٥٧ – بَابٌ تَرْكِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسِ الْأَعْرَابِي حَتَّى فَرَغَ مِنْ بَوْلِهِ فِي الْمَسْجِدِ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کا اعرابی کو چھوڑے رکھنا حتی کہ وہ مسجد میں پیشاب کرنے سے فارغ ہو گیا
اس عنوان کے مطابق حدیث آ رہی ہے، اعرابی سے مراد ہے: دیہات کا رہنے والا باب سابق کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ دونوں باب پیشاب کے ازالہ پر مشتمل ہیں باب سابق میں پیشاب کو دھونے کا حکم تھا اور اس باب میں پیشاب پر پانی بہانے کا حکم ہے اور وہ بھی پیشاب کو دھونے کے حکم میں ہے۔
۲۱۹- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاى اَعْرَابِيًّا يَبُولُ فِی الْمَسْجِدِ، فَقَالَ دَعُوهُ ، حَتَّى إِذَا فَرَغَ دَعَا بِمَاء فَصَبَهُ عَلَيْهِ [ اطراف الحديث : ۲۲۱ – ۶۰۲۵]
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ھمام نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں اسحاق نے حدیث بیان کی، از حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی کو مسجد میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو حتی کہ جب وہ پیشاب سے فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی منگا کر اس جگہ پر بہا دیا۔
(صحیح مسلم: 284، الرقم المسلسل : 646، صحیح مسلم : 285، الرقم المسلسل : ۶۴۸ سنن نسائی: ۵۳، سنن ابن ماجه : 528، مصنف ابن ابی شیبه ج۸ ص ۲۱۸ سنن دارمی: ۲۱۲۰ السنن الكبرى للنسائی: ۶۸۸۴ مسند ابوعوانہ ج ۵ ص ۳۴۵، صحیح ابن خزیمہ: 1401، صحیح ابن حبان : ۰۱ ۱۴ شرح السنة : ۵۰۰ سنن بیہقی ج ۲ ص ۴۲۸ ، مسند احمد ج ۳ ص ۱۱۴ – ج ۳ – ۱۹۱ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۲۱۳۲ – ج ۱۹ ص ۱۸۱ مسند احمد : ۱۲۹۸۴ – ج ۲۰ ص 297، مؤسسة الرسالة بيروت )
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی کو مسجد میں پیشاب کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔
حدیث مذکورہ کے رجال کا تعارف
(۱) موسیٰ بن اسماعیل التبوذکی البصری ان کا تعارف ہو چکا ہے
(۲) ھمام بن یحیی بن دینار العوذی، یہ تمام مشائخ کے نزدیک ثقہ اور ثبت تھے ۱۶۳ ھ میں فوت ہو گئے تھے
(۳) اسحاق بن ابی طلحہ بن سہل الانصاری
(۴) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ان دونوں کا تعارف ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۸۵)
زمین کے خشک ہونے سے اس کی طہارت پر اور ہر مائع چیز سے نجاست کے ازالہ پر احناف کے خلاف علامہ ابن بطال مالکی کے دلائل
اس حدیث میں مذکور ہے کہ جب اس اعرابی نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگا کر اس جگہ پر بہا دیا۔
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی القرطبی المتوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
اس میں اختلاف ہے کہ جب زمین پیشاب یا کسی اور نجاست سے نجس ہو جائے تو اس کو کس طرح پاک کیا جائے گا امام مالک امام شافعی اور امام ابو ثور نے کہا ہے کہ وہ پانی کے سوا اور کسی چیز سے پاک نہیں ہوگی اور انہوں نے اس باب کی حدیث سے استدلال کیا ہے۔
ابو قلابه، حسن بصری اور ابن الحنفیہ سے روایت ہے کہ زمین خشک ہونے سے پاک ہو جاتی ہے اور یہی امام ابوحنیفہ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کا قول ہے، انہوں نے کہا ہے کہ دھوپ نجاست کو زائل کر دیتی ہے اور جب اس نجاست کا اثر چلا جائے تو اس زمین پر نماز پڑھ لو اور اس زمین سے تیمم نہ کرو۔
امام الطحاوی نے کہا ہے کہ اس میں اختلاف ہے کہ کپڑوں اور بدن سے نجاست کس چیز سے زائل ہو گی، امام مالک نے کہا ہے: یہ صرف اس پانی سے زائل ہو سکتی ہے، جس سے وضوء کیا جاتا ہے اور یہی امام زفر، امام محمد بن حسن اور امام شافعی کا قول ہے اور ان کی دلیل یہ آیت ہے:
وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا ( الفرقان: ۴۸)
ہم نے آسمان سے ایسا پانی نازل کیا ہے جو پاک کرنے والا ہے
اور انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ جب اعرابی نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پانی کا ایک ڈول بہانے کا حکم دیا، انہوں نے کہا کہ کپڑوں اور بدن کا بھی یہی حکم ہے۔
اور امام ابوحنیفہ نے اور امام ابو یوسف نے یہ کہا ہے کہ نجاست کو ہر مائع ( رقیق اور بہنے والی ) چیز سے زائل کرنا جائز ہے اور ہر پاک چیز سے اور آگ سے اور دھوپ سے اور اگر مردار جانور کی کھال دھوپ میں خشک ہو جائے تو وہ رنگنے کے بغیر پاک ہو جاتی ہے انہوں نے کہا کہ خمر (انگور کی شراب ) جب سرکہ بن جائے تو وہ بھی پاک ہو جاتی ہے اور منکا بھی پاک ہو جاتا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خمر بھی نجس تھی اور مٹکا بھی نجس تھا اور اس کو سرکہ کے سوا اور کسی چیز نے پاک نہیں کیا۔
( شرح ابن بطال ج ۱ ص ٬۳۳۵ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ)
زمین کے خشک ہونے سے اس کے پاک ہونے پر فقہاء احناف کے دلائل
علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر مرغینانی متوفی ۵۹۳ھ لکھتے ہیں:
ہماری دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ زمین کا پاک ہونا اس کا خشک ہونا ہے، اور اس زمین سے تیمم اس لیے جائز نہیں ہے کہ تیمم کے لیے ” صعید طیب ( بہت پاک ہونا) کی شرط قرآن مجید میں نصوص ہے، پس جس کی طہارت صرف حدیث سے ثابت ہے اس سے تیمم ادا نہیں ہوگا۔ (ھدایہ اولین ص ۷۴ مکتبہ شرکتہ علمیہ ملتان )
علامہ یوسف زیلعی حنفی متوفی ۷۶۲ ھ نے کہا ہے کہ صاحب ہدایہ کے نقل کردہ الفاظ کے ساتھ حدیث غریب ہے یعنی غیر معروف ہے اور اس کا ثبوت نہیں ہے البتہ دیگر الفاظ کے ساتھ یہ حدیث ثابت ہے۔ ( نصب الرایہ ج ا ص ۲۷۷ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۶ھ )
دیگر الفاظ کے ساتھ احادیث حسب ذیل ہیں:
ایوب بیان کرتے ہیں کہ ابو قلابہ نے کہا کہ جب زمین خشک ہوجاتی ہے تو پاک ہوجاتی ہے۔
( مصنف ابن ابی شیبه : ۶۲۵ ، مصنف عبد الرزاق: ۵۱۵۷)
عبد العزیز اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حسن بصری کو دیکھا وہ پیشاب کے خشک نشان پر بیٹھے ہوئے تھے میں نے ان سے کہا (اس کی کیا وجہ ہے؟) انہوں نے کہا: یہ خشک ہوچکا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۶۲۷)
امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں باب: ۱۳۹ کا یہ عنوان قائم کیا ہے: زمین جب خشک ہوجائے تو اس کا پاک ہونا اور اس عنوان پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے:
حمزہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں میں مسجد میں سوتا تھا، میں نو عمر،، کنوارا، نوجوان تھا اور کتے مسجد میں آتے جاتے تھے اور پیشاب کرتے تھے اور صحابہ اس جگہ کو بالکل نہیں دھوتے تھے۔
(سنن ابوداؤد: ۳۸۲)
علامہ عینی نے کہا ہے کہ یہ احادیث حکما مرفوع ہیں کہ زمین خشک ہونے سے پاک ہو جاتی ہے کیونکہ جن تابعین نے یہ کہا ہے که زمین خشک ہونے سے پاک ہوجاتی ہے وہ اپنے زمانہ کے مفتی تھے، جیسے ابن الحنفیہ اور ابن قلابہ اور کسی نے ان کے قول کی مخالفت نہیں کی تو یہ اجماع کے قائم مقام ہے اور صاحب ہدایہ نے جو حدیث ذکر کی ہے وہ روایت بالمعنی ہے۔
البنایہ ج ۱ ص ۵۲۰ المكتبة الامدادیه ملتان ۱۴۰۸ھ )
ہر مائع چیز سے ازالہ نجاست پر فقہاء احناف کے دلائل
علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر مرغینانی متوفی ۵۹۳ ھ لکھتے ہیں:
