Site icon اردو محفل

کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 34 حدیث نمبر 176

٣٤ – بَابُ مَنْ لَمْ يَرَ الْوُضُوءَ إِلَّا مِنَ الْمَخْرَجَيْنِ الْقُبْلِ وَالدُّبُرِ

جس کے نزدیک صرف پیشاب اور پاخانے کے راستہ سے کسی چیز کے نکلنے سے وضو ٹوٹتا ہے

امام بخاری فرماتے ہیں:

لِقَوْلِهِ تَعَالَى (أَوْجَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِّنَ الْغَائِطِ) ( النساء:43) وَقَالَ عَطَاءٌ فِيمَنْ يَخْرُجُ مِنْ دُبُرِهِ الدودُ، أَوْ مِنْ ذَكَرِهِ نَحْوُ الْقَمْلَةِ . يُعِيدُ الْوُضُوءَ ۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ‘یا تم میں سے کوئی شخص بیت الخلاء سے آئے ” (النساء: ۴۳ المائدہ: 6 ) اور عطاء نے کہا: جس شخص کی سرین سے کیڑا نکل آئے یا اس کے آلہ سے جوں کی مثل کوئی چیز نکل آئے وہ وضوء دہرائے ۔

یہ حدیث مصنف ابن ابی شیبه : ۴۱۲ – ج ۱ ص ۴۳ پر مذکور ہے۔

وَقَالَ جَابِرٌ بَنْ عَبْدِاللَّهِ إِذَا ضَحِكَ فِي الصَّلوةِ أعادَ الصَّلوةَ وَلَمْ يُعِدِ الْوُضُوء.

 اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب کوئی شخص نماز میں ہنسے تو وہ نماز کو دہرائے اور وضوء کو نہ دہرائے۔

اس معلق حدیث کو امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ۴۵۸ھ نے روایت کیا ہے جو درج ذیل ہے:

حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا: ایک شخص نماز میں ہنستا ہے؟ انہوں نے کہا: وہ نماز دہرائے اور وضوء نہ دہرائے ۔ (معرفتہ السنن والآثار ج ۱ ص ۲۴۲ دار الکتب العلمیة بیروت 1412ھ )

امام مالک اور امام شافعی کا مذہب ہے کہ ہنسنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور وضو نہیں ٹوٹتا اور امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ نماز میں قہقہہ مار کر ہنسنے سے نماز اور وضو، دونوں ٹوٹ جاتے ہیں اور صرف ہنسنے سے نماز ٹوٹتی ہے، وضوء نہیں ٹوٹتا اور صرف تبسم سے وضوء ٹوٹتا ہے نہ نماز، قہقہہ وہ ہے کہ نمازی خود بھی اس کی آواز سنے اور اس کے ساتھ کھڑا ہوا شخص بھی سنے اور ہنسی وہ ہے کہ وہ خود اس کی آواز سنے، دوسرا نہ سنے اور تبسم وہ ہے جس میں بالکل آواز نہ نکلے امام اعظم ابو حنیفہ کی دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز پڑھ رہے تھے،  اس وقت ایک نابینا نماز پڑھنے آیا’ وہ ایک گڑھے میں گر گیا تو نمازی ہنسنے لگے، حتی کہ انہوں نے قہقہہ لگایا نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے بعد مڑکر فرمایا : تم میں سے جو قہقہہ مار کر ہنسا ہے وہ وضوء اور نماز دہرائے ۔ (سنن دار قطنی : 611 تحقیق لابن الجوزی:239،  الخلافیات للبیہقی ج ۱ ص ۳۸۲)

وَقَالَ الْحَسَنُ اِنْ اَخَذَ مِنْ شَعْرِهِ أَوْ أَظْفَارِهِ،أَوْ خَلَعَ خفيْهِ فَلَا وُضُوْءَ عَلَيْهِ.

اور الحسن (البصری) نے کہا: اگر اس نے اپنا بال توڑا یا ناخن تراشے یا موزے اتارے تو اس پر وضو نہیں ہے۔

پہلی تعلیق ” مصنف ابن ابی شیبہ ” :۵۷۱ – ج ا ص ۵۵ پر ہے اور دوسری تعلیق ” مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۹۶۸) امام شافعی نے کہا ہے کہ اگر اس نے اپنا بات توڑا یا ناخن تراشا تو اس پر وضوء کرنا واجب ہے اور ہمارے اصحاب حنفیہ نے کہا ہے کہ اگر اس نے وضوء کے بعد اپنا سر منڈوایا یا مونچھیں تراشیں یا ناخن تراشے یا ایک موزہ برہنہ کیا اس پر دوبارہ وضو نہیں ہے اور اگر اس نے دونوں موزے اتار دیئے تو امام احمد اور امام شافعی کا قول قدیم یہ ہے کہ وہ دوبارہ وضوء کرے گا امام مالک نے کہا: وہ اس کی تلافی میں دونوں پیر دھوئے گا ورنہ دوبارہ وضوء کرے گا۔ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب نے کہا: جب وہ وضو کا ارادہ کرے گا تو دونوں پیر دھوئے گا یہی امام شافعی کا قول جدید ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۷۳)

وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ .

اور حضرت ابو ہریرہ نے کہا: وضو، صرف حدث سے واجب ہوتا ہے۔

یہ حدیث مسند احمد ج ۲ ص ۴۱۰ میں ہے، علامہ کرمانی نے کہا ہے کہ وضو، صرف پیشاب اور پاخانے کی جگہ سے کسی چیز کے نکلنے سے واجب ہوتا ہے لیکن حدیث کے الفاظ عام ہیں جو نیند، بے ہوشی، جنون اور کسی جگہ سے خون نکلنے کو بھی شامل ہیں۔

وَيُذْكَرُ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ فَرْمِي رَجُلٌ بِسَهُم ، فَنزَفَهُ اللَّهُ فَرَكَعَ وَسَجَدَ وَمَضَى فِي صَلَاتِهِ۔

اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ذات الرقاع میں تھے تو ایک شخص کو تیر مارا گیا، جس سے اس کا خون جاری ہوگیا، وہ رکوع اور سجود کرتا رہا اور نماز پڑھتا رہا۔

مکمل حدیث کا ایک قطعہ ہے مکمل حدیث اس طرح ہے:

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں گئے تو ایک شخص نے کسی مشرک کی عورت کو قتل کردیا تو اس مشرک نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک نہیں رکے گا حتی کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں خون نہ بہالے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات پر چلتا ہوا نکلا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ قیام کیا’ آپ نے فرمایا: ہماری کون حفاظت کرے گا ؟ مہاجرین میں سے ایک شخص اور انصار میں سے ایک شخص نے کہا: ہم حاضر ہیں! آپ نے فرمایا: تم گھاٹی کے منہ پر پہرا دینا’ جب وہ دونوں شخص گھاٹی کے منہ پر گئے تو مہاجر لیٹ گیا اور انصاری کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا اور وہ مشرک بھی پہنچ گیا’ جب اس نے ایک شخص کو دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ وہ قوم کا پہرہ دار ہے اس نے اپنا تیر نکالا اور کمان میں رکھ کر تیر چھوڑ دیا، حتی کہ اس نے تین تیر مارے اور وہ انصاری رکوع اور سجود کرتا رہا پھر اس کا مہاجر ساتھی بیدار ہوا، جب مشرک نے یہ دیکھا کہ یہ لوگ خبردار ہوگئے ہیں تو وہ بھاگ گیا اور جب مہاجر نے انصاری کے جسم سے خون بہتے ہوئے دیکھا تو کہا: سبحان اللہ ! تم کو جب پہلا تیر لگا تو تم نے مجھے کیوں نہیں جگایا ؟ انصاری نے کہا: میں جو سورت پڑھ رہا تھا، میں نے اس کو منقطع کرنا پسند نہیں کیا۔ (سنن ابوداؤد : ۹۸)

امام شافعی نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ پاخانے اور پیشاب کے راستوں کے علاوہ جسم کے کسی حصہ سے خون نکلے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا ورنہ اس انصاری کو جب پہلا تیر لگا تھا تو وہ اسی وقت نماز توڑ دیتا اور اس کے بعد وہ بے وضو نماز پڑھتا نہ رہتا ہم اس حدیث کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ اس حدیث سے استدلال اس وقت صحیح ہوتا جب وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ واقعہ بیان کرتا اور آپ اس کو نماز دہرانے کا حکم نہ دیتے، دوسرا جواب یہ ہے کہ جب اس کو تین بار مسلسل تیر لگے اور خون بہتا رہا تو لازماً اس کے کپڑوں پر بھی خون لگا ہوگا اور خون امام شافعی کے نزدیک بھی نجس ہے تو اس کے کپڑے نجس ہوگئے اور نجس کپڑوں کے ساتھ نماز نہیں ہوتی ، اس وقت اگر نماز میں محو ہونے کی وجہ سے اس کی توجہ جسم سے خون نکلنے اور کپڑوں کے خون آلودہ اور نجس ہونے کی طرف نہیں ہوئی تو بعد میں اس نے نماز دہرائی ہوگی یا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا ہوگا تو آپ نے نماز دہرانے کا حکم دیا ہوگا۔

اور خون نکلنے سے وضوء کے ٹوٹنے پر ہماری دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت ابی جحش  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: یارسول اللہ ! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ مجھے استحاضہ آتا رہتا ہے اور میں پاک نہیں ہوتی ، کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا: یہ خون کسی رگ سے آتا ہے اور یہ حیض نہیں ہے، پس جب حیض آئے تو تم نماز چھوڑ دو اور جب حیض ختم ہوجائے تو تم خون صاف کر کے دھولو ہشام نے کہا: میرے والد نے بیان کیا، آپ نے فرمایا: تم ہر نماز کے لیے وضوء کرو حتی کہ ( دوسری نماز کا) وقت آجائے ۔ (صحیح البخاری :306) ہر نماز کے لیے وضوء کرو، حتی کہ اس نماز کا وقت آجائے یہ الفاظ امام ترمذی کی روایت میں ہیں۔ (سنن ترندی :۱۲۵)

خون نکلنے سے وضوء ٹوٹنے کے ثبوت میں علامہ بدرالدین عینی حنفی نے اس حدیث کو بڑے طمطراق سے پیش کیا ہے۔ (عدة القاری ج ۳ ص ۷۶ – ۷۵) لیکن میرے نزدیک اس حدیث سے وضو ٹوٹنے پر استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ استحاضہ کا خون اگر چہ رگ سے نکلتا ہے لیکن اس کا خروج پیشاب کے راستہ سے ہوتا ہے اور امام شافعی نے یہ کہا ہے کہ پاخانے اور پیشاب کے راستوں کے علاوہ جسم کے کسی حصہ سے خون نکلے تو اس سے وضوء نہیں ٹوٹتا اور استحاضہ کا خون پیشاب کے راستہ سے نکلتا ہے اس لیے یہ حدیث ان کے خلاف حجت نہیں ہے۔

ہاں نکسیر آنے سے جو خون نکلتا ہے اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور یہ حدیث امام شافعی کے خلاف حجت ہوگی:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کو (نماز میں) قے آجائے یا نکسیر آجائے یا اس کے پیٹ سے کوئی چیز نکل کر منہ تک آجائے یا اس کو مذی آجائے تو وہ مڑ کر واپس جائے، پس وضوء کرے اور اسی نماز پر بناء کرے اور اس دوران میں کلام نہ کرے ۔ (سنن ابن ماجہ :1221)

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جب نماز میں نکسیر آجاتی تو وہ نماز سے مڑ کر واپس جاتے، پس وضوء کرتے پھر واپس آکر اسی نماز پر بناء کرتے اور (اس دوران ) کلام نہیں کرتے تھے۔ (موطا امام مالک :۸۱ دار المعرفة بیروت 1420ھ)

