Site icon اردو محفل

کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 24 حدیث نمبر 160

١٦٠ – وعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَالَ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَكِنْ عُرْوَةٌ يُحَدِّثُ عَنْ حُمْرَانَ،فَلَمَّا تَوَضَّا عُثْمَانُ قَالَ أَلَا أَحَدِثكُمْ حَدِيثًا لَوْ لَا آيَةً مَا حَدَّثْتُكُمُوهُ؟ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَتَوَضَّأَ رَجُلٌ يُحْسِنُ وُضُوءَهُ وَيُصَلِّی  الصَّلوةَ إِلَّا غُفِرَلَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الصَّلوةِ حَتَّی يُصَلِّيَهَا. قَالَ عُرْوَةُ الأيّةُ (اِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا انْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ ﴾ (البقره: ١٥٩).

امام بخاری روایت کرتے ہیں: از ابراہیم انہوں نے کہا:صالح بن کیسان نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے کہا: لیکن عروہ حدیث بیان کرتے ہیں : از حمران کہ جب حضرت عثمان نے وضوء کیا تو کہا: کیا میں تم کو ایک حدیث بیان نہ کروں اگر ایک آیت نہ ہوتی تو میں تم کو وہ حدیث بیان نہ کرتا ؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص بھی اچھی طرح وضوء کر کے نماز پڑھے گا، اللہ اس کے اور اس نماز کے درمیان کے گناہوں کو بخش دے گا حتی کہ وہ اس نماز کو پڑھ لے۔ عروہ نے کہا: وہ آیت یہ ہے : ” بے شک جو لوگ ہمارے نازل کیے ہوئے دلائل اور ہدایت کو چھپاتے ہیں باوجود اس کے کہ ہم ان کو اپنی کتاب میں لوگوں کے لیے بیان کرچکے ہیں، ان لوگوں پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے (البقرہ:۱۵۹)۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح، صحیح البخاری : ۱۵۹ میں گزر چکی ہے اور اس کے رجال کا بھی پہلے تعارف ہو چکا ہے۔

عالم دین پر تبلیغ کا واجب ہونا اور دیگر مسائل

(1) البقرة : ۱۵۹ ہر چند کہ اہل کتاب کے علماء کے متعلق نازل ہوئی ہے، لیکن اس کی خصوصیت سبب کا اعتبار نہیں ہے بلکہ اس کے الفاظ کے عموم کا اعتبار ہے اور عالم پر واجب ہے کہ وہ اپنے علم کے موافق تبلیغ کرے کیونکہ علم کے چھپانے پر اللہ تعالی نے لعنت فرمائی ہے۔

(۲) جب انسان اخلاص سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے تو اللہ اس کی عبادت کو قبول فرماتا ہے اور اس کو بخش دیتا ہے۔

(۳) اس سے پہلی حدیث میں متبادر یہ تھا کہ جو شخص وضوء کرنے کے بعد دو رکعت نفل نماز پڑھے گا جس کو سنت وضوء کہتے ہیں، اس کو یہ مغفرت حاصل ہوگی اور اس حدیث سے عموم مراد ہے، جو شخص بھی وضوء کر کے نماز پڑھے گا خواہ وہ کوئی بھی نماز ہو۔

Exit mobile version