Site icon اردو محفل

کتاب الوضوء (الطہارہ) باب 59 حدیث 222

٥٩ – بَابُ بَول الصبيان

بچوں کے پیشاب کا حکم

 

اس عنوان میں الصبیان ” کا لفظ ہے ” صبیان” ” صبی ” کی جمع ہے اس کا معنی ہے: بچے اس سے پہلے باب میں مرد کے پیشاب کا حکم بیان کیا تھا کہ جس جگہ مرد نے پیشاب کیا ہے، اس جگہ کو پاک کرنے کے لیے اس جگہ کو دھویا جائے گا اور اس باب میں بچوں کے پیشاب کا حکم بیان کیا ہے کہ اگر دودھ پیتے بچے نے کپڑے پر پیشاب کر دیا تو آیا اس کو دھویا جائے گا یا نہیں ؟ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک دودھ پیتے لڑکے کا پیشاب طاہر ہے اور دودھ پیتی لڑکی کا پیشاب نجس ہے اور امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک دودھ پیتا لڑکا ہو یا لڑکی دونوں کا پیشاب نجس ہے اور اگر وہ کپڑے پر پیشاب کردیں تو اس کپڑے کو دھویا جائے گا اور امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک دودھ پیتے لڑکے نے اگر کپڑے پر پیشاب کر دیا تو اس کو دھونے کی ضرورت نہیں ہے اس پر صرف پانی کو چھڑک دینا کافی ہے۔

المغنی لابن قدامه ج ۲ ص ۲۸۶ دار الحدیث قاهره 1425ھ  شرح المهذب ج ۳ ص 639- 638 دار الکتب العلمیہ بیروت 1423ھ )

۲۲۲- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا  مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ام الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهَا قَالَتْ أَتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِي ، قَبَالَ عَلَى ثوْبِهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَاتَّبَعَهُ إيَّاه . اطراف الحدیث : ۵۴۶۸ – 6002 – ۶۳۵۵ ]

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبد اللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از ہشام بن عروه از والد خود از حضرت عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا،  اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا آپ نے پانی منگایا اور اس پانی کو اس  کپڑے کے تابع کیا، یعنی اس پانی کو اس کپڑے پر بہایا۔

(سنن ابن ماجہ : ۵۲۳ مسند ابوعوانہ ج ۱ص۲۰۱، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۱۲۰ مسند احمد ج ۶ ص ۵۲ طبع قدیم، مسند احمد : ۴۲۲۵۶ – ج ۴۰ ص ۳۰۰ مؤسسة الرسالة بیروت)

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: آپ نے پانی منگایا اور پانی کو اس کپڑے پر بہایا۔

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں اور ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔

پیشاب سے آلودہ کپڑے پر پانی چھڑکنے کے متعلق احادیث

امام شافعی اور امام احمد یہ کہتے ہیں کہ دودھ پیتے بچے کا پیشاب پاک ہوتا ہے اور جس کپڑے پر اس نے پیشاب کیا ہو، اس کو دھونا ضروری نہیں ہے اس پر صرف پانی کو چھڑک لینا کافی ہے ان کا استدلال ان احادیث سے ہے:

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیتے بچوں کے متعلق فرمایا: لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑک دیا جائے گا ( اس حدیث میں ینضح “ کا لفظ ہے جس کا معنی انہوں نے پانی چھڑکنا کیا ہے، ہمارے نزدیک اس کا معنی پانی بہانا ہے)۔ (سنن ابوداؤد : ۳۷۸-۳۷۷ سنن ترمذی: ۶۱۰ سنن ابن ماجه : ۵۲۵ مسند احمد ج 1 ص ۱۳۷-۹۷-76)

حضرت لبابہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کردیا، میں نے عرض کیا: آپ مجھے اپنا کپڑا دیں، میں اس کو دھو دوں، آپ نے فرمایا : لڑکیوں کے پیشاب سے کپڑا دھویا جاتا ہے اور لڑکوں کے پیشاب سے صرف پانی چھڑک دیا جاتا ہے ( اس حدیث میں بھی ” ينضح “ کا لفظ ہے ہمارے نزدیک اس کا معنی پانی بہانا ہے )۔

( سنن ابوداؤد : 375،  سنن ابن ماجہ : ۵۲۲ مسند احمد ج ۶ ص 339،  شرح معانی الآثار: ۵۶۸)

حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بچہ کو لائیں جو طعام نہیں کھاتا تھا (یعنی دودھ پیتا تھا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی گود میں بٹھا لیا’ اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا، آپ نے پانی منگایا، پس اس پر چھڑکا اور اس کو دھویا نہیں (اس میں بھی نضح ” کا لفظ ہے، تحقیق یہ ہے کہ اس کا معنی پانی بہانا ہے باب مذکور کی حدیث بھی اس پر قرینہ ہے)۔

(صحیح البخاری : 223،  صحیح مسلم: 287،  الرقم المسلسل : ۶۵۳ سنن ترمذی: 71 ، سنن نسائی: ۳۰۱ مسند احمد ج ۶ ص 356، المعجم الکبیر ج ۲۵ ص 435، مصنف عبد الرزاق: ۱۴۸۵ سنن بیہقی ج ۲ ص ۴۱۴ موطا امام مالک : ۱۴۵ طہارت : ۱۱۰ سنن دارمی: ۷۴۵ )

نضح “ کا معنی پانی بہانا ہے نہ کہ پانی چھڑکنا، اس کی ایک حدیث سے وضاحت

امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک دودھ پیتے لڑکے اور دودھ پیتی لڑکی دونوں کے پیشاب میں کوئی فرق نہیں ہے اور دونوں کا پیشاب نجس ہے امام طحاوی نے کہا ہے کہ جن احادیث سے امام احمد اور امام شافعی نے استدلال کیا ہے ان میں” نضح “ کا لفظ ہے اور” نضح “ کا معنی پانی چھڑکنا بھی ہے اور پانی بہانا اور دھونا بھی ہے سو درج ذیل حدیث میں ” ینضح “ کا لفظ ہے اور اس کا معنی پانی بہانا ہے یہاں پر پانی چھڑ کنے کا معنی ہو ہی نہیں سکتا۔

نخب الافکار فی تنقیح مبانی الاخبار فی شرح معانی الآثارج اص ۵۶۶ قدیمی کتب خانہ کراچی)

وہ حدیث یہ ہے:

ابولبید بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی قبیلہ طاحیہ کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکل،ا اس کو بیرح بن اسد کہا جاتا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چند ایام بعد مدینہ میں آیا،  اس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو پہچان لیا کہ یہ کوئی مسافر ہے انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: میں اہل عمان سے ہوں، حضرت عمر نے کہا: اہل عمان سے؟ اس نے کہا : جی ہاں ! حضرت عمر اس کا ہاتھ پکڑکر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے اور کہا : یہ شخص اس زمین کی طرف سے آیا ہے، جس کے متعلق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بے شک میں ایک زمین کو جانتا ہوں، جس کو عمان کہا جاتا ہے، جس کی ایک طرف سے سمندر بہتا ہے (یہاں حدیث میں سمندر کے بہنے کے لیے ” ينضح “ کا لفظ ہے ) وہاں عرب کا ایک قبیلہ ہے اگر ان کے پاس میر اسفیر جائے تو وہ اس کو تیر ماریں گے نہ پتھر ۔ (مسند ابو یعلی : ۱۰۶ مسند احمد ج ا ص ۴۴ طبع قدیم، مسند احمد : ۳۰۸ – ج ۱ ص ۳۹۸ مؤسسة الرسالة بیروت)

علامہ بدرالدین عینی نے لکھا ہے: اس حدیث کی سند صحیح ہے ۔ (نخب الافکار ج اص۵۶۶)

ابو عمرو ابن عبد البر مالکی متوفی ۴۶۳ھ نے کہا: ظاہر یہ ہے کہ ” النضح “ کا معنی پانی بہانا ہے نہ کہ چھڑکنا’ کیونکہ پانی چھڑکنے سے تو نجاست اور پھیلتی ہے اور کبھی ” نضح ” کا ذکر کیا جاتا ہے اور اس سے مراد دھونا ہوتا ہے اور اسی طرح ” الرش ” کا ذکر کیا جاتا ہے اور اس سے مراد دھونا ہوتا ہے۔ ( تمہید لا بن عبد البر بہ حوالہ نخب الافکار ج ا ص ۵۶۷ قدیمی کتب خانہ کراچی)

باب مذکور کی حدیث : ۲۲۲ میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا اور اس پانی کو اس پیشاب آلودہ کپڑے کے تابع کیا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کی شرح میں لکھا ہے : ” ای اتبع رسول الله صلى الله عليه وسلم البول الذى على الثوب الماء يصبه عليه ، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب آلودہ کپڑے پر پانی بہایا۔

(فتح الباری ج ۱ ص ۷۵۴ دار المعرفة بیروت 1426ھ)

اور یہ فقہاء احناف اور فقہاء مالکیہ کے موقف پر قوی دلیل ہے کہ لڑکے کے پیشاب آلودہ کپڑے پر پانی بہایا جاتا ہے، چھڑکا نہیں جاتا۔

علامہ سیوطی نے بھی اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے: ” ای صبہ علیہ” اس کپڑے پر پانی بہایا۔

تنویر الحوالک ص ۸۲ دار الکتب العلمیہ بیروت )

دیگر احادیث سے اس کی تائید کہ” نضح “ کا معنی دھونا اور پانی بہانا ہے نہ کہ پانی چھڑکنا

حضرت مقداد بن اسود بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ معلوم کروں کہ ایک شخص جب اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے تو اس کی مذی نکل آتی ہے، اس کے لیے کیا حکم ہے؟ کیونکہ میرے نکاح میں آپ کی صاحبزادی ہے اس لیے میں آپ سے خود سوال کرنے سے حیاء کرتا ہوں، حضرت مقداد بیان کرتے ہیں: پھر میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: جب تم اس حالت کو پاؤ تو اپنی شرم گاہ کو دھولو( یہاں پر بھی”نضح “ کا لفظ ہے اور ایسی صورت میں شرم گاہ کو دھویا جاتا ہے، اس پر پانی نہیں چھڑکا جاتا) اور تم اس طرح وضوء کرو جس طرح نماز کے لیے وضوء کرتے ہیں ۔ (سنن ابوداؤد : ۲۰۷، سنن نسائی:۱۵۶ سنن ابن ماجہ : ۵۰۵)

اس حدیث میں ” نضح “ کا معنی دھونا ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ اسی قصہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مقداد سے فرمایا:”یغسل ذكره ويتوضو “ وہ اپنا آلہ دھوئے اور وضوء کرے۔

ایک اور حدیث میں بھی ” نضح” بہ معنی دھونا ہے:

(صحیح البخاری: 134، صحیح مسلم : 303، الرقم المسلسل : 681 سنن نسائی: ۱۵۲)

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مذی سے بہت تکلیف اور مشقت اٹھاتا تھا اور اس کی وجہ سے اکثر غسل کرتا تھا، سو میں نے اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا اور آپ سے اس کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا: تمہیں اس سے وضوء کافی ہے میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! میرے کپڑے پر جو مذی لگ جائے اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا: تم اپنی ہتھیلی میں پانی لے کر” فتنصح به ثوبك” اس سے اپنے کپڑے کو دھوؤ جہاں پر مذی لگی ہو۔ (سنن ترمذی: ۱۱۵سنن ابوداؤد: ۲۱۰ سنن ابن ماجه (۵۰۶)

اس تفصیل سے معلوم ہو گیا کہ جن احادیث میں لڑکے کے پیشاب کے لیے نضح “ کا لفظ آیا اس کا معنی بھی دھونا ہے۔

اس پر یہ اعتراض ہے کہ ایک حدیث میں ہے:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچے لائے جاتے تو آپ ان کو برکت دیتے اور ان کو گھٹی دیتے ایک بچہ کو لایا گیا تو اس نے آپ پر پیشاب کردیا تو آپ نے اس کے بعد اس پر پانی ڈالا اور دھویا نہیں۔

( صحیح مسلم : 286، الرقم المسلسل :649)

اس حدیث میں صراحت کے ساتھ دھونے کی نفی کی گئی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے اس کو خوب مل مل کر نہیں دھویا اور اس حدیث میں بھی تصریح ہے کہ آپ نے اس پر پانی چھڑکا نہیں بلکہ پانی بہایا جیسا کہ صحیح البخاری : ۲۲۲ میں اس کی تصریح ہے جس کو ہم حافظ ابن حجر عسقلانی کی شرح (فتح الباری ج ۱ ص ۷۵۴) اور علامہ سیوطی کی شرح ( تنویر احوالک ص ۸۲) سے نقل کرچکے ہیں۔

جن احادیث میں دودھ پیتے لڑکے کے پیشاب آلودہ کپڑے پر پانی بہانے اور اس کو دھونے کی تصریح ہے وہ حسب ذیل ہیں:

دودھ پیتے لڑکے کے پیشاب آلودہ کپڑے پر پانی بہانے کے متعلق احادیث اور آثار

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچے لائے جاتے آپ ان کے لیے دعائے خیر کرتے،  آپ کے پاس ایک بچہ لایا گیا، اس نے آپ پر پیشاب کردیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر خوب پانی بہاؤ ۔

( مسند احمد ج 6 ص 46، طبع قدیم مسند احمد ج ۴۰ ص ۲۲۵ مؤسسة الرسالة بیروت)

حسن بصری اپنی والدہ سے مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب لڑکا طعام نہ کھاتا ہو تو اس کے پیشاب پر پانی بہایا جائے گا اور جب لڑکی ہو تو اس کے کپڑے کو دھویا جائے گا۔ (المعجم الاوسط : 2742 الاستذکار : 3746)

حسن بصری سے روایت ہے کہ لڑکا جب تک طعام نہ کھاتا ہو اس کے پیشاب پر پانی بہایا جائے گا اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے گا۔ (مسند ابو یعلی : ۶۸۸۷)

علامہ عینی فرماتے ہیں کہ لڑکے اور لڑکی میں فرق یہ ہے کہ لڑکے کے پیشاب کا باریک سوراخ ہوتا ہے اس کا پیشاب تنگ جگہ سے نکلتا ہے اور لڑکی کے پیشاب کی جگہ فراخ ہوتی ہے اور وہ پھیل کر نکلتا ہے اور کپڑے پر پھیل جاتا ہے اس لیے اس کو مبالغہ کے ساتھ دھونے کا حکم دیا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر صرف پانی بہانے کا حکم دیا ہے کیونکہ وہ پھیل کر نہیں نکلتا۔ (نخب الافکار ج ا ص ۵۶۸)

امام الحسين بن مسعود البغوی المتوفی ۵۱۶ ھ روایت کرتے ہیں:

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: لڑکے کے پیشاب کے اوپر خوب پانی بہایا جائے جب تک کہ وہ طعام نہ کھاتا ہو اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جائے، خواہ کھانا کھاتی ہو یا نہ کھاتی ہو۔

ایک جماعت کا مذہب ہے کہ لڑکے کے پیشاب کو دھونا واجب ہے، جس طرح باقی پیشاب کا حکم ہے اور یہ ابراہیم نخعی سفیان ثوری اور فقہاء احناف کا مذہب ہے ( اور فقہاء مالکیہ کا بھی ) ۔ (شرح السنتہ ج ۲ ص ۸۷ مکتب الاسلامی بیروت 1390ھ )

حضرت ابولیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، پس حضرت حسن رضی اللہ عنہ کولایا گیا انہوں نے آپ پر پیشاب کر دیا، لوگوں نے ارادہ کیا، ان کو جلدی سے روکیں تو آپ نے فرمایا: یہ میرا بیٹا ہے، یہ میرا بیٹا ہے، جب وہ پیشاب سے فارغ ہو گئے تو آپ نے اس کے اوپر پانی بہا دیا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج 1 ص ۱۲۰ طبع کراچی شرح معانی الآثار : ۵۷۹)

عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور آپ کے پیٹ یا آپ کے سینہ پر حضرت حسن یا حضرت حسین رضی اللہ عنہما تھے انہوں نے آپ پر پیشاب کر دیا، حتی کہ میں نے تیزی کے ساتھ ان کو پیشاب کرتے دیکھا، ہم ان ( کو اٹھانے کے لیے ) ان کی طرف کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا: اس کو چھوڑو، پھر آپ نے پانی منگا کر اس پیشاب پر بہادیا ۔ (شرح معانی الآثار : ۵۸۱)

حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ان کو مجھے عطا کیجئے یا ان کو مجھے دے دیجئے، میں ان کی کفالت کروں گی یا میں ان کو دودھ پلاؤں گی سو آپ نے ایسا کردیا پھر میں حضرت حسین کو آپ کے پاس لے آئی اور انہیں آپ کے سینہ پر بٹھادیا انہوں نے آپ پر پیشاب کر دیا’ جو آپ کے تہبند پر پہنچ گیا’ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! اپنا تہبند مجھے دیجئے میں اس کو دھو دوں’ آپ نے فرمایا : لڑکے کے پیشاب پر پانی بہایا جاتا ہے اور لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔ (شرح معانی الآثار : ۵۸۲)

ہم نے حدیث : 568 روایت کی تھی اس میں ” نضح” کا لفظ تھا اور اس حدیث میں ”صب “ کا لفظ ہے جس کا معنی پانی بہانا ہے اس سے معلوم ہوا کہ وہاں بھی ” نصح ” کا معنی پانی بہانا ہے، پانی چھڑ کنا نہیں ہے تا کہ ان احادیث میں تضاد نہ ہو۔

( شرح معانی الآثار ج ۱ ص ۱۲۲ قدیمی کتب خانہ کراچی)

حسن بصری کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا جولڑکا کھانا نہ کھاتا ہو ( صرف دودھ پیتا ہو ) وہ اس کے پیشاب پر پانی بہاتی تھیں اور جب وہ کھانا کھاتا تھا تو اس کے پیشاب کو دھوتی تھیں اور وہ لڑکی کے پیشاب کو بھی دھوتی تھیں ۔ (سنن ابوداؤد : ۳۷۹)

اور باب مذکور کی حدیث : ۲۲۲ میں بھی تصریح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیتے لڑکے کے پیشاب آلودہ کپڑے پر پانی بہایا سو صحیح بخاری کی یہ حدیث اور باقی محولۃ الصدر احادیث فقہاء احناف کے موقف پر قوی دلیل ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پیشاب سے بچو کیونکہ عام عذاب قبر اسی سے ہوتا ہے۔ (سنن دار قطنی : ۴۵۷ دار المعرفہ بیروت اس حدیث کی سند صحیح ہے۔)

اس حدیث کا عموم اور اطلاق بھی یہ خبر دیتا ہے کہ شیر خوار لڑکے اور شیر خوارلڑکی کے پیشاب آلودہ کپڑوں میں فرق نہ کیا جائے اور ان کپڑوں پر پانی بہا کر ان کو دھویا جائے اور ان پر صرف پانی چھڑک کر گندگی کو مزید پھیلایا نہ جائے۔

Exit mobile version