امام مالک، یزید بن عبداللہ بن قسیط اللیثی سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے دیکھا کہ سعید بن مسیب کو نماز پڑھتے ہوئے نکسیر آگئی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں آئے،  ان کے پاس پانی لایا گیا، انہوں نے وضوء کیا پھر واپس آکر اسی نماز پر بناء کی۔ (موطا امام مالک: ۸۳ )

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح ارشاد اور صحابہ کے تعامل سے ثابت ہے کہ اگر نماز کے دوران نکسیر آ جائے یعنی ناک سے خون نکل آئے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے اور دوبارہ وضوء کر کے اسی نماز پر بناء کی جاتی ہے۔

فقہاء تابعین کا بھی یہی موقف ہے:

ابراہیم نے کہا: جب خون بہ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: 1458)

حسن بصری کے نزدیک صرف بہنے والے خون سے وضو ٹوٹتا تھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: 1459)

عطاء نے کہا: جب ناک سے خون نکل کر ظاہر ہوجائے تو اس سے وضوء واجب ہوجاتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۴۶۲)

وَقَالَ الْحَسَنُ مَازَالَ الْمُسْلِمُونَ يُصَلُّونَ فِي جرَاحَاتِهم۔

 اور حسن بصری نے کہا: اور مسلمان ہمیشہ اپنے زخموں میں نماز پڑھتے رہے ہیں۔

حسن بصری کے اس قول کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمانوں کے زخموں سے خون بہتا رہتا تھا اور وہ نماز پڑھتے رہتے تھے کیونکہ ہم ابھی ” مصنف ابن ابی شیبہ :۱۴۵۹ سے نقل کر چکے ہیں کہ حسن بصری کے نزدیک بہنے والے خون سے وضو ٹوٹ جاتا تھا بلکہ ان کے قول کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان زخمی ہونے کے بعد نماز ترک نہیں کرتے بلکہ زخموں کی دوا دارو اور مرہم پٹی کرنے کے بعد نماز پڑھتے رہتے تھے۔

وَقَالَ طَاوَسٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِي ، وَعَطَاءُ ۚ وَأَهْلُ الْحِجَازِ لَيْسَ فِي الدَّمِ وُضُوء.

اور طاؤس اور محمد بن علی اور عطاء اور اہل حجاز نے کہا: خون نکلنے میں وضو نہیں ہے۔

ان فقہاء تابعین کے قول کا بھی یہی مطلب ہے کہ صرف خون کے ظہور سے وضوء واجب نہیں ہوتا بلکہ خون کے بہنے سے وضوء واجب ہوتا ہے کیونکہ ان میں سے عطاء نے یہ کہا ہے کہ جب ناک سے خون نکل کر ظاہر ہوجائے تو اس سے وضوء واجب ہوجاتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: 1462) البتہ طاؤس کے نزدیک بہنے والے خون سے بھی وضوء نہیں ٹوٹتا تھا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : 1473- 1470)

لیکن یہ ان کی اجتہادی غلطی ہے۔

وَعَصَرَ ابْنُ عُمَرَ بَثرةً فَخَرَجَ مِنْهَا الدَّمُ وَلَمْ یتوضا۔

 اور حضرت ابن عم رضی اللہ عنہما ناپنی پھنسی کو دبایا تو اس سے خون نکلا اور انہوں نے وضوء نہیں کیا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اثر فقہاء احناف کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ فقہاء احناف کہتے ہیں کہ جو خون نکل کر بہے اور اس جگہ تک پہنچے جس کا دھونا ضروری ہے، اس سے وضو ٹوٹتا ہے اور کسی پھنسی یا زخم کو دبا کر خون نکالنے سے وضو نہیں ٹوٹتا ۔

وَبَرق ابْنُ أَبِي أَوْفَى دَمًا فَمَضَى فِي صَلَاتِهِ.

