۸- بَابُ التَّسْمِيَةِ عَلَى كُلِّ حَالٍ وَعِنْدَ الْوِقَاعِ
ہر حال میں بسم اللہ پڑھنا اور جماع کے وقت بھی
امام بخاری نے پہلے سات ابواب وضوء کے اوصاف سے متعلق ذکر کیے اور اب استنجاء کے ابواب شروع کر رہے ہیں اور درمیان میں اس باب کو ذکر کیا، جس میں ہر کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا ذکر ہے اگرچہ ان کو یہ چاہیے تھا کہ پہلے بسم اللہ پڑھنے کا باب ذکر کرتے پھر استنجاء کے متعلق ابواب کا ذکر کرتے، پھر وضوء کے اوصاف کے ابواب ذکر کرتے، لیکن چونکہ اہم مقصود وضوء کے اوصاف کو ذکر کرنا تھا اس لیے پہلے انہوں نے وضوء کے اوصاف کے ابواب کا ذکر کیا، پھر بسم اللہ پڑھنے کے باب کو ذکر کیا اور اس کے بعد استنجاء کے ابواب کا ذکر کیا۔
١٤١ – حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِاللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَیب عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتی أَهْلَهُ قَالَ بِاسْمِ اللہ اللَّهُمَّ جَيْبُنَا الشَّيْطَانَ، وَجَنبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فقُضِيَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ لَمْ يَضُرَّهُ.
اطراف الحدیث : ۳۲۷۱-۳۲۸۳-۵۱۶۵-6388 -۷۳۹۶
صحیح مسلم : 1434، الرقم المسلسل : ۳۳۷۰ سنن ابوداؤد : 2161، سنن ترمذی: 1092، السنن الکبری للنسائی: ۹۰۳۰ سنن ابن ماجہ : ۱۹۱۹ عمل الیوم واليلية :266 مصنف عبد الرزاق :10466، مصنف عبد الرزاق ج 4 ص 311، سنن دارمی : 2012، صحیح ابن حبان: ۹۸۳ المعجم الکبیر: 12195، کتاب الدعاء:941، شرح السنته : ۱۳۳۰ مسند ابوداؤد الطیالسی: ۱۲۷۰۵ مسند احمد ج ا ص ۲۱۷ طبع قدیم مسند احمد :۳۶۱- ج ۳ ص ۳۶۱‘ مؤسسة الرسالة بیروت
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں جریر نے حدیث بیان کی از منصور از سالم بن ابي الجعد از کریب از حضرت ابن عباس رضی الله عنہما وه اس حدیث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی شخص جب اپنی بیوی کے پاس جائے اور یہ دعا کرے: اللہ کے نام سے (ابتداء کرتا ہوں ) اے اللہ ! ہم سے شیطان کو دور رکھ اور ہم کو جو عطاء فرمائے، اس سے بھی شیطان کو دور رکھا پھر ان کے درمیان جو اولاد مقدر کی جائے اس کو شیطان ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔
اس باب کے عنوان کے دو جز ہیں: ہر حال میں بسم اللہ پڑھنا اور جماع کے وقت بسم اللہ پڑھنا اور اس حدیث کی مطابقت باب کے جزء ثانی کے اعتبار سے ہے۔
وضوء سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں:
وضوء سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کے متعلق احادیث
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا وضوء نہ ہو اس کی نماز نہیں ہوتی اور جو بسم اللہ نہ پڑھے اس کا وضوء ( کامل ) نہیں ہوتا۔ (سنن ابوداؤد : 101، سنن ترمذی : ۲۵ سنن ابن ماجه: 399 مسند احمد ج ۵ ص ۳۸۱)
امام بیہقی نے کہا ہے کہ اس حدیث کی اسانید غیر قوی ہیں امام احمد نے کہا: ان میں سے کوئی حدیث ثابت نہیں ہے پھر امام احمد نے روایت کیا ہے:
انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے برتن میں ہاتھ رکھا اور آپ کی انگلیوں سے پانی چشمہ کی طرح ابلنے لگا تو آپ نے فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر وضوء کرو ( یہ حدیث ثابت ہے ) اس وقت آپ کے ساتھ تقریبا ستر (۷۰) اصحاب تھے۔
