٢٦ – بَاب نَوْمِ الْجُنُبِ
جنبی کا سونا
۲۸۷- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةٌ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْتُ ، عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَاَلَ رَسُولَ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَيَرْقَدْ اَحَدنَا وَهُوَ جُنب ؟ قَالَ نَعَمْ إِذَا تَوَضَّا أحدكم فلير قد وَهُوَ جُنب.
اطراف الحدیث: ۲۸۹ 290
صحیح مسلم : 306، الرقم المسلسل : 688، سنن نسائی: ۲۵۸
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از نافع از حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما از حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : آیا ہم میں سے کوئی شخص حالت جنابت میں سوسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں! جب تم میں سے کوئی شخص وضوء کرے تو وہ حالت جنابت میں سوجائے ۔
جنبی کے سونے اور کچھ کھانے سے پہلے اور دوبارہ جماع کرنے سے پہلے وضو یا غسل کرنے کی تحقیق ۔۔ اور اس میں مذاہب ائمہ
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:
جنبی کے سونے میں علماء کا اختلاف ہے، ایک جماعت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہر حدیث کی بناء پر یہ کہا ہے کہ وہ وضوء کرکے سوئے حضرت علی، حضرت عائشہ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم اور تابعین میں سے النخعی ، طاؤس، حسن بصری، امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام احمد کا یہی مذہب ہے، اہل ظاہر (غیر مقلدین) کا شاذ قول یہ ہے کہ یہ وضوء کرنا واجب ہے لیکن یہ قول متروک ہے کسی نے اس کی موافقت نہیں کی، سعید بن مسیب نے یہ کہا ہے کہ اگر وہ چاہے تو وضوء کرنے سے پہلے سوجائے، امام ابو یوسف کا یہی مذہب ہے، کیونکہ وضوء اس کو جنابت سے طہارت کی طرف نہیں نکالتا اور ان کی دلیل یہ حدیث ہے:
ابو اسحاق از الاسود بن یزید از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے، پھر سوجاتے اور پانی کو ہاتھ نہ لگاتے، حتی کہ بعد میں اٹھ کر غسل کرتے تھے ۔ (سنن ابوداؤد : ۲۲۸، سنن ترمذی : ۱۱۹ ۱۱۸)
( شرح ابن بطال ج ا ص ۴۰۷، دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۲۴ھ )
امام ابوجعفر احمد بن محمد الطلحاوى الحنفى المصری المتوفی ۳۲۱ھ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:
یہ حدیث غلط ہے، کیونکہ ابو اسحاق نے ایک طویل حدیث کو مختصر کیا ہے اور اختصار میں خطاء کی ہے اس کو چاہیے کہ سونے سے پہلے اس طرح وضوء کرے، جس طرح نماز کا وضوء کرتے ہیں۔ اصل حدیث اس طرح ہے:
ابو اسحاق بیان کرتے ہیں کہ میں اسود بن یزید کے پاس گیا اور میں نے کہا: مجھے وہ حدیث سنائیں، جو حضرت عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق بیان کی ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اول حصہ میں سوتے تھے اور آخری حصہ میں بیدار ہوتے تھے پھر اگر آپ کو حاجت ہوتی تو اپنی حاجت پوری کرتے پھر پانی کو ہاتھ لگانے سے پہلے سوجاتے، پھر اذان کے وقت اٹھتے اور اپنے اوپر پانی بہاتے اور اگر آپ جنبی ہوتے تو اس طرح وضوء کرتے، جس طرح نماز کا وضوء کرتے ہیں۔ (شرح معانی الآثار : ۷۳۷ ‘مسند احمد ج ۶ ص ۱۰۲ سن بیہقی ج ۱ ص ۲۰۲-۲۰۱)
