٥٠- بَابُ الْحَيَاءِ فِي الْعِلْمِ
علم میں حیاء کا بیان
حیاء کا معنی اس سے پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ کسی کام پر مذمت کے خوف سے انسان پر تغیر کی جو کیفیت طاری ہوتی ہے اس کو حیاء کہتے ہیں، اگر یہ سوال کیا جائے کہ علم میں حیاء سے کیا مراد ہے؟ حصول علم میں حیاء کرنی چاہیے یا حصول علم میں حیاء کو ترک کرنا چاہیے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں مراد ہیں، بعض مواقع پر حصول علم میں حیاء مطلوب ہوتی ہے اور بعض مواقع پر حیاء کو ترک کرنا مطلوب ہوتا ہے۔
علم میں حیاء کی مثال یہ ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ ایک درخت مومن کی مثل ہے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ تو حضرت ابن عمر کے ذہن میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، لیکن چونکہ وہاں پر اکابر صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے تو ان کے سامنے زبان کھولنے سے حضرت ابن عمر نے حیاء کی ۔ ( صحیح البخاری : ۶۱)
اور بعض مواقع پر حیاء کو ترک کرنا مطلوب ہوتا ہے اس کی مثال مجاہد اور حضرت عائشہ رضی اللہ کے اقوال میں آ رہی ہے۔
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں یہ بتایا تھا کہ لطائف اور اسرار کو صرف ان لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے جو اس کے اہل ہوں اب اس باب میں یہ بتایا ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی مسئلہ معلوم کرنے کی حاجت ہو تو وہ اس وجہ سے اس کے معلوم کرنے کو ترک نہ کرے کہ ممکن ہے میں اس کے علم کا اہل نہ ہوں اور سوال کرنے سے حیاء کرے۔
وقالَ مُجَاهِدٌ لَا يَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ مُسْتَحْيِ وَلَا مستكبر۔
اور مجاہد نے کہا: حیاء کرنے والا اور تکبر کرنے والا علم حاصل نہیں کر سکتا۔
یعنی جو شخص سوال کرنے سے حیاء کرے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اس کو اس بات کا بھی علم نہیں یا جو آدمی اپنے آپ کو بہت بڑا عالم سمجھتا ہو اور وہ سوال کرنے کو اپنی بڑائی کے خلاف سمجھتا ہو امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے کسی نے پوچھا: آپ نے اتنا عظیم علم کیسے حاصل کیا ؟ تو امام اعظم نے فرمایا : میں نے کسی کو فائدہ پہنچانے میں کبھی بخل نہیں کیا اور کسی سے فائدہ حاصل کرنے میں کبھی عار نہیں سمجھا۔
وَقَالَتْ عَائِشَةُ نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارَ، لَمْ يمنعهُنَّ الْحَيَاء أَنْ يَتَفَقَّهُنَّ فِي الدِّينِ.
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: انصار کی خواتین کیا خوب خواتین ہیں، انہیں دین کو سمجھنے سے کبھی حیا منع نہیں کرتی ۔
امام بخاری نے یہ حدیث کا ایک فقرہ روایت کیا ہے اور جس حدیث کا یہ فقرہ روایت کیا ہے وہ مکمل حدیث اس طرح ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے متعلق سوال کیا، آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک عورت اپنے پانی اور بیری کے پتوں کو لے کر اچھی طرح وضو کرے پھر اپنے سر پر پانی ڈالے پھر اس کو اچھی طرح رگڑے حتیٰ کہ اس کے سر کے تمام حصوں میں پانی پہنچ جائے، پھر اپنے سر پر پانی بہائے، پھر مشک کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے حضرت اسماء نے کہا: اس سے کیسے پاکیزگی حاصل کرے؟ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکیزگی حاصل کرے حضرت عائشہ نے چپکے سے ان سے کہا: اس مشک کے ٹکڑے سے خون کے نشانوں کو صاف کرے پھر میں نے آپ سے غسل جنابت کے متعلق سوال کیا آپ نے فرمایا : پانی لے کر اس سے طہارت کرے پھر اچھی طرح وضو کرے، پھر اپنے سر پر پانی بہائے پھر سر کو اچھی طرح ملے حتی کہ سر کے تمام حصوں میں پانی پہنچ جائے پھر اپنے پورے جسم پر پانی بہائے حضرت عائشہ نے کہا: کیا خوب عورتیں ہیں، انصار کی عورتیں، انہیں دین کو سمجھنے سے حیا منع نہیں کرتی ۔