معرفة السنن والآثار : ۵۳ – ج ا ص ۱۵۴ السنن الکبری للبیہقی ج ۱ ص ۴۳ مصنف عبد الرزاق: ۲۰۵۳۵، مسند ابو یعلی : 3036 صحیح ابن خزیمه :144 ،صحیح ابن حبان : ۶۵۴۴ ، سنن نسائی: ۷۸ ، مسند احمد ج ۳ ص ۱۶۵ طبع قدیم مسند احمد : ۱۲۶۹۴- ج ۲۰ ص ۱۲۱ – ۱۲۰ مؤسسة الرسالة بیروت)
اس حدیث کی سند صحیح ہے امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطابق ہے۔
باب مذکور کی حدیث کے رجال کا تعارف
اس حدیث کے چھ رجال ہیں :
(۱) علی بن عبداللہ المدینی
(۲) جریر بن عبد الحمید
(۳) منصور بن المعتمر ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۴) سالم بن ابی الجعد الا شجعی الکوفی التابعی یہ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں اور ان سے منصور اور اعمش روایت کرتے ہیں100ھ میں فوت ہو گئے تھے یہ ثقہ راویوں میں سے ہیں، لیکن یہ ارسال اور تدلیس کرتے تھے
(۵) کریب، حضرت ابن عباس رضی اللہ کے آزاد کردہ غلام
(6) حضرت ابن عباس رضی اللہ ان کا تعارف ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۰۵)
شیطان رزق، قضا اور دیگر مشکل الفاظ کے معانی
اس حدیث میں اھل “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: بیوی اس کی جمع ” اھلات‘اور اھالی “ ہے۔
جنبنَا: ” جنب، يُجنب ” کا معنی ہے: دور کرنا قرآن مجید میں ہے:واجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نعْبُدَ الْأَصْنَام (ابراہیم : ۳۵) مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے دور رکھ 0
شیطان‘اگر اس کا مادہ شطن ہو تو اس کا وزن فیعال “ ہے اور اس کا معنی ہے: دور ہونا، یعنی شیطان نیکی اور خیر سے دور ہے اور اگر اس کا مادہ شیط“ ہو تو اس کا وزن ” فعلان “ ہے اور اس کا معنی ہے : ہلاک ہونا یعنی شیطان اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب میں ہلاک ہو گیا، نیز اس کا معنی باطل ہے جن اور انس میں سے ہر وہ جو سرکش اور متکبر ہو اس کو شیطان کہتے ہیں، عرب سانپ کو بھی شیطان کہتے ہیں ۔
مَا رَزَقْتَنَا‘ اس کا مادہ رزق ہے جس سے نفع حاصل ہو وہ رزق ہے اس کی جمع ارزاق ہے، قرآن مجید میں بارش پر بھی رزق کا اطلاق کیا ہے:
وَمَا أَنزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ رِزْقِ (الجاثیه : 5)اور اللہ نے آسمانوں سے جو رزق نازل کیا ۔
وَفِي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ . (الذاريات : ٢٢)اور آسمان میں تمہارا رزق ہے
اور رزق کا معنی حصہ اور نصیب ہے قرآن مجید میں ہے:
وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِبُونَ ( الواقعة : ۸۲) اور تم نے جھٹلانے کو اپنا حصہ بنالیا0
معتزلہ نے کہا: رزق کا شرعی معنی ہے: جاندار کو کسی چیز سے نفع اٹھانے پر قادر کرنا، اور اس کا دوسرے کو اس سے نفع اٹھانے سے روکنا، اس لیے انہوں نے کہا: حرام چیز رزق نہیں ہے اہل السنتہ نے کہا: حرام چیز بھی رزق ہے کیونکہ رزق کا لغت میں معنی حصہ اور نصیب ہے پس جس شخص نے حرام چیز سے نفع اٹھایا سو وہی اس کا حصہ اور نصیب ہے اور وہی اس کا رزق ہے اگر حرام چیز رزق نہ ہو تو جس شخص نے ساری عمر سود اور چوری کا مال کھایا تو اس تفسیر کی بناء پر لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رزق نہیں دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا.
