٤٣ – بَابُ الْإِنْصَاتِ لِلْعُلَمَاءِ
علماء کے لیے لوگوں کو خاموش کرنا
اس سے پہلا باب علم کی حفاظت کرنے میں تھا اور یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب علماء کے لیے لوگوں کو خاموش کیا جائے اور یہ ان دونوں بابوں میں مناسبت ہے۔
۱۲۱ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةٌ قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِک عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ جَرِيرٍ أَنَّ النَّبِی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ اسْتَنْصِتِ النَّاسَ فَقَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّاراً،يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ .
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں حجاج نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے علی بن مدرک نے خبر دی از ابی زرعه از جریر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع میں فرمایا : لوگوں کو خاموش کرو پھر آپ نے فرمایا: میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارو۔
اطراف الحدیث: ۴۴۰۵-۶۸۶۹-۷۰۸۰
( صحیح مسلم:۶۵) سنن ابوداؤد: ۴۶۸۲، سنن نسائی: ۴۱۳۶، سنن ابن ماجہ: 3943 سنن الکبری للنسائی: ۵۸۸۲ مسند ابوداؤد الطیالسی : ۶۶۴ سنن دارمی :1921 مسند ابوعوانہ ج 1 ص ۲۵ صحیح ابن حبان: ۵۹۴۰ المعجم الكبير :۲۴۰۲ شرح السنتہ : ۲۵۵۰ مسند احمد ج ۲ ص ۳۵۸ طبع قدیم مسند احمد :۱۹۱۶۷ – ج ۳۱ ص ۵۰۴
باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت حدیث کے اس جملہ میں ہے: لوگوں کو خاموش کرو ۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) حجاج بن منهال الا غاطی۔
(۲) شعبہ بن الحجاج ان دونوں کا تعارف ہو چکا ہے۔
(۳) علی بن مدرک النخعی الکوفی، یہ صالح صدوق اور ثقہ ہیں ۱۲۰ ھ میں فوت ہو گئے تھے ان سے بہت بڑی جماعت نے احادیث روایت کی ہیں۔
(۴) ابو زرعہ ان کا نام ھرم بن جریر بن عبداللہ البجلی ہے آپ سید اور مطاع تھے اور بہت حسین و جمیل اور بلند قامت تھے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۸۰)
ایک دوسرے کی گردنیں مار کر کافر نہ ہو جانا اس حدیث کے محامل
اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو۔
اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں لوگ کافر نہیں ہوں گے اس لیے آپ نے اپنی وفات کے بعد اس سے منع فرمایا یعنی جب میں دنیا سے چلا جاؤں تو میرے بعد تم اپنے ایمان اور تقویٰ پر برقرار رہنا اور مسلمانوں سے جنگ نہ کرنا اور ان کے اموال کو باطل تاویل سے نہ حاصل کرنا یعنی تمہارے افعال کفار کے افعال کے مشابہ نہ ہوں اور تم ان کی طرح مسلمانوں کی گردنیں نہ مارنا۔
اس حدیث کے مزید محامل حسب ذیل ہیں:
(۱) جائز اور حلال سمجھ کر مسلمانوں کی گردنیں مارنا کفر ہے۔
(۲) مسلمانوں کی گردنیں مارنا، نعمت اسلام کی ناشکری ہے۔
(۳) مسلمانوں کی گردنیں مارنا کفر کے قریب ہے اور کفر تک پہنچاتا ہے۔
(۴) مسلمانوں کی گردنیں مارنا حقیقت میں کفر ہے لہذا تم دائماً مسلمان رہو۔
(۵) میرے بعد تم ہتھیاروں سے مسلح ہو کر ایک دوسرے سے جنگ نہ کرنا۔
(1) تم ایک دوسرے کو کافر قرار دے کر ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا۔
علماء کی تکریم کی وجوہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ لوگوں کو خاموش کرو اس سے معلوم ہوا کہ علماء کی تعظیم و تکریم کرنا اور ان کا کلام سننے کے لیے لوگوں کو چپ کرانا متعلمین پر لازم ہے قرآن مجید میں ہے:
لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ.
(الحجرات: ۲)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کے اوپر اپنی آوازوں کو بلند نہ کرو۔
جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر آواز بلند کرنامنع ہے اس طرح جب علماء حدیث پڑھ رہے ہوں تو ان کی آواز پر آواز بلند کرنا بھی منع ہے کیونکہ وہ بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کے حکم میں ہے اور علماء کی تکریم اس لیے واجب ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو زندہ کرتے ہیں اور آپ کی شریعت پر عمل کرتے ہیں اور اس کی تبلیغ کرتے ہیں۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم:۱۳۱- ج ۱ ص ۴۸۹ پر بیان کی گئی ہے اس کی شرح میں ایک دوسرے کے قتل پر کفر کے اطلاق کی 7 توجیہات بیان کی گئی ہیں۔
