Site icon اردو محفل

کتاب العلم باب 44 حدیث نمبر 122

٤٤ – بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ لِلْعَالِمِ إِذَا سُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ فَيَكِلْ الْعِلْمَ إِلَى اللهِ

 

 جب عالم سے سوال کیا جائے کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ اس کا علم اللہ کے سپرد کردے

 

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق عالم کی تعظیم کے بیان میں تھا اور اس باب میں یہ بتایا ہے کہ وہ تعظیم کا اس وقت مستحق ہے جب وہ یہ کہے کہ سب سے زیادہ علم اللہ کا ہے۔

 

۱۲۲- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيُّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسى لَيْسَ بِمُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنَّمَا هُوَ مُوسَى اخَرُ فَقَالَ كَذَبَ عَدُوٌّ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبَيُّ بْنُ كَعْبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَامَ مُوسَى النَّبِيُّ خطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ فَقَالَ أَنَا أَعْلَمُ، فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِى بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ. قَالَ يَا رَبِّ وَكَيْفَ لِي بِهِ؟ فَقِيلَ لَهُ احْمِلْ حُوْتًا فِي مِكْتَلٍ، فَإِذَا فَقَدْتَهُ ، فَهُوَ ثُمَّ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقَ بِفَتَاهُ يُوْشَعَ بُنِ نُوْنِ وَحَمَلَا حُوْتًا فِي مِكْتَلٍ حَتَّى كَانَا عِندَ الصَّخَرَةِ وَضَعَا رُؤُوسَهُمَا وَ نَامَا فَانْسَلَّ الْحُوْتُ مِنَ الْمِكْتَلِ، (فَاتَّخَذَ سَبِيْلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا) (الکہف: ٦١) وَكَانَ لِمُوْسَى وَفَتَاهُ عَجَبًا فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِهِمَا وَيَوْمِهِمَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ (وَاتِنَا غَدَاءً نَا لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ سَفَرنَا هذَا نَصَبا ( الكہف : ٦٢) وَلَمْ يَجِدْ مُوسَى مَسا مِّنَ النَّصبِ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أُمِرَ بِهِ . فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ (أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الحوت ) ( الكہف :٦٣) قَالَ مُوسَى ﴿ذَلِكَ مَا كُنَّا نبْعَ فَارْتَدَّا عَلَى أَثَارِهِمَا قصَصًا (الكيف : ٦٤) فَلَمَّا إِنتَهَا إِلَى الصَّخْرَةِ، إِذَا رَجُلٌ مُسَجِّي بِثَوْبٍ، أَوْ قَالَ تَسجى بِثوبِهِ فَسَلَّمَ مُوسَى، فَقَالَ الخَضِرُ وانى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ ؟ فقَالَ أَنَا مُوسَى، فَقَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ قَالَ نَعَمْ ، قَالَ (هَلْ اتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِمَنِ مِمَّا عَلِمْتَ رُشْدًا قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِى صَبْرًا ) ( الكہف : ٦٧-٦٦) يَا مُوسَى انی عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيْهِ لَا تَعْلَمُهُ أَنْتَ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ عَلَّمَكَ اللَّهُ لَا أَعْلَمُهُ.( قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَّلَا أَعْصِى لَكَ أَمْرًا﴾ (الكہف: 69 ) فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، لَيْسَ لَهُمَا سَفِينَةٌ ، فَمَرَّتْ بِهِمَا سَفِيئَةٌ، فَكَلَّمُوهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمَا ، فَعُرِفَ الْخَضِرُ، فَحَمَلُوْهُمَا بِغَيْرِ نَول، فَجَاءَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ ، فَنَقَر – نَقرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ الْخَضِرْ يَا مُوسَى مَا نَقَصَ عِلْمِي وَ عِلْمُكَ مِنَ عِلْمِ اللهِ إِلَّا كَنَفَرَةِ هذا الـ الْعُصْفُورِ فِي الْبَحْرِ، فَعَمَدَ الْخَضِرُ إِلى لَوْحٍ مِنْ الْوَاحِ السَّفِينَةِ فَنَزَعَهُ ، فَقَالَ مُوسَى قَوْمٌ حَمَّلُوْنَا بِغَيْرِ نَوْلٍ ، عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا؟( وقَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا. . قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ ﴾ (الكہف : ۷۳ – ۷۲) فَكَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا فَانْطَلَقَا فَإِذَا غُلَامٌ يَلْعَبُ مَعَ الْغلمَانِ، فَاَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ مِنْ أَعْلَاهُ فَاقْتَلَعَ رَأْسَهُ بِيَدِهِ ، فَقَالَ مُوسَى ﴿اقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بغير نفس) (الکہف : ٧٤) قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِى صَبْرًا) (الكہف: ٧٥) قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَهَذَا أَوْ كَدُ (فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا آتَيَا أَهْلَ قَرْيَةِ بِاسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَابَوْا أَنْ تُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيْهَا جِدَارًا يُرِيدُ انْ ينقَضَ فَاقَامَهُ ) ( الكہف: ٧٧) قَالَ الْخَضِرُ بِيَدِهِ فَاقَامَهُ، فَقَالَ لَهُ مُؤْسَى (لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنكَ ﴾ (الكہف: ۷۸ –۷۷). قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللهُ مُوسَى لَوَدِدْنَا لَوْ صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهما.[ طرف الحديث : ۷۴]