اس حدیث میں اسود بن یزید نے یہ بیان کیا ہے کہ اگر آپ جنبی ہوتے اور سونے کا ارادہ کرتے تو نماز کا وضوء کرتے اور یہ جو حضرت عائشہ نے فرمایا ہے : پھر اگر آپ کو حاجت ہوتی تو اپنی حاجت کو پورا کرتے اور پانی کو چھونے سے پہلے سوجاتے اس میں یہ احتمال ہے کہ آپ غسل کرنے سے پہلے سوجاتے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ وضوء کرنے سے پہلے سوجاتے اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے:
اسود بن یزید، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول الل صلی اللہ علیہ وسلم جب سونا یا کچھ کھانا چاہتے اور آپ جنبی ہوتے تو آپ وضوء کرتے۔ (شرح معانی الآثار ۷۳۸ صحیح البخاری : ۲۸۸ – ۲۸۷-286 صحیح مسلم:۳۰۶-305، سنن نسائی : ۲۵۸ سنن ابن ماجہ: ۵۸۴ مصنف عبدالرزاق : ۱۰۷۳ ۱ سنن بیہقی ج ا ص ۲۰۰)
از ابوسلمہ بن عبدالرحمان از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کا ارادہ کرتے اور آپ جنبی ہوتے تو آپ نماز کا وضوء کرتے ۔ (شرح معانی الآثار: ۷۴۰ صحیح مسلم : 305، سنن ابوداؤد : ۲۲۲ سنن نسائی: ۲۵۷ سنن ابن ماجہ : ۵۸۴)
یہ اسود کے غیر کی حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آپ جنبی ہوتے اور سونے کا ارادہ کرتے تو نماز کا وضوء کرتے ۔
از عروه از حضرت عائشه رضی اللہ عنہا وہ بیان فرماتی تھیں : جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے پھر سونے کا ارادہ کرے تو اس وقت تک نہ سوئے، حتی کہ نماز کا وضوء کر لے۔ (شرح معانی الآثار : ۷۴۶ مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص ۶۰ )
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آیا ہم میں سے کوئی شخص حالت جنابت میں سوجائے؟ آپ نے فرمایا : ہاں! اور وہ وضوء کرے۔ (شرح معانی الآثار : ۷۴۹ صحیح البخاری: 287، صحیح مسلم : ۳۰۶ سنن نسائی: ۲۵۸ موطا امام مالک : ۷۶ )
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے کہ جب جنبی سونے کا ارادہ کرے یا کھانے یا پینے کا ارادہ کرے تو نماز کا وضوء کرے۔ (شرح معانی الآثار: ۷۵۷ سنن ابوداؤد : ۲۲۵ سنن ترمذی : ۱۲۰)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! میں اپنی بیوی سے جماع کا ارادہ کرتا ہوں اور سونے کا ارادہ کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: وضوء کرو اور سوجاؤ ۔ (شرح معانی الآثار : ۷۵۹ ، سنن ابن ماجہ (586)
جنبی کے لیے کچھ کھانے سے پہلے وضوء کرنے کے وجوب کا منسوخ ہونا
امام طحاوی فرماتے ہیں : ان احادیث کی وجہ سے علماء کی ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ جنبی کو کچھ کھانا نہیں چاہیے حتی کہ وہ وضوء کرلے اور علماء کی دوسری جماعت نے اس کی مخالفت کی اور کہا: اگر جنبی وضوء کے بغیر کچھ کھالے تو کوئی حرج نہیں ہے، ان کی دلیل یہ حدیث ہے:
از عروه از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہوتے اور کچھ کھانے کا ارادہ کرتے تو اپنے ہاتھ دھولیتے ۔ (شرح معانی الآثار : 760 ‘ سنن ابوداؤد : ۲۲۳ سنن نسائی: ۲۵۶ سنن ابن ماجه: ۵۹۳ مسند احمد : ۲۴۱۳۸ دارالفکر)
