Site icon اردو محفل

کتاب الغسل  باب 28 حدیث  291

۲۸ – بَابُ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ

جب دو ختنے کی جگہیں مل جائیں

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب مرد کے ختنہ کی جگہ عورت کے ختنے کی جگہ سے مل جائے تو پھر کیا حکم ہے؟ یہ اس بنا ، پ ہے کہ عرب میں عورتوں کے ختنہ کا رواج تھا، مرد کا ختنہ یہ ہے کہ اس کے آلہ کے سر پر جو کھال کا زائد حصہ ہے اس کو کاٹ دیا جائے عورت کا ختنہ یہ ہے کہ اس کی فرج کے اوپر کی باریک کھال کو کاٹ دیا جائے امام جصاص نے ” کتاب آداب القضاء” میں حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بیان کی ہے کہ مرد کے لیے ختنہ سنت ہے اور عورت کے لیے عزت ہے۔

۲۹۱- حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ  (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِى رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبها الْأَرْبَعَ ثُمَّ جَهَدَهَا ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ . تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ شُعْبَةَ مِثْلَهُ. وَقَالَ مُوسی حَدَّثَنَا ابَانُ قَالَ حَدَّثَنَا قتادَةً قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ مِثْلَه ۔

صحیح مسلم: 347، الرقم المسلسل : ۷۶۵ ، شرح السنة : ۲۴۱ صحیح ابن حبان : ۱۱۸۲ سنن دارقطنی ج ۲ ص ۱۱۳ سنن بیہقی ج اص 163، مسند احمد ج ۲ ص ۲۳۴ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۹۸ ۷ – ج ۱۲ ص ۱۲۶ مؤسسة الرسالة بیروت

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں معاذ بن فضالہ نے بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی(ح) اور ہمیں ابونعیم نے ہشام سے حدیث بیان کی از قتادہ از الحسن از ابی رافع از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے فرمایا: جب مرد عورت کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جائے، پھر اس کو تھکا دے تو بے شک اس پر غسل واجب ہو گیا۔ ہشام کی عمرو بن مرزوق نے متابعت کی ہے از شعبہ اس حدیث کی مثل میں اور موسیٰ نے کہا: ہمیں ابان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا: ہمیں حسن نے اس حدیث کی مثل خبر دی۔

اس حدیث کے سات رجال ہیں اور ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس حیثیت سے ہے کہ بعض روایات میں ” پھر اس کو تھکا دے” کی جگہ مذکور ہے : اولا ایک ختنہ کی جگہ دوسری ختنہ کی جگہ سے چیک جائے۔

چار شاخوں کا معنی

اس حدیث میں چارشاخوں کا لفظ ہے اس سے مراد دو ہاتھ اور دو پیر ہیں یا دو رانیں اور دو پیر ہیں یا دو ٹانگیں اور دو ہونٹ ہیں اور اقرب یہ ہے کہ اس سے دو ہاتھ اور دو پیر مراد ہیں ۔

نفس دخول بلا انزال سے آیا صرف وضوء واجب ہوتا ہے یا غسل؟

علامہ بدرالدین عینی حنفی لکھتے ہیں : اس حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ غسل کا واجب ہونا نزول منی پر موقوف نہیں ہے بلکہ جب مرد کے آلہ کا سر عورت کے اندام نہانی میں غائب ہو جائے تو ان دونوں پر غسل واجب ہوجاتا ہے خواہ ان دونوں کو انزال نہ ہو، اب اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے صحابہ کے ابتدائی دور میں اس میں اختلاف تھا کیونکہ ایک جماعت کا یہ مذہب تھا کہ جس نے عورت کے ساتھ جماع کیا اور اس کو انزال نہیں ہوا اس پر وضوء نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۳۶۶)

شیخ علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی متوفی ۴۵۶ ھ لکھتے ہیں:

جن صحابہ کا یہ موقف تھا کہ اگر انزال نہ ہو تو جماع سے غسل واجب نہیں ہوتا، وہ حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت زبیر بن العوام، حضرت طلحہ بن عبیداللہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت ابن مسعود، حضرت رافع بن خدیج، حضرت ابوسعید الخدری، حضرت ابی بن کعب، حضرت ابوایوب انصاری، حضرت ابن عباس، حضرت النعمان بن بشیر اور حضرت زید بن ثابت اور جمہور انصار ہیں رضی اللہ عنہم اور فقہاء تابعین میں سے عطاء بن ابی رباح، ابو سلمہ بن عبدالرحمان بن عوف، ہشام بن عروہ اور الاعمش ہیں

اور بعض اہل الظاہر ( غیر مقلدین ) ہیں ۔ ( المحلی بالآثار ج ۱ ص ۲۴۹ دار الكتب الكتب العلمیة بیروت ۱۴۲۴ھ )

وہ احادیث جن سے ثابت ہوتا ہے کہ نفس دخول بلا انزال سے صرف وضوء واجب ہوتا ہے نہ کہ غسل جن آثار سے ان صحابہ اور فقہاء تابعین نے استدلال کیا وہ حسب ذیل ہیں:

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ایک مرد جماع کرتا ہے اور اس کو انزال نہیں ہوتا’ حضرت عثمان نے کہا: وہ اس طرح وضوء کرے، جس طرح نماز کا وضو، کرتا ہے اور اپنے آلہ کو دھولے حضرت عثمان نے کہا: یہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے حضرت زید بن خالد نے کہا: پھر میں نے یہ سوال حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت الزبیر بن عوام اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے کیا تو انہوں نے بھی یہی حکم دیا، یحیی نے کہا: مجھے ابو سلمہ نے خبر دی کہ عروہ بن الزبیر نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔

(صحیح البخاری: ۲۹۲ صحیح مسلم : 347 الرقم المسلسل : 765)

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( عورت کو) تھکانے میں صرف وضوء ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۹۰)

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مرد کے متعلق دریافت کیا، جو جماع کرتا ہے پھر عورت کو تھکادیتا ہے آپ نے فرمایا: اس پر جو چیز لگی ہے اس کو دھولے اور اس طرح وضوء کرے جس طرح نماز کا وضوء کرتے ہیں ۔ ( صحیح البخاری: ۲۹۲ صحیح مسلم: ۳۴۷ موطا امام مالک : ۷۴۔ ۷۳ مسند احمد ج ۵ ص ۱۱۴)

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک مرد کے پاس سے گزرے، آپ نے اس کو بلایا وہ آپ کے پاس اس حالت میں آیا کہ اس کے سر سے پانی کے قطرے گررہے تھے، آپ نے فرمایا: شاید ہم نے تم کو جلدی بلالیا’ اس نے کہا: جی ہاں ! آپ نے فرمایا: جب تم کو جلدی بلالیا جائے یا تمہیں انزال نہ ہوا ہو تو تمہارے اوپر (صرف) وضوء لازم ہے۔

(صحیح البخاری : ۱۸۰ صحیح مسلم : 345 سنن ابن ماجہ : ۶۰۶ مسند احمد ج ۳ ص ۲۳-21 سنن بیہقی ج اص ۱۶۵ مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص 89، شرح معانی الآثار : ۳۰۰)

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی پانی کے سبب سے ہے یعنی غسل نزول منی کے سبب دسے ہے۔ (صحیح مسلم : 343، سنن ابوداؤد : ۲۱۵ سنن ترمذی: ۱۱۰ سنن نسائی : 199 سنن ابن ماجہ : ۶۰۷ مسند احمد ج ۵ ص 416-421)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک مرد کو بلانے کے لیے کسی کو بھیجا’ اس نے آنے میں دیر کردی، آپ نے اس سے پوچھا: تمہیں کس چیز نے روک لیا تھا؟ اس نے کہا: میں اپنی بیوی سے عمل زوجیت کررہا تھا، جب آپ کا پیغام بر آیا تو میں نے صرف غسل کیا اور کوئی کام نہیں کیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی صرف پانی کے سبب سے ہے(غسل صرف اس پر واجب ہے، جس کو انزال ہوا ہو ) ۔

( شرح معانی الآثار: 303، سنن ابوداؤد : 215، سنن ترمذی: ۱۱۰ سنن نسائی : ۱۹۹ سنن ابن ماجہ : 607)

جن احادیث میں یہ تصریح ہے کہ نفس دخول سے غسل واجب ہوتا ہے خواہ انزال نہ ہو

دوسرے صحابہ نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا، انہوں نے کہا: اس صورت میں غسل ہے خواہ اس کو انزال نہ ہوا ہو ۔

( شرح معانی الآثار ج ا ص ۶۹ قدیمی کتب خانہ کراچی)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھ سے اس مرد کے متعلق سوال کیا گیا جو جماع کرے اور اس کو انزال نہ ہو تو میں نے کہا: میں نے اور رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا، پھر ہم دونوں نے غسل کیا۔ (سنن ترمذی : ۱۰۸‘ سنن ابن ماجه : ۶۰۸ ‘مسند احمد ج۶ ص ۱۳۵ – ۱۱۲ ۱۱۰- ۶۸ – ۴۷ ، مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص ۸۵ سنن بیہقی ج ا ص ۱۶۴)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو ختنوں کی جگہیں مل جائیں تو غسل کرو۔

(صحیح البخاری: 291، صحیح مسلم: 348، سنن ابوداؤد :۲۱۶، سنن نسائی: ۱۹۱ موطا امام مالک : ۷۵ – ۷۳ – ۷۲ – ۷۱ ‘ مسند احمد ج ۶ ص ۱۳۵ – ۱۲۳ – 112- 97-47، شرح معانی الآثار : ۳۰۶)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مرد کے متعلق سوال کیا ‘ جو اپنی بیوی سے جماع کرے، پھر اس کو تھکا دے، آیاس پر غسل ہے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اس وقت بیٹھی ہوئی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں اور یہ اس طرح کرتے ہیں پھر ہم غسل کرتے ہیں ۔ (صحیح مسلم :۳۵۰)

جن احادیث میں مذکور ہے کہ غسل انزال سے واجب ہوتا ہے، وہ احتلام اور خواب پر محمول ہیں

امام طحاوی فرماتے ہیں : ان احادیث اور آثار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص جماع کرے اور اس کو انزال نہ ہو اس پر بھی غسل کرنا واجب ہے اور جن احادیث میں ہے کہ پانی پانی سے واجب ہوتا ہے وہ احتلام پر محمول ہیں یعنی وہ خواب میں دیکھے کہ وہ جماع کررہا ہے اور اس کو انزال نہ ہو تو اس پر غسل واجب نہیں ہوگا۔

اور جن احادیث میں یہ مذکور ہے کہ جب تک اس کو انزال نہ ہو، اس پر غسل واجب نہیں ہے، ان کے خلاف یہ احادیث ہیں:

( شرح معانی الآثار ج اص 71 ‘ قدیمی کتب خانہ کراچی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مرد عورت کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جائے پھر اس کو تھکا دے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔ ( صحیح بخاری: ۲۹۱ صحیح مسلم: 348، شرح معانی الآثار:۳۱۱، سنن ابوداؤد: 216 سنن نسائی: 391، سنن ابن ماجه : ۶۱۰ مسند احمد ج ۲ ص ۵۲۰ – 471-347–۳۹۲ – 234 مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۸۶ ۸۵ شرح السنته : ۲۴۲)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب مرد عورت کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جائے،  پھر ختنہ کی جگہ کو ختنہ کی جگہ کے ساتھ چپکا دے تو تحقیق یہ ہے کہ غسل واجب ہوگیا۔

( شرح معانی الآثار: 314، صحیح بخاری :۲۹۱ صحیح مسلم:۳۴۸، سنن نسائی: 391، سنن ابن ماجہ : ۶۱۰ جامع المسانید لا بن الجوزی: ۷۵۴۱)

غسل انزال سے واجب ہوتا ہے یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا اب منسوخ ہو چکا ہے۔۔۔۔ا ب دخول بلا انزال سے بھی غسل واجب ہوتا ہے

امام طحاوی فرماتے ہیں: یہ احادیث پہلی احادیث کے خلاف ہیں، اب یہ دیکھنا ہے کہ ان میں سے کون کسی احادیث دوسری احادیث کے لیے ناسخ ہیں، سو درج ذیل احادیث میں اس کی وضاحت ہے:

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حکم کہ پانی پانی کے سبب سے ہے (غسل نزول منی کے سبب سے ہے ) ابتداء اسلام میں تھا جب اسلام مستحکم ہو گیا تو اس سے منع کر دیا گیا۔ (شرح معانی الآثار :۳۱۶ سنن ابوداؤد :۳۱۵- 314 سنن ترمذی: 111-۱۱۰)

حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کو پانی کے سبب سے جو کہا تھا، یہ اول اسلام میں رخصت تھی، پھر اس سے منع کردیا اور غسل کرنے کا حکم دیا۔ (شرح معانی الآثار: 317، سنن ابوداؤد : ۳۱۵- 314، سنن ترمذی: ۱۱۱-۱۱۰)

محمود بن لبید نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا : ایک شخص اپنی بیوی سے جماع کرتا ہے پھر اس کو تھکا دیتا ہے اور انزال نہیں ہوتا ؟ حضرت زید نے کہا: وہ غسل کرے گا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص ۸۸)

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم یہ کہتے تھے : جب ختنہ کی جگہ ختنہ کی جگہ سے مس کرے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔

( صحیح بخاری : ۲۹۱ صحیح مسلم : 348 سنن نسائی: 391، سنن ابن ماجہ : ۶۱۰ شرح معانی الآثار : ۳۲۱)

حبیب بن شہاب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں: میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ غسل کو کیا چیز واجب کرتی ہے؟ انہوں نے کہا : جب آلہ کا سر غائب ہوجائے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ا ص ۸۶ ادارۃ القرآن’ کراچی)

یہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ پہلا حکم کہ جب جماع بغیر انزال کے ہو تو اس سے صرف وضوء واجب ہوتا ہے، غسل واجب نہیں ہوتا، منسوخ ہوچکا ہے۔

اس کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے:

عبید بن رفاعہ انصاری بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اور یہ ذکر کر رہے تھے کہ انزال سے غسل واجب ہوتا ہے اور حضرت زید نے کہا: جب تم میں سے کوئی شخص جماع کرے اور انزال نہ ہو تو وہ اپنی شرم گاہ کو

دھوئے اور صرف نماز کا وضوء کرلے، پھر مجلس میں سے ایک شخص اٹھ کر گیا اور اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر دی، حضرت عمر نے کہا: تم خود جاؤ اور حضرت زید کو لے کر آؤ تا کہ تم ان پر گواہ ہو، وہ شخص حضرت زید کو لے کر آیا اور حضرت عمر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر اصحاب بھی بیٹھے ہوئے تھے،  ان میں حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما بھی تھے حضرت عمر نے حضرت زید سے کہا: تم اپنی جان کے دشمن ہو اور لوگوں کو یہ فتویٰ دیتے ہو، حضرت زید نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اپنی طرف سے یہ فتویٰ نہیں دیا لیکن میں نے اپنے دو چچاؤں سے یہ سنا ہے، حضرت رفاعہ بن رافع اور حضرت ایوب انصاری سے، حضرت عمر نے ان اصحاب سے کہا: اب آپ لوگ کیا کہتے ہیں، پس ان میں اختلاف ہو گیا ، حضرت عمر نے کہا: اے اللہ کے بندو! تم بہترین لوگ ہو، اہل بدر ہو، میں تمہارے بعد اور کس سے پوچھوں گا؟ حضرت علی نے کہا : آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کی طرف پیغام بھیجئے ، پھر جو حکم بھی ہوگا وہ ظاہر ہوجائے گا، پھر حضرت عمر نے حضرت حفصہ کی طرف پیغام بھیجا انہوں نے کہا: مجھے اس کا علم نہیں، پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا: جب ایک ختنہ کی جگہ دوسرے ختنہ کی جگہ سے تجاوز کرے گی تو غسل واجب ہوجائے گا۔ ( جامع المسانيد لابن الجوزی: ۷۵۴۱ المسند ج 6 ص ۴۷، صحیح مسلم : ۳۴۹) اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اب اگر مجھے علم ہوا کہ کسی نے یہ کام کیا ہے پھر غسل نہیں کیا تو میں اس کو عبرت ناک سزا دوں گا۔ (شرح معانی الآثار : 324، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص ۸۷)

امام ابو جعفر احمد بن الطحاوی الحنفی المتوفی ۳۲۱ ھ لکھتے ہیں :

ہم نے ان آثار کو جو روایت کیا ہے، ان سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف دو شرم گاہوں کے ملنے اور دخول سے غسل واجب ہوجاتا ہے خواہ انزال نہ ہوا اور صرف وضوء کرنے کا حکم ان احادیث اور آثار سے منسوخ ہوگیا۔

قیاس سے اس کا ثبوت کہ نفس دخول غسل کا موجب ہے خواہ انزال نہ ہو

اور طریق نظر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرج میں جماع کرنا حدث ہے خواہ انزال نہ ہو، اب ایک قوم یہ کہتی ہے کہ یہ اغلظ حدث ہے اور اغلظ طہارت کو واجب کرتا ہے جو غسل ہے اور دوسری قوم یہ کہتی ہے: یہ اخف حدث ہے اور یہ اخف طہارت کو واجب کرتا ہے جو وضوء ہے ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ دو شرم گاہوں کا ملنا اور دخول اغلظ اشیاء ہے، حتی کہ ایک آدمی روزے میں یا حج میں دخول کرے خواہ انزال نہ ہو تو اس سے اس کا روزہ اور حج فاسد ہوجائے گا اور اس پر روزہ اور حج کی قضاء لازم ہوگی اور حج کی قضاء کرنی لازم ہوگی اور روزے میں قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے اور اگر اس کو انزال ہوجائے تب بھی قضاء اور کفارہ ہی لازم ہوگا اور اس سے کچھ زیادہ لازم نہیں ہوگا، اس سے معلوم ہوا کہ انزال سے کچھ فرق نہیں پڑتا’ اس لیے صرف شرم گاہوں کا ملنا اور نفس دخول ہی اغلظ حدث ہے، اس لیے اس سے اغلظ طہارت واجب ہوگی اور وہ غسل ہے۔

نظر کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اگر کوئی انسان کسی اجنبی عورت کی شرم گاہ میں اپنی شرم گاہ کو داخل کرے اور انزال سے پہلے اپنے آلہ کو نکال لے تو اس پر حد واجب ہوگی اور اگر اس کو انزال ہوجائے پھر بھی حد واجب ہوگی اور اس میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اس سے

بھی معلوم ہوا کہ اغلظ حدث صرف نفس دخول ہے خواہ انزال نہ ہو اس لیے اغلظ طہارت واجب ہوگی، جو غسل ہے اور یہی امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد اور عام فقہاء کا قول ہے۔ (شرح معانی الآثار ج اص ۷۹۔ ۷۷ ملخصا قدیمی کتب خانہ کراچی)

دو شرم گاہوں کے ملنے سے خواہ انزال نہ ہو، وجوب غسل کے حکم میں امام مالک، امام احمد اور شافعی کی تصریح

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں :

فقہاء کی جماعت کا یہ مذہب ہے کہ جب دو شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے، خواہ انزال نہ ہوا جیسا کہ صحیح البخاری : ۲۹۱ میں اس کی تصریح ہے اور داؤد ظاہری کے سوا فقہاء تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء کا بھی یہی مذہب ہے۔

( شرح ابن بطال ج ا ص ۴۰۹)

علامہ احمد بن محمد قدامہ حنبلی متوفی ۶۲۰ ھ اور علامہ عبد الرحمان بن محمد بن قدامہ حنبلی متوفی ۶۸۲ ھ لکھتے ہیں:

جب آلہ کا سر عورت کے اندام نہانی میں غائب ہوجائے، خواہ انزال نہ ہو تو اس سے غسل بالاتفاق واجب ہوجاتا ہے، اس میں صرف داؤد ظاہری نے اختلاف کیا ہے اس نے کہا: اس سے صرف وضوء واجب ہوتا ہے۔ (المغنی ج ا ص ۲۶۶ دار الحدیث قاہر ۱۴۲۵ھ )

علامہ ابوالحسن علی بن محمد ماوردی شافعی متوفی ۴۵۰ ھ لکھتے ہیں :

داؤد بن علی ظاہری ( غیر مقلدین کے امام) نے کہا ہے کہ اگر دو شرم گاہیں مل جائیں اور انزال نہ ہو تو اس سے غسل واجب نہیں ہوتا اور امام شافعی نے کہا ہے کہ اس سے غسل واجب ہوجاتا ہے، ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو ختنے کی جگہیں مل جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ (صحیح البخاری :۲۹۱)

( الحاوی الکبیر ج ا ص ۲۵۶ – ۲۵۵ ملخصاً، دار الفکر بیروت، ۱۴۱۴ھ )

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۹۳ – ج ا ص ۱۰۳۷ پر مذکور ہے اس کی شرح کا عنوان ہے غسل جنابت کا سبب۔

Exit mobile version