زمین پر چلنے والے جتنے جان دار ہیں ان سب کا رزق اللہ کے (ھود: 6 ) ذمہ ہے۔
فقضی‘ یہ لفظ ” قضا “ سے بنا ہے اس کے متعدد معانی ہیں قضا “ کا معنی ہے حکم دینا ۔ قرآن مجید میں ہے:
وَقَضَى رَبُّكَ إِلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ. (بنی اسرائیل: ۲۳) اور آپ کے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو ۔
قضى حاجته ” کا معنی ہے: اس کی ضرورت پوری کر کے فارغ ہو گیا “قضی دینہ ” کا معنی ہے: اس کا قرض ادا کردیا” قضى نحبہ “ کا معنی ہے: اس کی روح قبض کرلی وہ مر گیا ‘ قضى اليه الامر ” کا معنی ہے: اس تک معاملہ پہنچا دیا” قضاہ” کا معنی ہے: اس کو مقدر کردیا، اس حدیث میں قضاء کا معنی حکم دینا یا مقدر کرنا ہے۔
شیطان کے ضرر پہنچانے کے محامل
اس حدیث میں مذکور ہے کہ جب انسان اپنی بیوی سے جماع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھے اور یہ دعا کرے کہ اللہ مجھ کو اور میری اولاد کو شیطان سے دور رکھے تو شیطان اس کی اولاد کو ضرر نہیں پہنچا سکے گا’ یعنی اللہ کے نام کی برکت سے اس بچہ پر شیطان کا تسلط نہیں ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ کے ان محفوظ بندوں میں سے ہوجائے گا جن کے متعلق فرمایا ہے:
إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطن ( الحجر :٤٢)
میرے ( خاص ) بندوں پر تجھے کوئی غلبہ نہ ہو سکے گا۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شیطان اس کو دینی ضرر نہ پہنچاسکے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شیطان اس کو بدنی ضرر نہ پہنچاسکے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ شیطان اس کی عقل کو اور اس کے بدن کو خراب نہ کر سکے، ہر چند کہ حدیث کے الفاظ میں عموم ہے کہ شیطان اس کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکے گا لیکن یہ تخصیص ضروری ہے، ورنہ لازم آئے گا کہ وہ گناہوں سے بالکل معصوم ہو جائے حالانکہ ایسا نہیں ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خبر دی ہے اس کا وقوع ضروری ہے اور جب ہم اس ضرر کو عقل اور بدن کے ضرر پر محمول کریں گے تو پھر اس کا وقوع ممتنع نہیں ہوگا۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ شیطان اس کو مرگی میں مبتلا نہیں کر سکے گا، بعض نے کہا: شیطان اس کی ولادت کے وقت اس کو انگلی نہیں چبھوئے گا، جب کہ دوسروں کو وہ انگلی چبھوتا ہے، جس کی وجہ سے بچہ روتا ہے اور ہم اس حدیث کو ضرر کی تمام اقسام پر محمول نہیں کرتے کیونکہ شیطان سب کو وسوسہ بھی ڈالتا ہے اور گناہوں پر ابھارتا بھی ہے داؤدی نے کہا ہے: وہ اس بچہ کو فتنہ کفر میں مبتلا نہیں کر سکے گا۔
علامہ سندی نے کہا ہے کہ اس حدیث کو کسی نے بھی عموم ضرر پر محمول نہیں کیا، کیونکہ حدیث میں وارد ہے کہ بنو آدم کے ہر بچہ کو شیطان اپنی انگلی سے مس کرتا ہے سوائے حضرت مریم اور ان کے بیٹے کے ۔ (مسند احمد ج ۲ ص ۲۲۸۔ ۲۹۲ – ۳۱۹ طبع قدیم)
ایک قول یہ ہے کہ شیطان اس کو کفر کے ساتھ گم راہ نہیں کر سکے گا’ ایک قول یہ ہے کہ وہ اس کو گناہ کبیرہ میں مبتلا نہیں کر سکے گا
ایک قول یہ ہے کہ جب وہ گناہ کے بعد تو بہ کرنا چاہے گا تو وہ اس کو تو بہ سے روک نہیں سکے گا’ ایک قول یہ ہے کہ جنات اس کو نقصان نہیں پہنچاسکیں گے ۔ ( حاشیہ مسند احمد ج ۳ ص ۳۶۱ مؤسسة الرسالة بیروت)
اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس سے دعا کی پناہ میں رہنا اور پاکیزہ اولاد کی دعا کرنا اور ہر نیک کام ۔۔۔۔۔۔ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس سے دعا کی پناہ میں رکھے اور اس کے نام سے برکت حاصل کرتا رہے اور یہ یقین رکھے کہ ہر نیک عمل میں اللہ تعالی ہی اس کا معین اور مددگار ہے۔
جماع سے پہلے بسم اللہ پڑھے اور حدیث میں مذکور دعا مانگے امام غزالی نے کہا : بسم اللہ کے بعد سورۃ اخلاص پڑھے اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ پڑھے اور یہ کہے کہ اے اللہ ! اگر تونے میرے لیے اولاد مقدر کی ہے تو مجھے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جب جماع سے پہلے بھی بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے تو ہر نیک کام سے پہلے خصوصا وضوء سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے۔
انسان کی تمام زندگی میں شیطان کا اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا
اس حدیث میں یہ اشارہ بھی ہے کہ شیطان ہر وقت انسان کے ساتھ لازم رہتا ہے جب وہ اپنی ماں کے رحم سے باہر آتا ہے
اس وقت سے موت تک انسان کے ساتھ لازم رہتا ہے حتی کی اس کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے اور جب انسان سوجاتا ہے تو اس کے نتھنوں میں رات گزارتا ہے اور جب انسان غافل ہوتا ہے تو اس کو وسوسے ڈالتا ہے اور جب وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتا ہے اور جب انسان سوجاتا ہے تو اس کی گدی میں تین گرہیں لگا دیتا ہے کہ رات بہت لمبی ہے اور جب انسان بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرتا ہے اور وضوء کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے تو یہ تینوں گرہیں کھل جاتی ہیں، غرض شیطان ہر وقت انسان کو دینی ضرر پہنچانے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ ہم کو ہمیشہ شیطان کے شر سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : 3429- ج ۳ ص ۸۶۳ پر ہے وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی۔
