Site icon اردو محفل

کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 21 حدیث نمبر 156

۲۱ – بَابُ لَا يُسْتَنْجى بِرَوْثٍ

گوبر سے استنجاء نہ کرے

باب سابق میں یہ حدیث تھی کہ استنجاء کے لیے گوبر نہ لانا اور اس باب میں یہ بیان ہے کہ گوبر سے استنجاء نہ کرے اور اس سے ان دونوں بابوں کی مناسبت بالکل ظاہر ہے۔

١٥٦ – حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ ، وَلَكِنْ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَاللہ يَقُولُ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَائِط فَأَمَرَنِي أَنْ اتِيَهُ بِثَلَالَةِ أَحْجَارٍ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ فَلَمْ أجدُهُ، فَاَخَذَتْ رَوْثَةٌ فَأَتَيْتُهُ بهَا فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَالْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ هَذَا ركس۔

 امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابونعیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی از ابواسحاق انہوں نے کہا: اس حدیث کو ابو عبیدہ نے ذکر نہیں کیا، لیکن عبد الرحمان بن الاسود نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں آپ کو تین پتھر ( یا مٹی کے ڈھیلے ) لا کر دوں، پس مجھے دو پتھر مل گئے میں نے تیسرے پتھر کو تلاش کیا تو وہ مجھے نہیں ملا تو میں نے گوبر ( کا ٹکڑا ) اٹھا لیا، پس وہ آپ کے پاس لے آیا’ آپ نے دو پتھر لے لیے اور گوبر کو پھینک دیا اور فرمایا: یہ نجس ہے۔

وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي اسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ.

اور ابراہیم بن یوسف نے اپنے والد سے، انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی ہے کہ مجھے عبد الرحمن نے حدیث بیان کی ہے۔

سنن ترمذی: ۱۷ سنن نسائی: ۴۲ سنن ابن ماجہ: 314،  مصنف ابن ابی شیبہ ج14  ص 223،  المعجم الکبیر: ۹۹۵۲ مسند احمد ج ۱ ص ۳۸۸ طبع قدیم . “مسند احمد : ۳۶۸۵- ج ۶ ص ۲۱۰ مؤسسة الرسالة بیروت)

امام بخاری نے اس تعلیق کو اس لیے وارد کیا ہے کہ ابو اسحاق اس روایت میں مدلس نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے عبد الرحمن بن اسود سے اس حدیث کو خود سنا ہے ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) ابونعیم الفضل بن دکین

(۲) زبیر بن معاویہ الجعفی الکونی

(۳) ابواسحاق عمرو بن عبد اللہ السبیعی ، ان سب کا تعارف ہوچکا ہے

(۴) عبدالرحمان بن الاسود ابو حفص النخعی کوفی ‘ عالم کامل، یہ اپنے والد اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں اور ان سے الاعمش وغیرہ روایت کرتے ہیں، یہ ہر روز سات سو رکعات پڑھا کرتے تھے اور عشاء کے وضوء سے فجر کی نماز پڑھتے تھے یہ ۹۹ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۵) الاسود بن یزید الکوفی النخعی

(6) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۵۹)

ابوعبیدہ کے اپنے والد حضرت ابن مسعود سے سماع پر دلائل حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں:

امام بخاری نے ابو اسحاق کی از ابوعبیدہ از ابن مسعود کی روایت سے عدول کیا ہے حالانکہ یہ سند اعلی تھی، کیونکہ ابو عبیدہ کا اپنے والد حضرت ابن مسعود سے سماع ثابت نہیں ہے سو یہ روایت منقطع ہوجاتی بلکہ انہوں نے ابو اسحاق کی از عبدالرحمان الاسود از والد خود از ابن مسعود کی روایت کو ذکر کیا ہے کیونکہ یہ روایت متصل ہے۔ (فتح الباری ج ا ص ۶۹۸ دار المعرفہ بیروت 1426ھ )

حافظ محمود بن احمد معینی حنفی کے نزدیک ابو عبیدہ کا حضرت ابن مسعود سے سماع ثابت ہے سو وہ حافظ ابن حجر کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اس قائل کا یہ قول مردود ہے کیونکہ امام طبرانی نے “المعجم الاوسط” میں اس سند کے ساتھ ایک حدیث روایت کی ہے: زیاد بن سعد از ابی الزبیر، انہوں نے کہا: مجھے یونس بن عتاب الکوفی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا : میں نے ابو عبیدہ بن عبداللہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ انہوں نے اپنے والد سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ الحدیث

(میرے پاس ” المعجم الاوسط” کے دو نسخے ہیں اور ان دونوں میں یہ سند نہیں ہے ہو سکتا ہے کہ علامہ عینی کے پاس کوئی اور نسخہ ہو جس میں یہ سند مذکور ہو۔ سعیدی غفرلہ ) ۔

اس کے بعد علامہ عینی لکھتے ہیں : ابو عبیدہ کے حضرت ابن مسعود سے سماع پر دوسری دلیل یہ ہے کہ حاکم نے حضرت یوسف علیہ السلام کے ذکر میں اس سند سے ایک حدیث ذکر کی ہے: ابو اسحاق، ابو عبیدہ سے اور وہ اپنے والد ( حضرت ابن مسعود ) سے روایت کرتے ہیں، حاکم نے کہا: اس حدیث کی سند صحیح ہے اور حافظ ذہبی نے بھی کہا: یہ سند صحیح ہے۔ (المستدرک ج ۲ ص ۵۷۲ طبع قدیم المستدرک : 4091،  طبع جدید ) اور امام ترمذی نے متعدد احادیث کو حسن قرار دیا ہے، جن میں ابو عبیدہ کی اپنے والد حضرت ابن مسعود سے روایت ہے:

(1) جب یوم بدر میں قیدیوں کو لایا گیا۔ (سنن ترمذی: ۱۷۱۴)

(۲) جب آپ دو رکعت میں بیٹھتے تو گویا آپ گرم پتھر پر تھے ۔ (سنن ترمذی : ۳۶۶)

(۳) ” وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ ” . ( آل عمران : ۱۲۹) کی تفسیر میں ۔ ( سنن ترمذی :۳۰۱۱)

میں کہتا ہوں کہ اس استدلال پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ پہلی دو سندوں کو ذکر کرنے کے بعد امام ترمذی نے یہ کہہ دیا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے، لیکن ابوعبیدہ کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے تاہم تیسری حدیث کو ذکر کرنے کے بعد انہوں نے صرف اتنا کہا کہ یہ حدیث حسن ہے۔ علامہ عینی اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ محدثین کے نزدیک حدیث حسن کی شرط یہ ہے کہ اس کی سند متصل ہوا اگر ابوعبیدہ کا اپنے والد حضرت ابن مسعود سے سماع نہ ہو تو پھر یہ احادیث منقطع ہوں گی اور پھر ان کو حسن قرار دینا صحیح نہیں ہوگا۔

(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۶۰ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ )

نیز علامہ عینی لکھتے ہیں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ابو عبیدہ نے اپنے والد حضرت ابن مسعود سے حدیث کا سماع نہ کیا ہو کیونکہ جب حضرت ابن مسعود فوت ہو گئے تو ابوعبیدہ کی عمر سات سال تھی، اور متعدد اہل نقل نے تصریح کی ہے کہ سات سال کی عمر میں مسافر محدثین سے بھی سماع صحیح ہے تو ان محدثین سے سماع کیوں کر صحیح نہیں ہوگا، جو مقیم اور متوطن ہوں اور سننے والے کے والد بھی ہوں۔

(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۶۱۔ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۵۱۴۲۱ )

استنجاء کی مشروعیت میں مذاہب ائمہ

استنجاء کی مشروعیت میں اختلاف ہے امام شافعی امام احمد اور ایک روایت کے مطابق امام مالک کے نزدیک استنجاء کرنا واجب ہے اور امام ابوحنیفہ ان کے اصحاب اور ایک قول کے مطابق امام مالک کے نزدیک استنجاء کرنا سنت ہے، مزنی شافعی کا بھی یہی قول ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۵۶)

ان کی دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے سرمہ لگایا تو طاق مرتبہ لگائے، جس نے ایسا کیا تو اچھا کیا اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں اور جس نے استنجاء کیا تو طاق مرتبہ کرے جس نے ایسا کیا تو اچھا ہے اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ۔ الحدیث ( سنن ابوداؤد : 35 سنن ابن ماجہ :۳۴۹۸)

