۳۸ – بَابُ مَسْحِ الرَّأْسِ كُلِهِ
پورے سر کا مسح کرنا
یعنی پورے سر کے مسح کرنے کا کیا حکم ہے باب سابق کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں غشی مثقل میں وضوء کا حکم تھا اور اس باب میں سر کے مسح کا ذکر ہے اور سر کا مسح وضوء کا جز ہے تو اس باب کی باب سابق کے ساتھ وہ مناسبت ہے جو جز کی کل کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے۔
لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى ﴿وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ)المائده : ٦)
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” اور تم اپنے سروں کا مسح کرو ( المائدہ: ۲ ) ۔
امام بخاری نے المائدہ 4 سے پورے سر کے مسح کرنے پر استدلال کیا ہے اور یہ استدلال اس وقت مکمل ہوگا جب برؤوسكم میں بازائدہ ہو۔
وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ الْمَرْأَةُ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ ، تَمْسَحُ عَلَى رَأْسِهَا.
اور ابن المسیب نے کہا : عورت بھی مرد کی طرح ہے، وہ اپنے سر کا مسح کرے گی ۔
اس تعلیق کی اصل اس حدیث میں ہے: امام ابن ابی شیبہ متوفی ۲۳۵ ھ روایت کرتے ہیں:
ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی از سفیان عبد الکریم از سعید بن المسیب، انہوں نے کہا : عورت اور مرد مسح کرنے میں برابر ہیں ۔
(مصنف ابن ابی شیبہ : ۲۴۱ – ج ا ص ۳۰ دار الکتب العلمیہ بیروت)
اس تعلیق کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ اصل مسح میں عورت مرد کے برابر ہے اور امام احمد سے منقول ہے کہ عورت کے لیے سر کے اگلے حصہ پر مسح کرنا کافی ہے لہذا یہ اثر امام بخاری کے موافق نہیں ہے۔
وَسُئِلَ مَالِكٌ أَيُجْزِي أَنْ يَمْسَحَ بَعْضَ الرَّأْسِ؟ فَاحْتَجَّ بِحَدِيْثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ۔
اور امام مالک سے سوال کیا گیا: کیا سر کے بعض حصہ پر مسح کرنا کافی ہے تو انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید کی حدیث سے استدلال کیا۔۔
حضرت عبد اللہ بن زید کی حدیث حسب ذیل ہے:
١٨٥- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِي ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بنِ يحيى اتَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِينِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بنُ زَيْدٍ نعَمْ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ مضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَانَّا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثا ثُمَّ غسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ راسهُ بِيَدَيْهِ ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ، بَدَا بِمُقَدَّمِ رأسه حَتَّى ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ، ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَا مِنْهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ.
اطراف الحدیث : 186، ،۱۹۱ ،۱۹۲، ۱۹۷-۱۹۹ ]
