۳۳ – بَابُ الْمَاءِ الَّذِي يُغْسَلُ بهِ شَعْرُ الْإِنْسَانِ
جس پانی سے انسان کا بال دھویا گیا ہو ( اس کا شرعی حکم )
یہ باب اس پانی کے بیان میں ہے جس سے بنو آدم کے بال دھوئے گئے ہوں اور اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ باب سابق میں وضوء کے لیے پانی کو طلب کرنے کا ذکر تھا اور وضوء کے لیے پاک پانی کو طلب کیا جاتا ہے اور اس باب میں یہ بتایا ہے کہ انسان کے بال پاک ہیں، پس جس پانی سے انسان کے بال دھوئے گئے ہوں وہ بھی پاک ہوگا، اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں باب پاک پانی کے حکم پر مشتمل ہیں۔ امام بخاری فرماتے ہیں:
وكان عَطَاءٌ لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا أَنْ يُتَّخَذَ مِنْهَا الْخيُوطُ وَالْحِبال.
اور عطاء کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں تھا کہ انسان کے بالوں سے دھاگے اور رسیاں بنائی جائیں۔
اس تعلیق کو امام محمد بن اسحاق الفا کہی نے” اخبار مکہ” میں سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے کہ عطاء بن ابی رباح اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ منی میں انسانوں کے جو بال مونڈے جاتے ہیں ان سے فائدہ حاصل کیا جائے۔
عطاء بن ابی رباح کے قول سے معلوم ہوا کہ انسان کے بال پاک ہیں، تکریم بنو آدم کی وجہ سے ان بالوں سے رسیاں بنانا جائز نہیں ہے۔
جب انسان کے بال اس کے سر میں ہوں تو وہ بالاتفاق پاک ہیں، لیکن جب وہ بال کٹ کر یا مونڈ کر سر سے الگ ہو جائیں تو اختلاف ہے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک وہ پاک ہیں اور امام شافعی کے اس میں دو قول ہیں، تاہم انہوں نے بھی نجاست کے قول سے رجوع کرلیا ہے۔
انسان کے بالوں کی طہارت یا نجاست میں مذاہب فقہاء
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی لکھتے ہیں:
علامہ نووی نے کہا ہے کہ حسن بصری، عطاء اور اوزاعی نے کہا ہے کہ موت سے بال نجس ہو جاتے ہیں، لیکن دھونے سے پاک ہوجاتے ہیں اور قاضی ابو الطیب نے کہا ہے کہ بال، اون، اور ہڈی اور کھر میں حیات جاری ہوتی ہے اور یہ موت سے نجس ہوجاتے ہیں یہی وہ مذہب ہے جس کو المزنی، البویطی، الربیع اور حرملہ نے امام شافعی سے روایت کیا ہے اور البکری نے امام شافعی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے آدمی کے بالوں کے نجس ہونے کے قول سے رجوع کرلیا۔
( شرح المہذب ج ۲ ص ۲۲۳ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۳ھ )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈے ہوئے بالوں میں مذاہب فقہاء
الماوردی نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کے متعلق صحیح اور قطعی مذہب یہ ہے کہ وہ پاک میں علامہ عینی فرماتے ہیں: میں کہتا ” ہوں کہ الماوردی کے اس قول سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے بالوں کے متعلق کوئی اور قول بھی ہے، ہم اس قول سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اور بعض شافعیہ نے تو یہ بھی کہا ہے کہ آپ کے بالوں کے متعلق دو قول ہیں، اس قول کا قائل دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس شخص نے یہ کیسے کہا جب کہ آپ کے فضلات کو بھی طاہر کہا گیا ہے تو آپ کے بالوں کے متعلق دو قول کیسے ہو سکتے ہیں ۔
