3337۔ 2426، سنن الکبری للنسائی 11659، مصنف ابن ابی شیبه ۱۳ ص 248، صحیح ابن حبان:ا۷ ۷۳ ۔ 7369 الزهد لابن المبارک:۱۹ ۱۳ مسند اسحاق بن راهویه:۱۲۴۹، شعب الایمان:269، المستدرک ج ۴ ص۵۸۰ المعجم الاوسط :8590، مسند احمد ج 6 ص ۴۷ طبع قدیم مسند احمد :۲۴۲۰۰۔ ج 40 ص 236 مؤسسة الرسالة بیروت
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں مذکور ہے کہ جب حضرت عائشہ کو، کوئی بات سمجھ نہ آتی تو وہ اس میں رجوع کرتی تھیں ۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) سعید بن ابی مریم المصری ،انہوں نے امام مالک وغیرہ سے سماع کیا ہے اور ان سے امام بخاری وغیرہ نے سماع کیا ہے ابوحاتم راوی نے کہا: یہ ثقہ ہیں ابن معین نے کہا: یہ ثقہ الثقات ہیں یہ ۲۲۴ھ میں فوت ہو گئے تھے.
( ۲ ) نافع بن عمر بن عبد اللہ القرشي الجمحی المکی، امام احمد بن حنبل نے کہا: یہ ثبت صحیح الحدیث ہیں، یحیی بن معین نے کہا: یہ ثقہ ہیں یہ 169ھ میں مکہ میں فوت ہوگئے تھے بہت بڑی جماعت نے ان سے احادیث روایت کی ہیں.
(۳) عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ.
( ۴ ) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص۲۰۵)
جس سے حساب لیا گیا، اس کو عذاب دیا گیا‘ کے دو محمل
اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس شخص سے حساب لیا گیا اس کو عذاب دیا گیا، اس کے دو معنی ہیں: ایک یہ کہ جس دن انسان کے سامنے اس کے گناہ پیش کیے جائیں گے اور اس کو اس کے کیے ہوئے برے کاموں پر مطلع کیا جاۓ گا یہ اس کے لیے سخت عذاب اور مذمت کا باعث ہے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ اس کا حساب لینا اس کے عذاب کے استحقاق کی طرف پہنچاتا ہے کیونکہ بندہ جو بھی نیکی کرتا ہے، وہ اللہ تعالی کے فضل سے اور اس کی توفیق سے کرتا ہے اور نیکی پر اس کے ہدایت دینے اور قدرت دینے سے کرتا ہے اور بندہ کے ایسے اعمال بہت کم ہیں، جو اس نے اخلاص سے اللہ کے لیے کیے ہوں۔
اور فرمایا: اس پر جو حساب پیش کیا جاۓ گا، وہ آسان ہے یعنی وہ بہت سہل ہے، اس میں کوئی جرح نہیں ہوگی اور اس میں اس پر کوئی ایسا اعتراض نہیں ہوگا جو اس پر دشوار ہو ۔
اگر یہ سوال کیا جاۓ کہ حدیث اور آیت میں کیا تعارض ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث میں عام حکم بیان کیا گیا ہے کہ جس سے بھی حساب لیا گیا اس کو عذاب دیا گیا اور آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ ان میں سے بعض کو عذاب نہیں ہوگا اور یہ وہ لوگ ہیں جو اصحاب الیمین ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ آیت میں حساب سے مراد عرض ہے، یعنی حساب کا پیش کرنا اور اس کا اظہار کرنا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بندہ کو اس کے گناہوں کی پہچان کرائی جائے گی پھر اس سے درگزر کرلیا جائے گا ۔
جس سے حساب لیا گیا، اس کو عذاب کیسے ہوگا؟
نیز اس حدیث میں فرمایا: جس سے حساب میں مناقشہ کیا گیا۔ اس کو عذاب دیا گیا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ بندوں پر تقصیر غالب ہے پس جس سے پورا پورا حساب لیا گیا اور اس کو چھوٹ نہیں دی گئی وہ ہلاک ہوگیا اور اس کو دوزخ میں داخل کر دیا جاۓ گا لیکن اللہ تعالی شرک کے سوا باقی گناہوں کو جس کے لیے چاہے گا معاف فرما دے گا۔ ایک قول یہ ہے کہ حساب میں مناقشہ کرنا بجاۓ خود عذاب ہے کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے : جس سے حساب لیا جاۓ گا اس کو عذاب دیا جاۓ گا اور اس کی توجیہ یہ ہے کہ حساب کے مطالبہ سے جو نفس کو وحشت اور اذیت ہوگی، وہ بھی ایک قسم کا عذاب ہے۔
مسائل کی تحقیق میں حدیث پر قرآن سے معارضہ کرنے اور مناظرہ کا جواز
اس حدیث میں حضرت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا ثبوت ہے اور مسائل کی تحقیق میں ان کی حرص کا بیان ہے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر جب حضرت عائشہ نے قرآن مجید کی ایک آیت سے معارضہ کیا تو آپ اس سے ناراض نہیں ہوۓ بلکہ آپ نے قرآن مجید کی اس آیت کا محمل بیان فرمایا کہ اس آیت میں آسان حساب لینے سے مراد حساب کو پیش کرنا ہے اس سے معلوم ہوا کہ جب شاگرد استاذ پر اعتراض کرے تو استاذ کو ناراض نہیں ہونا چاہیے اور شاگرد کے اعتراض کو دور کرنا چاہیے ۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن حساب و کتاب ہوگا اور عذاب بھی ہوگا اور عذاب میں لوگوں کے مختلف درجات ہوں گے ۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ علمی مسائل میں مناظرہ کرنا اور حدیث پر قرآن مجید سے معارضہ کرنا جائز ہے ۔
باب مذکورہ کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۷۰۹۷ ۔ ج ۷ ص ۷۰۳ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی ۔
