۲۸ – بَابُ الْمَضْمَضَةِ فِي الْوُضُوءِ
وضوء میں کلی کرنا
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ یہ دونوں باب احکام وضوء پر مشتمل ہیں۔
قَالَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
وضوء میں کلی کرنے کی حدیث کو حضرت ابن عباس اور حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
امام بخاری نے ان دو حدیثوں کی یہاں تعلیق ذکر کی ہے اور ان کی سند متصل کے ساتھ تفصیل سے روایت بھی کی ہے حضرت ابن عباس کی حدیث صحیح البخاری:۱۴۰ میں گزر چکی ہے اور حضرت عبداللہ بن زید کی حدیث عنقریب صحیح البخاری :۱۸۶ میں آئے گی۔ ان شاء اللہ۔
١٦٤- حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِي قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ انَّهُ رَای عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوء فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ ادْخَلَ يَمِيِّنَهُ فِي الْوَضُوءِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ واستنشق وَاسْتَنثر، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثلاثا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ رِجُلٍ ثَلَاثًا ثُمَّ قال رَأَيْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأَ نَحْوَ وضُوئي هَذَا وَقَالَ مَنْ تَوَضَّاَ نَحْوَ وُضُوئى هَذَا ثُمَّ صلی رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ ، غَفَرَ اللهُ لَهُ ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری انہوں نے کہا: مجھے عطاء بن یزید نے خبر دی از حمران جو حضرت عثمان بن عفان کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے دیکھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضوء کا پانی منگایا، پھر اس پانی کو برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر انڈیل،ا پھر انہیں تین بار دھویا پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی کے برتن میں ڈال،ا پھر کلی کی، پھر ناک میں پانی ڈالا پھر ناک صاف کی، پھر تین بار اپنے چہرے کو دھویا اور تین بار اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے ہر پیر کو تین بار دھو یا پھر کہا: میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس وضوء کی طرح وضوء کیا اور فرمایا: جس نے میرے اس وضوء کی طرح وضوء کیا، پھر دورکعت نماز پڑھی، جس میں اپنے نفس سے کوئی بات نہیں کی اللہ تعالی اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف فرما دے گا۔
اس حدیث کی تشریح اور شرح صحیح البخاری: ۱۶۴ میں گزرچکی ہے۔
باب کے عنوان سے اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: پھر کلی کی۔