(صحیح مسلم : ۲۳۸۰ سنن ترمذی: 3149، السنن الکبری للنسائی:۱۱۳۰۶)

 

 

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن محمد نے  حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عمرو نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے سعید بن جبیر نے خبر دی انہوں نے بیان کیا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ بے شک نوف بکالی یہ زعم کرتا ہے کہ (قرآن میں حضرت خضر کے ساتھ ) جس موسیٰ کا ذکر ہے وہ بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں وہ کوئی اور موسیٰ ہیں، حضرت ابن عباس نے فرمایا: وہ اللہ کا دشمن جھوٹ بولتا ہے، ہمیں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطبہ دے رہے تھے ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں سب سے بڑا عالم ہوں اللہ عزوجل نے ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انہوں نے علم کو اللہ کی طرف نہیں لوٹایا، تب اللہ عزوجل نے ان کی طرف یہ وحی کی کہ بے شک میرے بندوں میں سے ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے وہ آپ سے بڑا عالم ہے حضرت موسیٰ نے کہا: اے میرے رب ! میں اس تک کیسے واصل ہوں گا ؟ ان سے کہا گیا کہ آپ ایک ٹوکری میں (بھنی ہوئی ) مچھلی رکھ لیں’ جس جگہ اس مچھلی کو گم پائیں گے وہیں خضر ہوں گئے حضرت موسیٰ روانہ ہوئے اور ان کے ساتھ ان کے شاگرد حضرت یوشع بن نون بھی روانہ ہوئے اور انہوں نے ایک ٹوکری میں (بھنی ہوئی) مچھلی رکھ لی حتی کہ جب وہ دونوں ایک چٹان کے پاس پہنچے تو ان دونوں نے اس پر اپنے سر رکھے اور سو گئے پس وہ مچھلی نوکری سے نکلی اور اس نے سمندر میں سرنگ کی مثل اپنا راستہ بنالیا (الکہف: 61) اور موسیٰ اور ان کے شاگرد کے لیے یہ بہت عجیب بات تھی پھر وہ دونوں بقیہ رات اور دن تک چلتے رہے، جب صبح ہوئی تو حضرت موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا: ”ہمارا ناشتا لاؤ ہمیں اس سفر سے تھکاوٹ ہوئی ہے (الکہف: ۶۲) اور موسیٰ علیہ السلام کو تھکاوٹ اس وقت محسوس ہوئی تھی، جب انہوں نے اس جگہ سے تجاوز کیا تھا، جس جگہ انہیں جانے کا حکم دیا گیا تھا پھر ان کے شاگرد نے ان سے کہا: ” کیا آپ نے نہیں دیکھا جب ہم چٹان سے ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے، وہاں میں مچھلی بھول گیا تھا ( الکبف :63) حضرت موسیٰ نے کہا :- “ہم اسی کو تلاش کر رہے تھے پس وہ اپنے قدموں کے نشان تلاش کرتے ہوئے لوٹے ( الکہف : ۶۴ ) جب وہ اس چٹان تک پہنچے تو وہاں ایک شخص چادر اوڑھے ہوئے تھے یا کہا: اس نے چادر سے اپنے آپ کو چھپایا ہوا تھا، حضرت موسیٰ نے ان کو سلام کیا، پس حضرت خضر نے کہا: تمہاری زمین میں سلامتی کہاں ہے؟ پس انہوں نے کہا: میں موسیٰ ہوں! انہوں نے کہا: بنواسرائیل کے موسیٰ ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! کہا : ” کیا میں اس پر آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ سکھا دیں جو نیک علم آپ کو سکھایا گیا ہے 0 خضر نے کہا: آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے 0 (الكہف:66-67 ) اے موسیٰ ! میرے پاس اللہ کے علم میں سے وہ علم ہے جس کی اللہ نے مجھے تعلیم دی ہے، جس کا آپ کو علم نہیں ہے اور آپ کے پاس اللہ کا وہ علم ہے جس کی اللہ نے آپ کو تعلیم دی ہے جس کا مجھے علم نہیں ہے” حضرت موسیٰ نے کہا: ان شاء اللہ! آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں کسی بات میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا ” ( الکہف : 69) پھر وہ دونوں روانہ ہوئے اور چلتے چلتے ساحل سمندر پر پہنچے، وہاں ان دونوں کے لیے کوئی کشتی نہیں تھی پھر ان دونوں کے پاس سے ایک کشتی گزری’ انہوں نے ان سے بات کی کہ وہ ان کو سوار کر لیں، انہوں نے حضرت خضر کو پہچان لیا پس انہوں نے بغیر کسی معاوضہ کے ان دونوں کو سوار کر لیا پھر ایک چڑیا آ کر کشتی کے کنارے بیٹھ گئی اس نے سمندر میں ایک چونچ یا دو چونچیں ماریں حضرت خضر نے کہا: اے موسیٰ ! میرا علم اور آپ کا علم اللہ کے علم کے مقابلہ میں ایسا ہے جیسے سمندر میں اس چڑیا کی ایک چونچ ہے پھر حضرت خضر نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ کا ارادہ کیا اور اس کو اکھاڑ دیا حضرت موسیٰ نے کہا: ان لوگوں نے بغیر معاوضہ کے ہمیں کشتی میں سوار کیا اور آپ نے اس کا تختہ اکھاڑ دیا تا کہ اس میں بیٹھنے والوں کو غرق کر دیں! حضرت خضر نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے0 موسیٰ نے کہا: آپ میری بھول پر میری گرفت نہ کیجئے  (الکہف: ۷۳ – ۷۲) سو پہلی بار حضرت موسیٰ سے بھول ہو گئی پھر وہ دونوں روانہ ہو گئے، پس وہاں ایک لڑکا لڑکوں کے ساتھ کھل رہا تھا حضرت خضر نے اس لڑکے کا سر اوپر کی طرف سے پکڑا اور اپنے ہاتھ سے اس کا سر دھڑ سے الگ کر دیا، پھر حضرت موسیٰ نے کہا: کیا آپ نے ایک بے قصور جان کو بغیر کسی جان کے عوض کے قتل کر ڈالا (الکہف: ۷۴) خضر نے کہا: کیا میں نے آپ سے پہلے ہی نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ ہر گز نہیں صبر کر سکیں گے 0 (الکہف 75)۔ ابن عیینہ نے کہا: اس میں زیادہ تاکید ہے ” پھر وہ دونوں روانہ ہو گئے حتی کہ جب وہ ایک دیہات والوں کے پاس پہنچے تو دیہات والوں سے کھانا مانگا انہوں نے ان دونوں کو مہمان بنانے سے انکار کر دیا، پھر ان دونوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی، جو گرا چاہتی تھی، انہوں نے اس کی مرمت کر دی“ (الکہف:۷۷) خضر نے اپنے ہاتھ سے اس کی مرمت کی تب حضرت موسیٰ نے ان سے کہا: “اگر آپ چاہتے تو اس پر کوئی معاوضہ لے لیتے ! حضرت خضر نے کہا: بس ! یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہے (الکہف: ۷۷-۷۸) نبی صلی  اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ حضرت موسیٰ پر رحم فرمائے ہم چاہتے تھے اگر وہ صبر کرتے حتی کہ ان دونوں کے مزید واقعات ہم پر بیان کیے جاتے ۔

 

حدیث : ۷۴ میں اس حدیث کی مکمل تخریج اور شرح گزر چکی ہے باقی امور کی شرح ہم یہاں ذکر کریں گے۔

 

