۲۰ – بَابُ الْإِسْتِنْجَاءِ بِالْحِجَارَةِ
پتھروں سے استنجاء کرنا
اس باب کے عنوان میں اور حدیث میں جو پتھروں کا لفظ ہے، ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد مٹی کے ڈھیلے ہوں کیونکہ پتھر بہت سخت ہوتے ہیں اور ان سے کھال کے چھلنے یا اس سے خراش پڑنے کا خطرہ ہے اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں بابوں میں استنجاء کرنے کے احکام ہیں۔
١٥٥ – حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ الْمَكِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْمَكِيُّ، عَنْ جَدِه، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اتَّبَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجَ لِحَاجَتِهِ ، فَكَانَ لَا يَلْتَفِتُ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقَالَ ابْغِنِي أَحْجَارًا اَسْتَنْفِضْ بِهَا . اَوْ نَحْوَهُ وَلَا تَأْتِنِي بِعَظْمٍ وَلَا رَوْث فَأَتَيْتُهُ بِاحْجَارِ بِطَرَفِ ثیابِي فَوَضَعْتُهَا إِلَى جَنْبِهِ وَأعْرَضَتْ عَنْهُ فَلَمَّا قَضی اتبعه بھن۔
اطرف الحدیث : ۳۸۶
اس حدیث کو ائمہ ستہ میں سے بقیہ نے روایت نہیں کیا اور نہ امام احمد نے۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں احمد بن محمد مکی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عمرو بن یحیی بن سعید بن عمرو المکی نے حدیث بیان کی از جد خود از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے نکلے تو میں آپ کے پیچھے پیچھے گیا، آپ ادھر اُدھر نہیں دیکھتے تھے میں آپ کے قریب ہوا تو آپ نے فرمایا: مجھے پتھر تلاش کرکے لا کر دو، میں ان سے استنجاء کروں گا اور میرے پاس ہڈی اور گوبر نہ لانا میں کپڑے کی ایک طرف میں پتھر لے کر آیا، پس وہ میں نے آپ کے پہلو میں لاکر رکھ دیئے اور آپ سے منہ پھیرلیا، جب آپ قضاء حاجت سے فارغ ہو گئے تو آپ نے ان پتھروں سے استنجاء کیا۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: مجھے پتھر تلاش کرکے لاکر دو، میں ان سے استنجاء کروں گا۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) احمد بن محمد بن عون ابو الولید الغسانی الازرقی المکی، یہ صاحب ” تاریخ مکہ ” کے دادا ہیں، ابو الولید مذکور نے امام مالک سے روایت کی ہے اور ان سے امام بخاری نے روایت کی ہے ان کے پوتے ابو الولید محمد بن عبد اللہ نے ” تاریخ مکہ لکھی ہے یہ ۲۲۲ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۲) عمرو بن یحی بن سعید، ابو امیہ القریشی المکی الاموی، عمرو مذکور عبد الملک بن مروان کے زمانہ میں دمشق پر غالب ہو گئے تھے، عبدالملک بن مروان نے ان کو قتل کر دیا اور ان کی اولاد کومدینہ بھیج دیا عمرو بن یحیی نے اپنے باپ اور دادا سے روایت کی ہے اور ان سے امام بخاری اور امام ابن ماجہ نے روایت کی ہے۔
(۳) عمرو بن یحیی کے دادا، سعید بن عمرو بن سعيد بن العاص، التابعى الثقه انہوں نے حضرت ابن عباس وغیرہ سے روایت کی ہے اور ان سے ان کے بیٹوں اسحاق اور خالد اور ان کے پوتے عمرو بن یی نے روایت کی ہے امام ترمذی کے علاوہ باقی ائمہ ستہ نے ان سے احادیث روایت کی ہیں۔
(۴) حضرت ابوہریرہ، عبد الرحمان رضی اللہ عنہ۔
عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۵۳
ہڈی اور گوبر سے استنجاء کرنے کی ممانعت کی وجہ
امام بخاری نے” مناقب الانصار” میں اس حدیث کو زیادہ تفصیل سے روایت کیا ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے وضوء اور آپ کے استنجاء کے لیے مشکیزہ میں پانی لے کر جارہے تھے، پس جس وقت وہ آپ کے پیچھے پیچھے جارہے تھے، آپ نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: میں ابوہریرہ ہوں آپ نے فرمایا: میرے لیے پتھر تلاش کر کے لاؤ جن سے میں استنجاء کروں اور ہڈی اور گوبر لے کر نہ آنا میں اپنے کپڑے کے پلو میں چند پتھر لپیٹ کر لایا، حتی کہ میں نے وہ آپ کے پہلو میں رکھ دیئے، پھر میں واپس چلا گیا، حتی کہ جب آپ فارغ ہو گئے تو میں پھر آگیا اور میں نے پوچھا: ہڈی اور گوبر کی کیا وجہ تھی ؟ آپ نے فرمایا: وہ جنات کے طعام کا حصہ ہیں اور بے شک میرے پاس نصیبن کے جنات کا وفد آیا تھا اور وہ بہت اچھے جنات تھے، انہوں نے مجھ سے زاد (خوراک) کا سوال کیا تو میں نے ان کے لیے اللہ سے دعا کی : اے اللہ ! یہ جس ہڈی یا گوبر کے پاس سے گزریں، یہ اس کے اوپر طعام پالیں۔ (صحیح بخاری: ۳۸۶۰)
