۲۳ – بَابُ الْوُضُوْءِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ
دو دو مرتبہ وضوء کرنا
اس حدیث کی باب سابق کے ساتھ مناسبت بالکل ظاہر ہے۔
١٥٨ – حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا فَلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِاللہ بنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَبَّادِ بْنِ تميم عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْه وَسَلَّمْ تَوَضًا مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں حسین بن عیسی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یونس بن محمد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث بیان کی از عبدالله بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم از عباد بن تمیم از حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو مرتبہ وضوء کیا۔
( سنن ابوداؤ د 136، سنن ترمذی: ۴۳ مصنف ابن ابی شیبہ ج اص11، صحیح ابن حبان : ۱۰۹۴ المستدرک ج اص، 150، سنن بیہقی ج اص 79، ابن الجارود: 71، مسند احمد ج ۲ ص ۲۸۸ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۷۸۷۷ – ایضاً 8762- ج ۱۳ ص ۲۶۱ مؤسسة الرسالة بیروت ۔ ان کتب حدیث میں یہ حدیث حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے اور صحیح بخاری : ۱۵۸ میں یہ حدیث حضرت عبداللہ بن زید سے مروی ہے۔ )
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت بالکل واضح ہے، کیونکہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو دو مرتبہ وضوء کرنے کا ذکر ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(1) الحسین بن عیسی بن حمران البسطامی الدامغانی، یہ ائمہ عربیہ میں سے ثقہ تھے، انہوں نے امام بخاری، امام مسلم،امام ابوداؤد، امام نسائی اور امام ابن خزیمہ سے احادیث روایت کی ہیں، انہوں نے نیشاپور میں رہائش رکھی اور وہیں 247ھ میں فوت ہو گئے
(۲) یونس بن محمد بن مسلم بغدادی، یہ حافظ تھے ۲۰۷ یا ۲۰۸ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۳) فلیح بن سلیمان، ان کا لقب فلیح ہے اور ان کا نام عبدالملک ہے ان کا تعارف ہو چکا ہے۔
(۴) عبداللہ بن ابی بکر المدنی الانصاری ،یہ تابعی تھے ۱۳۵ ھ میں فوت ہو گئے
( ۵ ) عباد بن تمیم بن زید بن عاصم انصاری ،ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے
(6) حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم المازنی رضی اللہ عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے۔ یہ عبداللہ بن زید بن عبدربہ کے ماسوا ہیں، جنہوں نے اذان کا خواب دیکھا تھا۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۶-۵ )
اس حدیث سے بھی مقصود امت کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے۔
