۳۱- بَابُ التَّيَمُّنِ فِي الْوُضُوءِ وَالْغُسْلِ
وضو اور غسل میں دائیں طرف سے ابتداء کرنا
یعنی وضوء میں جن دو اعضاء کو دھویا جائے ان میں دھونے کی ابتداء دائیں عضو سے کی جائے اس سے پہلے باب میں پیروں کو دھونے کا ذکر تھا، اس میں بھی دائیں پیر کو پہلے دھویا جاتا ہے۔
١٦٧- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ حَفْصَةَ بنتِ سِيرِينَ ، عَنْ أمَ عَطِيَّة قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُنَّ فِي غُسل ابْنَتِهِ إِبْدَانَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا .
اطراف الحدیث : 1253 – ۱۲۵۴ – ۱۲۵۵-1256- ۱۲۵۷۔۱۲۵۸_۱۲۵۹، 1260،1261،1262’1263
( صحیح مسلم : 939، الرقم المسلسل : 2140، سنن ابوداؤد : 3145، سنن ترمذی : ۱۹۹۰ سنن نسائی: ۱۸۸۴ السنن الكبرى للنسائی : ۲۰۱۱ مصنف ابن ابی شيبه ج ۳ ص 241، المعجم الكبير : ۱۶۰ – ج 25 سنن بیہقی ج ۳ ص 388، معرفة السنن والآثار ج ۵ ص 224، المنتقی : 519، مسند احمد ج ۲ ص ۴۰۸ طبع قدیم مسند احمد : ۲۷۳۰۲ – ج ۴۵ ص ۲۸۳ مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں خالد نے حدیث بیان کی از حفصہ بنت سیرین از ام عطیہ رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحب زادی کو غسل دینے کے متعلق ان سے فرمایا: ان کی دائیں طرف اور وضوء کی جگہوں سے غسل کی ابتداء کرنا۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: ان کو غسل دینے کی ابتداء دائیں طرف سے کرنا۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اور حضرت ام عطیہ کا تذکرہ
(۱) مسدد بن مسرھد
(۲) اسماعیل بن علیه
(۳) خالد الحذاء
(۴) حفصہ بنت سیرین انصاریہ محمد بن سیرین کی بہن ،ان کا تعارف ہوچکا ہے
(۵) حضرت ام عطیہ بنت کعب انصاریہ رضی اللہ عنہا ان کا نام نسیبہ ہے، یہ صحابیہ ہیں، یہ مردہ عورتوں کو غسل دیتی تھیں اور بیمار عورتوں کا علاج کرتی تھیں اور زخمی عورتوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شرکت کرتی تھیں، انہوں نے آپ کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی ہے اور غزوہ خیبر میں شرکت کی ہے انہوں نے ۴۰ احادیث کی روایت کی ہے، جن میں سے چھ یا سات حدیثوں پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں، وہ دونوں ایک ایک حدیث کے ساتھ منفرد ہیں، ان سے بہت سے محدثین نے روایت کی ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۲)
حدیث مذکور میں آپ کی جس صاحب زادی کو غسل دینے کا ذکر ہے، وہ حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا ہیں۔ ۔ یا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اور دیگر مسائل
اس حدیث میں مذکور ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحب زادی کو غسل دینے کے متعلق ان سے فرمایا۔
آپ کی اس صاحب زادی کا نام ام کلثوم رضی اللہ عنہا تھا، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی زوجہ تھیں، ان کو حضرت اسماء بنت عمیس اور حضرت صفیہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہما غسل دیا تھا اور حضرت ام عطیہ بھی ان کو غسل دینے کے موقع پر موجود تھیں اور انہوں نے غسل دینے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کو روایت کیا ہے۔
امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ یہ حضرت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھیں ۔ (صحیح مسلم :939، الرقم المسلسل : 2138) یہ ۲ھ کے اوائل میں فوت ہوگئی تھیں، لیکن قاضی عیاض نے بعض اہل سیر سے نقل کیا ہے کہ یہ حضرت ام کلثوم تھیں اور کہا کہ صحیح یہ ہے کہ یہ سیدہ حضرت زینب تھیں، جیسا کہ امام مسلم کی روایت میں تصریح ہے۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ۳ ص ۳۸۸) اور ان میں تطبیق دی گئی ہے کہ حضرت ام عطیہ نے حضرت سیدہ زینب کو غسل دیا تھا اور وہ سیدہ ام کلثوم کو غسل دینے کے موقع پر حاضر تھیں اور امام منذری نے اپنے حواشی میں ذکر کیا ہے کہ جب حضرت ام کلثوم فوت ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر میں مشغول تھے لیکن یہ غلط ہے وہ حضرت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا تھیں اور جب حضرت ام کلثوم کو دفن کیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عزت مآب صاحب زادیاں مدفون ہو گئیں۔
علامہ نووی نے بھی یہی کہا ہے کہ جن کو غسل دیا گیا وہ حضرت سیدہ زینب تھیں ۔
چونکہ اس حدیث میں فرمایا ہے کہ وضو کی جگہوں سے ابتداء کرنا اس سے معلوم ہوا کہ میت کو غسل دینے سے پہلے اس کو وضوء کرانا چاہیے اور یہ کہ اس کی دائیں طرف کے اعضاء کو پہلے دھونا چاہیے۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۰۷۰ – ج ۲ ص 757، پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔
