Site icon اردو محفل

کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 13 حدیث نمبر 147

١٤٧ – حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أذِنَ اَنْ تَخْرُجُنَ فِی حاجَتِكُنَّ . قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي الْبَرَازَ.

صحیح مسلم:۲۱۷۰ الرقم المسلسل : ۵۵۶۴

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں زکریاء نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی از ہشام بن عروه از والد خود از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا از نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا: بے شک تمہیں اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ہشام نے کہا: یعنی قضاء حاجت کے لیے۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت ظاہر ہے کیونکہ اس باب کا عنوان ہے: عورتوں کا قضاء حاجت کے لیے کھلے میدان میں نکلنا اور اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ عورتوں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ قضاء حاجت کے لیے اپنے گھروں سے نکل سکتی ہیں، حضرت سودہ حجاب کے احکام نازل ہونے کے بعد قضاء حاجت کے لیے نکلیں اور ان کا جسم بہت بڑا تھا تو حضرت عمر نے ان کو پہچان لیا اور کہا: اے سودہ ! اللہ کی قسم ! آپ ہم سے نہیں چھپ سکی ہیں، آپ غور کریں کہ آپ کس طرح باہر نکل رہی ہیں، حضرت سودہ نے واپس آکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کی شکایت کی،  آپ اس وقت رات کا کھانا کھا رہے تھے اسی وقت آپ پر وحی نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا: بے شک تمہیں قضاء حاجت کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

(صحیح مسلم : ۲۱۷۰ الرقم المسلسل : ۵۵۶۴)

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں، ان میں سے پہلے زکریا بن یحیی بن صالح الملولوی ہیں، ان کی کنیت ابو یحیی بیٹی بلخی ہے،  حافظ، فقیہ اور مصنف فی السنتہ تھے، یہ ۲۳۰ھ میں بغداد میں فوت ہوگئے تھے اور وہیں مدفون ہوئے۔

دوسرے راوی ابو اسامہ حماد بن اسامہ کوفی ہیں، ان کا تعارف ہوچکا ہے، تیسرے راوی ہشام بن عروہ ہیں، چوتھے راوی عروہ کے والد الزبیر بن عوام رضی اللہ عنہما ہیں اور پانچویں راویہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں ان سب کا تعارف ہوچکا ہے۔

(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۳۳)

خواتین کے لیے اپنی ضروریات میں گھر سے نکلنے کی اجازت

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خواتین اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے گھر سے باہر نکل سکتی ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے حجاب کے احکام نازل ہونے کے بعد ان کو قضاء حاجت کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی اور جب ان کے لیے قضاء حاجت کے لیے گھر سے باہر نکلنا جائز ہے تو دیگر ضروریات کے لیے بھی گھر سے باہر نکلنا جائز ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کی نماز کے لیے ان کو جانے کا حکم دیا ہے بلکہ پانچ وقت کی نمازوں کے لیے مسجد میں جانے کی اجازت دی ہے اور مردوں سے فرمایا ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو مسجد میں جاکر نماز پڑھنے سے منع نہ کریں اور حج اور عمرہ کے لیے آپ خود ازواج مطہرات کو اپنے ساتھ لے کرگئے اور حضرت ام المؤمنین کو  آپ نے ان کے والدین سے ملنے کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی، اس سے معلوم ہوا کہ خواتین اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے گھر سے نکل سکتی ہیں اور جب آپ بیمار ہوگئے تو دیگر ازدواج آپ کی عیادت کے لیے آتی تھیں، اس سے معلوم ہوا کہ خواتین کا اپنے بیمار رشتہ داروں کی عیادت کے لیے گھر سے باہر نکلنا جائز ہے۔

جنگ جمل میں حضرت عائشہ کے گھر سے نکلنے پر اعتراض کا جواب

اس تفصیل سے شیعہ کا یہ اعتراض ساقط ہو گیا کہ جنگ جمل میں حضرت عائشہ نے گھر سے باہر نکل کر ” وَقَرْنَ فِي بيُوتِكُنَّ. (الاحزاب : ۳۳) کے حکم کی مخالفت کی، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے حج کرنے کے لیے مکہ مکرمہ گئی تھیں اور یہ جائز تھا، اس دوران باغیوں نے مدینہ منورہ پر قبضہ کرکے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرڈالا تو حضرت طلحہ’ حضرت زبیر اور ان کے رفقاء مکہ میں حضرت عائشہ سے ملے اور آپ کو مدینہ واپس جانے سے منع کیا اور ان سے درخواست کی کہ بصرہ میں ہمارے موافقین ہیں، آپ وہاں چلیں مدینہ جانے میں یہ خطرہ ہے کہ باغی آپ کے ساتھ بھی بے ادبی سے پیش نہ آئیں، سو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان کے ہمراہ بصرہ چلی گئیں ادھر باغیوں نے حضرت علی سے کہا: یہ لوگ آپ کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے بصرہ میں جمع ہو رہے ہیں اس سے پہلے کہ یہ لوگ پہل کریں، آپ ان پر حملہ کر کے ان کی قوت کو ختم کردیں تو حضرت علی بھی بصرہ روانہ ہوگئے’ وہاں دونوں طرف سے اکابرین میں مذاکرات ہوئے اور اس پر اتفاق ہوگیا کہ خون عثمان کا قصاص لیا جائے گا، اس پر باغیوں نے محسوس کیا کہ اب ان کی بقاء کو خطرہ ہے پس رات کے اندھیرے میں چند باغیوں نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کے پڑاؤ پر اچانک حملہ کر دیا اور یہ کہا کہ علی نے معاہدہ شکنی کی اور کچھ نے حضرت علی کے لشکر پر حملہ کردیا اور کہا کہ طلحہ اور زبیر نے عہد شکنی کی اور یوں باغیوں کی سازش کامیاب ہوگئی اور فریقین میں جنگ چھڑ گئی اور جو ہونا تھا وہ ہوا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی لاشوں کو دیکھ کر بہت روئے اور کہا: کاش ! میں اس واقعہ سے بیس سال پہلے مر گیا ہوتا، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے بھائی محمد بن ابوبکرہ کے ہمراہ عزت اور احترام کے ساتھ مدینہ منورہ بھیج دیا، حضرت ام المؤمنین جب بھی ” وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُن (الاحزاب : ۳۳) کی تلاوت کرتیں تو اس واقعہ کو یاد کر کے بہت روتی تھیں ۔

اس واقعہ کو زیادہ تفصیل اور تحقیق سے جانے کے لیے تبیان القرآن ج ۹ ص ۴۳۶ – ۴۲۴ الاحزاب : ۳۲ کا مطالعہ فرمائیں۔

شرح صحیح مسلم میں باب مذکور کی حدیث کی شرح

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۵۵۳ – ج ۶ ص ۵۳۶ پر مذکور ہے اس کی شرح کے عنوانات حسب ذیل ہیں :

(1) حجاب کے تین مراحل

(۴) قضاء حاجت کے لیے ازواج مطہرات کے گھر سے باہر نکلنے کے تین احوال

(۳) حدیث الباب کے مسائل ۔

Exit mobile version