اور حضرت ابن ابی اوفی نے خون تھوکا تو وہ نماز پڑھتے رہے۔

حضرت ابن ابی اوفی کا نام عبد اللہ ہے اور ابو اوفی کا نام علقمہ بن الحارث ہے، حضرت ابن ابی اوفی صحابی ابن صحابی ہیں، یہ بیعت رضوان اور بعد کے تمام مشاہد میں حاضر ہوئے تھے، یہ کوفہ میں فوت ہونے والے صحابہ میں آخری تھے، ان کی بینائی جاتی رہی تھی یہ ان صحابہ میں سے ایک ہیں جن کی امام ابو حنیفہ نے زیارت کی ہے اور ان سے حدیث روایت کی ہے اور متعصب منکرین جو اس کا انکار کرتے ہیں ان کے قول کی طرف التفات نہ کیا جائے، کیونکہ اس وقت حضرت امام ابوحنیفہ کی عمر سات سال تھی کیونکہ صحیح یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کی ولادت ۸۰ ھ میں ہوئی ہے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک صحابی ان کے شہر میں مقیم ہوں اور انہوں نے ان کی زیارت نہ کی ہو ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص 77-78)

حضرت ابن ابی اوفی نے جو خون تھوکا تھا، اس میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ وہ خون معدہ سے آیا تھا یا دانتوں سے اگر معدہ سے خون آیا ہو تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا اور اگر دانتوں سے خون آیا ہو اور خون مغلوب ہو پھر بھی وضوء نہیں ٹوٹتا اور خون غالب ہو تو پھر وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن یہ متعین نہیں ہے۔

وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَالْحَسَنُ فِيمَنْ يَحْتَجِمُ لَيْسَ عَلَيْهِ إِلَّا غَسْلُ مَحَاجِمِهِ.

اور حضرت ابن عمر اور حسن بصری نے کہا: جو شخص فصد لگوائے اس پر صرف یہ واجب ہے کہ وہ فصد کی جگہ کو دھولے۔

فقہاء احناف کی طرف سے اس اثر کا یہ جواب ہے کہ جو خون نکالا گیا ہو، اس سے وضو نہیں ٹوٹتا، دوسرا جواب یہ ہے کہ فصد لگوانے سے فوراً وضوء کرنا تو لازم نہیں ہے وضوء کرنا تو اس وقت لازم ہو گا، جب وہ فصد لگوانے کے بعد نماز پڑھیں گے اور اس حدیث میں اس کا ذکر نہیں ہے، علاوہ ازیں بہت سی احادیث سے ثابت ہے کہ خون نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، ان میں سے بعض ہم پہلے بیان کرچکے ہیں اور بعض یہ ہیں:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کی نماز میں نکسیر آجائے تو وہ نماز سے مڑ کر جائے خون کو دھوئے پھر اپنے وضوء کو دہرائے اور دوبارہ نماز پڑھے۔

سنن دارقطنی : 551، المعجم الکبیر (11374،  الکامل بن عدی ج ۳ ص ۲۵۴)

ابن جریج اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پیٹ سے طعام اس کے منہ تک پہنچا یا جس نے قے کی یا جس کو نکسیر آئی وہ مڑ کر جائے، پس وضوء کرے اور اپنی نماز پوری کرے۔

( سنن دار قطنی : ۵۵۷ دار المعرفة بیروت ۱۴۲۲ھ)

ابن جریج اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو نماز میں نکسیر آئے یا اس کے پیٹ سے طعام اس کے منہ تک آجائے تو وہ واپس جائے، پس وضوء کرے اور لوٹ کر آئے پھر نماز میں جہاں سے گیا تھا وہاں سے نماز پوری کرے جب تک کہ اس نے کلام نہ کیا ہو اس حدیث کی مثل ابن ابی ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔

(سنن دار قطنی : ۵۶۰ دار المعرفة بیروت ۱۴۲۲ھ )

سنن دار قطنی : ۵۶۲ میں ابن جریج کے والد سے، سنن دار قطنی : ۵۶۴ اور ۵۶۵ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکسیر آنے کی صورت میں دوبارہ وضوء کرنے کا حکم دیا۔

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا میری ناک سے خون بہ رہا تھا، آپ نے فرمایا: نیا وضوء کرو۔ (سنن دار قطنی : 566،  دار المعرفه بیروت )

