Site icon اردو محفل

کتاب العلم باب 51 حدیث نمبر 132

٥١ – بَابُ مَنِ اسْتَحْيَا فَأَمَرَ غَيْرَهُ بِالسُّؤَالِ

جس شخص نے حیاء کی اور دوسرے شخص کو سوال کرنے کا حکم دیا

 

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت واضح ہے کیونکہ دونوں بابوں میں حیاء کا ذکر ہے۔

 

۱۳۲ – حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُنْذِرِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ ابنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِي قَالَ كُنتُ رَجُلًا مَذَاءً فَاَمَرْتَ الْمِقدَادَ أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فسَالَهُ فَقَالَ فِيهِ الْوُضُوء. (اطراف الحديث : ۱۷۸ – 269)

 

  امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن داؤد نے حدیث بیان کی از الأعمش از منذر الثورى از محمد بن الحنفیه از حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ وه بیان کرتے ہیں کہ میں ایسا شخص تھا، جس کو مذی بہت آتی تھی، میں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کریں،  انہوں نے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس میں وضو کرنا ہے۔

 

(صحیح مسلم : 303، الرقم المسلسل :۶۸۱ ، سنن نسائی: ۱۵۲ السنن الکبری للنسائی: ۵۸۸۸ مسند البزار ۶۵۰ – ۶۵۹ ‘ مسند احمد ج ۱ ص ۸۰ طبع قدیم مسند احمد : ۲۰۶ – ج ۲ ص ۴۳ مؤسسة الرسالة بیروت)

 

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت واضح ہے، کیونکہ باب کا عنوان ہے: حیاء کی وجہ سے دوسرے کو سوال کرنے کا حکم دینا اور مذی عورت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے نکلتی ہے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کرتے ہوئے حیاء آتی تھی کیونکہ آپ کی صاحبزادی ان کے نکاح میں تھیں، اس لیے انہوں نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ آپ سے یہ سوال کریں۔

 

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) مسدد بن مسرھد ان کا تعارف ہو چکا ہے.

(۲) عبداللہ بن داود بن عامر الخریبی، یحیی بن معین نے کہا: یہ ثقہ مامون ہیں، ابوزرعہ اور محمد بن سعد نے کہا: یہ ثقہ، ناسک ہیں، انہوں نے کہا: میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا سوا ایک مرتبہ کے کم عمری میں، ابو حاتم نے کہا: یہ اپنی رائے پر عمل کرتے تھے اور صادق تھے سوائے امام مسلم کے ان سے ائمہ ستہ نے روایت کی ہے یہ ۲۱۳ ھ میں فوت ہوگئے تھے.

(۳) سلیمان الاعمش ان کا تعارف ہو چکا ہے .

(۴) منذر بن یعلی، ابو یعلی الثوری ان کی احمد بن عبد اللہ اور عبد الرحمان نے توثیق کی ہے اور ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے .

(۵) محمد بن حنفیہ یہ محمد بن علی بن ابی طالب الہاشمی ہیں، الحنفیہ ان کی ماں تھیں، ان اا نام خولہ بنت جعفر الحنفی الیمامی ہے، یہ بنو حنیفہ کے قیدیوں میں سے تھیں، محمد بن حنفیہ اس وقت پیدا ہوئے جب حضرت عمر کی خلافت کے دو سال رہ گئے تھے یہ ۸۰ یا ۸۱ سال کی عمر میں ۱۱۴ھ میں فوت ہو گئے تھے اور بقیع میں دفن کیے گئے ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے.

(6) حضرت علی بن ابی طالب الہاشمی رضی اللہ عنہ ان کا تعارف گزر چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۲۳)

مذی ودی اور منی کی تعریفات

اس حدیث میں مذی کا ذکر ہے ابن الاثیر لکھتے ہیں کہ یہ وہ چکنی تری ہے جو عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کے وقت مرد کے آلہ سے نکلتی ہے اور اس کے نکلنے کے بعد جسم میں کمزوری طاری نہیں ہوتی اور نہ اس کے نکلنے کا احساس ہوتا ہے اور یہ مردوں کی بہ نسبت عورتوں کی زیادہ نکلتی ہے اور ودی وہ چکنی تری ہے جو پیشاب کے بعد آلہ سے نکلتی ہے اور منی وہ سفید پانی ہے جس سے بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے خروج کے بعد جسم پر نقاہت اور کمزوری طاری ہوتی ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۲۴)

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کا تذکرہ

اس حدیث میں حضرت مقداد کا ذکر ہے:

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ  قدیم الاسلام صحابی ہیں، اسود بن عبد یغوث نے ان کی پرورش کی تھی یا ان کو بیٹا بنا لیا تھا’ اسلام لانے والوں میں ان کا چھٹا نمبر تھا یہ بدری صحابی ہیں یہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ دونوں گھوڑوں پر سوار تھے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ۴۲ احادیث روایت کی ہیں امام بخاری اور امام مسلم ایک حدیث پر متفق ہیں اور امام مسلم 3،  احادیث کے ساتھ منفرد میں مدینہ سے دس میل کے فاصلہ پر جرف کے مقام پر ان کی وفات ہوئی اس وقت ان کی عمر ۷۲ سال تھی ۳۳ھ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ان کی وفات ہوئی ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، ائمہ کی ایک جماعت نے ان سے احادیث روایت کی ہیں ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۲۵)

خروج مذی پر وضو کا وجوب اور بیوی کے والد کا احترام

اس حدیث میں آپ نے بتایا کہ مذی میں وضو ہے، یعنی مذی کے خروج سے غسل واجب نہیں ہوتا بلکہ وضو واجب ہوتا ہے کیونکہ یہ نجس ہے اسی لیے اس کے خروج کے بعد آلہ کو دھونا واجب ہے۔

حضرت علی نے حضرت مقداد سے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ معلوم کرو اس سے معلوم ہوا کہ استفتاء میں نیابت جائز ہے نیز اس سے یہ معلوم ہوا کہ اپنی بیوی کے والد کا احترام کرنا چاہیے اور ان کے سامنے ایسی بات کا ذکر نہیں کرنا چاہیئے جو ان کی بیٹی کے ساتھ جماع یا بوس و کنار کے ساتھ متعلق ہو کیونکہ مذی کا خروج بیوی کے ساتھ بوس و کنار کی وجہ سے ہوتا ہے۔

یہ حدیث شرح صحیح مسلم : 603- ج ا ص ۱۰۰۰ پر مذکور ہے اس کی شرح کا عنوان ہے:

باب مذکور کی حدیث کے مسائل ۔

Exit mobile version