صحیح مسلم : ۲۳۵، الرقم المسلسل : ۵۴۴ سفن ابوداؤد : ۱۱۹ ۱۱۸ سنن ترمذی: ۳۲ سنن نسائی: ۹۸-97 سنن ابن ماجہ : 434،471 السنن الکبری للنسائی: ۱۰۳ المنتقی : ۷۳، صحیح ابن خزیمہ: ۱۵۷ – ۱۷۳ مسند ابوعوانہ ج اص ۲۴۹ ۲۴۸ شرح معانی الآثار :۱۲۰ صحیح ابن حبان : ۱۰۸۴ سنن بیہقی ج ا ص ۵۹ شرح السنته : ۲۲۳ مسند احمد ج ۲ ص ۳۸ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۶۴۳۱ – ج ۲۶ ص ۳۶۱ مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از عمرو بن یحیی المازنی از والد خود کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کہا، اور وہ عمرو بن یحیی کے دادا ہیں کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضوء کرتے تھے؟ تو حضرت عبد اللہ بن زید نے کہا: ہاں! پھر انہوں نے پانی منگایا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا پھر ان کو دو مرتبہ دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا پھر تین مرتبہ چہرے کو دھویا پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو دو دو مرتبہ کہنیوں تک دھویا پھر دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا سر کے اگلے حصہ سے مسح شروع کیا، پھر دونوں ہاتھ گدی تک لے جا کر وہیں واپس لائے جہاں سے مسح شروع کیا تھا، پھر آپ نے اپنے دونوں پیروں کو دھویا
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) عبدالله بن يوسف التنيسی
(۲) امام مالک بن انس
(۳) عمرو بن یحی بن عمارہ (
۴) ان کے والد یحی بن عمارہ بن ابی حصن
(۵) جس شخص نے سوال کیا وہ عمرو بن یحیی میں امام بخاری نے کہا: وہ عمرو بن یحیی کے دادا ہیں یہ اطلاق مجازی ہے کیونکہ وہ ان کے والد کے چچا ہیں ان کو دادا اس لیے کہا کہ وہ دادا کے حکم میں ہیں
(۶) حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے۔
(عمدة القاری ج ۳ ص ۱۰۲-۱۰۱)
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت حدیث کے اس جملہ میں ہے: پھر آپ نے اپنے سر کا مسح کیا۔
سر کے مسح میں مذاہب فقہاء
علامہ موفق الدین عبد اللہ بن احمد بن محمد بن قدامہ حنبلی متوفی ۶۲۰ ھ لکھتے ہیں:
اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سر پر سح کرنا واجب ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَامْسَحُوا بِرُء وَسِكُمْ (المائده: 6)
اپنے سروں پر مسح کرو۔
اور مقدار واجب میں اختلاف ہے امام احمد سے ایک روایت یہ ہے کہ ہر شخص پر واجب ہے کہ پورے سر کا مسح کرے اور امام مالک کا یہی مذہب ہے اور امام احمد سے دوسری روایت یہ ہے کہ سر کے بعض حصہ پر مسح کرنا بھی کافی ہے، حسن بصری، ثوری، اور اوزاعی ،امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ (المغنی ج ا ص ۱۵۷ – ۱۵۶ دارالحدیث’ قاہرہ ۱۴۲۵ھ )
پورے سر کے مسح کرنے کے ثبوت میں امام مالک کے دلائل
امام مالک نے کہا: سر کا مسح کرنے میں عورت بھی مرد کی طرح ہے وہ اپنے پورے سر پر مسح کرے گی، اگر اس نے مینڈھیاں بنائی ہوئی ہوں تو وہ ان مینڈھیوں پر مسح کرے گی دوپٹہ یا اور کسی چیز پر مسح نہیں کرے گی۔
( المدونة الکبری ج ۱ ص ۱۶ دار احیاء التراث العربی بیروت)
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی القرطبی المتوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں :
فقہاء مالکیہ نے کہا ہے کہ جو آدمی چہرے اور ہاتھوں پر تیمم کرتا ہے وہ پورے چہرے اور پورے ہاتھوں پر مسح کرتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ جس عضو پر مسح کیا جاتا ہے، وہ پورے عضو پر کیا جاتا ہے لہذا جب وضوء میں سر پر مسح کیا جائے گا تو پورے سر پر مسح کیا جائے گا، نیز اس پر امت کا اجماع ہے کہ جب کسی شخص نے پورے سر کا مسح کرلیا تو اس کا فرض ادا ہو گیا، اور جس نے سر کے بعض حصہ پر مسح کیا، اس میں اختلاف ہے پس واجب ہے کہ سر کا مسح یقین کے ساتھ ادا کیا جائے اور یقین اس صورت میں ہے جب پورے سرکا مسح کیا جائے ۔ (شرح ابن بطال ج ۱ ص 294، دار الکتب العلمیة بیروت 1424ھ)
تین بالوں کی مقدار سر پر مسح کرنے کی فرضیت پر فقہاء شافعیہ کے دلائل
علامه یحیی بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ ھ لکھتے ہیں:
ہمارا مشہور مذہب جس پر امام شافعی کی نصوص ہیں وہ یہ ہے کہ سر کا مسح کرنے کے وجوب کی کوئی مقدار معین نہیں ہے بلکہ جتنی مقدار پر مسح کرنا ممکن ہو وہ کافی ہے ہمارے اصحاب نے کہا حتی کہ اگر اس نے ایک بال پر بھی مسح کر لیا تو وہ کافی ہے اور ابوالحسن بن خیران نے کہا: فرضیت کی کم از کم مقدار تین بالوں پر مسح کرنا ہے۔ (الی قولہ ) ہمارے اصحاب کی دلیل یہ ہے کہ مسح قلیل اور کثیر مقدار پر واقع ہوتا ہے اور صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشانی کی مقدار پر مسح کیا ہے اور یہ حدیث پورے سر کے مسح کی فرضیت سے مانع ہے اور چوتھائی تہائی اور آدھے سر کی مقدار کی فرضیت سے بھی مانع ہے کیونکہ پیشانی چوتھے سر سے کم ہوتی ہے پس متعین ہو گیا کہ اتنی مقدار واجب ہے، جس پر مسح کرنے کا اطلاق ہو سکے۔
( شرح المہذب ج ۲ ص ۴۲۶ – ۴۲۴ ملخصاً دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۳ھ )
چوتھائی سر کے مسح کی فرضیت پر امام ابو حنیفہ کے دلائل
امام مسلم روایت کرتے ہیں :
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنی طیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کیا، پس اپنی پیشانی کی مقدار (سر پر ) مسح کیا اور عمامہ اور موزوں پر( مسح کیا ) ۔ (صحیح مسلم : ۲۷۴ الرقم مسلسل : ۶۲۵ مسند ابوعوانہ ،ج اص ۲۵۹ المنتقی : ۸۳، صحیح ابن حبان : 1346، مسند احمد ج 4 ص ۲۵۵)
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا اور سر کے اگلے حصے پر اور اپنے عمامہ پر ۔
( صحیح مسلم : 274، الرقم المسلسل : ۶۲۴ ، سنن ابوداؤد: ۱۵۰ سنن ترمذی: ۱۰۰ سنن نسائی : ۱۰۸ – ۱۰۷ المعجم الكبير :۸۸۶- ج 20 السنن الكبرى للنسائی: ۱۰۷ مصنف ابن ابی شیبه ج 1 ص ۲۳ سنن بیہقی ج ا ص ۵۸)
ان حدیثوں میں یہ تصریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اور پیشانی کی مقدار سر کا چوتھائی حصہ ہے اس سے معلوم ہوا کہ سر کے چوتھائی حصہ پر مسح کرنا فرض ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ احادیث تو اخبار آحاد ہیں اور خبر واحد سے فرضیت ثابت نہیں ہوتی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ مسح کی فرضیت تو المائدہ :۶ سے ثابت ہے البتہ سر کی مقدار مجمل ہے، اس کا بیان ان احادیث میں ہے کہ وہ سر کا چوتھائی حصہ ہے، جو پیشانی کی مقدار ہے اور ان احادیث سے امام مالک اور امام احمد کا بھی رد ہو گیا، جو پورے سر پر مسح کو فرض کہتے ہیں اور امام شافعی کا بھی رد ہوگیا، جو تین بالوں پر مسح کو بھی کافی کہتے ہیں، کیونکہ پیشانی کی مقدار تین بالوں سے بہت زیادہ ہے۔
امام احمد بن محمد الطحاوی متوفی ۳۲۱ ھ لکھتے ہیں :
