١١٤- حدثنا يحيى بن سليمان قال حدثني ابن وهب قال أخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عبيدالله بن عبدالله، عن ابن عباس قال لما اشتد بالنبي صلى الله عليه وسلم وجعہ قال إنتوني بكتاب اكتب لكم كتابا لا تضلوا بعدہ قال عمر ان النبی صلى الله عليه وسلم غلبه الوجع، وعندنا كتاب الله حسبنا. فاختلفوا وكثر اللغط قال قوموا غنی ولا ينبغي عندي التنازع فخرج ابن عباس يقول إن الرزية كل الرزية ما حال بين رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم وبين كتابه [ اطراف الحديث : ۳۰۵۳۔3168۔– ۔4431۔4432۔5669۔7366۔]
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحیی بن سلیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے ابن وہب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے یونس نے خبر دی از ابن شہاب از عبیداللہ بن عبدالله از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا درد بہت زیادہ ہو گیا تو آپ نے فرمایا: میرے پاس کتاب ( کاغذ ) لاؤ میں تمہارے لیے ایسا مکتوب لکھ دوں، جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہوگے، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے کہا: بے شک نبی ﷺ پر درد کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس کتاب اللہ ہے، جو ہمیں کافی ہے، پھر صحابہ میں اختلاف ہوا اور کافی شور ہو گیا آپ نے فرمایا: میرے پاس سے اٹھ جاؤ میرے پاس اختلاف نہیں کرنا چاہیے پھر حضرت ابن عباس یہ کہتے ہوۓ باہر آۓ: بے شک سب سے بڑی مصیبت وہ تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لکھنے کے درمیان حائل ہوگئی تھی۔
صحیح مسلم : 1637، الرقم مسلسل :4156 – 4155- 4154 السنن الکبری للنسائی : ۵۸۵۷ – ۵۸۵۴ – ۵۸۵۲ مسند احمد ج۱ ص۳۲۵ طبع قدیم مسند احمد :۲۹۹۰۔ ج ۵ ص ۱۳۵
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت ظاہر ہے، کیونکہ اس حدیث میں لکھنے کا ذکر ہے۔
مشکل الفاظ کے معانی
اس حدیث میں ’’اللغط ‘‘ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے: بلند آوازیں، شور ۔لیث نے کہا: اس کا معنی ہے : مبہم آوازیں جن کا کوئی مطلب سمجھ میں نہ آۓ’’الرزية‘‘ کا معنی ہے: مصیبت ۔
اس حدیث میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا درد بہت زیادہ ہو گیا، اس درد سے مراد ہے: مرض الموت، صحیح بخاری میں سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ یہ آپ کی وفات سے چار روز پہلے جمعرات کا دن تھا۔ ( صحیح البخاری: ۳۰۵۳۔ ۳۱۶۸)
علامہ ابن بطال مالکی کی حضرت عمر کی طرف سے تو جیہات
علامہ ابوالحسن علی بن خلف بن عبدالملک ابن بطال البکری القرطبی المالکی المتوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس کاغذ قلم لاؤ، میں تمہارے لیے ایسا مکتوب لکھ دوں، جس کے بعد تم گم راہ نہیں ہوگے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کہا: ہمیں کتاب اللہ کافی ہے ۔
حضرت عمر کے اس قول سے حضرت عمر کی دین میں فقہ معلوم ہوتی ہے اور ان کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، کیونکہ ان کو یہ خطرہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے امور لکھ دیں گے، جن پر عمل کرنے سے وہ عاجز ہوں گے اور عمل نہ کرنے کی وجہ سے پھر عذاب کے مستحق ہوں گے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں کتاب اللہ کافی ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے:
ما فرطنا في الكتب من شيء. ( الانعام :۳۸)
ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی ۔
اليوم أكملت لكم دينكم (المائدہ:۳)
آج ہم نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیا ۔
حضرت عمر نے جان لیا تھا کہ اللہ تعالی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اس وقت تک قبض نہیں کرے گا، جب تک آپ کے دین کو کامل نہیں کر دے گا اور جب اللہ تعالی نے یہ بتا دیا کہ اس نے اپنی کتاب میں کسی چیز کونہیں چھوڑا اور دین کو کامل کر دیا ہے تو حضرت عمر نے ان آیتوں پر قناعت کر لی اور چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض شدید تھا اور آپ پر درد کا غلبہ تھا اس لیے انہوں نے آپ کو زحمت اور مشقت میں ڈالنا مناسب نہیں سمجھا۔ پس حضرت عمر، حضرت ابن عباس سے زیادہ فقیہ تھے کیونکہ انہوں نے اس کو کافی سمجھا کہ دین مکمل ہو چکا ہے اور حضرت ابن عباس نے دین کے کامل ہونے کو کافی نہیں سمجھا، اس لیے انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی مصیبت وہ تھی جو آپ کے لکھنے کے درمیان حائل ہوگئی ۔ ( شرح ابن بطال ج ۱ ص ۱۸۰ دارالکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۴ ھ )
علامہ ابن بطال مالکی کی توجیہات پر مصنف کا تبصرہ
علامہ بن بطال کی لکھی ہوئی آخری توجیح صحیح ہے اور ان کی پہلی توجیح صحیح نہیں ہے، جس میں انہوں نے یہ کہا ہے کہ ان کو یہ خطرہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے امور لکھ دیں گے، جن پر عمل کرنے سے وہ عاجز ہوں گے اور عمل نہ کرنے کی وجہ سے پھر عذاب کے مستحق ہو گے۔
حضرت عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ گمان کیسے کر سکتے تھے، جب کہ ان کو معلوم تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر آسانی چاہتے ہیں اورامت کا مشقت میں پڑنا آپ کو ناگوار ہے قرآن مجید میں ہے:
لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ماعنتم حريص عليكم بالمؤمنين رءوف رحيم 0 ۔(التوبہ: 128)
تمہارے پاس تمہاری جنس سے ایسے عظیم رسول آچکے ہیں جن کو تمہارا مشقت میں پڑنا بہت گراں گزرتا ہے اور جو تمہاری آسانی پر حریص ہیں اور مؤمنوں پر بہت شفیق اور مہربان ہیں ۔
اسی طرح احادیث میں بھی یہ تصریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کا مشکل کاموں میں پڑنا دشوار تھا ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز میں مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔ ( صحیح البخاری: 887، صحیح مسلم : ۲۵۲ سنن ابن ماجه : ۶۹۰ )
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں کسی لشکر کے پیچھے نہ بیٹھتا۔ (صحیح البخاری:36، صحیح مسلم :۶ ۷ ۱۸ سنن نسائی : ۵۰۲۹ ، سنن ابن ماجہ : ۲۷۵۳، مسند احمد ج ۲ ص ۳۹۹)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں ان کو حکم دیتا کہ وہ عشاءکو تہائی رات تک یا آدھی رات تک مؤخر کریں ۔ ( سنن ترمذی: ۱۶۷، سنن ابن ماجه :69 مسند احمد ج ۲ ص۲۵۰)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو نکلے اور آپ نے مسجد میں نماز پڑھی صحابہ نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی صحابہ نے دوسروں سے یہ واقعہ بیان کیا تو اگلی رات بہت صحابہ جمع ہوگئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی پھر انہوں نے صبح کو یہ بیان کیا تو تیسری رات بہت زیادہ اصحاب جمع ہو گئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور چوتھی رات اتنے اصحاب جمع ہوگئے کہ مسجد میں سما نہیں سکتے تھے، اس رات آپ نماز پڑھنے نہیں آۓ نماز فجر کے بعد آپ نے فرمایا: نماز کے لیے تمہارا شوق مجھ سے مخفی نہ تھا، لیکن مجھے یہ خطرہ ہوا کہ یہ نماز (تراویح) تم پر فرض کردی جاۓ گی پھر تم اس کو ادا کرنے سے عاجز ہوجاؤگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی اور تراویح کا معاملہ اسی طرح رہا۔
( صحیح البخاری: ۲۰۱۲ مسلم :761 سنن ابوداؤد : ۱۳۷۳ سنن نسائی : 1603، سنن ابن ماجه : 1327 )
اسی طرح اور بہت احادیث ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم امت کے لیے آسانی چاہتے تھے اور امت پر مشقت والی عبادات کو ناپسند کرتے تھے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کیسے یہ خطرہ ہوسکتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم امت کے لیے ایسے پر مشقت کام لکھ دیں گے، جن کے ادا کرنے سے وہ عاجز ہوں گے ۔
علامہ ابن جوزی حنبلی کی حضرت عمر کی طرف سے توجیہات
علامہ عبد الرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ۵۹۷ھ لکھتے ہیں :
علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا لکھ کردینا چاہتے تھے، ایک قول یہ ہے کہ آپ یہ تصریح کرنا چاہتے تھے کہ آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا اور دوسرا قول یہ ہے کہ آپ ان کو ایسے احکام لکھ کردینا چاہتے تھے جن کی وجہ سے کوئی اختلاف نہ رہتا لیکن پہلا قول زیادہ مشہور ہے ۔
حضرت عمر نے کہا: ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے جو ہمیں کافی ہے ۔ علامہ خطابی نے اس کی وضاحت میں کہا: حضرت عمر نے یہ اس لیے کہا تھا کہ اگر آپ نے کسی ایسی چیز کی تصریح کر دی جس سے اختلاف زائل ہو جاۓ تو پھر علماء کی فضیلت نہیں رہے گی اور اجتہاد نہیں ہوسکے گا۔ علامہ خطابی کی یہ وضاحت دو وجہوں سے غلط ہے: (۱) ایک تو اس لیے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ حضرت عمر کی راۓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی راۓ سے بہتر تھی اور ایسا کہنا بداہتہ باطل ہے (۲) دوسرا اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی ایک چیز یا چند چیزوں کا تعین کردیتے تو اس سے اجتہاد باطل نہیں ہوتا کیونکہ حوادث اتنے زیادہ ہیں ان کا حصر نہیں کیا جاسکتا، بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خطرہ تھا کہ آپ پر مرض کا غلبہ ہے، کہیں آپ اس حالت میں کوئی ایسی بات نہ لکھوادیں جو عقل کے خلاف ہو اور اگر صحابہ کو یہ یقین ہوتا کہ آپ کو افاقہ ہے تو وہ سب آپ کے حکم کی تعمیل میں سبقت کرتے اس پر قرینہ یہ ہے کہ بعض روایات میں ہے:
’’اتراہ یھجر ‘‘ کیا تمہارے خیال میں آپ بے ربط باتیں کر رہے ہیں؟ یعنی جس طرح مریض غلبۂ مرض کی وجہ سے بے تکی اور اول فول باتیں کرتا ہے۔ یہ استفہام انکاری ہے، یعنی آپ کا کلام بے ربط اور بے معنی نہیں ہے ۔
( کشف مشکل ج۱ ص ۱۱۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )
علامہ ابن جوزی حنبلی کی توجیہات پر مصنف کا تبصرہ
علامہ ابن جوزی نے جو حضرت عمر کی طرف سے یہ توجیہ کی ہے کہ حضرت عمر کو یہ خطرہ تھا کہ کہیں آپ بیماری کے حال میں ایسی بات نہ لکھ دیں جو خلاف عقل ہو، یہ توجیہ علامہ خطابی کی توجیہ سے بھی زیادہ بعید ہے حضرت عمر نے جو کہا تھا کہ ہمیں کتاب اللہ کافی ہے انہوں نے اس قول سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا تھا اور نہ ان کو یہ خطرہ تھا کہ آپ بیماری کے حال میں کوئی خلاف عقل یا غلط بات لکھ دیں گے، بلکہ وہ آپ کو اس تکلیف میں لکھنے کی مشقت سے بچانا چاہتے تھے اور ان کی راۓ یہ تھی کہ آپ کا یہ حکم وجوبی نہیں ہے بلکہ بہ طور استحباب ہے اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ آپ نے کا کاغذ قلم منگوانے پر اصرار نہیں کیا اور اس کے بعد آپ چار دن تک ظاہرا حیات رہے مگر آپ نے دوبارہ کاغذ اور قلم لانے کا حکم نہیں دیا، اور چونکہ آپ نے حضرت عمر کے قول کا رد نہیں فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ آپ کے نزدیک حضرت عمر کا قول صحیح تھا ۔
اهجر‘‘ کی تحقیق
علامہ ابن جوزی نے کہا ہے کہ بعض روایات میں اھجر ‘‘ کے الفاظ ہیں وہ حد یث یہ ہے:
حضرت ابن عباس نے کہا کہ جمعرات کا دن اور کیسا (اندوہ ناک ) تھا، جمعرات کے دن ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا درد بہت سخت ہو گیا۔ آپ نے فرمایا: مجھے ( کاغذ قلم ) لاکر دو میں تمہیں ایسا مکتوب لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی بھی گمراہ نہیں ہوگے پھر صحابہ میں اختلاف ہوگیا اور نبی کے پاس اختلاف نہیں کرنا چاہیے صحابہ نے کہا: آپ کا کیا حال ہے؟’’اھجر ‘‘ کیا آپ بے ربط باتیں کر رہے ہیں آپ سے پوچھ لو، پھر صحابہ آپ کی طرف لوٹنے لگے آپ نے فرمایا: مجھے چھوڑ دو! میں جس حال میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو! اور آپ نے ان کو تین چیزوں کی وصیت کی : (۱) مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو( ۲ ) جو وفد تمہارے پاس آۓ اس کو اسی طرح انعام دو جس طرح میں ان کو انعام دیتا تھا۔ راوی نے کہا: تیسری وصیت کو میں بھول گیا ۔
( صحیح البخاری:۴۴۳۱ صحیح مسلم : ۷ ۱۶۳)
یہ لفظ اگر “ھجر ‘‘ہوتو اس کا معنی ھذیان ہے اور اگر ہجر ‘‘ ہوتو اس کا معنی ہجرت کرنا اور جدا ہونا ہے ۔ (مختار الصحاح ص ۳۹۷)