اس سے پہلے حضرت عائشہ کی روایت میں ہے: جب آپ جنبی ہونے کے بعد کھانے کا ارادہ کرتے تو وضوء کرتے، اور اس حدیث میں ہے: آپ صرف ہاتھ دھوتے اور جب ان احادیث میں تضاد ہوگیا تو ہم نے دیکھا کہ جنابت کے بعد کھانے یا سونے سے پہلے وضوء کرنے کا حکم منسوخ ہو گیا اور اب صفائی کی غرض سے صرف ہاتھ دھونے کا حکم ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلے تو آپ سے کہا گیا: کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ آپ نے فرمایا : میں نماز پڑھنے کا ارادہ کر رہا ہوں کہ وضوء کروں ۔
(صحیح مسلم : 374، الرقم المسلسل : ۸۲۶ سنن دارمی:771 مسند احمد ج ۱ ص ۳۵۹۔ ۲۸۲ – ۲۲۲)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف نماز کے لیے وضوء کرتے تھے اور سونے سے پہلے جنبی کے وضوء کرنے کا وجوب منسوخ ہوگیا اور اس کا استحباب باقی ہے۔ (نخب الافکار ج ا ص ۷۹۲ قدیمی کتب خانہ کراچی)
اسی طرح آپ نے یہ حکم دیا ہے : آدمی جب ایک بار جماع کرنے کے بعد دوسری بار جماع کرے تو وضوء کرے۔
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے پھر دوبارہ جانے کا ارادہ کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ وضوء کرے۔
( شرح معانی الآثار : ۷۶۲ صحیح مسلم : 308، سنن ابوداؤد : ۲۲۰ سنن نسائی: 262، سنن ابن ماجہ : ۵۸۷)
دوبارہ جماع کرنے سے پہلے وضوء کرنے کے وجوب کا منسوخ ہونا
ہم نے ایک اور باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جماع کرتے تھے، پھر دوبارہ جماع کرتے تھے اور وضوء نہیں کرتے تھے ۔ (شرح معانی الآثار ج ص ۱۶۷ قدیمی کتب خانہ کراچی نخب الافکار ج ا ص ۷۹۴ قدیمی کتب خانہ کراچی)
اور یہ حدیث ہمارے نزدیک دوبارہ جماع کرنے سے پہلے وضوء کرنے کے وجوب کے حکم کے لیے ناسخ ہے اور اس کا استحباب باقی ہے۔ (شرح معانی الآثار ج 1 ص ۱۶۷ نخب الافکار فی تنقیح مبانی الاخبار ج اص ۷۹۴ قدیمی کتب خانہ کراچی)
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار جماع کرنے سے پہلے غسل کرتے تھے :
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میں اپنی تمام ازواج کے پاس جاتے اور اس کے پاس بھی غسل کرتے اور اُس کے پاس بھی غسل کرتے’ آپ سے کہا گیا: یارسول اللہ ! اگر آپ ایک ہی بار غسل کر لیتے ! آپ نے فرمایا: یہ زیادہ ستھرا زیادہ طاہر اور زیادہ پاکیزہ ہے۔ (شرح معانی الآثار : ۷۶۵ سنن ابوداؤد :۲۱۹ سنن ابن ماجہ: ۵۹۰ مسند احمد ج 6 ص ۸-۱۰-۳۹۱)
اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ آپ کا یہ عمل بہ طور وجوب نہیں تھا بلکہ بہ طور استحباب تھا۔
اس کی دلیل یہ حدیث ہے:
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غسل کے ساتھ اپنی تمام ازواج کے ساتھ جماع کیا۔
( شرح معانی الآثار : ۷۶۷، صحیح مسلم : 309، سنن ابوداؤد : ۲۱۸ سنن ترمذی: ۱۴۰ سنن ابن ماجہ: ۵۲۸ مسند احمد ج ۳ ص ۱۸۹ – ۲۲۵)
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
اس حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ جب انسان کو قدرت ہو تو کثرت جماع مکروہ نہیں ہے اور متعدد بار جماع کرنے کے بعد ایک بار غسل کرنا کافی ہے اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ دو بار جماع کے درمیان وضوء کرنا واجب نہیں ہے اور اس کے متعلق جو حکم دیا گیا ہے وہ منسوخ ہے۔ (نخب الافکار فی تنقیح مبانی الاخبار ج ا ص 800 قدیمی کتب خانہ کراچی)
حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے: حافظ ابن عبد البر مالکی نے کہا ہے کہ جنبی کے لیے سونے سے پہلے وضوء کرنے کا حکم جمہور کے نزدیک مستحب ہے امام شافعی نے اس کو واجب نہیں کہا اور نہ ان کے اصحاب اس حکم کے وجوب کو پہچانتے ہیں۔
(فتح الباری ج ا ص ۸۱۰ دار المعرفه پیروت 1426ھ )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ کی ازواج کی تعداد اور ان کے اسماء
حافظ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غسل کے ساتھ اپنی تمام ازواج کے ساتھ جماع کیا:
اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اس وقت آپ کی نو ازواج تھیں اور وہ یہ ہیں :
(۱) حضرت عائشہ بنت ابی بکر الصدیق تیمیہ
(۲) حضرت حفصہ بنت عمر بن الخطاب العدویہ
(۳) حضرت ام حبیبہ رملہ بنت ابی سفیان صخر بن حرب الامویہ
(۴) حضرت زینب بنت جحش الاسدیہ
(۵) حضرت ام سلمہ ھند بنت ابی امیہ المخزومیه
(۲) حضرت میمونہ بنت الحارث الہلالیہ
(۷) حضرت سودہ بنت زمعہ العامر یہ
(۸) حضرت جویریہ بنت الحارث بن ابی ضرار المصطلقیه
(۹) حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب النضریہ الاسرائیلیہ الہارونیہ رضی اللہ عنہن ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کل ازواج کی تعداد اور ان کی ترتیب اور ان کی تعداد جو آپ سے پہلے فوت ہو گئیں ۔۔۔۔ اور جن کے ساتھ آپ نے دخول کیا اور جن کے ساتھ آپ نے دخول نہیں کیا اور جن کو صرف نکاح کا پیغام دیا اور ان کے ساتھ نکاح نہیں کیا اور جن خواتین نے خود کو آپ کے اوپر پیش کیا، ان سب کے اسماء
(۱) حضرت خدیجہ بنت خویلد
(۲) حضرت سودہ بنت زمعہ
(۳) حضرت عائشہ
(۴) حضرت حفصہ
(۵) حضرت ام سلمہ
(۶) حضرت جویریہ
(۷) حضرت زینب بنت جحش
(۸) حضرت زینب بنت خزیمه
(۹) حضرت ریحانہ بنت زید
(۱۰) حضرت ام حبیبه
(۱۱) حضرت صفیہ
(۱۲) حضرت میمونہ
(۱۳) حضرت فاطمہ بنت ضحاک
(۱۴) حضرت اسماء بنت نعمان ان میں بہت اختلاف ہے
اور جن پر اتفاق ہے وہ گیارہ ہیں:
(۱) حضرت خدیجہ
(۲) حضرت سودہ
(۳) حضرت عائشہ
(۴) حضرت حفصہ
(۵) حضرت زینب بنت خزیمہ
(1) حضرت ام سلمہ
(۷) حضرت زینب بنت جحش
(۸) حضرت ام حبیبہ
(۹) حضرت جویریہ
(۱۰) حضرت میمونہ
(۱۱) حضرت صفیہ رضی اللہ عنہن ۔
جو آپ کی زندگی میں فوت ہوگئیں، وہ حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ ہیں اور باقی نو ازواج آپ کے بعد فوت ہوئیں۔
ازواج مطہرات کے سنین وفات اور مقام تدفین
(1) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ہجرت سے پانچ سال پہلے مکہ میں فوت ہوئیں ایک قول ہجرت سے چار سال پہلے کا ہے اور ایک تین سال پہلے کا ہے اور وہی صحیح قول ہے اس وقت ان کی عمر ۶۵ سال تھی وہ آپ کے ساتھ ۲۵ سال رہیں اور الحجون میں دفن کی گئیں۔
(۲) حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا مدینہ میں شوال ۵۴ھ میں فوت ہوئیں۔