نبی صلی اللی علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے طاق مرتبہ استنجا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اس میں یہ دلیل ہے کہ استنجاء واجب نہیں ہے۔

آیا تین پتھروں سے استنجاء کرنا ضروری ہے یا دو پتھر بھی کافی ہیں؟

علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی الشافعی المتوفی ۴۵۰ ھ لکھتے ہیں:

ہمارے نزدیک تین پتھروں سے استنجاء کرنا واجب ہے اور ہماری دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کے لیے جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے جس سے استنجاء کرے یہ تین پتھر اس سے کفایت کریں گے۔

( سنن ابوداؤد : ۴۰ ، سنن نسائی: ۴۴، سنن دارقطنی ج اص 55)

علامہ الماوردی نے کہا ہے : جب آپ نے تین پتھر لے جانے کا حکم دیا اور کفایت کو تین پتھروں پر معلق کیا تو معلوم ہوا کہ تین پتھروں سے استنجاء کرنا واجب ہے اور اس سے کم پتھر کافی نہیں ہیں ۔ (الحاوی الکبیر ج ا ص ۱۹۲ دار الفکر بیروت 1414ھ)

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث کمال پر محمول ہے یعنی کامل استنجاء تین پتھروں سے ہوگا اور تین پتھروں سے کم سے بھی استنجاء صحیح ہے کیونکہ باب مذکور کی اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ جب حضرت ابن مسعود دو پتھر اور گوبر لے کر آئے تو آپ نے دو پتھر لے لیے اور گوبر کو پھینک دیا، اگر تین پتھر واجب ہوتے تو آپ حضرت ابن مسعود سے فرماتے : جاؤ تیسرا پتھر بھی تلاش کر کے لاؤ۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس استدلال پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ” مسند احمد میں یہی حدیث اس سند سے ہے : معمر از ابی اسحاق از علقمہ از ابن مسعود اس میں یہ مذکور ہے کہ آپ نے گوبر کو پھینک دیا اور فرمایا: یہ نجس ہے میرے پاس پتھر لاؤ۔ (فتح الباری ج ا ص 698 )

اس سے معلوم ہوا کہ تین پتھر ضروری ہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ضرور حافظ ابن حجر کو مغالطہ ہوا ہے، یہ حدیث صحیح سند کے ساتھ مسند احمد میں دو جگہ مذکور ہے، رقم: ۳۶۸۵ ج ا ص ۳۸۸ اور رقم : ۴۴۳۵، ج ا ص ۴۶۵ اور دونوں جگہ حافظ کے نقل کردہ اضافی الفاظ نہیں ہیں البتہ ” مسند احمد” رقم: ۴۲۹۹، ج ۱ ص ۴۵۰ میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے گوبر کو پھینک دیا اور فرمایا: میرے پاس پتھر لاؤ۔

علامہ شعیب الارنؤوط نے کہا ہے: ان اضافی الفاظ کے بغیر یہ حدیث صحیح ہے الفاظ کی یہ زیادتی اس وقت صحیح ہوتی، جب یہ ثابت ہوتا کہ ابو اسحاق السبیعی نے اس حدیث کو علقمہ بن قیس سے سنا ہے۔ ( حافظ ابن حجر نے اس حدیث کی یہی سند ذکر کی ہے از ابی اسحاق از عاقمه از ابن مسعود ۔ (فتح الباری ج ا ص ۶۹۸) اور ابو حاتم اور ابوزرعہ نے کہا ہے کہ ابو اسحاق نے علقمہ سے کوئی حدیث نہیں سنی۔ ( حاشیہ مسند احمد : ۴۲۹۹ – ج ۱ ص ۴۵۰ مؤسسة الرسالة بیروت)

اس تحقیق سے واضح ہو گیا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی کا اعتراض باطل ہے اور استنجاء کے لیے تین پتھر شرط نہیں ہیں اور یہی احناف کثر ہم اللہ کا مذہب ہے والحمد للہ ۔