اس حدیث میں ’’ھجر ‘‘نہیں ہوسکتا اور نہ اس کا معنی ہوگا: کیا آپ ہذیان کہہ رہے ہیں اور بے تکی باتیں کر رہے ہیں آپ سے پوچھ لو اور جو شخص ہذیان کر رہا ہو اس سے یہ پوچھنے کا کوئی معقول معنی نہیں ہے کہ کیا تم ہذیان کر رہے ہو؟ اور بے تکی باتیں کر رہے ہو؟ هجر ‘‘ کا معنی ہذیان ہے جب اس کے مصدر میں ہا پر زبر ہو یعنی بیماری میں انسان جو بے ربط، بے فائدہ اور مہمل باتیں کرتا ہے اور اس کا وقوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محال ہے آپ سے صحت میں ہذیان ممکن ہے نہ مرض میں، اللہ تعالی نے فرمایا ہے:
وما ينطق عن الهوى (النجم: 3)
آپ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے۔
نیز آپ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے! اس منہ سے حق کے سوا اور کوئی بات نہیں نکلتی ۔(سنن ابوداؤد:3646)
سو جس صحابی نے یہ کہا: اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ کو کاغذ قلم لا کر دو، آپ کوئی ہذیان تو نہیں کہہ رہے، آپ حق کے سوا کوئی بات نہیں کہتے ۔
’’ھجر ‘‘ کا دوسرا معنی ہے: ہجرت کرنا الوداع ہونا جب اس کے مصدر میں ھا کے نیچے زیر ہو یعنی کیا آپ زندگی سے الوداع ہو رہے ہیں اور آخری وقت میں وصیت کر رہے ہیں، آپ سے پوچھ لو، اور اس حدیث کے آخر میں ہے: آپ نے تین وصیتیں فرمائیں میں اس معنی کی تائید کرتا ہے کہ ” ھجر ‘‘ کا معنی یہاں ہذیان نہیں ہے بلکہ ہجرت کرنا ہے اور آپ نے جو وصیتیں فرمائیں، وہ بالکل صحیح اور معقول تھیں اور اس سے ان لوگوں کا رد ہوجاتا ہے، جنہوں نے یہ کہا کہ حضرت عمر کو یہ خطرہ تھا کہ آپ بیماری کے حال میں کوئی خلاف عقل بات کہہ دیں گے، حضرت عمر آپ کے متعلق ایسی بات کب سوچ سکتے تھے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس الزام کا جواب کہ آپ کے تمام اقوال وحی کے موافق نہ تھے
بعض مشائخ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اعتراض دور کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو غیر محفوظ قرار دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ آپ غلط بات کہہ سکتے تھے، اس لیے حضرت عمر نے آپ کو کاغذ، قلم دینے سے منع کیا انہوں نے کہا: آں حضرت کے تمام منطوقات اور معقولات یعنی اقوال و گفتار وحی کے مطابق نہ تھے آیت کریمہ’’ وما ينطق عن الھوی ‘‘ نص قرآنی سے مخصوص ہے
جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا ہے ۔
میں کہتا ہوں کہ مفسرین میں سے محققین نے لکھا ہے کہ آپ کا ہر قول وحی کے موافق تھا، امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606ھ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے: اللہ تعالی جس کو رسول بنانے کا ارادہ کرتا ہے اس کو بچپن میں کفر سے اور برے کاموں مثلاً چوری زنا اور جھوٹ سے محفوظ رکھتا ہے پس اللہ تعالی نے فرمایا: وہ اپنے بچپن میں گم راہ نہیں ہوۓ کیونکہ وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے تھے ۔ ( تفسیر کبیر ج ۱۰ ص ۲۳۴ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ ۱۴ ھـ )
علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد قرطبی مالکی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں:
نیز یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ سنت بھی عمل میں وحی منزل کی طرح ہے اور اس تفسیر کے مقدمہ میں حضرت مقدام بن معدی کرب کی حدیث گزرچکی ہے، والحمد للہ ۔( الجامع لاحکام القرآن جز ۱۸ ص ۷۹ دار الفکر بیروت ۱۵ ۱۴ ھ )
علامہ قرطبی نے حضرت مقدام بن معدی کرب کی جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے:
حضرت المقدام بن معدی کرب الکندی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھے اور کئی چیزوں کو حرام کردیا پھر فرمایا: عنقریب ایک شخص اپنے تخت پر ٹیک لگاۓ ہوۓ میری حدیث بیان کر کے کہے گا: ہمارے اور تمہارے درمیان صرف کتاب اللہ ہے ہم اس میں جو حلال پائیں، وہ حلال ہے اور ہم جو اس میں حرام پائیں وہ حرام ہے سنو! جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کیا ہے وہ بھی اس کی مثل حرام ہے، جس کو اللہ عزوجل نے حرام کیا ہے ۔ ( سنن دارمی: ٬۵۹۰ دارالمعرفۃ بیروت۱۴۲۱ھ )
