Site icon اردو محفل

کتاب الغسل  باب 23 حدیث  283

۲۳ – بَابُ عَرَقِ الْجُنُبِ ، وَأَنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنجس

جنبی کا پسینہ اور مسلم نجس نہیں ہوتا

یعنی یہ باب جنبی کے پسینہ کے ذکر میں ہے امام بخاری نے عنوان میں یہ نہیں بیان کیا کہ جنبی کے پسینہ کا کیا حکم ہے اور نہ اس باب کی حدیث میں جنبی کے پسینہ کا ذکر ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کی توجیہ میں لکھا ہے:

امام بخاری نے اس عنوان سے یہ اشارہ کیا ہے کہ جنبی کے پسینہ میں اختلاف ہے ایک قوم نے یہ کہا ہے کہ جنبی کا پسینہ نجس ہے کیونکہ کافر خود نجس العین ہے اور امام بخاری کے عنوان کا حاصل یہ ہے: جنبی کے پسینہ کا حکم اور مسلمان نجس نہیں ہوتا اور جب وہ نجس نہیں ہے تو اس کا پسینہ بھی نجس نہیں ہے اور اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ کافر نجس ہے اور اس کا پسینہ بھی نجس ہے ۔

(فتح الباری ج ا ص ۸۰۶ دار المعرفه بیروت 1426ھ )

حافظ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

یہ کلام ذوق سے بعید اور خلاف تحقیق ہے کافر نجس العین نہیں ہے، حکما نجس ہے اس کا جھوٹا بھی پاک ہے اور اس کا پسینہ بھی پاک ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص 351 دار الکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی کا کافر اور اس کے پسینہ کو نجس کہنا، کتب شافعیہ بلکہ کتب مذاہب اربعہ ۔۔۔۔۔بلکہ اجماع مسلمین کے خلاف ہے

میں کہتا ہوں کہ حافظ عینی کا یہ کہنا صحیح ہے کہ کافر نجس العین نہیں ہے، فقہاء شافعیہ کی کتابوں میں بھی اسی طرح لکھا ہے حافظ ابن حجر عسقلانی نے اپنے مذہب کی کتابوں کی طرف مراجعت نہیں کی۔

علامه یحیی بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ ھ لکھتے ہیں :

ہمارے اور جمہور سلف کے نزدیک کفار کے برتن اور ان کے کپڑے پاک ہیں، بعض علماء نے فقہاء حنبلیہ سے ان کے نجس ہونے کو نقل کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ. (التوبة : ۲۸)

اس کا سوا اور کوئی حکم نہیں کہ مشرکین نجس ہیں۔

ہمارے اصحاب شافعیہ کا استدلال اس آیت سے ہے:

وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ حِلٌّ لَّكُمْ.

(المائدہ:۵)

اور اہل کتاب کا طعام تمہارے لیے حلال ہے۔

اور یہ معلوم ہے کہ وہ اپنا کھانا اپنے برتنوں میں پکاتے ہیں اور کھانے کی چیزوں میں اپنا ہاتھ لگاتے ہیں اور اصل طہارت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دیتے تھے، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ثمامہ بن اثال نام کے ایک مشرک کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا گیا۔ (صحیح البخاری : ۴۶۹-462 صحیح مسلم : ۱۷۶۴ سنن ابوداؤد : 2679، سنن نسائی: ۱۸۹) اور اگر کفار اور مشرکین نجس العین ہوتے تو آپ ان کو مسجد میں آنے کی اجازت نہ دیتے۔

إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ (التوبہ (۲۸) کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ مشرکین اپنے دین اور اپنے اعتقاد میں نجس ہیں اور اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ان کے بدن اور ان کے کپڑے بھی نجس ہیں کیونہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد میں داخل کیا اور ان کے برتنوں کو استعمال کیا اور ان کا پکایا ہوا کھانا کھایا۔ ( المجموع شرح المہذب ج ۲ ص ۲۷۱-۲۷۰ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۳ھ)

نیز علامہ نووی نے لکھا ہے کہ جس آدمی کے اوپر نجاست نہ ہو، خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر، اگر وہ پانی میں گرکر مرجائے تو صحیح قول یہ ہے کہ وہ پانی نجس نہیں ہوگا۔

المجموع شرح المہذب ج ا ص ۱۳۲ دار الفکر بیروت المجموع شرح المہذب ج ۲ ص ۱۰۷ دار الکتب العلمیہ بیروت 1423ھ )

علامہ یحیی بن شرف نووی لکھتے ہیں : ہمارا مذہب اور جمہور متقدمین اور متاخرین کا مذہب یہ ہے کہ طہارت اور نجاست میں کافر کا حکم مسلمان کی طرح ہے اور ” إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ (التوبة : ۲۸) سے مراد اس کے اعتقاد کی نجاست ہے اور یہ مراد نہیں ہے کہ ان کے اعضاء پیشاب اور پاخانہ کی طرح نجس ہیں، آدمی طاہر ہے خواہ مسلمان ہو یا کافر اس کا پسینہ اس کا لعاب اور اس کے آنسو پاک میں خواہ وہ بے وضو ہو جنبی ہو یا حائض ہو یا نفساء ہو اور ان تمام امور پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔

( صحیح مسلم بشرح النووی ج ۲ ص ۱۴۷۹ مکتبہ نزار مصطفی مکه مکرمه (1417ھ)

علامہ ابن قدامہ حنبلی متوفی ۶۲۰ ھ لکھتے ہیں: عام اہل علم کے نزدیک آدمی اور اس کا جھوٹا پانی طاہر ہے خواہ مسلمان ہو یا کافر ۔

(المغنی ج 1 ص 76 دارالحدیث قاہرہ ۱۴۲۵ھ )

علامہ منصور بن یونس بہوتی حنبلی متوفی ۱۰۵۱ھ نے بھی اسی طرح لکھا ہے اور کہا ہے کہ مشرکین اپنے اعتقاد میں نجس ہیں نہ کہ ان کا بدن نجس ہے ۔ ( کشاف القناع مع الاقناع ج ۱ ص ۵۹ دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۱۸ھ )

ان تصریحات سے واضح ہو گیا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی کا کافر اور اس کے پسینہ کو نجس کہنا مذاہب اربعہ بلکہ اجماع مسلمین کے خلاف ہے اور حق وہ ہے، جو علامہ عینی نے کہا ہے نیز اس سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ مفہوم مخالف سے استدلال کرنا صحیح نہیں ہے ۔

۲۸۳ – حدثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِاللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى  قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرٌ ، عَنْ أَبِي رَافِع عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيُّهُ فِي بَعْضِ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ جُنبٌ ، فَانْخَنستُ مِنْهُ فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ اَيْنَ كُنتَ یاأبَاهُرَيْرَةَ ؟ قَالَ كُنتُ جُنُباً ، فَكَرِهْتُ اَنْ اُجَالِسَكَ وَانَا عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ ، فَقَالَ سُبْحَانَ اللهِ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لا ينجس طرف الحديث : 285

صحیح مسلم :371، الرقم المسلسل : ۸۰۲، سنن ابوداؤد :231، سنن ترمذی : 121، سنن نسائی: 267، سنن ابن ماجہ: ۵۳۴ ‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج 1 ص ۱۷۳ صحیح ابن حبان :1259، سنن بیہقی ج ا ص ۱۸۹ شرح السنة : ۲۶۱، مسند احمد ج ۲ ص ۲۳۵ طبع قدیم، مسند احمد :7211 – ج ۱۲ ص ۱۴۵‘ مؤسسة الرسالة بیروت

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن عبداللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حمید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں بکر نے حدیث بیان کی از ابی رافع از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ که وه نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ کے کسی راستہ میں ملے اور وہ جنبی تھے (وہ کہتے ہیں :) میں لوٹ کر آپ سے مؤخر ہو گیا، پھر میں نے جاکر غسل کیا، پھر آگیا’ آپ نے پوچھا: اے ابوہریرہ ! تم کہاں تھے؟ انہوں نے کہا: میں جنبی تھا، میں نے آپ کے پاس بیٹھنا ناپسند کیا اور میں اس وقت طہارت پر نہیں تھا’ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ ! بے شک مسلمان نجس نہیں ہوتا۔

اس حدیث کی بات کے عنوان سے مطابقت اس جملے میں ہے: بے شک مسلمان نجس نہیں ہوتا۔

اس حدیث کے چھ ر جال میں ان سب کا تعارف پہلے ہو چکا ہے۔

کافر اور اس کے پسینہ کی طہارت پر فقہاء مالکیہ کے دلائل

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :

المہلب نے کہا ہے کہ جب جنابت کا جسم میں حسی اثر نہ ہو تو اس وقت مؤمن کے اعضاء پاک ہوتے ہیں کیونکہ مؤمنین اپنے اعضاء کو پاک اور صاف رکھتے ہیں اس کے برخلاف مشرکین نجاست اور گندگی کی آلودگی سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھتے اسی لیے اللہ تعالی نے ان کے غالب احوال کے اعتبارسے فرمایا: ” إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ : ۲۸) اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ ان کے اعضاء نجس ہیں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کے افعال نجس ہیں اور فقہاء کا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جنبی کا اور حائض کا پسینہ پاک ہوتا ہے۔

علامہ ابن المنذر نے کہا ہے کہ میرے نزدیک یہودی نصرانی اور مجوسی کا پسینہ بھی پاک ہوتا ہے اور دوسروں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی عورتوں کو حلال کردیا ہے اور یہ معلوم ہے کہ وہ پسینہ آنے سے محفوظ نہیں ہیں اور جب مسلمان ان سے مباشرت کریں گے تو ان کا پسینہ ان کے جسموں کو لگے گا اس کے باوجود کتابیہ پر اسی صورت میں غسل فرض ہوتا ہے جس صورت میں مسلمان عورت پر غسل فرض ہوتا ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابن آدم اپنی ذات میں نجس نہیں ہے، جب تک کہ اس پر کوئی خارجی نجاست نہ لگے ۔ (شرح ابن بطال ج ا ص ۴۰۴ – 403 دار الکتب العلمیہ بیروت (1424ھ)

اہل فضل کا احترام، غسل جنابت کو مؤخر کرنے کا جواز اور جب جنبی کے جسم پر نجاست نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔تو اس کے اعضاء کا طاہر ہونا

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہل فضل کا احترام کرنا مستحب ہے اور ان کی مجلس میں بیٹھنے والے کو پاکیزہ صفات کے ساتھ متصف ہونا چاہیے، علماء نے کہا ہے کہ طالب علم جب اپنے استاذ کے پاس بیٹھے تو اس کو پاک اور صاف ہونا چاہیئے اس کے ناخن اور مونچھیں کٹی ہوئی ہوں اور اس کے منہ اور بدن سے بدبو نہ آ رہی ہو۔

عالم کو چاہیے کہ جب وہ اپنے متبع کی کوئی بات خلاف شرع دیکھے یا سنے تو اس کی اصلاح کرے۔

غسل جنابت کو مؤخر کرنا جائز ہے مگر اتنی تاخیر نہ کرے کہ نماز کا وقت نکل جائے اور غسل سے پہلے وہ اپنے ضروری کام انجام دے سکتا ہے۔

جب جسم پرحسی نجاست نہ ہو تو اس سے کوئی ضرر نہیں ہے کیونکہ مؤمن کے اعضاء طاہر ہیں اور وہ اپنی طہارت کی حفاظت کرتا ہے۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فقراء مسلمین کی دل جوئی اور دل داری کرنا چاہیے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۵۶- ۳۵۵)

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں :

بعض اہل ظاہر نے کہا ہے کہ کافر نجس العین ہے اور ” إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ “. (التوبۃ :۲۸) سے استدلال کیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کا اعتقاد نجس ہے اور جمہور کا استدلال اس سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کو جائز قرار دیا ہے اور یہ معلوم ہے کہ مسلمان ان سے مباشرت کے وقت ان کے پسینہ سے محفوظ نہیں ہوتا اس سے معلوم ہوا کہ زندہ آدمی نجس نہیں ہوتا اور اس میں مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔

(فتح الباری ج ا ص ۷ ۸۰ دار المعرفه پیرات 1426ھ )

میں کہتا ہوں کہ حافظ ابن حجر عسقلانی بھول گئے کہ وہ اس حدیث کے عنوان میں خود لکھ چکے ہیں کہ کافر اور اس کا پسینہ نجس ہے۔

نیز حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ امام ابن حبان نے اس حدیث کے باب کا یہ عنوان قائم کیا ہے: اس شخص پر رد کرنا جس کا زعم یہ ہے کہ جب جنبی کنویں میں گرجائے اور غسل کی نیت کرے تو کنویں کا پانی نجس ہوجائے گا۔

(فتح الباری ج ا ص ۷ ۸۰ دار المعرفہ بیروت)

علامہ عینی لکھتے ہیں: یہ رد بھی مردود ہے کیونکہ یہ حدیث اس پر بالکل دلالت نہیں کرتی ، حدیث کی عبارت اس پر دلیل ہے کہ جنبی بالکل نجس نہیں ہے اور اس حدیث میں اس کے ساتھ تعرض نہیں کیا گیا کہ جب جنبی غسل کی نیت کرے گا تو اس کا غسالہ پاک ہو گا حتی کہ کنویں کے پانی کو نجس کہنے والے کا رد کیا جائے ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص 356 دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۷۲۸ – ج ا ص ۱۰۵۶ پر ہے اس کی شرح کا عنوان ہے: آدمی کے جسم کی طہارت کا بیان ۔

Exit mobile version