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک قطرہ یا دو قطروں سے وضو نہیں ہے،  مگر یہ کہ بہنے والا خون ہو۔ (سنن دار قطنی : ٬۵۷۱ دار المعرفہ بیروت)

اس کے علاوہ سنن دار قطنی : ۵۷۲ ، سنن دار قطنی : ۵۷۳ میں بھی خون نکلنے سے وضوء کرنے کے متعلق احادیث ہیں، ان میں سے بعض احادیث کے بعض رجال پر امام دار قطنی نے جرح بھی کی ہے لیکن اول تو ہم نے ان احادیث اور آثار کو صحیح السند احادیث کی تائید میں ذکر کیا ہے ثانیا یہ اتنی کثیر تعداد میں احادیث ہیں کہ ان کے مجموعہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ثالثا ان احادیث کو امام دارقطنی کے علاوہ دوسرے مصنفین نے بھی اپنی کتب میں روایت کیا ہے اور ان کثیر احادیث اور آثار سے یہ مسئلہ آفتاب سے زیادہ روشن ہو گیا کہ انسان کے بدن سے خون نکلے اور بہ جائے تو اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے اور یہی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا مسلک ہے۔ واللہ الحمد

١٧٦ – حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ ابي ذئبٍ عَنْ سَعِيدِ الْمَقَبْرِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِی صَلوةٍ، مَا كَانَ فِى الْمَسْجِدِ يَنتَظِرُ الصَّلوةَ ، مَالَمْ يُحدث ، فَقَالَ رَجُلٌ أَعْجَمِيٌّ مَا الْحَدَث یا ابا هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ الصَّوْتُ يَعْنِي الضَّرْطَةَ.

اطراف الحدیث: ۴۷۷-۶۵۹-۳۲۲۹)

سنن ابوداؤد : ۴۶۹، سنن ترمذی: 330،  سنن نسائی: ۷۳۲ سنن ابن ماجہ : ۷۹۲ ‘ مسند ابوعوانہ ج ۲ ص 22،  صحیح ابن حبان : ۱۷۵۳ سنن بیہقی ج ۲ ص ۱۸۵ مسند احمد ج ۲ ص ۲۸۶ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۰۳۰۸ ج ۱۶ ص ۲۰۸ مؤسسة الرسالة بیروت )

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن ابی ذئب نے حدیث بیان کی از سعید المقبری از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ کا اس وقت تک نماز میں شمار ہوتا ہے، جب تک وہ مسجد میں نماز کا انتظار کرتا رہے، جب تک وہ حدث نہ کرے یعنی وہ وضوء نہ توڑے۔ ایک عجمی شخص نے پوچھا: اے ابو ہریرہ ! حدث کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آواز سے ہوا خارج کرنا ۔

اس باب کا عنوان تھا: جس کے نزدیک صرف پیشاب اور پاخانے کے راستہ سے کسی چیز کے نکلنے سے وضوء ٹوتا ہے اور آواز کے ساتھ جو ہوا خارج ہوتی ہے وہ بھی پاخانے کے راستہ سے خارج ہوتی ہے اور اس سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے اس طرح یہ حدیث باب کے عنوان کے مطابق ہے۔

اس حدیث کے تمام رجال کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔

حدیث مذکور کے مسائل

اس حدیث میں ارشاد ہے کہ بندہ کا اس وقت تک نماز میں شمار ہوتا ہے جب تک وہ مسجد میں نماز کا انتظار کرتا ہے اس میں نماز کا انتظار کرنے کی فضیلت ہے کیونکہ عبادت کا انتظار کرنا بھی عبادت ہے۔

اس حدیث پر یہ اعتراض ہے کہ جب اس عجمی شخص نے پوچھا: حدث کیا ہے؟ تو حضرت ابو ہریرہ نے کہا: آواز سے ہوا خارج کرنا، حالانکہ بغیر آواز کے ہوا خارج کرنا بھی حدث ہے اور حدث کی اور بھی کئی صورتیں ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ سائل اسی خاص صورت کا حکم جانا چاہتا ہے۔

Exit mobile version