Site icon اردو محفل

کتاب الغسل  باب 6 حدیث  258

٦- بَابُ مَنْ بَدَا بِالْحِلَابِ اوِ الطَّيِّبِ عِنْدَ الْغُسْلِ

غسل کے وقت حلاب یا خوشبو سے ابتداء کرنا

 

حلاب اس برتن کو کہتے ہیں جس میں اونٹنی کا ایک مرتبہ دوہا ہوا پورا دودھ سماسکے، اس کے بعد خوشبو کا ذکر کیا، کیونکہ عموما غسل کے وقت خوشبو لگائی جاتی ہے۔

٢٥٨- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثنى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عاصم ، عَنْ حَنْظَلَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ ، دَعَا بِشَيْءٍ نَحْوَ الْحِلَابِ ، فَاَخَذَ بِكَفِّه فَبَدَا بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ الْأَيْسَرِ فَقَالَ بِهِمَا عَلَى وسط رأسه. (صحیح مسلم: 318، الرقم السلسل : ۷۱۰ سنن ابوداؤد:۲۴۰ ، سنن نسائی : ۴۲۳)

 امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد بن المثنی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابو عاصم نے حدیث بیان کی از حنظلہ از قاسم از حضرت عائشه رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کرتے تو حلاب کی مثل کوئی برتن منگاتے، پھر ہتھیلی میں پانی لے کر سر کی دائیں جانب سے ابتداء کرتے، پھر بائیں جانب پھر دونوں ہتھیلیوں سے سر کے درمیان میں پانی ڈالتے ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) محمد بن مثنی ‘ ان کا تعارف ہو چکا ہے

(۲) ابو عاصم الضحاک بن مخلد البصری ،ان کے علم اور عمل پر اتفاق ہے ان کا لقب نبیل ہے، کیونکہ شعبہ نے قسم کھائی تھی کہ وہ ایک مہینہ حدیث نہیں بیان کریں گے ابو عاصم کو یہ خبر پہنچی تو وہ ان کی مجلس میں گئے اور کہا: آپ حدیث بیان کریں، آپ کی قسم کے کفارے میں ایک غلام آزاد ہے وہ اس سے بہت خوش ہوئے اور کہا: ابو عاصم النبیل، اس دن سے ان کا لقب نبیل پڑگیا۔ باقی رجال کا تعارف ہوچکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۰۴)

حدیث مذکور کی شرح

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ مستحب یہ ہے کہ غسل کے لیے پانی کا برتن تیار کیا جائے اور پہلے دائیں جانب پھر بائیں جانب اور پھر سر کے وسط میں پانی ڈالا جائے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ باب کے عنوان میں خوشبو کا ذکر ہے اور حدیث میں خوشبو کا ذکر نہیں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ امام بخاری نے حلاب اور خوشبو دونوں کا ذکر نہیں کیا تھا، بلکہ کہا تھا: حلاب یا خوشبو یعنی حدیث میں دونوں میں سے ایک کا ذکر ہوگا اور عنوان میں خوشبو کا ذکر کرکے یہ اشارہ کیا کہ غسل سے پہلے یا بعد خوشبو کا لگانا جائز ہے۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۳۳ – ج ۱ ص ۱۰۱۵- 1014 پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی.

Exit mobile version