(۳) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مدینہ میں ۵۷ھ میں فوت ہوئیں، ایک قول ۵۸ھ کا ہے، یہ ۱۹ رمضان کی تاریخ تھی، آپ نے حکم دیا تھا کہ آپ کو رات میں دفن کیا جائے، آپ کو البقیع میں دفن کیا گیا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی، اس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مروان مدینہ کا گورنر تھا۔ (علامہ ابن اثیر نے وفات کی تاریخ ۱۷ رمضان لکھی ہے اور آپ کی عمر اس وقت ۶۵ سال تھی۔ اسد الغابہ ج سے ص ۱۸۹ دار الکتب العلمیة بیروت)
(۴) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا شعبان ۴۵ھ میں فوت ہوئیں اور اُس وقت آپ کی عمر ۶۰ سال تھی ۔
(۵) حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا ربیع الثانی ۴ھ میں فوت ہوئیں اور البقیع میں دفن کی گئیں ۔
(6)حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا 59ھ میں فوت ہوئیں اور البقیع میں دفن کی گئیں، حضرت ابوہریرہ نے نماز پڑھائی اس وقت آپ کی عمر ۸۴ سال تھی ۔
(۷) حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا مدینہ میں ۲۰ھ میں فوت ہو ئیں اس وقت آپ کی عمر ۵۳ سال تھی حضرت عمر نے نماز پڑھائی۔
(۸) حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا مدینہ میں ۴۴ھ میں فوت ہوئیں۔
(۹) حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا ربیع الاول ۵۶ھ میں فوت ہوئیں، اس وقت آپ کی عمر ۶۵ سال تھی ۔
(۱۰) حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا مکہ سے دس میل پر مقام سرف میں ۵۶ ھ میں فوت ہوئیں اس وقت آپ کی عمر ۶۵ سال تھی۔
(11) حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا مدینہ میں ۵۰ھ میں فوت ہوئیں، ایک قول ۵۲ ھ کا ہے۔
نخب الافکار فی تنقیح مبانی الاخبار فی شرح معانی الآثار ج ا ص ۸۰۰-۷۹۹ قدیمی کتب خانہ کراچی)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا متعدد نکاح کرنا تبلیغ اسلام احکام شرعیہ کی ترویج اور ان کے لیے نمونہ فراہم کرنے ۔۔۔۔۔ دوست نوازی اور تشریعی مقاصد کے لیے تھا، نہ کہ شہوت کے تقاضے پورے کرنے کے لیے
سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو متعدد نکاح کیے اس کے متعلق منکرین اسلام کہتے ہیں کہ آپ نے غلبہ شہوت کی وجہ سے یہ نکاح کیے تھے حالانکہ یہ حقائق کے خلاف ہے، مخالفین اسلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی متعدد ازواج پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ انبیاء سابقین علیہم السلام کی بھی متعدد ازواج تھیں، حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق بائبل میں لکھا ہے:
(۱) سلیمان ان ہی کے عشق کا دم بھرنے لگا اور اس کے پاس سات سو شاہزادیاں، اس کی بیویاں اور تین سو حرمیں تھیں ّ(۔سلاطین باب : ۱۱ آیت: ۳- ۲ کتاب مقدس ص 340، بائبل سوسائٹی لاہور 1992ء) اس کے برخلاف سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں بہ یک وقت کل نو ازواج تھیں، جب کہ آپ کی قوت تمام نبیوں سے زیادہ تھی ہم پہلے” فتح الباری” اور “عمدۃ القاری” کے حوالوں سے بیان کرچکے ہیں کہ آپ میں چار ہزار مردوں کی قوت تھی، سو جن میں چار ہزار مردوں کی طاقت ہو ان کا نو ازواج پر قناعت کرنا، اپنے نفس پر انتہائی ضبط اور صبر ہے یا غلبہ شہوت ہے!
