٤٥ – بَابُ مَنْ سَأَلَ وَهُوَ قَائِمٌ عَالِمًا جَالِسًا
جس نے کھڑے ہوئے سوال کیا اور عالم بیٹھا ہوا تھا
باب سابق کے ساتھ اس باب کی مناسبت اس طرح ہے کہ اس میں بھی عالم سے سوال کا ذکر تھا اور اس میں بھی عالم سے سوال کا ذکر ہے
۱۲۳ – حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ أَخْبَرَنِي جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِى وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مُوسى قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ ، مَا الْقِتَالُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ فَإِنَّ أَحَدَنَا يُقَاتِلُ غَضَبًا، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةٌ ، فَرَفَعَ إِلَيْهِ رَأْسَهُ. قَالَ وَمَا رَفَعَ الَيْهِ رَأْسَهُ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا، فَقَالَ مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا ، فَهُوَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّوَجَلَّ اطراف الحدیث:۲۸۱۰-3126- ۷۴۵۸)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عثمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے جریر نے خبر دی ہے از منصور از ابی وائل از حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا: ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا: یا رسول اللہ ! اللہ کی راہ میں قتال کرنے کی کیا تعریف ہے؟ کیونکہ ہم میں سے ایک شخص غضب میں قتال کرتا ہے اور ایک شخص حمیت ( زبان یا قبیلہ کے تعصب ) میں قتال کرتا ہے آپ نے اپنا سر اٹھایا’ آپ نے جس وقت سر اٹھایا تو اس وقت وہ سائل کھڑا ہوا تھا، آپ نے فرمایا: جس نے اس لیے قتال کیا کہ اللہ کا دین سر بلند ہو وہ اللہ عزوجل کی راہ میں قتال ہے۔
(صحیح مسلم : ۱۹۰۴ سنن ابوداؤد: ۲۵۱۷ سنن ترمذی: ۱۶۴۶ سنن نسائی: 3136 سنن ابن ماجہ : ۲۷۸۳ مسند ابوعوانہ ج ۵ ص ۷۷ ۷۶ مسند ابو داؤد الطیالسی: ۴۸۸ مسند احمد ج 4 ص 417 طبع قدیم مسند احمد : ۱۹۷۳۹ – ج ۳۲ ص 516 مؤسسة الرسالة بیروت)
باب کے عنوان سے اس حدیث کی مطابقت اس حیثیت سے ہے کہ اس حدیث میں ذکر ہے کہ جس وقت سائل نے یہ سوال کیا اس وقت وہ کھڑا ہوا تھا اور اس باب سے امام بخاری کی غرض یہ ہے کہ جب عالم بیٹھا ہوا ہو اور کوئی شخص اس سے کھڑے ہوئے سوال کرے تو یہ اس باب سے نہیں ہے کہ جب لوگوں کے لیے کھڑے ہونے سے آپ نے منع فرمایا ہے اور جب کسی شخص میں اپنی تعظیم اور بڑائی کا خیال نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اس حدیث کی سند میں عثمان کا ذکر ہے اس سے مراد عثمان بن ابی شیبہ ہے اور جریر سے مراد جریر بن عبد الحمید ہے اور منصور سے مراد منصور بن المعتمر ہے اور ابو وائل سے مراد شقیق بن ابی سلمہ ہے اور ابو موسیٰ سے مراد عبد اللہ بن قیس الاشعری رضی اللہ عنہ ہیں ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔
نیک اعمال کا انسان کی نیت صالحہ پر موقوف ہونا
انسان کی تین قو تیں ہیں: قوت عقلیہ قوت غضبیہ اور قوت شہوانیہ اللہ کی راہ میں قبال اس وقت ہوگا جب وہ قوت عقلیہ کے تقاضے سے قتال کرے گا اور اس وقت اس کا یہ قتال اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے ہوگا یا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوگا یا اجر آخرتکے لیے ہوگا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیک اعمال انسان کی نیت صالحہ پر موقوف ہیں اور یہ کہ عبادت کے لیے اخلاص شرط ہے جس عبادت کا محرک اور باعث کوئی دنیاوی امر ہو اس کی وہ عبادت رائیگاں جائے گی اور مجاہدین کی فضیلت میں جو احادیث وارد ہیں وہ ان مجاہدین کے متعلق ہیں جو دین کی سر بلندی کے لیے جہاد کرتے ہیں اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مستفتی کسی سبب یا عذر سے کھڑا ہوا ہو اور مفتی بیٹھا ہوا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اخلاص سے جہاد کی فضیلت اور دکھانے اور سنانے کے لیے جہاد کی مذمت میں احادیث
