٢٥ – بَابُ كَيْنُونَةِ الْجُنُبِ فِي الْبَيْت إِذَا تَوَضًا قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلُ
جب جنبی غسل سے پہلے وضوء کرلے تو اس کا گھر میں ہونا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے: جب جنبی غسل سے پہلے وضوء کرلے تو اس کا گھر میں رہنا جائز ہے، باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ یہ دونوں باب جنبی کے احکام سے متعلق ہیں۔
٢٨٦- حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَ شَيْبَان عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَالَتْ عَائِشَةَ اكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْقُدُ وَهُوَ جُنب ؟ قَالَتْ نعم ، وَيَتَوَضًا طرف الحديث : ۲۸۸]
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابونعیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ہشام اور شیبان نے حدیث بیان کی از یحیی از ابی سلمہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا : آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں سوجاتے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہاں! اور آپ وضو کرتے تھے۔
صحیح مسلم : 305، الرقم المسلسل : ۶۸۵ سنن ابوداؤد : ۲۲۳ ۲۲۲ سنن نسائی:256، سنن ابن ماجه: 584،سنن الکبری للنسائی : 9044، مصنف ابن ابی شیبه ج اص 60، مسند ابویعلی : ۴۵۲۲، صحیح ابن خزیمہ: 213، معرفة السنن والآثار : ۱۵۲۰ تاریخ بغدج ج 9 ص 268، مسند احمد ج 6 ص ۳۶ طبع قدیم مسند احمد : ۲۴۰۸۳، ج ۴۰ ص ۱۰۱ مؤسسة الرسالة بیروت
باب مذکور کی حدیث کا سنن کی ایک حدیث سے تعارض اور اس کا جواب
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت ظاہر ہے، بعض علماء نے کہا ہے : امام بخاری نے اس عنوان سے اس حدیث کے رد کی طرف اشارہ کیا ہے:
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس گھر میں تصویر ہو اور نہ (اس گھر میں ) جس میں کتا ہو اور نہ (اس میں ) جس میں جنبی ہو ۔ (سنن ابوداود :4152، سنن نسائی :۲۶۱ سنن ابن ماجه: 3650)
لیکن یہ قول حق سے بعید ہے، اس حدیث کو امام ابن حبان نے اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے، جس نے اس کو ضعیف کہا ہے اس نے اس حدیث کو عبداللہ بن نحبی کی وجہ سے ضعیف کہا ہے کہ یہ مجہول راوی ہے، لیکن العجلی نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے۔
امام عبدالرحمان نسائی متوفی ۳۰۳ ھ لکھتے ہیں : عبداللہ بن نحبی بن سلمہ الحضرمی الکوفی ثقہ ہے۔
( الجرح والتعديل للنسائی : ۲۰۴۴ ترجمه : 387 دار البحوث للدراسته الاسلامیه )
اس حدیث میں جنبی سے مراد وہ شخص ہے، جو غسل کرنے میں سستی کرتا ہے اور غسل میں تاخیر کرنے کو اپنی عادت بنالیتا ہے اور کتے سے مراد وہ کتا ہے، جس کو رکھنے کی اجازت نہیں ہے اور تصویر سے مراد جان دار کی تصویر جس کو اہانت کے ساتھ نہ رکھا گیا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس حدیث میں جنبی سے مراد وہ شخص ہو، جس نے نہ غسل کیا ہو نہ وضوء کیا ہو پھر اس حدیث میں اور باب مذکور میں کوئی منافات نہیں رہے گی ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص 358، فتح الباری ج ا ص ۸۰۸)
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جب جنبی سونے کا ارادہ کرے تو وضوء کرلے، رہا یہ کہ یہ وضوء واجب ہے یا مستحب ہے اس پر عنقریب کلام آئے گا۔
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : 607 – ج ا ص ۱۰۰۲ پر مذکور ہے اس کی شرح کا عنوان ہے: مجامعت کے بعد دوبارہ مجامعت یا سونے سے پہلے وضوء کرنے کا استحباب۔
