١٤ – بَابُ التَّبَرُّزِ فِي الْبُيُوتِ
گھروں میں قضاء حاجت کرنا
پہلے گھروں میں بیت الخلاء بنے ہوئے نہیں تھے، اس لیے خواتین قضاء حاجت کے لیے صحراء اور میدان میں جاتی تھیں، جیسا کہ اس سے پہلے باب میں ذکر ہے، بعد میں گھروں میں بیت الخلاء بنا دیئے گئے تو پھر خواتین گھروں کے بیت الخلاء میں قضاء حاجت کرتی تھیں اور سوائے شرعی ضرورت کے گھر سے باہر نہیں نکلتی تھیں اور باب سابق اور اس باب میں مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں قضاء حاجت کے لیے میدان میں جانے کا ذکر تھا اور اس باب میں گھروں میں قضاء حاجت کا ذکر ہے اور قدر مشترک قضاء حاجت ہے ۔
١٤٨ – حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بنْ عَيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ ارْتَقَيْتُ فَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ حَفْصَةَ لِبَعْضِ حَاجَتِي فرايتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِی حاجته مستدبر الْقِبْلَةِ مُسْتَقْبِلَ الشَّام.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابراہیم بن المنذر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں انس بن عیاض نے حدیث بیان کی از عبیدالله از محمد بن یحیی بن حبان از واسع بن حبان از حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہما کے گھر کی چھت کے اوپر اپنے کسی کام سے چڑھا تو میں نے دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کر رہے تھے، آپ کی پیٹھ قبلہ کی طرف تھی اور منہ شام کی طرف تھا۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح حدیث : ۱۴۵ میں گزر چکی ہے۔
حدیث : ۱۴۵ میں یہ ذکر نہیں تھا کہ آپ کی پیٹھ قبلہ کی طرف تھی، وہاں صرف یہ ذکر تھا کہ آپ کا منہ بیت المقدس کی طرف تھا لیکن یہ دونوں ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں اور بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کو قبلہ کی طرف پیٹھ کرنا لازم ہے۔
باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے کہ آپ حضرت حفصہ کے گھر کی چھت پر بیت الخلاء میں قضاء حاجت کررہے تھے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) ابراہیم بن المنذر ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۲) انس بن عیاض ابو ضمرہ اللیثی المدنی، یہ ثقہ عالم ہیں، شعبہ اور متعدد ائمہ سے روایت کرتے ہیں، ان سے امام احمد روایت کرتے ہیں ۲۹۶ھ میں فوت ہوگئے تھے کتب ستہ میں انس بن عیاض نام کا اور کوئی راوی نہیں ہے
(۳) عبید اللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عمر بن الخطاب ابو عثمان القرشی المدنی، یہ اپنے والد القاسم، سالم اور متعدد سے روایت کرتے ہیں اور ان سے عبدالرزاق اور دیگر روایت کرتے ہیں، یہ ۱۴۷ ھ میں فوت ہو گئے تھے
(۴) محمد بن یحیی بن حبان
(۵) واسع بن حبان
(۶) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۳۴)