حافظ ابن حجر کا حدیث منقطع کو مرسل قرار دینا

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابو اسحاق کا علقمہ سے سماع نہیں ہے لیکن کرابیسی نے اس حدیث کا ان سے سماع ثابت کیا ہے اور اگر مان لیا جائے کہ یہاں کوئی راوی چھوٹا ہوا ہے تو حدیث مرسل ہمارے مخالفین کے نزدیک حجت ہوتی ہے اور ہمارے نزدیک بھی حجت ہوتی ہے، اگر اس کی قوت پر قرینہ ہو ۔ (فتح الباری ج ا ص ۶۹۸ )

میں کہتا ہوں کہ کرابیسی کی کیا اہمیت ہے؟ جب امام ابو حاتم اور حافظ ابوزرعہ ایسے اکابر ائمہ یہ تصریح کر چکے ہیں کہ ابو اسحاق نے علقمہ سے کوئی حدیث نہیں سنی، رہا علامہ ابن حجر کا اس حدیث کو مرسل کہنا، سو یہ بہت عجیب ہے، حدیث مرسل تو وہ ہوتی ہے جس میں تابعی درمیان سے صحابی کو چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرے،  خود حافظ ابن حجر عسقلانی نے حدیث مرسل کی یہ تعریف کی ہے:

هو ما سقط من آخره من بعد التابعي هو المرسل وصورته ان يقول التابعى سواء كان كبيرا او صغيرا قال رسول الله صلى الله علیہ وسلم کذا ۔

جس حدیث کی سند کے آخر سے تابعی کے بعد راوی ساقط ہو، وہ حدیث مرسل ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ تابعی خواہ کم عمر ہو یا بزرگ، وہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا ۔

( شرح نخبته الفكر مع شرحه لعلی القاری ص ۴۰۰-399 قدیمی کتب خانہ کراچی)

اور یہاں صورت یہ ہے کہ ابو اسحاق نے علقمہ سے روایت کی اور علقمہ نے حضرت ابن مسعود سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ابو اسحاق اور علقمہ کے درمیان راوی چھوٹا ہوا ہے تو یہ حدیث منقطع ہوئی’ مرسل کیسے ہو گئی اور حافظ ابن حجر ایسے ماہر فن حدیث کا اس کو مرسل کہنا بہت عجیب اور باعث حیرت ہے!

تین سے کم پتھروں سے استنجاء کے جواز پر مزید دلائل

علامہ ابو الحسن علی بن خلف بن عبدالملک ابن بطال البکری القرطبی المالکی المتوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں :

پتھروں کے عدد میں ائمہ کا اختلاف ہے، امام مالک اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ تین پتھروں سے کم سے بھی استنجاء کرنا جائز ہے، بہ شرطیکہ ان سے صفائی حاصل ہو جائے اور امام شافعی نے کہا: تین پتھروں سے کم سے استنجاء کرنا جائز نہیں ہے خواہ صفائی حاصل ہوجائے۔

جن احادیث میں تین پتھروں سے استنجاء کرنے کا حکم دیا ہے ان کی توجیہ کرتے ہوئے علامہ ابن بطال لکھتے ہیں:

اور جائز ہے کہ تین پتھروں کو استحسان پر محمول کیا جائے، خواہ تین سے کم پتھروں سے صفائی حاصل ہو جائے اس لیے کہ استنجاء پتھر سے مسح کرنا ہے اور شریعت میں مسح میں تکرار واجب نہیں ہے، اس کی دلیل سر اور موزوں کا مسح ہے نیز یہ وہ نجاست ہے، جس کا اثر معاف ہے، پس ضروری ہے کہ اس میں مسح کا تکرار واجب نہ ہو نیز اگر پتھر کی تین اطراف ہوں تو وہ تین پتھروں کے قائم مقام ہے، اس طرح جب ایک یا دو پتھروں سے بھی نجاست زائل ہو جائے تو وہ بھی تین پتھروں کے قائم مقام ہیں۔

( شرح ابن بطال ج ۱ ص ۲۴۸ ۲۴۷ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1424ھ )

شیخ محمد بن ابو بکر ابن قیم جوزی حنبلی متوفی ۷۵۱ ھ لکھتے ہیں :

