۷- بَابُ غَسْلِ الْوَجْهِ بِالْيَدَيْنِ منْ غُرْفَةٍ وَاحِدَةٍ
ایک ہاتھ سے چلو بنالر دونوں ہاتھوں سے چہرے کو دھونا
باب کے اس عنوان میں غرفة“ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے : چلو بھرنا، اس کا ذکر قرآن مجید کی اس آیت میں ہے:
إِلَّا مَنِ اعْتَرَفَ غُرْفَةٌ بِيَدِهِ. (البقره: ۲۴۹)
مگر جو اپنے ایک ہاتھ سے چلو بھر لے۔
اس عنوان سے امام بخاری کی غرض یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے چلو بنانا ضروری نہیں ہے کیونکہ جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء کی طرح وضوء کر کے دکھایا تو اپنے ایک ہاتھ سے چلو بنا کر پانی لیا’ پھر اس کے ساتھ دوسرا ہاتھ ملایا پھر اس کے ساتھ اپنا چہرہ دھویا جیسا کہ ان شاء اللہ عنقریب آئے گا۔
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء کی صفت اور کیفیت بیان کی گئی تھی کہ آپ نے مکمل وضوء نہیں کیا تھا اور اعضاء وضوء کو صرف ایک ایک بار دھویا تھا اور اس باب میں بھی آپ کے وضوء کی صفت بیان کی گئی ہے کہ آپ نے کس طرح چلو میں پانی لے کر دونوں ہاتھوں سے چہرے کو دھویا۔
١٤٠ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا أبُو سَلَمَةَ الْخزاعِيُّ مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ اَخْبَرَنَا ابْنُ بِلَالٍ يَعْنِي سُلَيْمَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وجْهَهُ أَخَذَ غُرْفَةٌ مِّنْ مَّاءٍ فَمَضْمَضَ بِهَا وَاسْتَنْشَق ثُمَّ أَخَذَ غُرْفَةٌ مِّنْ مَّاءٍ فَجَعَلَ بِهَا هَكَذَا، أَضَافَهَا إِلَى يَدِهِ الأخرى، فَغَسَلَ بِهَا وَجْهَهُ ثُمَّ اَخَذَ غَرْفَةٌ مِّنْ مَّاءٍ فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُمْنَى ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةٌ مِّنْ مَّاءٍ فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ، ثُمَّ أَخَذَ غَرْفَةٌ مِنْ مَّاءٍ فَرَش عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى حَتَّى غَسَلَهَا ثُمَّ أَخَذَ غَرْقَةٌ أُخْرَى فَعَسَلَ بِهَا رَجُلَهُ يَعْنِي الْيُسْرَى ثُمَّ قَالَ هكذا رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یتوضا۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن عبد الرحیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابوسلمہ الخزاعی منصور بن سلمہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن بلال یعنی سلیمان نے خبر دی از زید بن اسلم از عطا بن یسار از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہ انہوں نے وضوء کیا، پھر اپنے چہرے کو دھویا، پھر ایک چلو میں پانی لیا اس سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر ایک چلو میں پانی لیا، پھر اس سے اسی طرح کیا، پھر اس کے ساتھ دوسرا ہاتھ ملایا، پھر اس سے چہرے کو دھویا پھر ایک چلو میں پانی لیا’ پس اس کے ساتھ دایاں ہاتھ دھویا پھر ایک چلو میں پانی لیا اور اس کے ساتھ بایاں ہاتھ دھویا پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر ایک چلو میں پانی لے کر اپنے دائیں پیر پر پانی ڈالا حتیٰ کہ اس کو دھولیا، پھر دوسرے چلو میں پانی لیا’ سو اس کے ساتھ بایاں پیر دھویا پھر کہا: میں نے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضوءکرتے ہوئے دیکھا ہے۔
( سنن ابوداؤد: ۱۳۷ سنن ترمذی : ۲۸ سنن نسائی: ۱۰۱ سنن ابن ماجہ : 403، مسند احمد ج 4 ص ۴۲ طبع قدیم مسند احمد ج ۲۶ ص 394، مؤسسة الرسالۃ، سنن ترمذی اور مسند احمد میں یہ حدیث حضرت عبد اللہ بن زید سے مروی ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ آپ نے ایک چلو سے پانی لے کر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: پھر ایک چلو میں پانی لیا، پھر اس کے ساتھ دوسرا ہاتھ ملایا پھر اس سے چہرے کو دھویا۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) محمد بن عبد الرحیم بن ابی زبیر البغدادی یہ یزید بن ہارون اور روح سے روایت کرتے ہیں، اور ان سے امام بخاری امام ابوداؤد امام ترمذی امام نسائی اور دیگر روایت کرتے ہیں یہ بزاز تھے اور ۲۵۵ ھ میں فوت ہو گئے تھے.
(۲) ابوسلمہ منصور بن سلمہ الخزاعی البغدادی، انہوں نے امام مالک وغیرہ سے روایت کی ہے اور ان سے الصفانی وغیرہ نے روایت کی ہے یہ ۲۲۰ ھ میں المصیصہ میں فوت ہو گئے تھے.
(۳) سلیمان بن بلال المدنی.
(۴) زید بن اسلم ان دونوں کا تعارف ہو چکا ہے.
(۵) عطاء بن سیار.
(۶) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کا تعارف ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۳۹۸)
” مضمضة “اور ” استنشاق “ کا معنی
اس حدیث میں تمضمض “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے منہ میں پانی ڈال کر اس پانی کو منہ میں گھمانا پھر اس پانی کی کلی کر دینا۔
’ استنشاق‘ ناک میں پانی داخل کرنا، پھر ناک صاف کرنا اور اس پانی کو نکال دینا۔
نیا پانی لے کر سر کا مسح کرنا اور کانوں کے مسح کی تفصیل
اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت ابن عباس نے دونوں ہاتھ دھونے کے بعد سر کا مسح کیا، اس پر یہ اعتراض ہے کہ اس حدیث میں سر پر مسح کرنے کے لیے نیا پانی لینے کا ذکر نہیں ہے، بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھ دھونے کے بعد ہاتھوں پر جو تری تھی، اسی سے سر کا مسح کر لیا، حالانکہ وہ تری تو مستعمل پانی کے حکم میں ہے اور اس سے مسح کرنا صحیح نہیں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ”سنن ابوداؤد میں نیا پانی لینے کا ذکر ہے اور بعض احادیث دوسری بعض احادیث کی تفسیر کرتی ہیں۔ سنن ابوداؤد کی وہ حدیث یہ ہے:
عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ ہم سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضوء کرتے تھے؟ پھر انہوں نے پانی کا ایک برتن منگایا اور دائیں ہاتھ سے ایک چلو میں پانی لیا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر دوسرے چلو میں پانی لیا اور دونوں ہاتھ ملا کر ان سے اپنے چہرے کو دھویا پھر چلو میں پانی لیا اور اس سے اپنے دائیں ہاتھ کو دھویا پھر چلو میں پانی لیا اور اس سے اپنے بائیں ہاتھ کو دھو یا پھر اپنے ہاتھ میں پانی لے کر اس پانی کو جھاڑ ، پھر اس پانی کی تری کے ساتھ اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا ۔ (سنن ابوداؤد : ۱۳۷ سنن ترمذی : ۳۵)
اور سنن نسائی میں کانوں کا مسح کرنے کی تفصیل ہے اس میں مذکور ہے کہ :
حضرت ابن عباس رضی ال عنہما لہ نے اپنے سر کا اور کانوں کا مسح کیا، کانوں کے باطن کا شہادت کی انگلی سے مسح کیا اور کانوں کے ظاہر کا انگوٹھوں سے مسح کیا۔ (سنن نسائی : ۱۰۲ سنن ترمذی: ۳۶ مسند احمد ج ا ص ۲۶۸)
کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی کیفیت میں مذاہب ائمہ
اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ حضرت ابن عباس نے ایک چلو میں پانی لیا’ اس سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔
ایک چلو پانی سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا یہ امام شافعی کا مذہب ہے اس لیے حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی نے لکھا ہے:
اس حدیث سے ایک چلو پانی سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کو جمع کرنے کی دلیل ہے۔
فتح الباری ج1 ص ۶۸۵ دار المعرفة بیروت 1426ھ
علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی الشافعی المتوفی ۴۵۰ ھ لکھتے ہیں :
کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی کیفیت میں دو قول ہیں:
(1) اس قول کو المزنی اور الربیع نے نقل کیا ہے کہ ایک چلو میں پانی لے کر کلی کرے اور اسی سے ناک میں پانی ڈالے اور یہ عمل تین بار کرے۔
(۲) اس قول کو البویطی نے روایت کیا ہے کہ وہ دو چلووں میں پانی لے ایک چلو پانی سے کلی کرے اور دوسرے چلو سے ناک میں پانی ڈالے اور یہ عمل تین بار کرنے پہلے کلی کرے اور پھر ناک میں پانی ڈالے۔
( الحاوی الکبیر ج ۱ ص ۱۲۵ – ۱۲۴ دار الفکر بیروت 1414ھ )
امام ابو عیسی محمد بن عیسی ترمذی متوفی 279ھ” باب المضمضة والاستنشاق من كف واحد ” کے تحت لکھتے ہیں:
بعض اہل علم نے کہا ہے کہ ایک ہاتھ میں پانی لے کر اس سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا کافی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ الگ الگ پانی کے چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا زیادہ پسندیدہ ہے امام شافعی نے کہا: اگر ان دونوں کو ایک چلو میں جمع کر لیابتو یہ جائز ہے اور اگر ان کو الگ الگ چلو سے کیا تو یہ ہمارے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔ (سنن ترمذی ص ۳۰ دار المعرفه بیروت ۱۴۲۳ھ )
علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی المتوفی ۵۹۳ ھ لکھتے ہیں:
کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا سنت ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دوام کیا ہے اور ان کی کیفیت یہ ہے کہ تین مرتبہ کلی کرے اور ہر مرتبہ نیا پانی لے پھر اسی طرح تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح وضوء کرنا منقول ہے۔ہدایده اولین ص ۱۸ مکتبه شرکته علمیه ملتان ))
الگ الگ پانی کے چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے متعلق احادیث سے دلائل
طلحہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا’ اس وقت آپ وضوء کر رہے تھے اور پانی آپ کے چہرے اور آپ کی ڈاڑھی سے آپ کے سینہ پر بہ رہا تھا، میں نے دیکھا’ آپ الگ الگ پانی سے کلی کر رہے تھے اور ناک میں پانی ڈال رہے تھے ۔ (سنن ابو داؤد : ۱۳۹ )
طلحہ بن مصرف اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا آپ ہر بار کے لیے نیا پانی لیتے تھے ۔ الحدیث (المعجم الکبیر ۴۰۹- ج ۱۹ ص ۱۸۱ – ۱۸۰ )
حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کیا، پس آپ نے کلی کی پھر ناک میں پانی ڈالا پھر تین بار چہرہ دھویا پھر تین بار دایاں ہاتھ دھویا پھر تین بار دوسرا ہاتھ دھویا اور اس پانی سے سر کا مسح کیا جو
ہاتھوں سے بچا ہوا نہیں تھا اور پیروں کو دھویا حتی کہ ان کو صاف کرلیا ۔ ( صحیح مسلم : ۲۳۶ الرقم المسلسل : ۵۴۸)
اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ اس میں ذکر ہے کہ پہلے تین بار کلی کی اور پھر تین بار ناک میں پانی ڈالا اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے، جب ان دونوں کے لیے الگ الگ پانی لیا ہو اور ایک چلو میں دونوں کو جمع نہ کیا ہو۔
حضرت عبداللہ ضابحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی بندہ وضوء کرے، پس کلی کرے تو اس سے
اس کے منہ کے گناہ نکل جاتے ہیں، پس جب وہ ناک میں پانی ڈال کر ناک صاف کرتا ہے تو اس کی ناک کے گناہ نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے گناہ نکل جاتے ہیں، حتی کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں، پس جب وہ ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں کے گناہ نکل جاتے ہیں، حتیٰ کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں اور جب وہ سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ نکل جاتے ہیں، حتی کہ اس کے کانوں سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں، پس جب وہ پیر دھوتا ہے تو اس کے پیروں کے گناہ نکل جاتے ہیں حتی کہ پیروں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔
(المستدرک :۴۴۶- ج ۱ ص ۱۳۰ یہ حدیث امام بخاری اور مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے علامہ ذہبی نے حاکم کی موافقت کی ہے الترغیب والترہیب للمنذری ج ۱ ص ۱۵۳ دار الحدیث’ قاہرہ المشکوۃ: ۲۹۷)
اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ آپ نے کلی کرنے سے گناہوں کے نکلنے کا الگ ذکر کیا ہے اور ناک میں پانی ڈالنے سے گناہوں کے نکلنے کا الگ ذکر فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا کہ دونوں کے لیے الگ الگ پانی لیا گیا ہے۔
الامام الحسين بن مسعود البغوی الشافعی المتوفی ۵۱۶ھ لکھتے ہیں:
کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی کیفیت میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا: ان کو ایک چلو پانی میں جمع کرے اور بعض نے کہا: پہلے ایک چلو سے کلی کرے پھر اس کے بعد دوسرے چلو سے ناک میں پانی ڈالے۔ طلحہ بن مصرف نے اپنے والد اور انہوں نے اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، اس وقت آپ وضوء کر رہے تھے میں نے دیکھا: آپ جدا جدا چلو سے کلی کرتے تھے اور ناک میں پانی ڈالتے تھے ۔ (سنن ابوداؤد:۱۳۹) حسن بصری کا بھی یہی مذہب ہے اور شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے الگ الگ پانی سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور انہوں نے کہا: اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کیا ہے اور میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا، انہوں نے تین تین بار وضوء کیا اور الگ الگ پانی سے وضوء کیا اور ناک میں پانی ڈالا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح وضوء کیا ہے۔
( شرح السنتہ ج ا ص ۴۳۷-۴۳۶ مکتب الاسلامی بیروت 1403ھ )
حضرت عثمان اور حضرت علی کی حدیثوں کو حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی نے ” تلخیص الحبیر ” ج ا ص ۱۱۵ ) مکتبہ نزار مصطفی مکه مکرمه 1417ھ ) میں ثابت کیا ہے۔
اکثر روایات میں یہ ذکر ہے کہ ایک چلو پانی سے کلی بھی کی جائے اور ناک میں پانی بھی ڈالا جائے، لیکن یہ تمام روایات بیان جواز پر محمول ہیں اور افضل یہ ہے کہ الگ الگ چلو سے کلی کی جائے اور ناک میں پانی ڈالا جائے جیسا کہ ہر عضو کو دھونے کے لیے الگ الگ چلو سے پانی لیا جاتا ہے اور منہ اور ناک بھی الگ الگ عضو ہیں، اس لیے ان کو دھونے کے لیے الگ الگ چلو سے پانی لیا جائے ۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دونوں ہاتھوں سے منہ کو دھونا چاہیے کیونکہ حضرت ابن عباس نے دونوں ہاتھوں کو ملا کر منہ دھویا تھا اور دائیں عضو سے دھونے کی ابتداء کرنی چاہیے اور دھونے کے لیے دایاں ہاتھ استعمال کرنا چاہیے۔
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ناک میں پانی بائیں ہاتھ سے ڈالے لیکن یہ صحیح نہیں ہے حدیث میں ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں ہاتھ وضوء کرنے اور طعام کے لیے تھا اور بایاں ہاتھ قضاء حاجت اور اس قسم کے دوسرے کاموں کے لیے تھا۔ (صحیح البخاری : ۱۶۸ صحیح مسلم : ۲۶۸ ، سنن ابوداؤد : ۳۳ سنن ترمذی : ۶۰۸ ، سنن نسائی: 112)