نجاست کو پاک کرنا پانی کے ساتھ جائز ہے اور ہر مائع طاہر کے ساتھ بھی جائز ہے، جس سے نجاست کو زائل کرنا ممکن ہو جیسے سرکہ اور گلاب کا پانی وغیرہ جن کو نچوڑا جائے تو وہ نچڑ جائے اور یہ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک ہے اور امام محمد، امام زفر اور امام شافعی نے کہا ہے کہ نجاست کو صرف پانی کے ساتھ زائل کرنا جائز ہے کیونکہ مائع پہلی ملاقات کے ساتھ نجس ہو جائے گا اور نجس سے طہارت حاصل نہیں ہوتی ، البتہ یہ قیاس پانی میں ضرورت کی وجہ سے ترک کر دیا گیا ہے۔ امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف یہ کہتے ہیں کہ مائع چیز نجاست کو اکھاڑ دے گی اور طہارت نجاست کے زائل ہونے سے حاصل ہوجائے گی۔
ھدایہ اولین ص ۷۲-۷۱ مکتبہ شرکتہ علمیہ ملتان )
سخت زمین پر پانی بہانے اور نرم زمین کو کھودنے کے متعلق فقہاء احناف کے مذہب پر دلائل
علامہ بدرالدین محمود بن احمد معینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں :
جب زمین پر تر نجاست لگ جائے، پس اگر زمین سخت ہو تو اس پر پانی بہا دیا جائے گا اور وہ پانی زمین کے اندر چلا جائے گا جہاں اس کو نچوڑنا ممکن نہیں ہے اور ظاہر الروایہ کے مطابق تین دفعہ پانی بہایا جائے گا اور ہر مرتبہ پانی زمین کے اندر چلا جائے گا (جیسا کہ اس باب کی حدیث میں ہے ) اور اگر زمین نرم ہو تو زمین کو کھودا جائے گا اور گڑھا کر کے اس پر تین مرتبہ پانی بہا دیا جائے گا۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۸۷ دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ )
نرم زمین کو کھودنے کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں :
حضرت عبد اللہ بن معقل بن مقرن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسی قصہ میں ایک اعرابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور اس نے مسجد میں پیشاب کر دیا،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مٹی پر اس نے پیشاب کیا ہے اس کو کھرچ کر گرادو اور اس جگہ پر پانی بہادو۔ (سنن ابوداؤد : 381، سنن بیہقی ج ۲ ص ۴۲۸) تلخیص الحبير : ۳۲)
طاؤس بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کیا، لوگوں نے اس کو ڈانٹنے کا قصد کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس جگہ کو کھودو اور اس پر پانی کا ایک ڈول ڈال دو تم تعلیم دو اور آسانی کرو اور مشکل میں نہ ڈالو۔
مصنف عبد الرزاق : ۱۶۶۴) دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ ھ یہ حدیث مرسل ہے۔)
علامہ عینی فرماتے ہیں: اگر تم یہ اعتراض کرو کہ تم نے حدیث صحیح کو ترک کرکے حدیث ضعیف اور حدیث مرسل سے استدلال کیا ہے تو میں کہوں گا کہ ہم نے حدیث صحیح پر اس صورت میں عمل کیا ہے جب زمین سخت ہو اور جو حدیث تمہارے زعم میں ضعیف ہے نہ کہ ہمارے نزدیک اس پر اس صورت میں عمل کیا ہے جب زمین نرم ہو اور دونوں حدیثوں پر عمل کرنا اس سے بہتر ہے کہ ایک حدیث پر عمل کیا جائے اور دوسری حدیث کو ترک کردیا جائے اور رہی حدیث مرسل تو ہمارے نزدیک وہ معمول ہے اور جو حدیث مرسل پر عمل کو ترک کرتا ہے، وہ اکثر احادیث پر عمل کو ترک کردیتا ہے اور محدثین کے نزدیک جب دو صحیح مرسل حدیثیں کسی ایک مسند حدیث کے معارض ہوں تو حدیث مرسل پر عمل کرنا اولیٰ ہے تو جب حدیث مرسل کا کوئی معارض نہ ہو تو اس وقت اس پر عمل کرنا زیادہ اولیٰ ہوگا۔
عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۸۷)
مسجد میں کیا کام جائز ہیں اور کیا کام مکروہ تنزیہی ہیں اور کیا کام حرام ہیں؟
یہ حدیث صحیح مسلم : ۲۸۵ میں بھی ہے وہاں اس کا متن حسب ذیل ہے:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ایک اعرابی آیا، پھر وہ کھڑا ہو گیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اس کو ڈانٹا کہ رُکو رکو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پیشاب منقطع نہ کرو پھر صحابہ نے اس کو چھوڑ دیا حتی کہ اس نے پیشاب کر لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا پس اس سے فرمایا: بے شک یہ مساجد اس پیشاب میں سے کسی چیز کے لیے نہیں بنائی گئیں اور نہ پاخانہ کے لیے یہ مساجد تو صرف اللہ عزوجل کے ذکر اور نماز اور قرآن مجید کی تلاوت کے لیے بنائی گئی ہیں یا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر آپ نے لوگوں میں سے ایک شخص کو حکم دیا وہ پانی کا ایک ڈول لے کر آیا اور اس پر بہا دیا۔
اس حدیث میں فرمایا ہے: یہ مساجد اللہ عزوجل کے ذکر کے لیے ہیں، اس میں ذکر سے مراد عام ہے، یہ قرآن کی تلاوت، علم کی کتابوں کو پڑھنے اور پڑھانے لوگوں کو وعظ کرنے اور نماز پڑھنے خواہ فرض ہو یا نفل سب کو شامل ہے لیکن نفل پڑھنا گھر میں افضل ہے اس کے علاوہ دوسرے کام مثلاً دنیاوی باتیں، ہنسنا بغیر نیت اعتکاف کے مسجد میں ٹھہرنا اور دنیاوی کاموں میں مشغول ہونا، مسجد میں خلاف اولیٰ اور مکروہ تنزیہی ہیں، ضرورت کی وجہ سے مسجد میں سونا بھی جائز ہے لیکن اس کو عادت نہیں بنانا چاہیے مسجد میں لیٹنا اور ٹانگیں پھیلانا بھی جائز ہے اور مسجد میں پیشاب پاخانہ کرنا اور دیگر مسجد کے احترام کے منافی کام کرنا حرام ہیں بُرائی سے روکنا لازم ہے اس لیے صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر اس اعرابی کو مسجد میں پیشاب کرنے پر ڈانٹنے لگے۔
زیادہ بُرائی کے مقابلہ میں کم بُرائی کو اختیار کرلینا چاہیے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو منع کیا کہ اس کے پیشاب کو منقطع مت کرو کیونکہ مسجد میں پیشاب کرنا بھی ایک بُرا کام ہے اور اس کا پیشاب منقطع کر دینے سے جو اس کو مرض پیدا ہوتا اور اس کو ضرر ہوتا وہ اس سے زیادہ بُرا کام تھا تو آپ نے زیادہ بُرائی سے بچنے کے لیے کم برائی کو برداشت کرنے کا حکم دیا اور مسجد کو گندگی سے بچانا بھی ایک نیکی ہے اور اس اعرابی کو مرض اور ضرر سے بچانا اس سے بڑی نیکی ہے اس لیے آپ نے چھوٹی نیکی کے مقابلہ میں بڑی نیکی کے حصول کا حکم دیا، جب کہ مسجد کی صفائی تو بعد میں پانی بہا کر بھی حاصل ہو سکتی تھی ۔
اس اعتراض کا جواب کہ جب مسجد دھوپ سے خشک ہونے کے بعد پاک ہو جاتی ۔۔۔۔۔ تو اس پر پانی کیوں بہایا گیا ؟
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مسجد میں پانی بہانے کی کیا ضرورت تھی، جب وہ پیشاب دھوپ اور ہوا سے خشک ہو جاتا تو مسجد تو پھر بھی پاک ہو جاتی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دھوپ سے خشک ہونے تک مسجد کا وہ حصہ ناپاک رہتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا پانی بہانے کا حکم اس لیے دیا تاکہ مسجد کی طہارت جلد حاصل ہو۔
دیہاتی اور احکامِ شرعیہ سے ناواقف شخص کو نرمی سے مسئلہ بتانا چاہیے اور اس پر پختی نہیں کرنی چاہیے، اس لیے آپ نے صحابہ کو اسے ڈانٹنے سے منع فرمایا اور جب وہ پیشاب سے فارغ ہوگیا تو فوراً پانی بہانے کا حکم دیا اس سے معلوم ہوا کہ مسجد کو فورا پاک کرنے سے مانع اس کا پیشاب میں مشغول ہونا تھا اور جب وہ مانع زائل ہو گیا تو آپ نے مسجد کو پاک کرنے کا حکم دیا اس سے معلوم ہوا کہ کسی خرابی کو دور کرنے سے اگر کوئی چیز مانع ہو تو اس مانع کے زائل ہوتے ہی اس خرابی کو دور کرنا چاہیے۔
شرح صحیح مسلم میں باب مذکور کی حدیث کی شرح
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۶۹ – ۵۶۸ – ۵۶۷ – ج ا ص ۹۶۳ – ۹۶۲ پر ہے اور اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں :
زمین سے نجاست کا اثر زائل ہونے سے اس کے پاک ہونے کا بیان
مساجد میں دنیاوی کاموں اور سونے کا حکم
حدیث مذکور سے بعض دیگر استنباط شدہ مسائل۔