(صحیح مسلم : 332، الرقم مسلسل : ۷۳۴ سنن ابوداؤد :۳۱۶- ۳۱۵- 314 سنن ابن ماجه: ۶۴۲)
انصار کی خواتین سے مراد اہل مدینہ کی خواتین ہیں۔
١٣٠ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُومُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ ام سَلَمَةَ عَنْ أَمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ جَاءَتْ اُمُّ سُلَيْمٍ إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلِ إِذَا احْتَلَمَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَاتِ الْمَاءَ فَعَطَّتْ أُمُّ سَلَمَةَ تَعْنِي وَجْهَهَا وَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ نَعَمُ تَرِبَتْ يَمِيْنُكِ فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا؟
اطراف الحدیث : ۲۸۲ – 3328-6091-6121
صحیح مسلم : 313 سنن ترمذی: ۱۲۲ سنن نسائی: ۱۹۷ سنن ابوداؤد : ۲۳۷ سنن ابن ماجه : ۶۰۰، السنن الکبری للنسائی:109 سنن بیہقی ج10 ص ۲۶۵ سنن دارمی : ۷۶۳ مسند ابو عوانہ ج ۱ ص ۲۹۲ صحیح ابن حبان : 1166، مسند الشامیین : ۱۷۴۹ مسند احمد ج ۶ ص ۹۲ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۴۶۱۰۔ ج ۴۱ ص ۱۵۶ مؤسسة الرسالة بیروت
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن سلام نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی از والد خود از زینب بنت ام سلمہ از حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا انہوں نے کہا کہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں : یا رسول اللہ اللہ حق بیان کرنے سے حیاء نہیں فرماتا‘ کیا عورت پر بھی غسل (واجب) ہوتا ہے جب اسے احتلام ہو جائے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ پانی دیکھ لے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنا منہ ڈھانپ لیا اور کہا: یا رسول اللہ ! عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں! تمہارے ہاتھ خاک آلودہ ہوں ! پس اس کا بچہ کس چیز سے اس کے مشابہ ہوتا ہے؟
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں حیاء کا ذکر ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) محمد بن سلام العبیکندی
(۲) ابو معاویہ محمد بن حازم اتمیمی
(۳) ہشام بن عروه
( ۴ ) عروہ بن الزبیر بن العوام ان کا تعارف گزر چکا ہے
(۵) زینب بنت ام سلمہ یہ زینب بنت عبد اللہ بن عبد الاسد المخزومی ہیں ان کی نسبت ان کی اس ماں کی طرف ہے جوام المؤمنین ہیں ان کے اس شرف کو بیان کرنے کے لیے کہ یہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی ربیبہ ( لے پالک ) ہیں اور یہ بتانے کے لیے کہ ان کی روایت ان کی ماں سے ہے، جن کا نام پہلے برہ تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو بدل کر ان کا نام زینب رکھ دیا، یہ اپنے زمانہ کی خواتین میں سب سے زیادہ فقیہ تھیں، ان کی والدہ حبشہ کی سرزمین میں پیدا ہوئیں اور وہاں سے ان کو لے کر آئیں یہ عمر سلمہ اور درہ کی بہن تھیں امام بخاری نے صرف ان کی یہی ایک حدیث روایت کی ہے اور امام مسلم نے دوسری حدیث روایت کی ہے یہ ۷۳ ھ میں فوت ہو گئی تھیں، ان سے بہت بڑی جماعت نے احادیث روایت کی ہیں۔
(6) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ تھیں ان کا نام ھند بنت ابی امیہ ہے ان کا تعارف ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۱۸)
اللہ تعالیٰ سے حیاء کرنے کا معنی ہے: کسی کام کو ترک کرنا