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت واضح ہے کیونکہ عنوان میں ہے: جب عالم سے پوچھا جائے کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ تو اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ اس علم کو اللہ کے سپرد کرے اور اس حدیث میں مذکور ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: سب سے بڑا عالم میں ہوں، پھر اس کے نتیجہ میں ان کو حضرت خضر علیہ السلام تک سفر کرنا پڑا۔

 

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

 

(۱) عبد اللہ بن محمد الجعفی المسندی ۔

(۲) سفیان بن عیینه۔

(۳) عمرو بن دینار۔

(۴) سعید بن جبیر۔

(۵) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔

(۶) نوف بن فضالہ ابو یزید البکالی وہ عالم فاضل اور دمشق والوں کے امام تھے ابن التین نے کہا: وہ حضرت علی رضی اللہ کے دربان تھے اور قصہ گو تھے، مشہور یہ ہے کہ وہ کعب احبار کی بیوی کے بیٹے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ وہ ان کے بھائی کے بیٹے تھے البکالی میں بنی بکال کی طرف نسبت ہے اکثر محدثین اس لفظ کو بکالی پڑھتے ہیں۔

(۷) حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، ان کا تعارف ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۸۴)

 علم کے مضاف ہونے کی توجیہ، عتاب کا معنی اور حضرت موسیٰ پر عتاب کی توجیہ، مجمع البحرین کا مصداق اور پکی ہوئی مچھلی کے زندہ ہونے کی توجیہ:

 

 

اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: بنی اسرائیل کے موسیٰ ؟ اس پر یہ اعتراض ہے کہ اس جملہ میں موسیٰ بنی اسرائیل کی طرف مضاف ہے، حالانکہ موسیٰ علم ہے اور علم کی اضافت نہیں کی جاتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے اس لفظ کونکرہ بنایا گیا’ پھر اس کی اضافت کی گئی اور نکرہ بنانے کی صورت یہ ہے کہ اس کا معنی ہے: ان میں سے ایک جن کا نام موسیٰ ہے۔

 

نیز اس حدیث میں مذکور ہے : جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں سب سے بڑا عالم ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا عتاب کا معنی ہے: شفقت اور محبت سے کسی کو ملامت کرنا یا اس کے کسی نامناسب کام پر محبت سے ٹوکنا یا اس کی گرفت کرنا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا گیا تھا کہ سب سے بڑا عالم کون ہے؟ اور سائل کا منشاء یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟

اور واقع میں بنی اسرائیل میں سب سے بڑے عالم حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی تھے، اس لیے حضرت موسیٰ کا جواب صحیح تھا، لیکن چونکہ سوال مطلقا تھا اس لیے حضرت موسی علیہ السلام کو یہ تنبیہ کی گئی کہ آپ کو چاہیے تھا’ آپ کہتے کہ اسکا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔

 

نیز اس حدیث میں ہے کہ ایک بندہ مجمع البحرین میں ہے مجمع البحرین کا معنی ہے: بحر فارس اور بحر روم کے ملنے کی جگہ، ثعلبی نے حضرت ابی بن کعب سے روایت کیا ہے کہ یہ جگہ افریقہ میں ہے۔

 

جس چٹان پر حضرت موسیٰ اور حضرت یوشع بن نون سر رکھ کر سوئے تھے اس چٹان میں آب حیات کا چشمہ تھا، اس کا پانی جس کو بھی لگ جاتا وہ زندہ ہو جاتا وہ مچھلی پکی ہوئی تھی، اس کو پانی نے چھوا تو وہ زندہ ہوگئی اور حرکت کرنے لگی اور ان کی ٹوکری سے نکل کر سمندر میں داخل ہو گئی۔

 

جس لڑکے کو حضرت خضر نے قتل کیا تھا، اس کا تعارف

جس لڑکے کو حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کر دیا تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ ابھی بالغ نہیں ہوا تھا۔

 

الضحاک نے کہا: وہ لڑکا عمدا فساد کرتا تھا اور اپنے ماں باپ کو ایذاء پہنچاتا تھا کلبی نے کہا: وہ لڑکا رات کولوگوں کی چیزیں چرا لیتا تھا اور صبح کو اپنے ماں باپ کے پاس چلا جاتا اور وہ اس پر شفقت کی وجہ سے قسم کھا کر کہتے کہ یہ تو رات بھر ہمارے پاس رہا تھا، اس کے نام میں اختلاف ہے الضحاک نے کہا: اس کا نام جیسون تھا، شعبہ نے کہا: اس کا نام جیسور تھا، ابن وھب نے کہا: اس کے باپ کا نام ملالس اور اس کی ماں کا نام رحمی تھا۔