الماوردی نے کہا ہے کہ آپ نے اپنے بال تبرک کے لیے تقسیم فرمائے تھے اور کسی چیز کا تبرک ہونا’ پاک ہونے پر موقوف نہیں ہے۔ علامہ عینی نے کہا: میں کہتا ہوں کہ یہ سب سے بدتر قول ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۵۲ دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک بالوں کے متعلق علامہ ابو اسحاق شیرازی شافعی متوفی ۴۵۵ ھ لکھتے ہیں:
رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تو اگر ہم یہ کہیں کہ آپ کے علاوہ دوسرے انسانوں کے بال پاک ہیں تو آپ کے بال بہ طریق اولی پاک ہیں اور اگر ہم کہیں کہ دوسروں کے بال نجس ہیں تو آپ کے بال کے متعلق دو قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ وہ نجس ہیں کیونکہ جو چیز دوسروں کی نجس ہے وہ آپ کی بھی نجس ہے، جیسے خون (معاذ اللہ ۔ سعیدی غفرلہ ) اور ابو جعفر ترمذی نے کہا کہ آپ کے بال پاک ہیں، کیونکہ آپ نے حضرت ابوطلحہ کو اپنے بال دیئے ، پس انہوں نے وہ لوگوں میں تقسیم کر دیئے ۔ (المہذب ج ا ص ۱۱ دار الفکر بیروت)
اس عبارت کی شرح میں علامہ یحیی بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ ھ لکھتے ہیں :
مذہب صحیح قطعی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال پاک ہیں اور جس نے کہا: آپ کے بال نجس ہیں، اس نے کہا: آپ نے بال تبرک کے لیے تقسیم کیے تھے اور تبرک نجس چیز کے ساتھ بھی ہوتا ہے، جس طرح پاک چیز کے ساتھ ہوتا ہے اسی طرح یہ بات الماوردی اور دوسرے فقہاء نے کہی ہے اور بالوں کی جتنی مقدار صحابہ نے لی تھی، اتنی مقدار معاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ آپ کے بالوں کی طہارت قطعی ہے جیسا کہ ابو جعفر ترمذی وغیرہ نے کہا ہے ۔ (شرح المہذب ج ۲ ص ۲۲۷ – 226 دار الکتب العلمیہ بیروت 1423ھ )
الماوردی کے نزدیک آپ کے بالوں اور آپ کے فضلات کا نجس ہونا
علامہ بدرالدین عینی اور علامہ نووی نے جو قول الماوردی کی طرف منسوب کیا ہے وہ بہر حال ان کی کتاب میں نہیں ہے لیکن ان کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں اور آپ کے فضلات کے نجس ہونے کے قائل ہیں۔
علامہ ابوالحسن علی بن محمد الماوردی الشافعی المتوفی ۴۵۰ ھ لکھتے ہیں :
ہمارے اصحاب میں سے ابو جعفر ترمذی کا یہ زعم ہے کہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال طاہر ہیں اور دوسرے لوگوں کے بال نجس ہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منی میں جب اپنے بال منڈوائے تو ان کو اپنے اصحاب میں تقسیم کردیا، اگر وہ بال نجس ہوتے تو آپ ان کو منع فرمادیتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس فضیلت کے ساتھ مختص ہونا متنازع نہیں ہے الماوردی نے کہا: اور اگر یہ آپ کے بالوں کی طہارت کی دلیل ہے تو ابوطیبہ نے آپ کو فصد لگا کر آپ کا خون آپ کے سامنے پی لیا تھا۔ (تلخیص الحبیر ج اص 42، اتحاف السنن ج ۲ ص ۳۱۷) تو کیا یہ کہا جائے گا کہ آپ کا خون بھی پاک ہے؟ ابو جعفر نے کہا: آپ کا خون بھی پاک ہے کیونکہ یہ جائز نہیں ہے کہ آپ کسی شخص کو ناجائز کام پر برقرار رکھیں اور آپ نے ابوطیبہ کو خون پینے پر برقرار رکھا تھا۔
اس پر یہ رد کیا گیا ہے کہ ایک عورت نے آپ کا پیشاب پی لیا تو آپ نے اس سے فرمایا: اب کبھی تمہارے پیٹ میں درد نہیں ہوگا ۔ ( دلائل النبوۃ : ۱۵۹ اتحاف السنن ج 7 ص ۱۱ مجمع الزوائد ج ۸ ص ۲۷۱ کنز العمال : ۳۲۲۵۶)
تو کیا اب آپ کے پیشاب کو بھی پاک کہیں ابو جعفر نے کہا: کیونکہ پیشاب طعام اور مشروب سے منقلب ( بدلہ ) ہوتا ہے اور بال اور خون اس طرح نہیں ہیں، وہ اصل خلقت سے ہیں، کسی چیز کا بدل نہیں ہیں ۔
ابو جعفر پر یہ رد کیا گیا ہے کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کو طاہر کہنے پر تمہاری یہ دلیل باطل ہو گئی کہ آپ نے ابوطیبہ کو خون پینے پر بقرار رکھا تھا، کیونکہ آپ نے اس عورت کو بھی پیشاب پینے پر برقرار رکھا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طہارت اور نجاست میں باقی امت کی طرح ہیں جو چیز باقی امت کی پاک ہے وہ آپ کی بھی پاک ہے اور جو چیز باقی امت کی نجس ہے وہ آپ کی بھی نجس ہے (العیاذ باللہ ! باقی امت کے بلغم سے گھن آتی ہے اور صحابہ آپ کے بلغم کو زمین پر گرنے نہیں دیتے تھے اپنے ہاتھوں پر لے کر اپنے چہرے اور جسم پر ملتے تھے ۔ ( صحیح البخاری : ۲۷۳۲-۲۷۳۱) سعیدی غفرلہ ) اور آپ نے جو بال تقسیم کیے تھے، اس سے جو استدلال کیا ہے، اس پر یہ اعتراض ہے کہ کئی مرتبہ آپ نے بالوں کو گرادیا اور ان کو تقسیم نہیں کیا، صرف ایک مرتبہ منی میں بالوں کو تقسیم کیا اور اس کے دو سبب تھے، ایک اپنے اصحاب کو برکت پہنچانا اور دوسرا سبب تھا کہ جن کو بال عطا کیے ان کو شرف اور فضیلت عطا کرنا، تاکہ وہ اس پر فخر کریں اور بعض روایات میں ہے: آپ نے دوبارہ خون پینے سے ابوطیبہ کو منع کیا اور فرمایا: تمہارے جسم کو اللہ نے آگ پر حرام کردیا ہے۔
الحاوى الكبير ج اص 71،73 دار الفکر بیروت ۱۴۱۴ھ )
الماوردی نے صراحتہ یہ نہیں کہا کہ تبرک کے لیے کسی چیز کا پاک ہونا ضروری نہیں ہے، لیکن ان کی بحث سے لازم یہی آتا ہے، اسی لیے علامہ نووی نے اور علامہ عینی نے کہا ہے کہ الماوردی کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منڈائے ہوئے بال نجس ہیں اور آپ نے جو اپنے اصحاب میں بال تقسیم کیے تھے وہ برکت پہنچانے کے لیے تھے اور برکت پہنچانے کے لیے اس چیز کا پاک ہونا شرط نہیں ہے اور الماوردی کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خون اور پیشاب بھی نجس ہے ۔ ( العیاذ باللہ ! )
شیخ تھانوی کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کا نجس ہونا
اسی طرح شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ۱۳۶۴ھ نے بھی اپنی آخری تصنیف میں لکھا ہے:
بعض روایات کا تو ثبوت مقدوح ہے اور بعض کی دلالت اور بعض روایات میں شاربین کا یہ قول مذکور ہے : میں نے پیا اور مجھے پتا نہیں تھا اور ایک روایت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نہی فرمانا مذکور ہے اور وہ یہ ہے کہ سالم بن ابی الحجاج نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فصد لگائی پھر خون نگل لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نہیں جانتے کہ ہر خون حرام ہے اور دوسری روایت میں دوبارہ نہ پینا، کیونکہ ہر خون حرام ہے پس مسئلہ بالکل منقح ہو گیا کہ طہارت کا دعوی بلا دلیل ہے۔ ( بوادر النوادر 449 شیخ نام علی اینڈ سنز،لاہور)
شیخ تھانوی نے اس پر غور نہیں کیا کہ کسی چیز کا حرام ہونا اس کی نجاست کو مستلزم نہیں ہے، انسان کا گوشت کھانا بھی حرام ہے، لیکن وہ نجاست کی بناء پر حرام نہیں ہے کرامت کی بناء پر حرام ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کا پینا تو بہ طریق اولی کرامت کی وجہ سے حرام ہوگا نہ کہ نجاست کی بناء پر ۔