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر پوچھا: ایک شخص مال غنیمت کے حصول کے لیے قتال کرتا ہے ایک شخص اپنے ذکر اور شہرت کے لیے قتال کرتا ہے اور ایک شخص اس لیے قتال کرتا ہے کہ اس کا مقام دکھایا جائے ان میں سے اللہ کی راہ میں قتال کرنے والا کون ہے؟ آپ نے فرمایا: جو اس لیے قتال کرے کہ اللہ کا دین سر بلند ہو وہ اللہ کی راہ میں قتال کرنے والا ہے۔ (صحیح البخاری: ۲۸۱۰ صحیح مسلم : ۱۹۰۴)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جہاد اور غزوہ کے متعلق بتائیے’ آپ نے فرمایا: اے عبداللہ بن عمرو! اگر تم صبر کرتے ہوئے اور ثواب کی نیت سے قتال کرو گے تو تم صابر اور محتسب اٹھائے جاؤ گے اور اگر تم دکھاوے کے لیے اور مال کی کثرت کے لیے قتال کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس حال میں اٹھائے گا کہ تم ریا کار اور کثرت کے طالب ہو گے، اے عبد اللہ بن عمرو! تم جس حال میں قتال کرو گے یا قتل کیے جاؤ گے اللہ عز وجل تم کو اسی حال میں اٹھائے گا۔
(سنن ابوداؤد : ۲۵۱۹)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے اور وہ دنیا کی متاع کو طلب کرتا ہے، آپ نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے لوگوں پر یہ حدیث بہت گراں گزری اور انہوں نے اس شخص سے کہا: تم اپنا سوال دوبارہ دہراؤ اس نے دوبارہ کہا: یا رسول اللہ ! ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ کرتا ہے اور وہ دنیا کی متاع کو طلب کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے اس نے تیسری بار سوال دہرایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔ (سنن ابوداؤد: ۲۵۱۶ صحیح ابن حبان : ۴۶۳۷، المستدرک ج ۲ ص ۸۵ سنن بیہقی ج ۹ ص ۱۶۹‘ مسند احمد ج ۲ ص ۲۹۰ طبع قدیم مسند احمد : ۷۹۰۱ – ج ۱۳ ص ۷ ۲۷ مؤسسة الرسالة بیروت)
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آ کر کہا: یا رسول اللہ ! یہ بتائیے ایک شخص جہاد کرتا ہے وہ اجر کو بھی طلب کرتا ہے اور شہرت کو بھی اس کو کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا: اس کو کچھ نہیں ملے گا اس نے تین بار سوال دہرایا’ آپ نے ہر بار یہی فرمایا: اس کو کچھ نہیں ملے گا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لیے ہو اور اس سے اس کی ذات کا ارادہ کیا گیا ہو ۔ (سنن نسائی: 3140)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہاد کی دو قسمیں ہیں: جس نے اللہ کی رضا کے لیے جہاد کیا اور امام کی اطاعت کی اور اپنے پاک مال کو خرچ کیا اور اپنے شریک کے ساتھ آسانی کی اور فساد سے پر ہیز کیا اس کی نیند اور بیداری سب کی سب اجر ہے اور جس نے فخر کرتے ہوئے اور دکھانے اور سنانے کے لیے جہاد کیا اور امام کی نافرمانی کی اور زمین میں فساد کیا اس کا معاملہ برابر برابر نہیں ہوگا۔ (سنن ابوداؤد : ۲۵۱۵ المعجم الكبير : ۱۷۶ – ج ۲۰ مسند الشامیين : ۱۱۵۹ المستدرک ج ۲ ص ۸۵ سنن بیہقی ج ۹ ص ۱۶۸ سنن دارمی: ۲۴۱۷، سنن نسائی : ۳۱۸۸، السنن الكبرى للنسائی: 8730 شعب الایمان : ۴۲۶۵ حلیة الاولیاء ج ۵ ص ۲۲۰، مسند احمد ج ۵ ص ۲۳۴ طبع قدیم مسند احمد : ۲۲۰۴۲ – ج ۳۶ ص ۳۶۸ مؤسسة الرسالة بیروت)
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۸۰۴- ج ۵ ص ۹۱۳ پر ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔
