٢٥ – بَابُ الْإِسْتِنْثَارِ فِي الْوُضُوءِ
وضوء میں ناک میں پانی ڈالنا
باب سابق کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں ناک میں پانی ڈالنے اور وضوء کے تمام امور کا ذکر تھا اور اس باب میں صرف ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر ہے تو یہ باب یہ منزلہ جزء ہے اور باب سابق یہ منزلہ کل ہے اور ان دونوں بابوں میں جزء اور کل کی مناسبت ہے امام بخاری فرماتے ہیں:
ذكرَهُ عُثْمَانُ وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، وَابْنُ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
حضرت عثمان، حضرت عبداللہ بن زید اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم نے اس کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
اس کا معنی یہ ہے کہ ان صحابہ نے وضوء میں ناک میں پانی ڈالنے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حدیث تو ابھی صحیح البخاری: ۱۵۹ میں گزری ہے اور حضرت عبداللہ بن زید کی حدیث عنقریب صحیح البخاری: ۱۸۵ میں آئے گی اور حضرت ابن عباس کی حدیث صحیح البخاری : ۱۴۰ میں گزر چکی ہے۔
١٦١ – حَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِي قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو ادریس إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انَّهُ قَالَ مَنْ تَوَضا فَلْيَسْتَنثرُ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْیوتر۔
طرف الحدیث: ۱۶۲
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبدان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں یونس نے خبر دی از الزہری’ انہوں نے کہا: مجھے ابو ادریس نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا از نبی صلی اللہ علیہ وسلم، آپ نے فرمایا : جس نے وضوء کیا، وہ ناک میں پانی ڈالے اور جس نے پتھر سے استنجاء کیا وہ طاق مرتبہ کرے۔
(صحیح مسلم: 237، الرقم المسلسل :۵۴۹ ، سنن نسائی : ۸۶ سنن ابن ماجہ :۴۰۹ مصنف ابن ابی شیبہ ج 1 ص 27، صحیح ابن خزیمہ: ۷۵ مسند ابوعوانہ ج ۱ ص ۲۴۷ ، سنن بیہقی ج ۱ ص ۱۰۳ معرفة السنن والآثار : ۵۷ شرح السنته : 211 ، سنن دارمی : ۷۰۳ ، المعجم الصغير : ۱۲۷ مسند البزار : ۲۳۹، مسند احمد ج ۲ ص ۲۳۶ طبع قدیم، مسند احمد : 7221 – ج ۱۲ ص ۱۵۵ مؤسسة الرسالة بیروت )
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: جس نے وضوء کیا وہ ناک میں پانی ڈالے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) عبدان بن عبد الله المروزی
(۲) عبد الله بن المبارک
(۳) یونس بن یزید الایلی
(۴) محمد بن مسلم الزہری ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۵) ابوادریس عائذللہ بن عبد للہ الخولانی یہ جلیل القدر تابعی تھے، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت میں دمشق میں قاضی تھے 80ھ میں فوت ہو گئے تھے
(۶) حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ
(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۲۱)
ناک میں پانی ڈالنے کی تفصیل ہم صحیح البخاری : ۱۴۰ میں کر چکے ہیں اس حدیث میں مذکور ہے: جس نے پتھر سے استنجاء کیا وہ طاق مرتبہ کرے اور طاق کا لفظ ایک پر بھی صادق آتا ہے سو یہ حدیث امام ابو حنیفہ کے موقف پر واضح دلیل ہے کہ تین پتھروں سے استنجاء کرنا ضروری نہیں ہے اور اس میں فقہاء شافعیہ کا رد ہے اور امام مالک اور امام ابوحنیفہ کی دلیل ہے اس پر مفصل بحث صحیح البخاری : ۱۵۶ میں ہے۔
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۴۶۸ – ج ۱ ص ۸۸۳ پر ہے۔