الماوردی کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منائے ہوئے بال اور آپ کے فضلات نجس ہیں ( العیاذ باللہ ) لیکن بہ کثرت علماء شافعیہ کے نزدیک آپ کے بال مبارک اور آپ کے فضلات طاہر ہیں۔
بعض غیر مقلد علماء کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کا نجس ہونا
معروف غیر مقلد عالم عبد اللہ روپڑی متوفی ۱۳۸۴ ھ لکھتے ہیں :
ام ایمن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مٹی کا پیالہ تھا ، جس میں آپ رات کو ( عذر کی بناء پر ) پیشاب کیا کرتے تھے۔ ایک رات میں پیاسی سوگئی پس غلطی سے وہ پیشاب پی لیا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میں نے اس کا ذکر کیا۔ فرمایا: اس دن کے بعد تجھے کبھی پیٹ کا درد نہیں ہوگا ۔ اس روایت سے آپ کے پیشاب کا پاک ہونا ثابت نہیں ہوتا کیونکہ غلطی سے پیا گیا ہے۔ رہا آپ کا یہ فرمانا کہ تیرے پیٹ میں درد نہیں ہوگا یہ علاج ہے۔ بعض نجس چیز بھی علاج بن جاتی ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چونکہ یہ غلطی اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی وجہ سے ہوئی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا معاوضہ یہ دیا کہ اس نجس چیز کو اس کے لیے شفاء بنادیا، بہر صورت اس غلط فعل کو طہارت کی دلیل بنانا غلط ہے۔
(فتاوی اہل حدیث ج ۱ ص ۲۵۱ – ۲۵۰ مطبوعہ ادارہ احیاء السنتہ النبویہ، سرگودھا)
حیرت ہے کہ یہی صاحب جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیشاب کو نجس لکھا ہے یہی مصنف بیل بلکہ ہر وہ جانور جس کا گوشت کھایا جاتا ہو، اس کے پیشاب کو نہ صرف پاک بلکہ حلال قرار دیتے ہیں۔ اُن کی عبارت درج ذیل ہے:
قضیب گاؤ ( بیل کا آلہ تناسل ) حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے، مگر یہ مذہب صحیح نہیں۔ بلکہ ماکول اللحم ( جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہو ) کا گوبر پیشاب تک پاک اور حلال ہے۔ (فتاوی اہل حدیث ج ۲ ص ۵۶۶ )
تا ہم بعض غیر مقلد علماء نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کو پاک لکھا ہے ۔ چنانچہ شیخ وحید الزمان متوفی ۱۳۲۸ ھ لکھتے ہیں:
آنحضرت کے تو تمام فضلات تک پاک اور طاہر تھے، آپ پر دوسرے آدمیوں کا قیاس نہیں ہو سکتا ہے۔
( تیسیر الباری ج۱ ص ۱۷۹ مطبوعہ نعمانی کتب خانہ لاہور ۱۹۹۰ء)
اکثر شافعیہ کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات مبارکہ طاہر ہیں
حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
امام بخاری نے اس حدیث سے اس پر استدلال کیا ہے کہ انسان کا بال جسم سے الگ ہونے کے بعد پاک ہوتا ہے کیونکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال کو اپنے پاس به طور تبرک رکھا، تاہم اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بال مکرم ہے، اس پر دوسرے انسان کے بال کو قیاس نہیں کیا جاسکتا، علامہ ابن المنذر اور علامہ خطابی نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ خصوصیت بغیر دلیل کے ثابت نہیں ہوتی اور اصل میں خصوصیت کا نہ ہونا ہے۔ اس جواب کا یہ رد کیا گیا ہے کہ ان کو چاہیے کہ یہ منی کی طہارت پر بھی اس حدیث سے استدلال نہ کریں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے کپڑوں سے منی کو کھرچ دیا کرتی تھیں، کیونکہ یہ کہنا جائز ہے کہ آپ کی منی پاک ہے اور اس پر دوسروں کی منی کو قیاس نہیں کیا جائے گا اور حق یہ ہے کہ احکام شرعیہ میں آپ کا وہی حکم ہے جو تمام مکلفین کا ہے، ماسوا ان احکام کے جن کی خصوصیت دلیل سے ثابت ہو اور آپ کے فضلات ( خون ، منی ‘بول اور براز وغیرہ) کی طہارت پر بہ کثرت دلائل ہیں اور ائمہ نے اس کو آپ کی خصوصیت قرار دیا ہے اور ائمہ نے آپ کے فضلات کی طہارت کو آپ کی خصوصیات میں سے شمار کیا ہے اس لیے اکثر فقہاء شافعیہ کی کتابوں میں اس کے خلاف جو کچھ لکھا ہے، اس کی طرف توجہ نہ کی جائے کیونکہ ائمہ کے درمیان اس پر اتفاق ہو چکا ہے کہ آپ کے فضلات طاہر ہیں۔ (فتح الباری ج ۱ ص ۷۱۱ دار المعرفه پیروت 1426ھ )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی طہارت کی بحث میں چونکہ آپ کے فضلات (خون اور بول و براز ) کی طہارت کا ذکر کیا گیا ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ اصل احادیث کے حوالوں سے آپ کے فضلات کی طہارت کو بیان کردیں۔ فنقول وبالله التوفيق:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات کی طہارت کے متعلق احادیث
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضاء حاجت کے لیے (بیت الخلاء میں ) گئے’ پھر میں گئی تو میں نے وہاں جا کر کوئی چیز نہیں دیکھی اور مجھے وہاں مشک کی خوشبو آ رہی تھی، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! میں نے وہاں کوئی چیز نہیں دیکھی آپ نے فرمایا: بے شک زمین کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم انبیاء کی جماعت سے جو کچھ نکلے اس کو ڈھانپ لے ۔ (المستدرک ج 4 ص ۷۲ طبع یدیم المستدرک : ۶۹۵۰ طبع جدید المكتبه العصریه 1420ھ کنزالعمال: 34253، الطبقات الکبری ج ۱ ص ۱۳۵ طبع جدید ۱۴۱۸ ھ علامہ خفاجی متوفی ۱۰۶۹ھ نے لکھا ہے کہ ابن دحیہ نے کہا: اس حدیث کی سند ثابت ہے اور یہ اس باب میں سب سے قوی حدیث ہے نسیم الریاض ج ۲ ص ۲۱ طبع جدید ۱۴۲۱ھ )
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم جماعت انبیاء کے اجسام اہل جنت کی ارواح پر بنائے گئے ہیں اور زمین کو حکم دیا گیا ہے کہ ہم سے جو چیز نکلے اس کو نگل لے ۔ ( الفردوس بماثور الخطاب : 143، جمع الجوامع :8036، کنز العمال: ۳۲۲۴)
حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کی ایک جانب میں مٹی کا ایک برتن رکھا ہوا تھا، آپ رات کو اٹھ کر اس میں پیشاب کرتے تھے ایک رات میں اٹھی، مجھے پیاس لگ رہی تھی، میں نے اس برتن سے پی لیا اور مجھے پتا نہیں چلا ( کہ یہ پیشاب ہے) جب صبح ہوئی تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام ایمن ! اس مٹی کے برتن کو اٹھاؤ اور اس میں جو کچھ ہے اس کو پھینک دو میں نے کہا: اللہ کی قسم! اس میں جو کچھ ہے اس کو میں نے پی لیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے ،حتی کہ آپ کی ڈاڑھیں ظاہر ہوگئیں، پھر آپ نے فرمایا: سنو! اس کے بعد کبھی تمہارے پیٹ میں درد نہیں ہوگا (المستدرک ج ۲ ص 63،64 طبع قدیم المستدرک : 6912، طبع جدید المعجم الكبير: ۲۳۰ – ج ۲۵ ص ۸۹ کنز العمال: ۳۲۲۵۶ جمع الجوامع : ۲۷۵۴۹ تاریخ دمشق الکبیر ج 4 ص ۲۰۷-٬۱۰۸۹ دار احیاء التراث العربی بیروت 1421ھ، حافظ الہیثمیی نے کہا: اس حدیث کی سند ضعیف ہے، مجمع الزوائد ج ۸ ص۲۷۱ البدایہ والنہایہ ج 4 ص 421، الطبع الجدید 1418ھ)
حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ برکہ نام کی دو عورتوں نے لکڑی کے پیالہ سے آپ کا پیشاب پیا ایک کی کنیت ام ایمن تھی اور دوسری کی کنیت ام یوسف تھی جب ام یوسف نے آپ کا پیشاب پی لیا تو آپ نے فرمایا: تم صحت مند رہوگی سو وہ تاحیات پیار نہیں ہوئیں۔ ( تشخیص الحبیر ج اص ۴۴)
حکیمہ بنت امیمہ بنت رقیقہ اپنی ماں رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک لکڑی کا پیالہ تھا، جس میں آپ پیشاب کرتے تھے اور اس کو اپنے تخت کے نیچے رکھتے تھے، آپ نے اس میں پیشاب کیا، پھر آپ آئے تو دیکھا کہ اس پیالہ میں کوئی چیز نہیں تھی ایک خاتون جن کا نام برکہ تھا جو حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی خدمت کرتی تھی اور ان کے ساتھ سرزمین حبشہ سے آئی تھی’ آپ نے ان سے پوچھا: وہ پیشاب کہاں ہے جو اس پیالہ میں تھا؟ انہوں نے کہا: میں نے اس کو پی لیا’ آپ نے فرمایا: تم پر دوزخ کی آگ منع کر دی گئی ہے۔ (المعجم الکبیر ۷۷ ۴- ج 24 ص ۱۸۹ المعجم الكبير ۵۲۷ – ج 24 ص ۲۰۶ – ۲۰۵ السنن الکبری ج۷ ص 67 تاریخ دمشق الکبیر:5200. ج 73، ص 38، دار احیاء التراث العربی بیروت 1421ھ حافظ الہیثمیی نے کہا: اس حدیث کے راوی صحیح ہیں اور ثقہ ہیں، مجمع الزوائد ج ۸ ص ۲۷۱ البدایہ والنہایہ ج 4 ص ۳۲۲-۳۲۱ طبع جدید ۱۴۱۸ھ )
عامر بن عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فصد لگائی’ آپ نے مجھ سے پوچھا: تم نے اس (خون) کا کیا کیا؟ میں نے کہا: میں نے اس کو غائب کر دیا آپ نے فرمایا: شاید تم نے پی لیا’ میں نے کہا: میں نے اس کو پی لیا۔ (کشف الاستار عن زوائد البزار :۲۴۳۶ حافظ الہیثمیی نے کہا: بزار کی سند صحیح اور ثقہ ہے مجمع الزوائد ج ۸ ص ۲۷۰)
بریہ بن عمر بن سفینہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فصد لگائی آپ نے فرمایا: یہ خون لے جاؤ اور اس کو چوپایوں، پرندوں اور لوگوں سے چھپا کر دفن کردو، میں نے اس کو چھپ کر پی لیا’ پھر میں نے اس کا ذکر کیا تو آپ ہنسے ۔ (المعجم الکبیر: 6434، مجمع الزوائد ج ۸ ص 270، التاریخ الکبیر للبخاری : ۵۴۱۸ – ۲۵۲۴- ج 4 ص ۱۸۰ المطالب العاليه:3848، السنن الکبری للبیہقی ج 7 ص ۶۷ تلخیص الحبیر ج ۱ ص ۴۲)
عبد الرحمن بن ابی سعید اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد مالک بن سنان بیان کرتے ہیں کہ جب جنگ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہوگیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خون چوس کر نگل لیا’ ان سے کہا گیا۔ کیا تم نے خون پی لیا؟ انہوں نے کہا: ہاں! میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کا خون پی لیا تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرا خون جس کے خون کے ساتھ مل گیا’ اس کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی۔ (المعجم الاوسط : ۹۰۹۸ دار الفکر بیروت 1420ھ مجمع الزوائد ج 6 ص ۱۱۴ ) ( حافظ الہیثمیی نے کہا: اس حدیث کی سند میں کوئی ایسا راوی نہیں ہے، جس کے ضعف پر اجماع ہو، مجمع الزوائد ج ۸ ص ۲۷۰)
حضرت ابو سعید خدری کے والد مالک بن سنان بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہوگیا تو انہوں نے آپ کے زخم سے خون چوس لیا حتی کہ آپ کا چہرہ بالکل سفید اور صاف ہو گیا’ ان سے کہا گیا کہ اس خون کو تھوک دو انہوں نے کہا: نہیں ! خدا کی قسم! میں اس خون کو بھی نہیں تھوکوں گا! پھر وہ پیٹھ موڑ کر جہاد کرنے چلے گئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی جنتی آدمی کو دیکھنا چاہتا ہے، وہ اس کو دیکھ لے پس وہ شہید ہوگئے ۔
دلائل النبوة للبیہقی ج ۳ ص 32، دار الكتب العلمیہ، بیروت، تلخیص الحبیر ج ۱ ص ۴۳ رقم الحدیث:۱۹)
عامر بن عبداللہ بن الزبیر بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فصد لگائی، جب وہ فصد لگا کر فارغ ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے عبداللہ ! اس خون کو ایسی جگہ گرا دو جہاں اس کو کوئی نہ دیکھئے حضرت ابن الزبیر کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کے پاس سے گیا تو میں نے اس خون کو پی لیا، جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گیا تو آپ نے فرمایا : شاید تم نے اس کو پی لیا ؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا : تم کو خون پینے کے لیے کس نے کہا تھا ؟ تمہیں لوگوں کی طرف سے افسوس ہوگا اور لوگوں کو تمہاری طرف سے افسوس ہوگا! دوسری روایت میں ہے: آپ نے فرمایا: تم نےوہ خون کیوں پیا؟ حضرت ابن الزبیر نے کہا: میں نے یہ پسند کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خون میرے پیٹ میں ہو! آپ نے حضرت ابن الزبیر کے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا: تمہیں لوگوں کی طرف سے افسوس ہوگا اور لوگوں کو تمہاری طرف سے افسوس ہوگا اور تم کو صرف قسم پوری کرنے کے لیے دوزخ کی آگ چھوئے گی ۔ (حلیۃ الاولیاء ج1 ص ۳۳۰ طبع قدیم، حلیة الاولیاء : 1166،1167 طبع جدید، سنن دارقطنی ج ا ص ۲۲۸ طبع قدیم، سنن دار قطنی : ۸۷۱ طبع جدید، المستدرک ج ۳ ص ۵۵۴ طبع قدیم، المستدرک : 6343، طبع جدید، تاریخ دمشق الکبیر: 6225 – 6224 -6223 – 6222 – ج ۳۰ ص ۱۲۵ – 124، دار احیاء التراث العربی بیروت 1421ھ، سنن کبری للبیہقی ج ۷ ص ۶۷ تلخیص الحبیر : ۱۸ – ج ۱ ص ۴۳ ۴۲ کنز العمال: 33591،37234 البدایہ والنہایہ ج ۶ ص ۹۹ – ۹۸ الطبع الجدید ۱۴۱۸ھ )
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن الزبیر سے فرمایا: تمہیں لوگوں کی طرف سے افسوس ہوگا اور لوگوں کو تمہاری طرف سے افسوس ہوگا، اس میں حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہم کی شہادت کی پیش گوئی ہے، حضرت ابن الزبیر نے ۶۳ھ میں مکہ میں اپنی حکومت قائم کر دی تھی بنوامیہ کو اس پر افسوس ہوا، یزید نے محرم چونسٹھ ہجری میں ان کے خلاف لشکر بھیجا اور کعبہ پر سنگ باری کی گئی اور کعبہ کے پردوں کو جلایا گیا اور چودہ ربیع الاول ۶۴ ھ کو یزید کے مرنے کے بعد یہ لشکر واپس آ گیا، پھر عبد الملک بن مروان نے اپنے دور حکومت میں حجاج بن یوسف کی کمان میں لشکر بھیجا بالآخر سترہ جمادی الاولی ۷۲ ھ میں حضرت ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور حضرت ابن الزبیر اور بنوامیہ دونوں فریقوں کو ایک دوسرے سے افسوس ہوا اور یوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی پوری ہوگئی ۔
اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن الزبیر سے یہ جو فرمایا کہ تم کو صرف قسم پوری کرنے کے لیے دوزخ کی آگ چھوئے گی اس میں ان آیتوں کی طرف اشارہ ہے:
وَإِن مِنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْما مَّقْضِيَّا0 ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوْا وَتَدْرُ الظَّلِمِينَ فِيها جثِيًّا (مریم: ۷۲-۷۱)
اور بے شک تم سے ہر شخص ضرور دوزخ پر وارد ہو گا’یہ آپ کے رب کے نزدیک قطعی فیصلہ کیا ہوا ہے0 پھر ہم متقین کو دوزخ سے نکال لیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دیں گے 0
اس آیت کی تفسیر میں جمہور مفسرین کا مختار یہ ہے کہ مسلمانوں کو صرف اللہ تعالی کی اس قسم کو پورا کرنے کے لیے دوزخ میں داخل کیا جائے گا اور پھر ان کو نکال لیا جائے گا اور دوزخ مسلمانوں پر ٹھنڈی ہوگی اور کافروں کو جلا رہی ہوگی اور اس میں حکمت یہ ہے کہ کافروں کو دہرا عذاب ہو، ایک عذاب ان کو اپنے جلنے کا ہوگا اور دوسرا عذاب یہ ہوگا کہ ان کے مخالف مسلمان اسی دوزخ سے گزر رہے ہیں اور ان کو عذاب نہیں ہورہا، حسب ذیل احادیث اس تفسیر پر دلیل ہیں:
حضرت یعلی بن منبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن دوزخ مومن سے کہے گی:
جزيا مومن فقد اطفأ نورك لهبي.
اے مومن ! ( جلدی سے ) گزر جا کیونکہ تیرے نور نے میرے شعلہ کو بجھا دیا ہے۔
المعجم الکبیر ۲۲ ص ۲۵۸ حافظ الہیثمیی نے کہا اس کی سند میں سلیم بن منصور بن عمار ضعیف راوی ہیں مجمع الزوائد :18446)
حضرت ابو سمینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس آیت میں “ورود” کا معنی دخول ہے، پس ہر نیک اور بد شخص دوزخ میں داخل ہوگا اور مؤمنوں پر دوزخ اس طرح ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جائے گی، جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام پر آگ ٹھنڈی ہوگئی تھی، پھر ہم متقین کو دوزخ سے نکال لیں گے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دیں گے۔ (مسند احمد ج ۳ ص ۱۵۹ حافظ الہیثمیی نے کہا: اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں۔ مجمع الزوائد ۱۸۴۴۷)
اس کی پوری بحث تبیان القرآن جلد سابع میں مریم : ۷۲۔71 کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
حافظ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشاب اور آپ کے تمام فضلات طاہر ہیں ۔
عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۱۸ دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)
علامه سید ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ ھ لکھتے ہیں:
بعض ائمہ شافعیہ نے یہ تصریح کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشاب اور آپ کے تمام فضلات طاہر ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے۔ (ردالمختار ج اص ۴۵۳ دار احیاء التراث العربی بیروت 1419ھ )
ہم نے اس سے پہلے علامہ عینی کی یہ عبارت نقل کی ہے
کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک آپ کے فضلات طاہر ہیں، لیکن حیرت ہے کہ شیخ انور شاہ کشمیری متوفی ۱۳۵۲ھ نے لکھا ہے: مجھے عینی میں یہ عبارت نہیں ملی۔ (فیض الباری ج اس ۲۵۱ مطبع مجازی، قاہرہ )
اسی طرح شیخ کشمیری کے شاگرد سید احمد رضا بجنوری لکھتے ہیں:
فرمایا: یہ مسئلہ تو سب کتابوں میں پایا جاتا ہے مگر خود ائمہ مذاہب سے نقول نہیں ملتیں البتہ ” مواہب” میں امام ابو حنیفہ سے ایک قول نقل ہوا ہے جو عینی کے حوالے سے ہے مگر مجھے ابھی تک عینی میں وہ عبارت نہیں ملی ہے۔
انوار الباری ج ۶ ص ۳۵۰ اداره تالیفات اشرفیہ ملتان )
