۱۳ – بَابُ غَسْلِ الْمَذْي وَالْوُضُوءِ مِنْهُ
مذی کو دھونا اور اس سے وضوء کرنا
اس باب میں مذی کو دھونے کا حکم بیان کیا گیا ہے مذی وہ رقیق پانی ہے جو عورت سے چھیڑ چھاڑ یا اس سے بوس و کنار یا اس کے متعلق سوچنے سے مرد کے آلہ سے نکلتا ہے اور مذی نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا وضوء واجب ہوتا ہے۔
٢٦٩ – حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيّ قَالَ كُنتُ رَجُلًا مَدَاءٌ ، فَاَمَرْتُ رَجُلًا أَنْ يَسْاَلَ النَّبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ ، فَسَالَ فَقَالَ تَوَضا وَاغْسِلْ ذَكَرَكَ۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالولید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں زائدہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابوحصین نے حدیث بیان کی، از ابو عبدالرحمن از حضرت علی رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا: میں ایسا شخص تھا، جس کو مذی بہت آتی تھی، میں نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کرے، آپ کی صاحب زادی کی وجہ سے ( خود سوال نہیں کیا) تو انہوں نے سوال کیا آپ نے فرمایا: وضوء کرو اور اپنے آلہ کو دھولو۔
اس حدیث کی تخریج اور شرح صحیح البخاری : ۱۳۲ میں گزر چکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: جس شخص نے حیاء کی اور دوسرے شخص کو سوال کرنے کا حکم دیا اور یہاں اس کا عنوان ہے: مذی کو دھونا اور اس سے وضوء کرنا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت اور توقیر کی کس قدر حفاظت کرتے تھے اور جن باتوں سے عرف میں حیاء آتی ہے ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرنا خلاف ادب سمجھتے تھے۔
