Site icon اردو محفل

کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 4 حدیث نمبر 137

٤ – بَابُ لَا يَتَوَضَّا مِنَ الشَّيِّک حتَّى يَسْتَيْقِنَ

شک کی وجہ سے وضوء نہ کرے حتی کہ وضوء ( ٹوٹنے کا یقین ) ہوجائے

 

فقہاء کی اصطلاح میں شک اس کو کہتے ہیں کہ علم اور جہل کی دونوں جانبیں برابر ہوں اور آدمی کو کسی چیز پر حکم لگانے میں تردد اور توقف ہو اور اس کا کسی طرف میلان نہ ہو، تو پھر یہ شک ہے اور اگر ایک جانب راجح اور دوسری جانب مرجوح ہو تو راجح جانب ظن ہے اور مرجوح جانب وہم ہے اور جب شک اور وہم دونوں زائل ہوجائیں تو پھر وہ یقین ہے۔ اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں بابوں میں وضوء کے احکام ہیں، باب سابق میں وضوء کی فضیلت کا حکم تھا اور اس باب میں وضوء کا یہ حکم ہے کہ اگر وضوء ٹوٹنے میں شک ہو تو اس سے وضوء کرنا لازم نہیں ہے، حتی کہ وضوء ٹوٹنے کا یقین ہوجائے۔

۱۳۷ – حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَاالزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْن الْمُسَيَّبِ وَعَنْ عَبَّادِ بن تَمِيمٍ، عَنْ عَمِهِ انَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ الَّذِي يُخَيَّلُ إِلَيْهِ إِنَّهُ يَجِدُ الشَّيْء فِي الصَّلوةِ فَقَالَ لَا يَنْفتِلُ اَوْلا يُنْصَرِفُ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا . [ اطراف الحدیث: ۱۷۷-۲۰۵۶]

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں الزہری نے حدیث بیان کی از سعید بن المسیب اور از عباد بن تمیم ازعم خود، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے یہ شکایت کی کہ اس کو نماز میں یہ خیال آتا ہے کہ نماز میں کچھ ہو گیا ہے ( ہوا خارج ہو گئی ہے ) آپ نے فرمایا: وہ نماز سے اس وقت تک نہ مڑے حتی کہ وہ آواز سنے یا اس کو بدبو آئے۔

(صحیح مسلم : 361، الرقم المسلسل : ۷۸۲ سنن ابوداؤد: 176 سنن نسائی: 160، سنن ابن ماجه ۵۱۳، سنن ابوداؤد : ۱۷۷ سنن ترمذی: ۷۵ سنن دارمی : ۷۲۱، صحیح ابن خزیمہ: ۲۸ – ۲۴ سنن بیہقی ج ۱ ص ۱۷۷-۱۶۱ مسند احمد ج ۲ ص ۴۱۴ طبع قدیم مسند احمد : ۹۳۵۵ – ج ۱۵ ص ۲۰۸ مؤسسة الرسالة بیروت)

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں آپ کا یہ ارشاد ہے کہ وہ اس وقت تک نماز سے نہ  مڑے حتی کہ وہ آواز سنے یا اس کو بدبو آئے، اس کا مفاد یہ ہے کہ وہ اس وقت تک وضوء نہ کرے حتی کہ اس کو وضو، ٹوٹنے کا یقین ہو جائے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) علی بن عبداللہ ابن المدینی

(۲) سفیان بن عیینہ

(۳) محمد بن مسلم الزہری

(۴) سعید بن المسیب ان کا تعارف ہو چکا ہے

( ۵ ) عباد بن تمیم ابن تمیم بن زید الانصاری المدنی، یہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے غزوہ خندق یاد ہے، اس وقت میری عمر پانچ سال تھی لہذا ان کو صحابہ میں شمار کرنا چاہیے لیکن ابن الاثیر وغیرہ نے کہا ہے کہ یہ تابعی ہیں، صحابی نہیں ہیں اور یہی مشہور ہے، جس قول کے مطابق یہ صحابی ہیں، تو صحابہ میں ان کے سوا اور کس کا نام عباد بن تمیم نہیں ہے۔