(۲) سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عین عالم شباب میں ۲۵ سال کی عمر میں حضرت خدیجہ سے نکاح کیا، جو بیوہ خاتون تھیں اور ان کی عمر اس وقت 40 سال تھی وہ ۲۵ سال آپ کے نکاح میں رہیں اور ان کی زندگی میں آپ نے دوسری شادی نہیں کی اور ۵۰ سال کی عمر تک اسی بیوہ خاتون کے ساتھ رہے، اس کے بعد اپنی دوسری شادی حضرت سودہ سے کی، وہ بھی بیوہ خاتون تھیں اور آپ سے نکاح کے وقت ان کی عمر پچپن سال تھی اور حضرت عائشہ کے علاوہ آپ نے جن خواتین سے نکاح کیے وہ سب بیوہ تھیں یا مطلقہ تھیں پس واضح ہو گیا کہ آپ کا متعدد نکاح کرنا غلبہ شہوت کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ اس کی اور وجوہ تھیں، جن کو ہم بیان کر رہے ہیں۔
(۳) آپ کی زیادہ شادیاں ۵۵ سال کی عمر سے ۵۹ سال کی عمر کے درمیان ہوئیں، اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آپ نے جنسی جذبہ کی وجہ سے زیادہ شادیاں کیں۔
(۴) جس خاندان میں نکاح کیا جائے، اس خاندان سے تعلقات قائم ہوجاتے ہیں اور ملنے جلنے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور ربط ضبط بڑھتا ہے، سوجن خاندانوں میں آپ نے نکاح کیے ان میں تبلیغ اسلام کے مواقع پیدا ہوگئے ان لوگوں کو آپ کی پاکیزہ سیرت اور اسلام کی حقانیت دیکھنے کا موقع ملا اور وہ لوگ مائل بہ اسلام ہوگئے ۔
(۵) آپ کی خارجی زندگی دیکھ کر آپ کے معمولات دیکھنے والے مردوں کی تعداد بہت زیادہ تھی تو چاہیے تھا کہ آپ کی گھریلو اور نجی زندگی دیکھنے والی خواتین کی بھی زیادہ تعداد ہو تاکہ وہ آپ کے خانگی معمولات کو روایت کرسکیں ۔
(۶) آپ نے زیادہ شادیاں تعلیمی مقاصد سے کیں، کیونکہ عورتوں کے مخصوص مسائل مثلا حیض، نفاس، جنابت اور امور زوجیت کو خواتین ہی بیان کر سکتی تھیں ۔
(۷) آپ نے تشریعی مقاصد سے بھی نکاح کیے، عربوں میں مشہور تھا کہ منہ بولا بیٹا ، حقیقی بیٹے کے حکم میں ہوتا ہے اور اس کی بیوی سے نکاح کرنا حرام ہے حضرت زید بن حارثہ آپ کے منہ بولے بیٹے تھے جب انہوں نے اپنی بیوی حضرت زینب بنت جحش کو طلاق دے دی تو آپ نے ۳ یا ۵ھ میں حضرت زینب سے نکاح کرکے عملاً یہ مسئلہ بتادیا کہ منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنا جائز ہے ۔ ( الاصابہ ج ۸ ص ۱۵۳ دار الکتب العلمیہ بیروت)
(۸) آپ نے بعض نکاح اپنے وفادار دوستوں کو ان کی وفاداری کا صلہ دینے کے لیے کیے جیسے آپ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی صاحب زادیوں حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ سے نکاح کیے۔ (حضرت عائشہ سے ہجرت سے تین سال پہلے نکاح کیا۔ (الاصابه ج ۸ ص 232) حضرت حفصہ سے ۳ھ میں نکاح کیا۔ (الاصابہ ج ۸ ص ۸۷))
(۹) نجاشی نے آپ کا نکاح آپ کی اجازت سے ۷ ھ میں حضرت ام حبیبہ سے کردیا، اس سے آپ نے عملاً یہ مسئلہ بتادیا کہ کسی شخص کا وکیل بھی اس کا نکاح کرسکتا ہے، اس وقت آپ مدینہ میں تھے اور حضرت ام حبیبہ حبشہ میں تھیں، آپ نے مکتوب کے ذریعہ اجازت دی تھی ۔ (الاصابہ ج ۸ ص ۱۴۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ) سو اس سے معلوم ہوگیا کہ لڑکا مثلا انگلینڈ میں ہو اور لڑکی پاکستان میں ہو اور وہ خط یا ٹیلی فون کے ذریعہ کسی کو پاکستان میں اپنا وکیل بنادے تو وہ وکیل اس کا نکاح کر دے گا اور لڑکی رخصت ہوکر انگلینڈ چلی جائے گی۔
(۱۰) بعض نکاح آپ نے کسی فتنہ کو زائل کرنے کے لیے کیے 7ھ میں خیبر کے مال غنیمت میں حضرت دحیہ کلبی نے آپ سے پوچھا کہ میں ایک کنیز لے لوں؟ آپ نے اجازت دے دی، انہوں نے حضرت صفیہ کو لے لیا، جو بنو قریظہ اور بنونضیر کی سردار تھیں اس سے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا کہ یہ خاتون تو اپنی خاندانی عظمت کی بناء پر صرف آپ کے لائق ہیں، آپ نے حضرت دحیہ سے کہا: تم کوئی اور باندی لے لو اور فتنہ کو زائل کرنے کے لیے آپ نے ان سے نکاح کرلیا یہ مطلقہ خاتون تھیں ۔
(صحیح البخاری : ۳۷۱ ملخصاً الاصابہ ج ۸ ص ۲۱۰ دار الکتب العلمیہ بیروت)
(11) حضرت عباس کی دل جوئی کی خاطر اور ان کی درخواست پر ۷ھ میں حضرت میمونہ سے نکاح کیا، حضرت میمونہ معمر بیوہ تھیں، ان کا کوئی سہارا نہیں تھا، اس لیے آپ نے ان سے نکاح کرلیا۔ یہ آخری خاتون ہیں جن سے آپ نے نکاح کیا۔
(اسد الغابہ ج ۷ ص ۲۶۳ – ۲۶۲ دار الکتب العلمیہ بیروت )
(۱۲) ۵ یا ۶ ھ میں بنو مصطلق کے لوگ جنگ میں شکست کھاکر اسیر اور غلام ہو گئے تھے یہ لوگ اسلام کے دشمن تھے اور جنگ میں شکست کھاچکے تھے آپ نے ان کے ساتھ حسن سلوک کیا اور ان کے سردار کی بیٹی حضرت جویریہ کا زر مکاتبت ادا کرکے ان سے نکاح کرلیا اس حسن سلوک سے متاثر ہو کر ان کا پورا قبیلہ مسلمان ہو گیا، اس نکاح کی برکت سے آپ نے بنو مصطلق کے تمام قیدیوں کو رہا کردیا۔ (الاصابہ ج ۸ ص ۷۳ – ۷۲ ‘دار الکتب العلمیة بیروت)
(۱۳) حضرت ام سلمہ کے خاوند حضرت ابو سلمہ ایک جنگ میں زخمی ہونے کے بعد فوت ہوگئے انہوں نے ایک بیوہ اور چار بچے چھوڑے تھے ان کا کوئی کفیل نہ تھا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کفالت کرنے کے لیے ۳ یا ۴ھ میں ان سے نکاح کرلیا۔
الاصابه ج ۸ ص ۴۰۴ دار الکتب العلمیہ، بیروت )
(۱۴) حضرت زینب بنت خزیمہ کے پہلے شوہر طفیل تھے ان کی وفات کے بعد ان کا نکاح حضرت عبیدہ بن حارث سے ہوا، جو جنگ بدر میں شہید ہوگئے تھے اس کے بعد ان کا نکاح حضرت عبداللہ بن جحش سے ہوا، وہ بھی جنگ احد میں شہید ہوگئے ان کے زخموں کی داد رسی کرنے کے لیے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا ۳ھ میں جب آپ نے ان سے نکاح کیا اس وقت ان کی عمر تقریبا ۳۰ سال تھی اور وہ آپ کی زندگی میں ہی دو یا تین ماہ بعد فوت ہوگئیں۔الاصابه ج ۸ ص ۱۵۷ دار الکتب العلمیہ بیروت ‘طبقات کبری ج ۸ ص ۹۲)
(۱۵) حضرت سودہ بنت زمعہ اپنے شوہر کے فوت ہونے کے بعد بے سہارا ہوگئیں تھیں اور وہ اس وقت کافی معمر تھیں، اس عمر میں ان سے کون نکاح کرتا، آپ ان کا سہارا بنے اور آپ نے ان سے نکاح کرلیا۔(اسد الغابہ ج ۷ ص ۱۵۸ – ۱۵۷ دار الکتب العلمیہ، بیروت )
(۱۲) حضرت عیسی علیہ السلام نے نکاح نہیں کیا تھاان کی زندگی میں اپنی امت کے لیے شوہر کا نمونہ نہیں ہے باپ کا نمونہ نہیں ہے بیوی اور بچوں کے حقوق ادا کرنے کا نمونہ نہیں ہے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد بیوہ، مطلقہ اور ایک کنواری خاتون کے ساتھ نکاح کیا ان کے درمیان عدل و انصاف کیا، ان کے حقوق ادا کیے اس میں امت کے لیے شوہر کا نمونہ ہے آپ کے تین صاحبزادے اور چار صاحب زادیاں ہوئیں، آپ نے ان کی پرورش کی، تین صاحب زادے اور تین صاحب زادیاں آپ کی زندگی میں فوت ہوئیں، آپ نے ان پر صبر کیا’ دو بیویوں کی وفات پر صبر کیا، ان کی تجہیز وتکفین کی چار صاحب زادیوں کے نکاح کیے ان سب کاموں میں امت کے لیے نمونہ ہے۔
(۱۷) عام طور پر لوگ غیر خاندان اور غیر کفو میں نکاح کو باعث عار سمجھتے ہیں، آپ نے اپنی دو ہاشمی صاحب زادیوں کا نکاح حضرت عثمان اموی رضی اللہ عنہ سے کرکے انسانیت کا پرچم بلند کیا اور امت کے لیے غیر کفو میں نکاح کرنے کا عملی نمونہ فراہم کیا۔
(۱۸) جن کے ساتھ آپ نے نکاح کیے، ان کو دنیا میں عزت ملی، وہ تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں اور آخرت میں وہ آپ کے ساتھ جنت میں ہوں گی سو تعدد ازواج کی وجہ سے متعدد خواتین کو دنیا اور آخرت کی عزت ملی اور شرف حاصل ہوا۔
(۱۹) سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر معاملہ میں عمل کا پہلو قول سے آگے ہوتا ہے امت کو پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا خود به شمول تہجد چھ نمازیں پڑھتے تھے اور چاشت اور اشراق پڑھتے تھے اور بہت نوافل پڑھتے تھے امت کو چار ازواج میں عدل کرنے کا حکم دیا اور خود نو ازواج میں عدل کرکے دکھایا، پس کروڑوں صلوۃ و سلام ہوں، اس نبی پر جس نے متعدد نکاح کرکے امت کے لیے ہدایت اور فوز و فلاح کی راہیں روشن کر دیں!
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۱۰ – ج ا ص ۱۰۰۲ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح کا عنوان ہے: مجامعت کے بعد دوبارہ مجامعت کرنے یا سونے سے پہلے وضوء کرنے کا استحباب۔
