٤١ – بَابُ السَّمَرِ فِي الْعِلْمِ
رات کو علم کی باتیں کرنا
اس باب کے عنوان میں “سمر” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: رات کو باتیں کرنا اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں رات کو علم کی باتیں کرنے اور نصیحت کرنے کا ذکر تھا اور اس باب میں مطلقا رات کو باتیں کرنے کا ذکر ہے اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد جو باتیں کرنے کی ممانعت ہے اس سے مراد دنیاوی باتیں اور قصے کہانیاں ہیں، نیکی، خیر اور فقہ کی باتیں عشاء کی نماز کے بعد بھی کرنا جائز ہیں۔
١١٦ – حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ،عَنْ سَالِمٍ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ ارَايْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ ، فَإِنَّ رَأسَ مِئَةِ سَنَةٍ مِّنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سعید بن عفیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے لیث نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے عبدالرحمان بن خالد نے حدیث بیان کی از ابن شهاب از سالم و ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخر حیات میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی، پس جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ نے کھڑے ہو کر فرمایا: مجھے بتاؤ یہ کون سی رات ہے کیونکہ اس کے ٹھیک ایک سو سال بعد جو لوگ اب روئے زمین پر ہیں ان میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا۔
اطراف الحدیث: ۵۶۴-601
( صحیح مسلم: ۲۵۳۷ سنن ابوداؤد : ۴۳۴۸ سنن ترمذی: ۲۲۵۱ سنن کبری للنسائی: ۵۸۷۱ سنن بیہقی ج ۱ ص 453 دلائل النبوة ج 6 ص ۰۵۰۰ مسند احمد ج ۲ ص ۱۲۱ طبع قدیم، مسند احمد : ۶۰۲۸ – ج ۱۰ ص ۲۲۲)
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز کے بعد صحابہ سے علم کی باتیں کیں۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) سعید بن عفیر.
(۲) لیث بن سعد ان کا تعارف ہو چکا ہے.
(۳) عبدالرحمان بن خالد، یہ ہشام بن عبد الملک کی طرف سے مصر کے امیر تھے، ۱۱۸ ھ میں ان کی مصر پر حکومت تھی ان کے پاس الزہری کی کتاب تھی، جس میں دوسو یا تین سو احادیث تھیں، ابو حاتم نے کہا: یہ صالح ہیں ابن یونس نے کہا: یہ ثبت فی الحدیث ہیں یہ ۱۲۷ھ میں فوت ہو گئے تھے امام بخاری امام مسلم امام ترمذی اور امام نسائی نے ان سے احادیث روایت کی ہیں.
(۴) محمد بن مسلم بن شہاب الزہری.
(۵) سالم بن عبداللہ بن عمر.
(۶) ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ ان کا نام عبد اللہ بن حذیفہ ہے، امام بخاری نے ان کی صرف زیر بحث حدیث کو روایت کیا ہے، یہ علماء قریش میں سے تھے انہوں نے حضرت سعید بن زید اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہما سے احادیث روایت کی ہیں، امام مسلم اور امام ترمذی نے ان سے احادیث روایت نہیں کیں.
(۷) حضرت عبد اللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ان کا تعارف گزر چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۶۵ – ۲۶۴)
عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنے کے جواز اور عدم جواز کے محامل
علامہ ابوالحسن علی بن خلف بن عبدالملک ابن بطال المالکی المتوفی449 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کے بعد یہ خبر دی کہ جو لوگ اس وقت روئے زمین پر زندہ ہیں، ایک سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا’ آپ نے ان کو یہ نصیحت کی کہ ان کی عمریں کم ہیں اور پچھلی امتوں کی طرح ان کی لمبی عمریں نہیں ہیں، اس لیے ان کو عبادت کرنے میں زیادہ کوشش کرنی چاہیئے سلف صالحین رات کو علم کی باتیں کیا کرتے تھے ۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں کسی کام سے عشاء کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہ کے پاس گیا’ حضرت عمر نے کہا: اس وقت؟ میں نے کہا: میں نے فقہ کی بات کرنی ہے انہوں نے کہا: اچھا! میں نے ان سے باتیں کی پھر میں جانے لگا تو حضرت عمر نے کہا: بیٹھو میں نے کہا: نماز (تہجد)! انہوں نے کہا: ہم نماز میں ہیں، پھر ہم بیٹھ کر باتیں کرتے رہے حتی کہ فجر طلوع ہوگئی۔
اس مسئلہ میں امام مالک کے مختلف اقوال ہیں ایک قول یہ ہے کہ علم کے مذاکرہ سے نماز پڑھنا افضل ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ علم کا مذاکرہ افضل ہے جب نیت درست ہو ۔ (شرح ابن بطال ج ۱ ص ۱۸۶ دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۲۴ھ )
حضرت عیسی ، حضرت خضر اور ابلیس کے زندہ رہنے سے اس حدیث پر اعتراض اور اس کے جوابات
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :
امام بخاری اور جو علماء حضرت خضر علیہ سلام کی موت کے قائل ہیں، انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ اگر بالفرض حضرت خضر زندہ بھی تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے ایک سو سال پورے ہونے سے پہلے وہ فوت ہوگئے اور جمہور اس کے خلاف ہیں اور جو علماء حضرت خضر علا السلام کی حیات کے قائل ہیں وہ اس حدیث کا یہ جواب دیتے ہیں کہ حضرت خضر سمندر میں رہنے والے تھے اور یہ حدیث زمین پر رہنے والوں کے متعلق ہے لہذا حضرت خضر اس حدیث میں داخل نہیں ہیں، بعض علماء نے اس حدیث کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ جن لوگوں کو تم جانتے ہو اور ان کو پہچانتے ہو ان میں سے کوئی ایک سو سال بعد زندہ نہیں رہے گا، پس حدیث کے الفاظ عام ہیں، لیکن اس سے مخصوص لوگوں کا ارادہ کیا گیا ہے۔
اور یہ جو فرمایا کہ جولوگ روئے زمین پر ہیں اس قید سے فرشتوں سے احتراز کیا گیا ہے۔
علامہ کرمانی نے کہا ہے کہ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت عیسی علیہ سلام تو زندہ ہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ روئے زمین پر نہیں ہیں بلکہ آسمان میں ہیں، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ابلیس بھی تو زندہ ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ روئے زمین پر نہیں ہے بلکہ ہوا میں ہے یا آگ میں ہے یا حدیث سے مراد یہ ہے کہ روئے زمین پر اب جو انسان زندہ ہیں وہ سو سال کے بعد زندہ نہیں رہیں گے۔
علامہ عینی فرماتے ہیں: یہ سب کمزور باتیں ہیں اس حدیث پر نہ حضرت عیسی علیہ السلام سے اعتراض ہوتا ہے نہ ابلیس سے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ اس وقت جو روئے زمین پر آپ کی امت ہے وہ اب سے سو سال بعد زندہ نہیں رہے گی اور روئے زمین پر جو مسلمان یا کفار ہیں، وہ سب آپ کی امت ہیں، مسلمان آپ کی امت اجابت ہیں اور کفار آپ کی امت دعوت ہیں۔
اور رہے حضرت عیسیٰ اور حضرت خضر علیہم السلام تو وہ آپ کی امت میں داخل نہیں ہیں اور رہا شیطان ! تو وہ بنی آدم میں سے نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۶۷ – ۲۶۶ دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ)
حدیث مذکور شرح صحیح مسلم : ۶۳۶۳ – ج ۶ ص ۱۲۱۲ پر مذکور ہے وہاں اس کی بہت مختصر شرح کی گئی ہے۔