ایک قوم نے کہا کہ پورے سر پر مسح کیا جائے جیسا کہ وضوء میں پورے اعضاء کو دھویا جاتا ہے اور ایک قوم نے کہا کہ سر کے بعض حصہ پر مسح کیا جائے تو ہم نے دیکھا کہ وضوء میں سر پر مسح کرنا موزوں پر مسح کرنے کی مثل ہے اور موزوں میں پورے موزوں پر مسح نہیں کیا جاتا بلکہ موزوں کے صرف اوپری حصہ پر مسح کیا جاتا ہے خلاصہ یہ ہے کہ موزوں کے بعض حصوں پر مسح کیا جاتا ہے اس طرح سر کے بھی بعض حصہ پر مسح کیا جائے گا اور مسح کی نظیر مسح ہے اس لیے سر کے مسح کو دھوئے جانے والے اعضاء پر قیاس کرنا درست نہیں ہے اور سر کے مسح کو موزوں کے مسح پر قیاس کرنا درست ہے۔ (شرح معانی الآثار ج ۱ ص ۳۷ قدیمی کتب خانہ کراچی )
علامہ ابن بطال مالکی نے سر پر مسح کو تیمم کے مسح پر قیاس کیا ہے کہ تیمم میں پورے چہرے اور پورے ہاتھوں پر مسح کیا جاتا ہے لہذا پورے سر پر مسح کرنا چاہیے، لیکن یہ قیاس درست نہیں ہے کیونکہ وضو ، طہارت کی الگ نوع ہے اور تیمم طہارت کی دوسری نوع ہے اور ایک نوع کے رکن کو دوسری نوع کے رکن پر قیاس کرنا درست نہیں ہے اس کے برخلاف امام طحاوی نے وضوء میں سر کے مسح کو وضوء میں موزوں کے مسح پر قیاس کیا ہے اور یہ طہارت کی ایک نوع کے رکن کو دوسرے رکن پر قیاس کرنا ہے اور یہ درست ہے۔
عمامہ پر مسح کرنے کے جوابات
حضرت مغیرہ کی اس حدیث سے چوتھائی سر پر مسح کے استدلال پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ آپ نے حدیث کے ایک جز سے استدلال کیا اور دوسرے جز کو چھوڑ دیا’ اس حدیث میں عمامہ پر مسح کرنے کا بھی ذکر ہے اور آپ عمامہ پر مسح کے جواز کے قائل نہیں ہیں اس کے جوابات درج ذیل ہیں :
(1) اگر ہم عمامہ پر مسح کو بھی اختیار کرتے تو اس سے خبر واحد سے قرآن مجید پر زیادتی لازم آتی کیونکہ یہ حدیث خبر واحد ہے اور عمامہ پر مسح کا ذکر قرآن مجید میں نہیں ہے لہذا اگر عمامہ پر مسح کا قول کیا جائے تو خبر واحد سے قرآن مجید پر زیادتی لازم آئے گی۔
(۲) نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو عمامہ پر مسح کیا تھا، اس کی تاویل یہ ہے کہ آپ نے عمامہ کے نچلے حصہ پر مسح کیا تھا اور اس میں حال کا اطلاق محل پر ہے۔
(۳) راوی آپ سے دور تھا، آپ نے سر سے عمامہ اتارے بغیر سر پر مسح کیا تو راوی نے سمجھا کہ آپ نے عمامہ پر مسح کیا ہے۔
(۴) آپ کے سر پر کوئی زخم تھا، جس میں پانی کی تری لگنا باعث ضرر تھا اور عمامہ بہ منزلہ پٹی تھا تو آپ نے اس عذر کی وجہ سے عمامہ پر مسح کیا، یعنی حالت اضطرار میں عمامہ پر مسح کیا حالت اختیار میں عمامہ پر مسح نہیں کیا۔
ہم نے جو دوسرا جواب ذکر کیا ہے، اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضوء کر رہے تھے آپ کے سر پر قطری عمامہ تھا آپ نے اپنا ہاتھ عمامہ کے نیچے داخل کیا اور سر کے اگلے حصہ پر مسح کیا اور عمامہ نہیں اتارا۔
( سنن ابوداؤد : ۱۴۷ سنن ابن ماجہ : ۵۶۴)
اس حدیث میں یہ ثبوت بھی ہے کہ آپ نے پورے سر پر مسح نہیں کیا، اس سے معلوم ہوا کہ پورے سر کا مسح کرنا فرض نہیں ہے، آپ نے صرف سر کے اگلے حصہ پر مسح کیا، جو سر کا چوتھائی حصہ ہے سو اتنی مقدار پر مسح کرنا فرض ہے، نہ کہ صرف تین بالوں کی مقدار پر۔ واللہ الحمد
اس حدیث میں بھی ذکر ہے کہ آپ نے تین بار چہرے کو دھویا اور دو بار ہا تھوں کو دھویا اس سے معلوم ہوا کہ وضوء میں چہرے اور ہاتھوں کو دھونے کے عدد میں اختلاف کرنا جائز ہے۔
اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۴۶۳ – ج ا ص ۸۸۰ پر ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔
