Site icon اردو محفل

کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 58 حدیث 221

۲۲۱ – وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ اخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبدان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں یحیی بن سعید نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا از نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔

٠٠٠ – بَابُ يُهْرِيقُ الْمَاءَ عَلَى الْبَوْلِ

پیشاب پر پانی بہادے

وَحَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيُّ ، فَبَالَ فِي طَائِفَةِ الْمَسْجِدِ ، فَزَجَرَهُ النَّاسُ،فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَى بَوْلَهُ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَنُوبِ مِنْ مَاءٍ فَأَهْرِيقَ عَلَيْهِ.

ح امام بخاری نے دوسری سند کی طرف تحویل کی : ) اور ہمیں خالد نے حدیث بیان کی اور ہمیں سلیمان نے حدیث بیان کی از یحیی بن سعید،  انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک سے سنا انہوں نے بیان کیا : ایک اعرابی آیا’ اس نے مسجد کے ایک حصہ میں پیشاب کردیا، پس لوگوں نے اس کو ڈانٹا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع فرمایا، پس جب وہ پیشاب سے فارغ ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کے اوپر پانی کا ایک ڈول بہا دیا جائے۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۲۱۹ میں بیان کی جاچکی ہے، وہاں مطالعہ فرمائیں۔

حافظ ابن حجر کی شرح پر تنقید

حافظ شہاب الدین ابن حجر عسقلانی نے اس کی شرح میں وہی فوائد اور مسائل بیان کیے ہیں، جن کو ہم حدیث : ۲۱۹ کی شرح میں بیان کر چکے ہیں اور اس کی شرح میں انہوں نے فقہاء احناف پر دو اعتراض کیے ہیں، ایک یہ کہ زمین پر اگر پیشاب کی نجاست ہو تو دھوپ سے خشک ہو نے کے بعد وہ نجاست پاک ہو جاتی ہے، اگر اسی طرح زمین پاک ہو جاتی ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پانی بہانے کا حکم کیوں دیا تھا؟ اس کا جواب بھی ہم حدیث: ۲۱۹ کی شرح میں لکھ چکے ہیں، دوسرا اعتراض یہ کیا ہے کہ فقہاء احناف یہ کہتے ہیں کہ اگر زمین نرم ہو اور اس پر پیشاب کر دیا جائے تو اس کو کھود کر یا کھرچ کر اس کی مٹی دوسری جگہ ڈال دی جائے، حالانکہ اس کا ثبوت ایک ضعیف السند حدیث میں اور ایک مرسل حدیث میں ہے، اس اعتراض کا جواب بھی ہم حدیث : ۲۱۹ میں ذکر کر چکے ہیں ۔

ان امور کا بیان کرنے کے بعد حافظ ابن حجر نے لکھا: اس حدیث کے باقی فوائد ہم ان شاء اللہ ” کتاب الادب میں بیان کریں گے۔ (فتح الباری ج اص ۷۵۴ دار المعرفة بیروت 1426ھ )

كتاب الادب میں اس حدیث کا نمبر ۶۰۲۵ ہے وہاں حافظ ابن حجر نے صرف اتنا لکھا ہے:

حضرت انس کی حدیث میں اس شخص کا قصہ ہے، جس نے مسجد میں پیشاب کردیا تھا، اس کی مفصل شرح کتاب الطھارۃ ‘ میں ہوچکی ہے اور ” لا تزر موہ ” کا معنی ہے: اس کا پیشاب منقطع نہ کرو۔ (فتح الباری ج ۷ ص ۱۶۳ دار المعرفه بیروت 1426ھ )

گویا حافظ ابن حجر بھول گئے کہ انہوں نے کتاب الطهارة‘ میں کیا لکھا تھا یہ ہم نے حافظ ابن حجر کے دوسرے نسیان کی نشان دہی کی ہے۔

Exit mobile version