اس حدیث میں مذکور ہے : میرے پاس نصیبن کے جنات کا وفد آیا، ہو سکتا ہے کہ یہ اسی رات کا واقعہ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے اسی رات کے واقعہ کی خبر دی ہو اور نصیبن الجزیرہ کا مشہور شہر ہے ابن التین نے کہا: وہ شام میں ہے اور اس میں مجاز ہے کیونکہ الجزیرہ شام اور عراق کے درمیان ہے۔
نیز اس حدیث میں مذکور ہے کہ وہ جس ہڈی یا گوبر کے پاس سے گزریں اس پر طعام پالیں ابن التین نے کہا: یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس سے طعام کو چکھ لیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ اس پر طعام کو پیدا کر دے “صحیح مسلم ” میں حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ گوبر ان کے جانوروں کی خوراک ہے اور یہ اس حدیث کے منافی نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس حدیث میں یہ مراد ہو کہ ان کے جانور گوبر کے اوپر اپنی خوارک پالیں ۔ (فتح الباری ج ۵ ص 56، دار المعرفة بیروت 1426ھ )
میں کہتا ہوں کہ صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود کی روایت کا متن اس طرح ہے:
جنات نے آپ سے زاد کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، جب وہ تمہارے ہاتھ میں آئے گی تو اس پر تمہارے لیے پہلے سے زیادہ گوشت بھرا ہوا ہوگا اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چارا ہوگی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان سے استنجاء نہ کیا کرو کیونکہ یہ تمہارے بھائیوں کا طعام ہے ۔ ( صحیح مسلم : ۴۵۰ الرقم المسلسل : ۹۹۰)
حضرت سواد بن قارب کو ایک جن کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر دینا اور ان کا یہ خبر سن کر اسلام لانا
حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ۷۷۴ ھ شافعی دمشقی نے لیلۃ الجن میں جنات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات کی بحث میں حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا مفصل واقعہ ذکر کیا ہے، وہ لکھتے ہیں : حضرت سواد بن قارب زمانہ جاہلیت میں کاہن تھے حضرت سواد بن قارب بیان کرتے ہیں کہ ایک جن میرے پاس آ کر کہتا تھا کہ لوئی بن غالب میں سے اللہ کے رسول مبعوث ہوچکے ہیں، جب کئی راتوں کو بار بار آ کر اس جن نے مجھ سے یہ کہا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مکہ میں حاضر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا : مرحبا! اے سواد بن قارب! ہمیں معلوم ہے تم کس لیے آئے ہو؟ حضرت سواد نے کہا: یارسول اللہ ! میں نے چند اشعار کہے ہیں وہ آپ مجھ سے سن لیں، آپ نے فرمایا : اےسواد! کہو پھر میں نے وہ اشعار پڑھے:
اتانی رئى بعد ليل وهجعة
ولم يك فيما قد بلوت بکاذب
رات کو سونے کے بعد میرے پاس ایک جن آیا
میں جس میں مبتلا ہوا ہوں وہ اس میں جھوٹا نہیں ہے
ثلاث ليال قوله كل ليلة
اتاك رسول من لوی بن غالب
وہ مسلسل تین راتیں آیا اور ہر رات اس کا کہنا تھا
تمہارے پاس لوی بن غالب سے رسول آچکے ہیں
فاشهد ان الله لا رب غيره
وانك مـــامـــون على كل غائب
پس میں شہادت دیتا ہوں
کہ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں اور بے شک آپ ہر غیب پر امین ہیں
وانك ادنى المرسلين وسيلة
الى الله يا ابن الاكرمين الاطايب
اور بے شک آپ تمام رسولوں سے زیادہ قریب وسیلہ ہیں
اللہ کی طرف اے مکرم اور پاک لوگوں کے بیٹے !
وكن لى شفيعا يوم لا ذو شفاعة
سواك بمغن عن سواد بن قارب
آپ میری شفاعت کرنے والے ہوجائیں، جس دن
آپ کے سوا کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہوگا جو سواد بن قارب کو ( عذاب سے ) بچا سکے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ اشعار سن کر ہنسے ، حتی کہ آپ کی ڈاڑھیں ظاہر ہوگئیں اور آپ نے فرمایا: اےسواد ! تم نے فلاح پالی۔
( تفسیر ابن کثیر ج ۲ ص ۱۸۳ دار الفکر بیروت ۱۴۱۹ھ )
حافظ ابن کثیر نے اس روایت کو امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ۴۵۸ھ سے نقل کیا ہے دیکھئے:
دلائل النبوة للبیہقی ج ۲ ص ۲۵۱ – ۲۵۰ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۳ھ
اس کے مزید حوالہ جات درج ذیل ہیں:
المعجم الكبير للطبرانی المتوفی ۳۶۰ رقم :۶۴۷۵ – ج ۷ ص ۹۴ – دار احیاء التراث العربي، بيروت، المستدرک للحاكم المتوفی 405ھ ج ۳ ص ۶۰۹ – دار الباز، مکہ مکرمہ، دلائل النبوۃ لابی نعیم متوفی 430ھ ج ۱ ص ۱۱۴ ۱۱۳ – دار النفائس، بیروت، الاستیعاب لابن عبدالبر المتوفی ۴۶۳ھ ج ۲ ص ۲۳۴ دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۱۵، الوفا لابن الجوزی المتوفی ۵۹۷ ص ۱۴۹ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1408ھ عمدۃ القاری للعینی المتوفی 855ھ ج ۷ ص ۱۱ دار الکتب العلمیہ، بیروت 1421ھ فتح الباری ج ۵ ص ۱۳ دار المعرفۃ بیروت 1426ھ سبل الهدى والرشاد المحمد بن يوسف الصالحي المتوفی ۵۹۴۲ ج ۲ ص ۲۰۹، دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۱۴ھ مختصر سیرۃ الرسول للشيخ عبدالله بن الشیخ محمد بن عبد الوہاب النجدی المتوفی ۱۲۴۲ھ ص ۶۹ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۔
محترم اشیاء سے استنجاء کرنے کا عدم جواز اور دیگر مسائل
اس حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ کو استنجاء کے لیے پتھر لانے کا حکم دیا اور فرمایا: ہڈی اور گوبر نہ لانا، اس سے معلوم ہوا کہ پتھروں اور مٹی کے ڈھیلوں سے استنجاء کرنا جائز ہے اور ہڈی اور گوبر سے استنجاء کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ ان میں جنات کی اور ان کے جانوروں کی خوارک ہے۔
نبی صلی علیہ اللہ علیہ وسلم نے ہڈی سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کھانے پینے کی تمام چیزوں کے ساتھ استنجاء کرنا ممنوع ہے اور دیگر تمام محترم اشیاء سے استنجاء کرنا ممنوع ہے، مثلاً علمی کتابوں کے اوراق کے ساتھ البتہ ٹوائلٹ پیپر رول کے ساتھ استنجاء کرنا جائز ہے کیونکہ اس کاغذ میں لکھے جانے کی صلاحیت نہیں ہوتی اور اس کی وضع ہی استنجاء کرنے کے لیے ہوتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ از خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے جارہے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی اجازت کے بغیر بھی ان کے پیچھے پیچھے جانا جائز ہے اور بزرگوں کا اپنے متبعین سے خدمت لینا جائز ہے، جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت میں مشغول ہوئے تو حضرت ابوہریرہ وہاں سے چلے گئے اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص قضاء حاجت کر رہا ہو اس کے پاس نہیں ٹھہرنا چاہیے ۔