(۶) عباد بن تمیم کے چچا ان کا نام حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم الانصاری رضی اللہ عنہ ہے،  ان کے ماں باپ صحابی ہیں اور ان کے بھائی حبیب بن زید وہ شخص ہیں، جن کو مسلیمہ کذاب نے قتل کر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا ، حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر مسلیمہ کذاب کو قتل کیا، حضرت عبد اللہ بن زید نے 48، احادیث کو روایت کیا ہے، جن میں سے ۸ احادیث پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں، اس نام کے ایک اور صحابی ہیں : حضرت عبداللہ بن زید، جنہوں نے خواب میں اذان کے کلمات سنے تھے، ان کی صرف ایک حدیث مشہور ہے جو اذان کی حدیث ہے امام ترمذی نے امام بخاری سے نقل کیا ہے کہ ان کی صرف یہی ایک حدیث ہے لیکن انہوں نے اس کے علاوہ بھی دو حدیثیں روایت کی ہیں حضرت عبداللہ بن زید جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ ستر سال کی عمر میں واقعہ حرہ میں قتل کر دیئے گئے تھے واقعہ  حرہ 63 ھ کے آخر میں ہوا تھا۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۸۱ – ۳۸۰)

باب مذکور کی حدیث کی مؤید دیگر احادیث

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے پیٹ میں کچھ محسوس کرے اور اس کو یہ اشکال ہو کہ اس سے کوئی چیز نکلی ہے یا نہیں؟ تو وہ مسجد سے نہ نکلے حتی کہ وہ آواز سنے یا بد بو محسوس کرے۔(صحیح مسلم : 362 الرقم مسلسل : ۷۸۳ ‘سنن ابوداؤ د ۱۷۷)

سہیل بن ابی صالح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور وہ حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو، صرف آواز سے واجب ہوتا ہے یا بدبو سے ۔ (سنن ترمذی: ۷۴ سنن ابن ماجہ : ۵۱۵ مسند احمد ج ۲ ص ۴۱۰)

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب تم میں سے کسی شخص کے پاس شیطان آئے اور کہے تمہارا وضو ٹوٹ گیا تو تم ( دل میں ) کہو : تو نے جھوٹ بولا سوا اس کے کہ اس کو ناک میں بدبو آئے یا وہ اپنے کان سے آواز سنے ۔(المستدرک ج ۱ ص ۱۳۴) مسند احمد ج ۳ ص ۱۲ ص ۵۱-۵۴-۵۰)

اگر وضوء میں شک ہو جائے تو وضو کرنے یا نہ کرنے میں مذاہب ائمہ

علامہ ابو احسن علی بن خلف بن عبد الملک ابن بطال البکری المالکی المتوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:

علماء کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ شک یقین کو زائل نہیں کرتا اور یقین کے بعد اگر شک ہوجائے تو اس کو لغو قرار دیا جائے گا۔ اور اس میں اختلاف بھی ہے، ابن القاسم نے امام مالک سے روایت کیا ہے کہ جس کو طہارت کے یقین کے بعد وضو ، ٹوٹنے کا شک ہوجائے اس پر وضو کرنا واجب ہے اور ابن وہب نے امام مالک سے روایت کیا ہے کہ اس کے لیے وضوء کرنا مستحب ہے اور ابن نافع نے امام مالک سے روایت کیا ہے کہ اس پر وضو نہیں ہے۔

ثوری، امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب اور امام شافعی نے یہ کہا ہے کہ وہ اپنے یقین پر بنا کرے اور اس کو یقین ہے کہ اس کا وضوء ہے اسی طرح وہ بے وضوء ہونے اور باوضوء ہونے میں یقین پر بنا کرے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز سے نہ مڑے حتی کہ آواز سن لے یا بدبو محسوس کرے اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ اس کو پہلی بار یہ معاملہ پیش آیا ہو یا وہ اس کا عادی ہو انہوں نے کہا ہے کہ اصول یقین پر مبنی ہوتے ہیں اس حدیث میں ہے:

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک کو اپنی نماز میں شک ہوجائے اور اس کو معلوم نہ ہو کہ اس نے تین رکعات پڑھی ہیں یا چار رکعات پڑھی ہیں تو وہ اپنے شک کو چھوڑ دے اور ان رکعات پر بنا کرے جو یقینی ہیں پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سہو کے سجدے کرے۔ (الحدیث)

صحیح مسلم:۵۷۱ الرقم المسلسل : ۱۲۴۹ سنن ابوداؤد : ۲۰۲۷-۲۰۲۶- 2024 سنن نسائی: ۱۳۳۸ سنن ابن ماجه 1210 )

اسی طرح اگر اس کو شک ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے یا نہیں ؟ تو اس کو طلاق دینا لازم نہیں ہے کیونکہ اس کو اپنے نکاح کا یقین ہے اسی طرح اگر اس کو شک ہو گیا کہ اس کے کپڑے یا بدن پر نجاست لگی ہے یا نہیں؟ تو چونکہ اس کو پہلے طہارت کا یقین تھا وہ اس طہارت پر بناء کرے۔

مصنف کے نزدیک لانڈری اور ڈرائی کلینرز میں دیئے ہوئے کپڑوں کا بھی یہی حکم ہے اگر وہ ناپاک کپڑے دیئے تھے تو وہ دھل کر آنے کے بعد بھی ناپاک ہیں کیونکہ لانڈری میں سب کپڑے ملے جلے دھوئے جاتے ہیں الگ الگ ہر کپڑے کو نہیں دھویا جاتا لہذا جیسے کپڑے دیئے تھے وہ دھل کر آنے کے بعد بھی ویسے ہی میں اگر پاک کپڑے دیئے تھے تو پہلے ان کے پاک ہونے کا یقین تھا اب ان کے ناپاک ہونے کا شک ہے اور یقین شک سے زائل نہیں ہوتا اور اگر ناپاک کپڑے دیئے تھے تو پہلے ان کے ناپاک ہونے کا یقین تھا اور اب ان کے پاک ہونے کا شک ہے اور یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔

علامہ ابن بطال فرماتے ہیں: بعض اہل علم نے یہ کہا ہے کہ یہ حدیث جس میں مذکور ہے کہ جس کو اپنے وضوء میں شک ہوجائے وہ نماز سے نہ مڑے حتی کہ وہ آواز سن لے یا بدبو محسوس کرے یہ حدیث اس حدیث کے معارض ہے کہ جس کو اپنی نماز میں شک ہوجائے کہ اس نے تین رکعات پڑھی ہیں یا چار تو وہ ایک رکعت اور پڑھ لے اور کم رکعات پر بنا کرے پہلی حدیث میں آپ نے یقین پر عمل کرنے اور شک کو لغو قرار دینے کا حکم دیا اور دوسری حدیث میں یقین کو لغو قرار دیا اور اس کو ایک رکعت پڑھنے کا حکم دیا۔

لیکن یہ بات اس طرح نہیں ہے، جس طرح ان علماء نے گمان کیا ہے بلکہ یہ دونوں حدیثیں شک کو لغو قرار دینے میں اور یقین پر عمل کرنے میں متفق ہیں اور جس حدیث کو انہوں نے اس باب کی حدیث کے معارض سمجھا ہے اس میں یہ مذکور ہے کہ جس کو اپنی نماز میں شک ہو اور اس کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے تین رکعت پڑھی ہیں یا چار پڑھی ہیں اس کو تین رکعات پر تو یقین ہے اور چوتھی رکعت میں شک ہے تو وہ اس شک کو لغو قرار دے اور تین رکعت جو یقینی ہیں اس پر عمل کرے اور ایک رکعت اور پڑھ لے۔ والحمد لله

( شرح ابن بطال ج ا ص ۲۱۸ ۲۱۷ دار الکتب العلمیہ بیروت 1424ھ )

حدیث مذکور کے دیگر مسائل اور فوائد

(1) اس حدیث میں مذکور ہے کہ جس شخص کو نماز میں خیال آتا تھا کہ شاید اس کی ہوا خارج ہوگئی ہے، اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کو جو عوارض پیش آئیں ان کے متعلق علماء سے سوال کرنا چاہیے۔

(۲) کسی مسئلہ کا حل معلوم کرنے کے لیے حیا نہیں کرنی چاہیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو ہر چیز کی تعلیم دیتے تھے اور جب تک وضوء نہ ٹوٹے ایک وضوء سے کئی نمازیں پڑھنے کی تعلیم دیتے تھے۔

(۳) صحابہ کرام اپنے ہر حال کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتے تھے ۔

*اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۷۰۸۔ ج ا ص ۱۰۴۳ پر ہے اس کی شرح کا یہ عنوان ہے: شک سے یقین زائل نہیں ہوتا۔

Exit mobile version