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کے لیے جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے ۔ (سنن ابوداؤد: 40،  سنن نسائی: ۴۴ مسند احمد ج ۲ 6 ص ۱۰۸) اگر کوئی شخص اپنے ساتھ کپڑے کا ٹکڑا لے گیا، جو پتھروں سے زیادہ صفائی کرتا ہوتو وہ بھی جائز ہے یا اون یا روئی یا ریشم کا ٹکڑا لے گیا یا اس کی مثل کوئی اور چیز لے گیا تو وہ بھی جائز ہے کیونکہ شارع کی غرض صرف یہ ہے کہ نجاست زائل ہو جائے اور صفائی حاصل ہوجائے تو جس چیز سے پتھروں سے زیادہ صفائی حاصل ہو اس سے استنجاء کرنا بہ طریق اولی جائز ہے ۔ ( جامع الفقہ ج ۱ ص ۱۳۸ دار الوفاء ریاض ۱۴۲۱ھ )

میں کہتا ہوں کہ اس عبارت سے معلوم ہوا کہ پتھروں کے بجائے ٹوائلٹ پیپر رول سے استنجاء کرنا چاہیے، اول اس لیے کہ آج کل شہروں میں جو ٹوائلٹ بنے ہوتے ہیں، ان میں پتھروں کے استعمال سے حرج ہوگا اگر ٹوائلٹ میں وہ پتھر ڈال دیئے جائیں تو ٹوائلٹ بند ہوجائیں گے، نیز اس سے ہاتھ نجاست سے آلودہ بھی نہیں ہوں گے اور اس کے بعد پانی سے استنجاء کر لیا جائے ۔

گوبر کے نجس ہونے میں مذاہب فقہاء اور ابن حزم، داؤد اور دیگر غیر مقلدین کا رد

اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت ابن مسعود، دو پتھروں کے ساتھ تیسرا گوبر کا ٹکڑا لائے تھے آپ نے گوبر کے ٹکڑے کو پھینک دیا اور فرمایا: یہ نجس ہے۔ صحیح بخاری، سنن نسائی، مصنف ابن ابی شیبہ” اور ” المعجم الکبیر” وغیرہ میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا: یہ ” رکس“ ہے اور سنن ابن ماجہ : ۳۱۴ میں ہے: آپ نے فرمایا: یہ” رجس“ ہے اور” رکس” اور رجس‘ ان دونوں لفظوں کا معنی نجس ہے اور اس حدیث میں اس کی صراحت ہے کہ گوبر “نجس” ہے۔ علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ھ اس حدیث کے تحت مذاہب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

گوبر کی نجاست کی صفت میں علماء کا اختلاف ہے، امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ نجاست غلیظہ ہے، یہی امام زفر کا قول ہے امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک یہ نجاست خفیفہ ہے اور امام مالک کے نزدیک گوبر طاہر ہے۔

(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۶۲ ، دار الکتب العلمیہ، بیروت 1421ھ)

ابن وہب بیان کرتے ہیں : ہم نے امام مالک سے کہا کہ راستوں میں جانوروں کا گوبر اور ان کا پیشاب اور ان کا پاخانہ ہوتا ہے امام مالک نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے یہ چیزیں ہمیشہ سے راستوں میں ہوتی تھیں اور مسلمان بارش اور کیچڑ میں داخل ہوتے تھے اور نماز پڑھتے تھے اور کپڑوں کو نہیں دھوتے تھے ۔ ( المدونۃ الکبری ج1 ص ۲۰ دار احیاء التراث العربی بیروت)

غیر مقلدین کے نزدیک بھی گوبر پاک ہے شیخ علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی متوفی ۴۵۶ ھ لکھتے ہیں :

داؤد نے کہا: ہر حیوان کا پیشاب اور پاخانہ پاک ہے خواہ اس کا گوشت کھایا جاتا ہو یا نہ کھایا جاتا ہوا ہوا انسان کے پیشاب اور پاخانے کے وہ نجس ہیں۔

شیخ ابن حزم نے کہا: امام ابو حنیفہ نے کہا: یہ نجاست غلیظہ ہے ان کا یہ قول فاسد ہے، اس کی اصل سنت صحیحہ میں ہے، نہ ضعیفہ میں نہ قرآن میں، نہ قیاس میں، نہ اجماع میں، نہ یہ کسی ایسے شخص کا قول ہے، جس کی رائے صحیح ہو۔ المجلی بالآثار ج ا ص ۱۷۰ دار الکتب العلمیہ بیروت (1424ھ)

مشہور غیر مقلد عالم حافظ عبداللہ روپڑی لکھتے ہیں:

گوبر حنفی مذہب میں پاک نہیں، مگر حدیث سے اس کی طہارت ثابت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو اس سے معلوم ہوا کہ ماکول اللحم چار پایہ کا گوبر، پیشاب پاک ہے۔ ( میں کہتا ہوں کہ یہ استدلال فاسد ہے، بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے یہ کب لازم آتا ہے کہ ان کے پیشاب اور گوبر پر نماز پڑھی جائے اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ باڑے میں کسی صاف جگہ پر مصلی بچھا کر اس پر نماز پڑھی جائے۔ سعیدی غفرلہ ) ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند آدمیوں کو جو مدینہ میں آکر بیمار ہو گئے، فرمایا: تم اونٹنیوں کا پیشاب اور دودھ پیو، وہ شفایاب ہوگئے اس سے بھی معلوم ہوا کہ ماکول اللحم چارپایہ کا بول (پیشاب ) گوبر پاک ہے۔ (فتاویٰ اہل حدیث ج ۱ص ۲۴۲ اداره احیاء السنتہ النبویہ سرگودھا)

دوسری حدیث سے استدلال میں حافظ روپڑی نے کئی غلطیاں کی ہیں، ایک یہ ہے کہ اس حدیث میں کہیں گوبر کا ذکر نہیں ہے اور انہوں نے اس حدیث سے گوبر کے پاک ہونے کو بھی کشید کرلیا، دوسری غلطی یہ ہے کہ اس حدیث میں ہے کہ چند بیمار آدمیوں کو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنیوں کا پیشاب پینے کی اجازت دی تھی، نہ کہ تمام امت مسلمہ کو، لہذا اونٹنیوں کا پیشاب مطلقا پاک نہ ہوا تیسری غلطی یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالعموم فرمایا ہے : پیشاب سے بچو کیونکہ عام عذاب قبر اس سے ہوتا ہے۔ (سنن دار قطنی ج ۱ ص ۱۲۸ سنن ابن ماجہ: ۳۴۸) اور اس حدیث میں جوان بیماروں کو اونٹنیوں کا پیشاب پینے کا حکم دیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو وحی کے ذریعہ معلوم ہوگیا تھا کہ ان کی بیماری کا علاج اسی سے ہو سکتا ہے، سو یہ حدیث ان کے ساتھ مخصوص ہے، پیشاب پینے کے جواز میں عام نہیں ہے۔

غیر مقلدین نے گوبر کے نجس ہونے کے قول کو امام ابوحنیفہ کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے، حالانکہ امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔

علامہ یحی بن زکریا نووی شافعی متوفی ۶۷۶ ھ لکھتے ہیں :

ابن حزم نے اپنی کتاب ”محلی” میں داؤد سے یہ نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ہے کہ آدمی کے سوا ہر حیوان کا پیشاب اور گوبر پاک؛ہے اس کا یہ قول انتہائی فاسد ہے۔

جن حیوانات کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا پیشاب اور گوہر ہمارے نزدیک نجس ہے اور امام ابوحنیفہ اور ابو یوسف و غیر ہما کے نزدیک بھی اور امام مالک اور امام احمد نے ان کو پاک کہا ہے، امام محمد کے نزدیک بھی ان کا گوبر نجس ہے۔

( شرح المہذب ج ۳ ص ۵۷۸ – ۵۷۷ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۳ھ )

اس باب کی حدیث میں صحیح بخاری: ۱۵۶ اور سنن ابوداؤد وغیرہ کے حوالے سے بتایا جا چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گوبر کے ٹکڑے کو نجس فرمایا’ اس کے علاوہ صحیح البخاری : ۱۵۵ میں یہ حدیث بھی گزر چکی ہے کہ آپ نے حضرت ابوہریرہ سے فرمایا: مجھے پتھر تلاش کرکے لا کر دو، میں ان سے استنجاء کروں گا اور میرے پاس ہڈی اور گوبر نہ لانا۔

ان صحیح اور صریح احادیث کے بعد گوبر کے نجاست غلیظہ ہونے میں کیا شک رہ جاتا ہے!

Exit mobile version