Site icon اردو محفل

کتاب العلم باب 49 حدیث نمبر 128

۱۲۸- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَاأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذ رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ. قَالَ يَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ وَ سَعْدَيْكَ قَالَ يَا مُعَاذُ قَالَ لَبَّيْكَ یا رسول اللهِ وَسَعْدَيْكَ ثَلَانَّا قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَشْهَدُ انْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہ صِدْقًا مِّنْ قَلْبِهِ إِلَّا حَرَّمَهُ اللهُ عَلَى النَّارِ، قَالَ یارَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُخْبِرُ بِهِ النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا ؟ قَالَ إِذًا يَتَكِلُوْا وَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذ عِندَ مَوْتِهِ تَاثْمًا.

اطراف الحدیث :۱۲۹۔ ۶۲۲۷

صحیح مسلم : 32، الادب المفرد للبخاری : 943، السنن الکبری للنسائی: 10014،  شرح السنته :49، المعجم الکبیر: ۲۵۵ – ج ۲۰ مسند ابوداؤد الطیالسی 565، ۱لاحاد والمثانی : 1842، مسند البزار: ۲۶۲۷ حلیة الاولیاء ج ۸ ص ۲۲  مسند ج ۵ ص ۲۲۸ – ۲۴۲ طبع قدیم مسند احمد: ۲۱۹۹۳-۲۲۰۹۶ – ج 36 ص ۳۱۹ – ۴۱۴ مؤسسة الرسالة بیروت

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں اسحاق بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں معاذ بن ہشام نے حدیث  بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی از قتادہ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم( سواری کے ) پالان پر بیٹھے ہوئے تھے اور  حضرت معاذ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا یا معاذ بن جبل ! انہوں نے کہا: میں حاضر ہوں، یا رسول اللہ ! آپ کی اطاعت کے لیے موجود ہوں آپ نے (دوبارہ کہا: یا معاذ ؟ انہوں نے کہا: میں حاضر ہوں، یا رسول اللہ! اور آپ کی اطاعت کے لیے موجود ہوں! یہ تین بار مکالمہ ہوا آپ نے فرمایا: جو شخص بھی صدق دل سے یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اللہ اس کو دوزخ پر حرام کر دے گا حضرت معاذ نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں تا کہ وہ خوش ہو جائیں’ آپ نے فرمایا: پھر وہ اسی پر تکیہ کر لیں گئے اور حضرت معاذ نے اپنی موت کے وقت گناہ سے بچنے کے لیے اس کی خبر دے دی۔

اس باب کا عنوان ہے: کسی ایک قوم کو کسی چیز کے علم کے ساتھ خاص کرنا اور اس حدیث میں بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عظیم بشارت کے ساتھ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو خاص کر لیا اور انہیں منع فرمادیا کہ وہ دوسرے لوگوں کو یہ خبر نہ بتائیں ورنہ وہ اسی پر اعتماد کرلیں گے اور عمل کرنا چھوڑ دیں گے اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ عنوان میں تو ایک قوم کو کسی چیز کے ساتھ خاص کر لینے کا ذکر ہے جب کہ حدیث میں ایک فرد کو خاص کر لینے کا ذکر ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قوم سے مراد عام ہے ایک شخص ہو یا کئی اشخاص ہوں، نیز یہاں پر حضرت معاذ کے ساتھ حضرت انس بھی تھے اور کبھی ایک شخص پر امت کا اطلاق بھی ہو جاتا ہے جیسے قرآن مجید میں ہے:

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ أُمَّةٌ قَانِتا. (النحل:120)

بے شک ابراہیم اللہ کے مخلص اور مطیع بندے تھے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) اسحق بن ابراہیم ابن راھویہ ان کا تعارف ہو چکا ہے

(۲) معاذ بن ہشام الدستوائی’ یہ اپنے والد اور ابن عون سے روایت کرتے ہیں اور ان سے امام احمد وغیرہ نے روایت کی ہے ابن معین نے کہا: یہ صدوق ہیں اور حجت نہیں ہیں ابن عدی نے کہا: یہ بعض اوقات غلطی کرتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ یہ صدوق ہیں یہ ۲۰۰ھ میں بصرہ میں فوت ہو گئے تھے

(۳) ابو ہشام

(۴) قتادہ بن دعامہ

(۵) حضرت انس بن مالک رضی الله  عنہ(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۱۰)

رديف‘ رحل، لبيك، سعديك، يتكلوا‘ اور تاثما“ کے معانی

اس حدیث میں ردیف “ کا لفظ ہے جو شخص سواری پر سوار کے پیچھے بیٹھا ہو اس کو ردیف“ کہتے ہیں جو چیز دوسری چیز کے تابع ہو اس کو بھی ” ردیف” کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھنے والے مختلف اوقات میں تیس سے زائد صحابہ تھے۔

رحل : اونٹ پر جو پالان ہوتا ہے اس کو رحل “ کہتے ہیں، لیکن اس حدیث میں جس سواری کا ذکر ہے وہ دراز گوش تھا، جیسا كه ” كتاب الجھاد میں اس کا ذکر آئے گا۔

لبيك : یہ لب ” سے بنا ہے یہ اصل میں تھا: ” الب لَكَ إِلبَابًا بَعْدَ البَابِ “ اس کا معنی ہے: میں آپ کی اطاعت اور فرماں برداری کے لیے حاضر ہوں۔

سعديك : یہ اصل میں تھا : اسْعِدُكَ لَكَ إِسْعَادًا بَعْدَ اِسْعَادٍ یہ بھی لبیک کے معنی میں ہے اس کا معنی بھی ” لبيك ” کی مثل ہے، تاکید کے لیے اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔

يتكلوا : اس کا مصدر اتکال “ ہے اس کا معنی ہے: اعتماد کرنا یعنی پھر لوگ صرف لا الہ الا الہ محمدرسول اللہ پڑھنے پر اعتماد کر لیں گے اور عمل کرنا چھوڑ دیں گے۔

تائما : تاثم فلان کا معنی ہے: اس نے ایسا فعل کیا جس سے وہ گناہ سے نکل گیا، اگر حضرت معاذ اس کی کسی کو کبھی بھی خبر نہ دیتے تو وہ علم کو چھپانے کی وعید میں داخل ہو جاتے اور اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور علماء سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ ضرور علم کو بیان کریں گے اور چھپائیں گے نہیں، قرآن مجید میں ہے:

وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ لَتُبَيِّنُنَّهُ للنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَه. ( آل عمران: ۱۸۷)

اور جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے پکا عہد لیا کہ وہ اس کو ضرور لوگوں سے بیان کریں گے اور چھپائیں گے نہیں۔

اس لیے حضرت معاذ نے اس آیت کے حکم پر عمل کرنے کے لیے اس بشارت کی خبر دے دی ۔

حدیث مذکور کی بشارت کو مخفی رکھنے کی وجوہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بشارت کو مخفی رکھنے کا جوحکم دیا تھا اس میں اس بشارت پر اعتماد کر کے ترک عمل کے علاوہ اور کیا حکمت تھی؟

اس کے حسب ذیل جوابات ہیں:

(1) اس بشارت کے ظاہر کا یہ تقاضا تھا کہ جس نے بھی توحید ورسالت کی گواہی دے دی وہ دوزخ میں داخل نہیں ہو گا، جب کہ دلائل قطعیہ سے یہ ثابت ہے کہ جن موحدین نے گناہ کیے ہیں، ان میں سے بعض کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل سے یا شفاعت کی وجہ سے دوزخ سے نکال لے گا اور چونکہ یہ معنی مخفی تھا اس لیے آپ نے حضرت معاذ کو اس بشارت کا اعلان عام کرنے کا حکم نہیں دیا۔

(۲) اس حدیث کا عمل یہ ہے کہ جو اپنے تمام گناہوں پر توبہ کرنے کے بعد توحید اور رسالت کی گواہی دے اور اسی پر مر جائے وہ دوزخ میں داخل نہیں ہو گا۔

(۳) یہ بشارت اکثر مسلمانوں کے لیے ہے کہ جو توحید اور رسالت کی صدق دل سے گواہی دیتا ہے وہ نیک عمل کرتا ہے اور گنا ہوں سے مجتنب رہتا ہے وہ دوزخ میں داخل نہیں ہوگا۔

(۴) اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ جس نے توحید اور رسالت کی گواہی دی وہ ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ اصلا دوزخ میں داخل ہی نہیں ہوگا۔

(۵) اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ اس کے پورے جسم کو دوزخ کا عذاب نہیں ہوگا کیونکہ مسلمان کے جسم کے مواضع سجود کو اور کلمہ پڑھنے والی زبان کو عذاب نہیں ہوگا۔

(6) اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ جس نے صدق دل سے کلمہ شہادت پڑھا اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا، اس کو دوزخ کا عذاب نہیں ہوگا۔

حدیث مذکور کے دیگر مسائل

(1) جولوگ مسائل کے حفظ اور ضبط کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہوں ان کو لطیف معانی اور اسرار پر مطلع کرنا چاہیے اور جن لوگوں میں یہ خصوصیت نہ ہو، ان کو ایسی باتیں نہیں بتانی چاہئیں تا کہ وہ اپنی کم فہمی کی بناء پر ان اسرار و رموز کو افشاء نہ کردیں۔

(۲) اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ ایک سواری پر دو آدمی بیٹھ سکتے ہیں۔

(۳) اس سے معلوم ہوا کہ جس مسئلہ میں تردد ہو کہ عام لوگوں کو اس کی خبر دی جائے یا نہیں، اس کے متعلق امام سے استفسار کر لینا چاہیے۔

(۴) جب کوئی امیر یا امام نام لے کر نداء کرے تو لبیک کہہ کر جواب دینا چاہیے۔

(۵) اس حدیث میں مسلمانوں کے لیے مغفرت کی عظیم بشارت ہے۔

باب مذکور کی یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۱ – ج ۱ ص ۴۰۱ پر ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔*

Exit mobile version