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہا: اللہ تعالیٰ حق سے حیاء نہیں فرماتا، اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے کو ترک نہیں فرماتا اسی طرح میں بھی اپنی حاجت کے سوال کو ترک نہیں کرتی ، جس کا سوال کرنے میں عموماً عورتیں حیاء کرتی ہیں، کیونکہ عورتوں کی منی کا نازل ہونا اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان کو مردوں کی شدید خواہش ہے حیاء کی تاویل ہم نے ترک کرنے سے اس لیے کی ہے کہ حیاء انسان کی اس کیفیت کو کہتے ہیں، جو کسی عیب یا مذمت کے خوف سے طاری ہوتی ہے اور یہ معنی اللہ تعالی کے لیے محال ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے:
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تمہارا رب تبارک و تعالی حیاء فرمانے والا کریم ہے جب بندہ اس کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تو وہ ان کو خالی لوٹانے سے حیاء فرماتا ہے۔
(سنن ابوداؤد : ۱۴۸۸ سنن ترمذی: ٬۳۵۵۶ سنن ابن ماجه : ۳۸۲۶)
اس حدیث میں اللہ تعالیٰ نے بندہ کی دعا قبول نہ کرنے اور اس کے ہاتھوں کے خالی لوٹانے کو حیاء سے تعبیر فرمایا ہے، پس اللہ تعالی کا ہاتھوں کے خالی لوٹانے کو ترک فرمانا، اس کا حیاء فرمانا ہے جیسے کریم کا کسی محتاج کے لوٹانے کو ترک کرنا اس کا حیاء کرنا ہے۔
بچہ ماں یا باپ کے کس وجہ سے مشابہ ہوتا ہے؟
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی منی پر اس کے بچہ کی اس کے ساتھ مشابہت سے استدلال فرمایا ہے جیسا کہ ایک اور حدیث میں حضرت ام سلیم کے جواب میں فرمایا: پس مشابہت کی وجہ سے ہوتی ہے؟ مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا زرد ہوتا ہے، پس ان میں سے جس کا پانی بھی غالب ہو اور سابق ہو اس کی وجہ سے مشابہت ہوتی ہے۔
(صحیح مسلم : 311، سنن نسائی:۲۰۰-۱۹۵ السنن الکبری للنسائی : ۲۰۲ سنن ابن ماجه (601)
ایک اور حدیث میں فرمایا:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: جب عورت کو احتلام ہو اور وہ پانی دیکھ لے تو کیا وہ غسل کرے گی؟ آپ نے فرمایا: ہاں ! حضرت عائشہ نے اس عورت سے کہا: تمہارے ہاتھ خاک آلودہ ہوں اور جنگ زدہ ہوں، حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو چھوڑو عورت کی اپنے بچے کے ساتھ مشابہت اس پانی کی وجہ سے ہوتی ہے جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غالب ہوجائے تو بچہ اپنے ماموں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غالب ہو جائے تو بچہ اپنے چچاؤں کے مشابہ ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم : 314، ارقم مسلسل :۷۰۰ )
حدیث مذکور کے دیگر مسائل اور فوائد
(1) پیش آمدہ مسئلہ کے متعلق عالم سے سوال کرنے میں حیاء نہیں کرنی چاہیے۔
(۲) عورت یا مرد جس کو بھی احتلام ہو اور اس کے کپڑوں پر پانی لگ جائے اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔
(۳) مرد کا پانی سفید ہوتا ہے اور اس کی بوگندھے ہوئے آٹے کی طرح ہوتی ہے اور جب پانی خشک ہو جاتا ہے تو اس کی بو انڈے کی طرح ہوتی ہے مرد کا پانی اچھل کر نکلتا ہے اور اس کے بعد جسم پر نقاہت اور کمزوری طاری ہوتی ہے اور اس پانی کے خروج کے وقت جسم کو لذت آتی ہے اور اس کے آلہ میں شہوت ہوتی ہے اور شہوت اور لذت سے خروج منی کے بعد غسل واجب ہوتا ہے اور عورت کی منی کے خروج کے بعد اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے خواہ اس کو شہوت ہو یا نہ ہوا اور شہوت سے مراد یہ ہے کہ عورت کو مرد سے اور مرد کو عورت سے جماع کی خواہش ہو۔
(۴) اس حدیث میں قیاس کا ثبوت ہے اور ایک چیز کے لیے اس کی نظیر کا حکم ثابت کرنا ہے اور اس میں عورت کی منی کا ثبوت ہے۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۱۸ – ۶۱۷ – ج ا ص ۱۰۰۹ پر ہے وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی۔*