علامہ قرطبی مالکی کی اس تفسیر سے واضح ہوگیا کہ ان کے نزدیک’’ وما ينطق عن الهوى‘‘صرف قرآن مجید کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ آپ کے تمام اقوال کو شامل ہے ۔
قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی 685ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
آپ سے قرآن کا جو نطق صادر ہوتا ہے، یا آپ جو بھی نطق کرتے ہیں، وہ صرف اللہ کی، کی ہوئی وحی سے ہے، جو علماء آپ کے لیے اجتہاد کو جائز نہیں کہتے انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جب آپ پر وحی کی گئی کہ آپ اجتہاد کریں تو جو حکم آپ کے اجتہاد سے حاصل ہو گا وہ بھی وہی ہوگا اس پر یہ اعتراض ہے کہ وہ حکم وحی سے حاصل ہوگا وحی نہیں ہوگا ۔
( تفسیر البیضاوی مع حاشیہ شیخ زادہ ج ۸ ص ۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۹ھ )
آپ کے ہر کلام کے برحق ہونے کے ثبوت میں احادیث
نیز احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آپ کا ہر کلام حق ہوتا تھا:
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس منہ سے حق کے سوا اور کوئی بات نہیں نکلتی ۔ ( سنن ابوداؤد:3646، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۹ ص ۴۹ المستدرک ج ۱ ص ۱۰۵ سنن دارمی : ۴۸۹ مسند احمد ج ۲ ص ۱۶۲)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں حق کے سوا کوئی بات نہیں کہتا آپ کے بعض اصحاب نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ہم سے مذاق ( بھی تو) کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: میں حق کے سوا کوئی بات نہیں کہتا ۔( شعیب الارنؤوط نے کہا: اس حدیث کی سند محمد بن عجلان کی وجہ سے قوی ہے اور اس کے باقی رجال ثقہ ہیں، شیخین کے رجال ہیں ۔ )
( مسند احمد ج ۲ ص ۴۰ ۳ طبع قدیم مسند احمد :۸۱ ۸۴ – ج ۱۴ ص ۱۸۵، سنن بیہقی ج۱۰ص ۲۴۸ الادب المفرد للبخاری : ۲۶۵ المعجم الاوسط ۹۱۹ )
حضرت حسان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جبریل امین نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سنت بھی اس طرح نازل کرتے تھے، جس طرح قرآن نازل کرتے تھے ۔ ( سنن دارمی : ۵۹۲ دارالمعرفۃ بیروت ۱۴۲۱ھ )
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی تو ایک شخص نے کہا: کتاب اللہ میں اس کے خلاف ہے انہوں نے کہا: کیا میں نہیں دیکھ رہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کررہا ہوں اور تم اس پر کتاب اللہ سے معارضہ کررہے ہو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتاب اللہ کو تم سے زیادہ جاننے والے تھے ۔ ( سنن داری : ۵۹۴ )
عفا الله عنك لم اذنت لهم ‘‘ سے معارضہ کا جواب
اسی طرح ان بعض مشائخ نے یہ معارضہ کیا ہے کہ اگر آں حضرت کے تمام اقوال و گفتار وحی کے موافق ہوتے تو حق تعالی کی طرف سے بعض اقوال پر اعتراض وارد نہ ہوتا اور ان سے معافی کی گنجائش نہ ہوتی ۔ اللہ تعالی اپنے نبی کو مخاطب کر کے فرماتا ہے :
عفا الله عنك لم أذنت لهم . ( التوبه : ۴۳)
اللہ آپ کو معاف کرے، آپ نے ان منافقین کو ( غزوۂ تبوک) میں شریک نہ ہونے کی اجازت کیوں دی ۔
میں کہتا ہوں : اگر اللہ نے پہلے آپ کو منافقین کو اجازت دینے سے لازما منع کیا ہوتا تو آپ کا ان کو اجازت دینا فعل حرام اور گناہ کبیرہ ہوتا اور اگر ترجیحا منع کیا ہوتا تو پھر آپ کا اجازت دینا خلاف اولی اور مکروہ تنزیہی ہوتا، لیکن جب اللہ تعالی نے پہلے آپ کو اس سے منع کیا ہی نہیں تو پھر آپ کا منافقین کوغزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کی اجازت دینا کسی قسم کا گناہ ہے نہ یہ فعل مکروہ تنزیہی یا خلاف اولی ہے بلکہ آپ کے لیے ان کو اجازت دینا یا نہ دینا دونوں فعل مباح تھے اور اس آیت میں اللہ تعالی نے آپ سے محبت آمیز خطاب فرمایا ہے کہ اللہ آپ کو معاف فرماۓ، آپ نے ان کو جہاد میں شامل نہ ہونے کی اجازت کیوں دے دی، حالانکہ اگر آپ اجازت نہ دیتے تو یہ پھر بھی جہاد میں شامل ہونے والے نہ تھے، یعنی ان کے حق میں آپ کا اجازت دینا اور نہ دینا دونوں برابر تھے ۔
