کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 12 حدیث نمبر 145
۱۲ – بَابُ مَنْ تَبَرَّزَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ
جو شخص قضاء حاجت کے لیے دو اینٹوں پر بیٹھا
باب سابق میں بالعموم قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی ممانعت تھی اور اس باب میں ائمہ ثلاثہ اور امام بخاری کی رائے کے مطابق بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کا جواز ہے یعنی پہلے باب میں عام ممانعت تھی، خواہ صحرا میں قضاء حاجت کرے یا بیت الخلاء میں اور اس باب میں خاص ممانعت ہے صرف صحرا میں، بہ ظاہر یہ حدیث امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے موقف کے خلاف ہے اس حدیث کی شرح میں ان شاء اللہ ہم اس حدیث کی توجیہات بیان کریں گے۔
١٤٥ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِهِ وَاسِعِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَبْدِاللهِ بنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ إِذَا قعَدْتَ عَلی حَاجَتِكَ فَلَا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَقَالَ عَبْدُاللهِ بْنُ عُمَرَ لَقَدِ ارْتَقَيْتُ يَوْمًا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَنا فَرَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقبِلا بَيْتَ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ. وَقَالَ لَعَلَّكَ مِنَ الَّذِيْنَ يُصَلُّونَ عَلَى أَوْرَاكِهِمْ؟ فَقُلْتُ لَا اَدْرِى وَاللهِ قَالَ مَالِكٌ يَعْنِي الَّذِي يُصَلَّى وَلَا يَرْتَفِعُ عَنِ الْأَرْضِ يَسْجُدُ وَهُوَ لَاصِقٌ بِالْأَرْضِ.
اطراف الحدیث : ۱۴۸ – ۱۴۹ – ۳۱۰۲) ( صحیح مسلم : 266، الرقم المسلسل : ۶۰۰ سنن ابوداؤد : ۱۲ سنن ترمذی :۱۱ سنن نسائی: ۲۳ سنن ابن ماجه: 322، موطا امام مالک : ۴۶۵ سنن الکبری للنسائی: ۲۲ صحیح ابن خزیمہ: ۵۹، صحیح ابن حبان: ۱۴۲۱ سنن دار قطنی ج ۱ ص 61، سنن بیہقی ج ا ص ۹۲ شرح السنة : ۱۷۶ المعجم الكبير : ۱۳۳۱۲) مسند احمد ج ۲ ص ۴۱ طبع قدیم مسند احمد ج ۹ ص ۴۲ مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از یحیی بن سعید از محمد بن یحیى بن حبان از عم خود واسع بن حبان از عبدالله بن عمر، وہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب تم اپنی قضاء حاجت کے لیے بیٹھو تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرو، نہ بیت المقدس کی طرف پس حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک میں ایک دن اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو اینٹوں پر بیٹھے ہوئے قضاء حاجت کر رہے تھے آپ کا منہ بیت المقدس کی طرف تھا، حضرت ابن عمر نے (واسع بن حبان سے) کہا: شاید تم ان لوگوں میں سے ہو جو اپنے کولہوں کو بچھا کر نماز پڑھتے ہیں؟ واسع بن حبان نے کہا: اللہ کی قسم ! میں آپ کی بات نہیں سمجھا امام مالک نے حضرت ابن عمر کے قول کا مطلب بتایا یعنی جو شخص اس طرح نماز پڑھے کہ زمین سے اوپر نہ اٹھنے وہ زمین سے چپکا ہوا سجدہ کرے ( مردوں کا اس طرح نماز پڑھنا خلاف سنت ہے، اس طرح عورتیں نماز پڑھتی ہیں، حضرت ابن عمر کا مطلب یہ تھا کہ شاید جس طرح تم خلاف سنت طریقہ سے نماز پڑھتے ہو اسی طرح تم خلاف سنت طریقہ سے قضاء حاجت کرتے ہو یعنی بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ نہیں کرتے)۔
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دواینٹوں پر بیٹھے ہوئے قضاء حاجت کر رہے تھے آپ کا منہ بیت المقدس کی طرف تھا۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) عبد اللہ بن یوسف التنیسی
(۲) امام مالک بن انس
(۳) یحی بن سعید الانصاری المدنی، ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۴) محمد بن یحیی بن حبان الانصاری البخاری ان کا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں حلقہ تھا، یہ مفتی، ثقہ اور کثیر الحدیث تھے ۱۲۱ھ میں مدینہ میں فوت ہو گئے
(۵) محمد بن یحیی کے عم محترم یہ واسع بن حبان الانصاری البخاری المازنی ہیں، یہ ثقہ تھے، ایک قول ہے: ان کی ایک روایت ہے اس وجہ سے ان کا صحابہ میں شمار ہوتا ہے ان کے والد حبان بن منقذ بن عمر ہیں اور وہ صحابی ہیں
(6) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۲۵ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
حدیث مذکور سے بیت الخلاء میں قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کا جواز ۔۔۔۔۔۔ اور اس میں مذاہب ائمہ
علامہ ابو الحسن علی بن خلف بن عبدالملک ابن بطال البکری المالکی القرطبی المتوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں :
فقہاء میں سے ابراہیم النخعی، ابن سیرین اور مجاہد نے یہ کہا ہے کہ قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا یا پیٹھ کرنا مکروہ ہے اور ان لوگوں کی نظر سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث غائب تھی، جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ ممانعت صحرا اور میدانوں میں ہے گھروں میں نہیں ہے اور کسی نے یہ روایت نہیں کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قضاء حاجت کے وقت صحرا میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کی آپ سے صرف یہ مروی ہے کہ آپ نے گھر میں ایسا کیا۔
امام احمد بن حنبل نے کہا: قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کی ممانعت کی حدیث کے لیے حضرت ابن عمر کی یہ حدیث ناسخ ہے اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے:
مردان الاصفر بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا، حضرت ابن عمر نے اپنی اونٹنی کو قبلہ کی طرف بٹھایا، پھر بیٹھ کر قبلہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کیا میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمان ! کیا اس فعل سے منع نہیں کیا گیا؟ حضرت ابن عمر نے کہا: کیوں نہیں ! اس فعل سے صرف کھلی جگہ میں منع کیا گیا ہے، لیکن جب تمہارے اور قبلہ کے درمیان کوئی آڑ یا حجاب ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔
(سنن ابوداؤد : ۱۱ امام ابوداؤد اس روایت کے ساتھ منفرد ہیں۔ )
وکیع بیان کرتے ہیں کہ میں نے شعبی سے کہا کہ حضرت ابوہریرہ یہ کہتے ہیں کہ قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف نہ منہ کرو اور نہ پیٹھ کرو اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ اچانک میری نظر اٹھ گئی تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ کیے ہوئے تھے شعبی نے کہا: حضرت ابن عمر بھی صادق ہیں اور حضرت ابوہریرہ بھی صادق ہیں، حضرت ابوہریرہ کا قول جنگلوں اور صحراؤں کے متعلق ہے اور حضرت ابن عمر کا قول بیت الخلاء کے متعلق ہے اور رہے تمہارے بیت الخلاء تو ان کے لیے کوئی قبلہ نہیں ہے۔
یہ آثار اس پر دلالت کرتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری کی حدیث کو حضرت ابن عمر کی حدیث سے صحرا اور میدان کے ساتھ خاص کر لیا گیا ہے۔
رہا حضرت ابن عمر کا یہ کہنا کہ لوگ اس طرح کہتے ہیں کہ جب تم قضاء حاجت کے لیے بیٹھو تو نہ قبلہ کی طرف منہ کرو نہ بیت المقدس کی طرف تو ان کے اس قول میں یہ دلیل ہے کہ صحابہ کرام سنتوں سے معافی حاصل کرنے میں مختلف تھے اور ان میں سے ہر ایک اس پر بالعموم عمل کرتا تھا، جو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔
علامہ ابن القصار نے کہا: حضرت ابن عمر کے لیے یہ کیسے جائز ہوا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرم گاہ کی طرف دیکھیں، اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی اچانک نظر پڑگئی تو انہوں نے دیکھ لیا اور انہوں نے قصدا نہیں دیکھا،پھر جو کچھ انہوں نے دیکھا تھا، اس کو نقل کر دیا۔
حافظ یوسف بن عبداللہ بن محمد ابن عبد البر المالکی القرطبی المتوفی 463ھ مذکور الصدر دلائل نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
حضرت ابوایوب کی مطلقاً ممانعت والی حدیث کو صحراء پر محمول کرنا اور حضرت ابن عمر کی رخصت والی حدیث کو بیت الخلاء پر محمول کرنا جیسا کہ شعبی نے کہا ہے یہ امام مالک کا اور ان کے اصحاب کا اور امام شافعی اور ان کے اصحاب کا قول ہے اور یہی ابن المبارک اور اسحاق بن راھویہ کا قول ہے۔
اور ثوری اور کوفیوں (فقہاء احناف ) کا مذہب یہ ہے کہ قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کرنا جائز نہیں ہے، صحراء میں نہ بیت الخلاء میں امام احمد بن حنبل کا بھی یہی قول ہے اور ان کا استدلال حضرت ابو ایوب انصاری، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت سہل بن حنیف، حضرت عبداللہ بن الحارث بن جزء الزبیدی اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہم کی احادیث سے ہے جن میں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے سے مطلقا منع فرمایا ہے۔
تمہید ج ا ص ۲۵۹ دار الکتب العلمیہ بیروت (۱۴۱۹ھ )
علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن محمد بن قدامہ حنبلی متوفی ۶۲۰ ھ لکھتے ہیں :
امام احمد سے اس مسئلہ میں دو روایتیں ہیں: ایک روایت یہ ہے کہ قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا مطلقاً جائز نہیں ہے خواہ وہ صحراء میں ہو یا بیت الخلاء میں اور یہی ثوری اور امام ابوحنیفہ کا قول ہے، کیونکہ احادیث میں بالعموم ممانعت ہے اور دوسری روایت یہ ہے کہ بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کرنا جائز ہے اور یہ حضرت ابن عمر سے مروی ہے اور یہی امام مالک امام شافعی اور ابن المنذر کا قول ہے۔ (المغنی ج ۱ ص ۲۰۶ دار الحدیث قاهره ۱۳۲۵ھ)
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں:
حضرت ابن عمر کا یہ نظریہ تھا کہ قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھے کرنے کی ممانعت صرف صحراء میں ہے جب کہ وہاں کوئی حجاب نہ ہو جیسا کہ اس پر امام ابوداؤد اور امام حاکم کی احادیث دلالت کرتی ہیں۔ (فتح الباری ج ص 691، دار المعرفہ بیروت 1426ھ )
امام ابوحنیفہ کی طرف سے حدیث مذکور سے استدلال کے جوابات
حضرت ابن عمر کی اس حدیث سے ائمہ ثلاثہ نے بیت الخلاء میں قضاء حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے کے جواز پر استدلال کیا ہے امام ابوحنیفہ کی طرف سے اس حدیث سے استدلال کے حسب ذیل جوابات ہیں:
(1) ممانعت کی حدیث متعدد صحابہ سے مروی ہے جن میں حضرت ابوایوب انصاری، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت سہل بن حنیف، حضرت عبداللہ بن الحارث اور حضرت سلمان رضی اللہ عنہم ہیں، اور رخصت کی حدیث صرف حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور جو حدیث چھ صحابہ سے مروی ہو وہ اس حدیث پر راجح ہے جو صرف ایک صحابی سے مروی ہو۔
(۲) حضرت ابن عمر نے قصداً اور بہ غور نہیں دیکھا تھا کہ بیت الخلاء میں قضاء حاجت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ بیت المقدس کی طرف تھا، اتفاقا ان کی نظر پڑ گئی تھی، اس حالت میں عام آدمی کی طرف بھی دیکھنا جائز نہیں ہے چہ جائیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، سو ہوسکتا ہے کہ حضرت ابن عمر کو دیکھنے میں خطاء واقع ہوئی ہو، اس لیے اس حالت میں ان کی روایت قابل اعتماد نہیں ہے خصوصا جب کہ اس کے خلاف متعدد احادیث صحیحہ ہیں۔
(۳) ممانعت کی احادیث عام ہیں اور رخصت کی حدیث خاص ہے اور عام خاص پر مقدم ہوتا ہے لہذا ممانعت کی احادیث راجح ہیں۔
(۴) ممانعت کی احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے اور رخصت کی حدیث میں آپ کا فعل ہے اور آپ کا قول آپ کے فعل پر راجح ہوتا ہے لہذا ممانعت کی احادیث راجح ہیں۔
(۵) ممانعت کی احادیث تحریم پر دلالت کرتی ہیں اور رخصت کی حدیث اباحت پر دلالت کرتی ہے اور جب تحریم اور اباحت میں تعارض ہو تو تحریم راجح ہوتی ہے لہذا ممانعت کی احادیث راجح ہیں۔
(6) ممانعت کی احادیث میں کعبہ کا زیادہ احترام ہے اس لیے وہ راجح ہیں۔
(۷) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ سے افضل ہیں، اس لیے قضاء حاجت کے وقت بیت الخلاء میں آپ کی پیٹھ کعبہ کی طرف ہو تو کوئی حرج نہیں، اس کے برخلاف ہمارا یہ مقام نہیں ہم پر کعبہ کا احترام لازم ہے اور ہمارا اس حالت میں کعبہ کی طرف پیٹھ کرنا جائز نہیں ہے۔
(۸) بعض علماء نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں عین کعبہ کی طرف منہ کرنے کے مکلف تھے اور ہم سمت کعبہ کی طرف منہ کرنے کے مکلف ہیں، اسی طرح آپ قضاء حاجت کے وقت عین کعبہ کی طرف منہ یا پیٹھے نہ کرنے کے مکلف تھے سو جب حضرت ابن عمر نے آپ کو دیکھا تو آپ کی پیٹھ سمت کعبہ کی طرف تھی نہ کہ عین کعبہ کی طرف اور یہ بہ غور تحقیق کرنے کا موقع نہ تھا۔
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۱۹ – ج ۱ ص ۹۳۶ پر ہے، اس کی شرح میں فقہاء شافعیہ کا نظریہ بیان کیا گیا ہے۔
[…] حدیث کی تخریج اور شرح حدیث : ۱۴۵ میں گزر چکی […]
[…] حدیث کی تخریج اور شرح حدیث : ۱۴۵ میں گزرچکی […]