 

عالم یا شیخ کے کسی فعل پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے، حضرت خضر کی نبوت پر دلیل اور دیگر مسائل

 

اس حدیث کے فوائد میں سے یہ ہے کہ علم کی طلب کے لیے سفر کرنا چاہیے اور سفر میں ناشتہ اور کھانے کی چیزیں ساتھ رکھنی چاہئیں اور عالم یا شیخ کا ادب اور احترام کرنا چاہیے اور ان کے اقوال اور افعال میں سے اگر کوئی چیز  سمجھ میں نہ آئے تو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے اور یہ کہ ضرورت کے وقت کھانے کا سوال کرنا جائز ہے اور یہ کہ جب کسی کام میں دو خرابیاں ہوں تو بڑی خرابی کے مقابلہ میں چھوٹی خرابی کو برداشت کر لینا چاہیے کیونکہ کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دینا چھوٹی خرابی ہے اور ظالم بادشاہ کا اس سالم کشتی کو غصب کر لینا بڑی خرابی ہے حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ کر اس کو عیب دار کردیا تا کہ ظالم بادشاہ اس کو غصب نہ کرسکے نیز اس سے یہ معلوم ہوا کہ شریعت کے ہر حکم کو تسلیم کرنا چاہیئے خواہ اس کی حکمت معلوم نہ ہو یا سمجھ میں نہ آئے جیسے خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا تختہ اکھاڑ دیا اور اس لڑکے کوقتل کر دیا بہ ظاہر یہ کام خراب اور فاسد تھے لیکن یہ کام واقع میں صحیح تھے جیسا کہ بعد میں ان  کاموں کی حکمت معلوم ہو گئی اسی وجہ سے حضرت خضر علیہ السلام نے کہا:

ومَا فَعَلْتُهُ عَنْ أَمْرى (الكہف: ۸۲)

میں نے اپنی رائے سے یہ کام نہیں کیے۔

حضرت خضر کے اس قول میں یہ دلیل ہے کہ انہوں نے یہ کام وحی سے کیے تھے اور وحی نبی پر نازل ہوتی ہے سو اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نبی تھے، صرف ولی نہ تھے، بعض ملحدین اور مبتدعین یہ کہتے ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام ولی تھے اور ولی نبی سے افضل ہوتا ہے اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی ہونے کے باوجود ولی سے علم حاصل کرنے گئے، یہ عقیدہ باطل ہے، حضرت خضر علیہ السلام نبی اور رسول تھے اور ایک نبی کا دوسرے نبی سے علم حاصل کرنا جائز ہے۔

 

حضرت خضر نے جو چڑیا کی چونچ میں پانی اور سمندر کے پانی کی مثال دی اس پر اعتراض کا جواب

 

ایک اعتراض یہ ہے کہ حضرت خضر نے کہا: میرے اور تمہارے علم کی مثال اللہ کے علم کے مقابلہ میں ایسے ہے جیسے چڑیا کی چونچ میں پانی، سمندر کے پانی کے مقابلہ میں ہے حالانکہ چڑیا کی چونچ میں جو پانی ہے وہ بھی متناہی ہے اور سمندر کا پانی بھی متناہی ہے اور یہ متناہی کا متناہی کے ساتھ تقابل ہے اور حضرت خضر اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کے علم کی اللہ کے علم کے مقابلہ میں جو نسبت ہے وہ متناہی کا غیر متناہی کے ساتھ تقابل ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس مثال سے مقصود علم کی قلت اور عظمت میں تشبیہ دینا ہے اور اس سے من كل الوجوہ تشبیہ دینا مقصود نہیں ہے۔

 

ایک سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا یہ واقعہ کسی جگہ پر ہوا تھا ؟ اس کے متعلق دو قول ہیں: ایک قول یہ ہے کہ جس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام میدانِ تیہ میں تھے اور دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مصر سے نکلنے سے پہلے یہ واقعہ ہوا تھا۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۹۶ ملخصا ، دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

 

حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے اس واقعہ کی پوری تفصیل جاننے کے لیے تبیان القرآن ج ۷ ص ۱۹۲ – ۱۶۰، الکہف: ۸۲ ۔ ۶۵ کا مطالعہ فرمائیں۔

Exit mobile version