Site icon اردو محفل

کتاب الغسل  باب 9 حدیث  261

– بَابُ هَلْ يُدْخِلُ الْجُنُّبُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهَا إِذَا لَمْ يَكُنْ عَلَى يَدِهِ قَذَر غَيْرُ الْجَنَابَةِ؟

  جب جنبی کے ہاتھ پر جنابت کے علاوہ کوئی اور نجاست نہ ہو تو کیا وہ ہاتھ دھونے سے پہلے برتن میں ہاتھ ڈال سکتا ہے؟

امام بخاری نے کہا ہے : جب جنابت کے علاوہ اور کوئی نجاست نہ ہو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنابت بھی نجاست ہے حالانکہ جب حضرت ابوہریرہ جنبی تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ ! بے شک مسلمان نجس نہیں ہوتا۔ (صحیح البخاری : ۲۸۳ صحیح مسلم :۳۷۱)

وادخل ابْنُ عُمَرَ وَالْبَرَاءُ بَنْ عَازِبٍ يَدَهُ فِي الطَّهُورِ وَلَمْ يَغْسِلُهَا ، ثُمَّ تَوَضَّاً.

اور حضرت ابن عمر اور حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہما  نے اپنا ہاتھ پانی میں ڈالا اور اس کو دھویا نہیں، پھر وضوء کیا۔

حضرت ابن عمر کی حدیث ”سنن سعید بن منصور” میں ہے اور حضرت البراء بن عازب کی حدیث حسب ذیل ہے:

اسماعیل بن رجاء اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت البراء بن عازب نے اپنا ہاتھ دھونے سے پہلے وضوء کے پانی میں داخل کیا۔ (مصنف ابن ابی شیبه : ۱۰۵۹ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۶ھ )

امام بخاری پر اعتراض ہوتا ہے کہ درج ذیل حدیث امام بخاری کے عنوان کے خلاف ہے:

محارب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نے کہا: جو شخص جنبی ہو اور وہ چلو سے پانی لے تو جو پانی باقی بچے گا وہ نجس ہوگا ۔

(مصنف ابن ابی شیبه : ۸۹۲ دار الکتب العلمیة بیروت 1416ھ )

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اس صورت پر محمول ہے، جب اس کے ہاتھ پر نجاست ہو۔

وَلَمْ يَرَ ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ بَأْسًا بِمَا يَنْتَضِحُ مِنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ

اور حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک غسل جنابت سے جو چھینٹیں اڑتی ہیں ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ” مصنف عبدالرزاق” میں ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث حسب ذیل ہے:

ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص غسل جنابت کرتا ہے اور اس سے پھینٹیں اڑ کر غسل کے پانی کے برتن میں پڑتی ہیں، حضرت ابن عباس نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۷۸۴ )

اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ امام بخاری کا عنوان تو یہ تھا کہ جنبی ہاتھ دھوئے بغیر پانی میں ہاتھ ڈال دے تو پانی نجس نہیں ہوتا اور اس تعلیق سے یہ تو ثابت نہیں ہوتا، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ التزاما ثابت ہے کیونکہ جب غسل جنابت کی چھینٹیں پڑنے سے پانی نجس نہیں ہوتا تو جنبی کے ہاتھ ڈالنے سے بھی پانی نجس نہیں ہوگا’ بہ شرطیکہ اس کے ہاتھ پر نجاست نہ ہو۔

٢٦١ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَفْلَحُ ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنتُ اغْتَسِلُ أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ تَخْتَلِفُ أَيْدِينَا فِيهِ.

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن مسلمہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں افلح نے خبر دی از القاسم از حضرت عائشه رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے پانی لے کر غسل کرتے تھے اور ہمارے ہاتھ اس برتن میں آگے پیچھے داخل ہوتے تھے۔

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ حضرت عائشہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جنبی تھے ان کے ہاتھوں پر نجاست نہ تھی اور وہ ہاتھ دھوئے بغیر پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالتے تھے۔

اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۲۵۰ میں گزر چکی ہے، وہاں اس حدیث سے یہ ثابت کیا تھا کہ شوہر اور بیوی کا ایک ساتھ غسل کرنا جائز ہے اور یہاں یہ ثابت کیا ہے کہ ان کا ہاتھ دھوئے بغیر پانی میں ہاتھ ڈالنا جائز ہے۔

Exit mobile version