۱۷۳ – حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بنِ دِینار سَمِعْتُ أَبِي عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا رَاى كَلْباً يَأكُلُ الثرى مِنَ الْعَطَشِ ، فَاَخَذَ الرَّجُلُ خفہ فَجَعَلَ یعرف لَهُ بِهِ حَتَّى اَزْوَاهُ ، فَشَكَرَ اللهُ لَهُ ، فَادْخَلَهُ الْجَنَّةَ۔
اطراف الحدیث : ۶۳ ۲۳ – ۲۴۶۶-6009
صحیح مسلم : 2244، الرقم المسلسل :۵۷۵۱ سنن ابوداؤد : ۲۵۵ الادب المفرد : 378، صحیح ابن حبان: ۵۴۴ مسند الشباب: ۱۱۳ سنن بیہقی ج ۴ ص ۱۸۶ – ۱۸۵ مسند احمد ج ۲ ص ۳۷۵ طبع قدیم، مسند احمد ج ۱۴ ص ۴۶۱، مؤسسۃ الرسالۃ بیروت )
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسحاق نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبد الصمد نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن عبداللہ بن دینار نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا از ابی صالح از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہ ایک شخص نے دیکھا کہ ایک کتا پیاس کی وجہ سے کیچڑ کھا رہا تھا، پھر اس شخص نے اپنے موزہ کو پکڑا اور اس کتے کے لیے چلو میں پانی لیا، حتی کہ (خوب پانی پلا کر ) اس کتے کو سیراب کردیا اللہ تعالیٰ نے اس کے اس فعل کی قدر افزائی کی اور اس کو جنت میں داخل کر دیا۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) اسحاق بن منصور الکوسج نیشا پوری ، مام مسلم نے کہا: یہ ثقہ مامون ہیں، ائمہ میں سے ایک ہیں ۲۵۱ ھ میں فوت ہو گئے تھے، ان سے امام بخاری امام مسلم امام ترمذی امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے روایت کی ہے۔
(۲) عبد الصمد بن عبد الوارث ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۳) عبد الرحمان بن عبداللہ بن دینار المزنی العدوی یہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے ان میں کلام کیا گیا ہے لیکن یہ صدوق ہیں، ان سے امام بخاری نے روایت کی ہے امام مسلم نے نہیں کی اور امام ابوداؤد، امام ترمذی اور امام نسائی نے روایت کی ہے۔
(۴) ان کے والد عبداللہ بن دینار یہ بھی حضرت ابن عمر کے آزاد کردہ غلام تھے یہ تابعی ہیں یہ قوی نہیں ہیں۔
(۵) ابو صالح الزیات ذکوان ان کا تعارف ہو چکا ہے
(6) حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ
(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۶۳ – 62 )
اللہ تعالیٰ کے شکر کا معنی
اس حدیث میں مذکور ہے: اللہ تعالیٰ نے اس کا شکر کیا، شکر کا معنی ہے: احسان اور انعام کرنے والے نے جو نعمت عطا کی ہے اس پر اس کی تعریف کرنا، اور یہاں اس سے مراد صرف تعریف اور تحسین ہے یعنی اللہ تعالی نے اس شخص کے اس نیک کام کو سراہا اور اس کی قدر افزائی کی یا اس سے مراد ہے: اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کے اس نیک کام کی جزا دی اور کسی کا شکر ادا کرنا بھی درحقیقت اس کی نیکی کی جزا دینا ہے۔ ایک سوال یہ ہے کہ یہ واقعہ کب ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے زمانہ کا واقعہ ہے اسی لیے اس شخص کا نام نہیں لیا گیا۔
اللہ تعالیٰ کی بے نیازی
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانوروں کے ساتھ بھی نیکی کرنی چاہیے اس شخص نے ایک کتے کے ساتھ نیکی کی اللہ تعالیٰ نے اس کو جنت میں داخل کر دیا ایک عورت نے ایک بلی کو باندھ کر رکھا نہ اس کو کچھ کھانے کو دیا’ نہ اس کو آزاد کیا کہ وہ باہر جا کر کچھ کھا لیتی وہ بھوک سے مرگئی تو اللہ تعالیٰ نے اس عورت کو دوزخ میں داخل کر دیا۔ (صحیح مسلم: ۹۰۴)
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے ایک کتے کو پانی پلانے پر جنت عطا کر دیتا ہے اور ایک بلی پر ظلم کرنے سے دوزخ میں ڈال دیتا ہے۔
حدیث مذکور سے کتے کی طہارت پر استدلال اور اس کا جواب
علامہ ابن بطال مالکی لکھتے ہیں کہ مہلب نے کہا ہے کہ اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ کتے کا جھوٹا پاک ہے کیونکہ اس شخص نے اپنے موزہ میں پانی بھرا اور اس موزہ سے کتے کو پانی پلایا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس موزہ میں اس کتے کا جھوٹا پانی باقی رہا اور چونکہ اس حدیث میں اس موزہ کو دھونے کا ذکر نہیں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس نے اس موزہ کو پہنا اور اس سے نماز پڑھی، پس معلوم ہوا کہ کتے کا جھوٹا پاک ہے۔ (شرح ابن بطال ج 1 ص ۲۷۶ دار الکتب العلمیہ بیروت 1424ھ )
اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں یہ مذکور نہیں ہے کہ اس آدمی نے اپنے موزہ سے کتے کو پانی پلایا حتی کہ کتے کا منہ موزہ سے مس ہوا ہو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے چلو میں موزہ سے پانی لے کر اس چلو سے پانی کتے کے منہ میں ڈالا ہو اور اگر موزہ سے اس کا منہ لگا کر ہی پانی پلایا ہو تو بعد میں اس موزہ کو دھو لیا ہو اور حدیث میں دھونے کا ذکر نہ ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس نے دھویا نہ ہو کیونکہ کسی چیز کا ذکر نہ ہونا’ اس چیز کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے اور اگر بالفرض نہ دھویا ہو اور کتے کا جھوٹا پاک ہو پھر بھی یہ پچھلی شریعت کا واقعہ ہے اور ہم پر حجت نہیں ہے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ لوگ جن جانوروں کے مالک ہوں ان پر ان کو کھلانا اور پلانا واجب ہے۔
(عمدۃ القاری ج ۳ ص ۶۴ )
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۷۴۳ – ج ۲ ص ۶۲۲ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح میں صرف یہ لکھا ہے کہ جانوروں کے ساتھ نیکی کرنی چاہیے اور انہیں کھلانا پلانا چاہیے۔