( تبیان القرآن ج ۵ ص ۱۴۸ – ۷ ۱۴ التو به : ۴۳ فرید بک سٹال لاہور 1421ھ )
علاوہ ازیں میں یہ کہتا ہوں کہ قرآن مجید میں ہے :
قل انما اتبع ما یوحی الی من ربی ۔(الاعراف: 203)
آپ کہیے: میں صرف اس کی پیروی کرتا ہوں، جس کی میرے رب کی طرف سے وحی کی جاتی ہے ۔
إن اتبع إلا ما يوحى إلى ( الانعام :۵۰ یونس: ۱۵)
میں صرف اس کی پیروی کرتا ہوں جس کی میری طرف وحی کی جاتی ہے۔
لہذا آپ کا منافقین کو اجازت دینا بھی وحی کی بنیاد پر تھا اور یہ وحی خفی تھی، قرآن مجید نے حصر کردیا ہے کہ آپ کا ہر قول وحی کے موافق ہے اور آپ کا ہر فعل وحی کے موافق ہے نمازوں میں جو آپ کو سہو ہوۓ وہ بھی وحی خفی کے موافق تھے، تا کہ امت کے لیے ان کے سہو میں اسوہ اورنمونہ ہوجاۓ اور آپ کو جو نسیان ہوا وہ بھی وحی خفی کے موافق تھا جیسا کہ حدیث میں ہے:
امام مالک نے فرمایا: مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں بھولتا ہوں یا بھلا دیا جاتا ہوں تا کہ کوئی فعل سنت ہوجائے ۔ (موطا امام مالک کتاب السہو حدیث : 2 دار المعرفہ بیروت ۱۴۲۰ھ )
بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے کی وجہ سے آپ کی خطا ثابت کرنا اور اس کا جواب
بدر کے قیدیوں سے آپ کا فدیہ لینا بھی اتباع دی میں تھا اور فدیہ لینے میں اللہ تعالی نے آپ پر عتاب نہیں فرمایا بلکہ ان بعض نومسلم صحابہ پر عتاب فرمایا جنہوں نے مال دنیا کی طمع میں فدیہ لینے کی راۓ کو ترجیح دی تھی، رہے آپ تو آپ نے فدیہ لینے کو اس لیے ترجیح دی تھی کہ آپ کو علم تھا کہ ان قیدیوں میں سے بہت سے لوگ مسلمان ہوجائیں گے، سو آپ نے ان کے اسلام کی وجہ سے فدیہ لے کر قیدیوں کو آزاد کرنے کی راۓ کو پسند کیا تھا ۔
بدر کے قیدیوں سے فدیہ لینے کی تحقیق الانفال: 68۔ 67 کی تفسیر میں تبیان القرآن ج ۴ ص 697 ۔ 692 میں مطالعہ فرمائیں ۔
اس ضمنی بحث کے بعد ہم اب پھر اصل موضوع کی طرف رجوع کر رہے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کس وجہ سے کاغذ اور قلم لانے سے منع کیا تھا۔
حافظ عسقلانی کی طرف سے حضرت عمر کی توجیہات اور اس کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا لکھنا چاہتے تھے
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا تھا کہ آپ کے لیے ازخود لکھنا یا لکھوانا دشواری اور مشقت کا باعث ہوگا، لہذا آپ کو اس کی زحمت نہ دی جاۓ علامہ قرطبی وغیرہ نے کہا ہے: آپ نے فرمایا: میرے پاس کاغذ اور قلم لاؤ، یہ آپ کا حکم تھا اور حکم کا تقاضا یہ ہے کہ اس پر عمل کیا جاۓ، لیکن حضرت عمر کی دوسرے اصحاب کے ساتھ راۓ یہ تھی کہ یہ حکم وجوب کے لیے نہیں ہے، بلکہ آپ نے زیادہ بہتر کام کی طرف متوجہ فرمایا ہے، لہذا ان اصحاب نے آپ کو اس حالت میں اس مشقت میں ڈالنے کو ناپسند کیا اور جب کہ ان کے ذہنوں میں قرآن مجید کی یہ آیات بھی تھیں :
ما فرطنا في الكتب من شيء. ( الانعام:۳۸)
ہم نے کتاب میں کوئی چیز نہیں چھوڑی۔
تبيانا لكل شيء. (نحل:۸۹)
قرآن مجید ہر چیز کو بیان کرنے والا ہے ۔
اس لیے حضرت عمر نے کہا: ہمیں کتاب اللہ کافی ہے۔
صحابہ کی دوسری جماعت کی راۓ یہ تھی کہ افضل یہ ہے کہ آپ کو لکھنے دیا جائے کیونکہ اس طرح آپ کے حکم پر عمل ہوگا اور چونکہ آپ نے بعد میں سب کو وہاں سے اٹھنے کا حکم دیا۔ اس سے واضح ہوگیا کہ آپ کا پہلا حکم اختیاری تھا واجبی نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد آپ کئی روز تک زندہ رہے، لیکن آپ نے دوبارہ کاغذ اور قلم لانے کا حکم نہیں دیا اگر آپ کا یہ حکم واجبی ہوتا تو صحابہ کے اختلاف کی وجہ سے آپ اپنے حکم کو ترک نہ فرماتے، کیونکہ آپ نے کفار کی شدید مخالفت کے باوجود تبلیغ کو ترک نہیں فرمایا اور صحابہ بعض کاموں میں آپ سے اختلاف کرتے تھے، لیکن جب آپ کسی کام کا عزم فرمالیتے تو پھر آپ کے حکم پرعمل کرتے تھے ان شاء اللہ اس کو ہم بسط اور تفصیل سے’’ کتاب الاعتصام‘‘ میں لکھیں گے ( حافظ ابن حجر کتاب الاعتصام‘‘ میں تفصیل سے لکھنا بھول گئے وہاں صرف دو سطریں لکھی ہیں دیکھئے فتح الباری ج ۸ ص ۴۸۴ دارالمعرفه بیروت 1426ھ ) حضرت عمر کے اس قول کو ان کی موافقات میں سے شمار کیا گیا ہے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیا لکھنا چاہتے تھے اس کی تفسیر میں اختلاف ہے ۔
ایک قول یہ ہے کہ آپ ایسی تحریر لکھنا چاہتے تھے، جس میں احکام کی صاف تصریح کر دی جاتی اور اختلاف نہ رہتا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آپ اپنے بعد ہونے والے خلفاء کے نام لکھنا چاہتے تھے تاکہ ان کے درمیان اختلاف نہ ہوتا۔سفیان بن عیینہ نے کہا: اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ آپ جب اپنے مرض کی ابتداء میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے تو آپ نے ان سے فرمایا حدیث میں ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض میں مجھ سے فرمایا: میرے لیے ابوبکر کو اور اپنے بھائی کو بلاؤ حتی کہ میں ایک مکتوب لکھ دوں کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کوئی کہنے والا کہے گا کہ میں زیادہ مستحق ہوں اور اللہ اور مؤمنین ابوبکر کے غیر کا انکار کردیں گے۔ (صحیح البخاری: ۷۲۱۷۔5666 صحیح مسلم:۲۳۸۷ طبقات کبری ج۳ص۱۸۰ السنن الکبری للنسائی :۷۰۸۱ صحیح ابن حبان : 6598، سنن بیہقی ج ۸ ص ۱۵۳ دلائل النبوة ج ۶ ص ۳۴۳ حلیۃ الاولیاء ج ۲ ص ۱۸۵ المعجم الاوسط : 4564، مسند احمد ج 6 ص ۱۴۴ طبع قدیم مسند احمد: ۲۵۱۱۳۔ ج 42 ص50)
اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لکھا نہیں اور پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، کیونکہ حضرت عمر نے کہا: ہمیں کتاب اللہ کافی ہے ۔
نبی ﷺ نے فرمایا: میرے پاس سے اٹھ جاؤ اور میرے پاس اختلاف کرنا نہیں چاہیے ۔
آپ کے اس ارشاد سے میں ظاہر ہوتا ہے کہ صحابی کے لیے اولی یہ تھا کہ وہ آپ کے حکم پرعمل کرتے، اگرچہ حضرت عمر کی اختیار کی ہوئی تاویل صحیح تھی، کیونکہ بعد میں نبی صلی اللہ علیہ نے اپنے حکم پر عمل کرنے کے لیے نہیں فرمایا، علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ صحابہ کے اس اختلاف کی نظیر یہ ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: تم میں سے کوئی شخص بنی قریظہ میں پہنچے بغیر نماز نہ پڑھے۔( صحیح البخاری:946 صحیح مسلم :۱۷۷۰)
بعض صحابہ نے کہا: اگر ہم نے بنوقریظہ میں پہنچ کر نماز پڑھی تو وقت نکل جاۓ گا اور آپ کا منشاء یہ نہیں تھا کہ ضرور بنی قریظہ میں عصر پڑھنا، سو انہوں نے راستہ میں نماز پڑھ لی اور بعض نے اس حکم کے ظاہر پر عمل کیا اور بنوقریظہ پہنچ کر نماز پڑھی اور آپ نے کسی فریق کو ملامت نہیں کیا۔ (فتح الباری ج۱ ص 659- 658 دارالمعرفة بیروت ۱۴۲۶ھ )
مصنف کی طرف سے حضرت عمر پر شیعہ علماء کے اعتراض کے جوابات اور دیگر مسائل
شیعہ علماء نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر یہ اعتراض کیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کاغذ اور قلم لانے کے لیے کہا تو حضرت عمر نے یہ جواب دیا کہ ہمیں اللہ کی کتاب کافی ہے، ہم کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ پر بھی ایسا ہی اعتراض ہوتا ہے حدیث میں ہے:
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اور حضرت فاطمہ بنت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آۓ اور فرمایا: تم دونوں نماز نہیں پڑھتے، میں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں، پس جب وہ ہمیں اٹھانا چاہتا ہے تو ہم اٹھ جاتے ہیں، جب ہم نے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واپس چلے گئے اور مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر میں نے سنا آپ پیٹھ موڑ کر اپنے زانو پر ہاتھ مارتے ہوئے جارہے تھے اور یہ فرمارہے تھے :
وكان الإنسان أكثر شيء جدلًا. (الكف: ۵۴)
اور انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے ۔
( صحیح البخاری: ۷ ۱۱۲ صحیح مسلم : ۷ ۱۱۴ سنن نسائی : ۱۹۰۸ – ۱۹۰۷ مسند احمد ج۱ ص ۹۱ مسند احمد : ۰۵ ۷ – ج ۲ ص ۱۱۳ )
اور اس کے علاوہ یہ حدیث ہے:
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو طبق ( بڑی پلیٹ ) لا کر دوں آپ اس میں ایسی چیز میں لکھ دیں، جس کے بعد آپ کی امت گم راہ نہیں ہوگی حضرت علی نے کہا: مجھے یہ خطرہ ہوا کہ شاید آپ کی روح قبض ہو جاۓ، میں نے کہا: میں یاد رکھوں گا اور محفوظ رکھوں گا (یعنی طبق لاکر نہیں دیا ) آپ نے فرمایا: میں نماز کی، زکوۃ کی اور تمہاری باندیوں کے معاملہ میں وصیت کرتا ہوں ۔ (مسند احمد ج ۱ص۹۰ طبقات ابن سعد ج ۲ ص ۲۴۳ الادب المفرد للبخاری:156)
پہلی حدیث میں یہ تصریح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کو تہجد کے لیے اٹھانے گئے تو حضرت علی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر ایسا جواب دیا جس سے آپ کو سخت افسوس ہوا اور دوسری حدیث میں یہ تصریح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھنے کے لیے طبق منگایا اور حضرت علی نے لاکر نہیں دیا اور کہا: میں یاد کرلوں گا علماءشیعہ ان حدیثوں کا جواب دیں ۔
حضرت عمر کی طرف سے توجیہ یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ کوئی فیصلہ فرماتے اور صحابہ کو اس میں تردد ہوتا تو وہ آپ کے سامنے اپنی راۓ اور اپنے اختلاف کو ظاہر کرتے اور جب وہ دیکھتے کہ اس فیصلہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جزم اور یقین ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شبہات کو دلائل سے رد فرمادیا ہے تو پھر وہ آپ کے فیصلہ کو تسلیم کر لیتے اور آپ کے حکم پر عمل کرتے جیسے مشرکین کے ساتھ حدیبیہ میں جن شرائط پر صلح ہوئی تھی حضرت عمر اور دیگر صحابہ کو ان شرائط سے اختلاف تھا لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شبہات کا جواب دے دیا تو وہ مطمئن ہوگئے اور صلح کی ان شرائط کو مان لیا، اسی طرح جب آپ نے عبداللہ بن ابی کی نماز جنازہ پڑھانے کا فیصلہ کیا تو حضرت عمر کو اس سے اختلاف تھا، لیکن جب آپ نے ان کے شبہات کا جواب دے دیا تو حضرت عمر نے آپ کے اس فیصلہ کو مان لیا لیکن مرض الموت کے اس موقع پر جب آپ نے کاغذ اور قلم لانے کا حکم دیا اور اس پر حضرت عمر نے اپنا یہ شبہ پیش کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درد کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب ہے جو ہمیں کافی ہے تو آپ نے حضرت عمر کے اس قول کو رد نہیں فرمایا اور کاغذ اور قلم منگوانے پر اصرار نہیں فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول صحیح اور صائب تھا ورنہ آپ کسی کے اختلاف کی وجہ سے حق بات کو بھی بھی ترک نہیں فرماتے تھے۔
آپ نے جو کاغذ اور قلم لانے کا حکم دیا تھا اس سے معلوم ہوا کہ امام اور سر براہ ملک عوام کی مصلحت کی وجہ سے موت کے وقت ان کے لیے کوئی وصیت کر سکتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ آپ حضرت ابوبکر کی خلافت کے متعلق لکھوانا چاہتے ہوں جیسا کہ صحیح مسلم : ۲۳۸۷ اور صحیح بخاری:5666 میں ہے، لیکن آپ نے اس کو اس لیے ترک کردیا کہ آپ مختلف قرائن سے اس امر کا اظہار کرچکے ہیں، مثلاً آپ نے نمازوں میں حضرت ابوبکر کو امام بنایا اور کسی اور کو امام بنانے پر راضی نہیں ہوئے اور حضرت ابوبکر کی امارت میں مسلمانوں کو حج کے لیے بھیجا، سفر ہجرت میں اپنی رفاقت کے لیے حضرت ابوبکر کومنتخب کیا۔ سو آپ چاہتے تھے کہ مسلمان ان قرائن میں غور وفکر کر کے از خود اپنے اجتہاد اور اپنے انتخاب سے میرے بعد حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنائیں ۔
اس حدیث میں علم کی باتوں کو لکھنے کا ثبوت ہے اور یہی اس باب کا عنوان ہے ۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لکھنے کا ثبوت ہے، کیونکہ آپ نے فرمایا: کاغذ اور قلم لاؤ تا کہ میں تمہارے لیے ایسا مکتوب لکھ دوں جس کے بعد تم کبھی گم راہ نہیں ہو گے اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا امی ہونا آپ کے لکھنے اور پڑھنے کے منافی نہیں ہے۔
شرح صحیح مسلم میں باب مذکور کی حدیث کی شرح
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم:۴۱۱۹ ۔ ج ۴ ص ۵۱۷ پر مذکور ہے اور اس کی شرح میں حسب ذیل عنوانات ہیں:
اھجر کی تحقیق
حدیث قرطاس میں حضرت عمر پر حضور کا کہنا نہ ماننے کا اعتراض اور اس کے جوابات
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی کی خلافت کے بارے میں کچھ لکھوانا چاہتے تھے۔
