Site icon اردو محفل

کتاب الحیض  باب 6 حدیث نمبر 304

٦ – بَابٌ تَرْكِ الْحَائِضِ الصَّوْمَ

حائض کا روزے کو ترک کردینا

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حائض ایام حیض میں روزوں کو ترک کردے اور وہ بعد میں روزوں کی قضاء کرے گی اس کے برخلاف حائض نمازوں کو جو ترک کرے گی ان کی قضاء نہیں ہے باب سابق کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ یہ دونوں باب حائض کے احکام میں ہیں ۔

٣٠٤- حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَخْبَرَنَا محَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَسلم عَنْ عِيَاضٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِي قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى أَضْحَى أَوْ فِطْرٍ ، إِلَى الْمُصَلَّى، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ،فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْنِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ ، فَإِنِي أُرِيتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ. فَقُلْنَ وَبِمَ يَا رَسُوْلَ اللهِ ؟ قَالَ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقل وَدِيْنٍ اَذْهَبَ لِلْب الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ اِحْدَاكُنَّ قُلْن وَمَا نُقْصَانُ دِيننَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ اليْس شَهَادَةُ الْمَرْاَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ؟ قُلْنَ بَلی قَالَ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا، أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَم تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ ؟ قُلْنَ بَلَى، قَالَ فَذَلِكَ مِنْ نُقصان دينها . اطراف الحدیث : ۱۴۶۲۔۱۹۵۱ – ۲۶۵۸

(صحیح مسلم 79، الرقم مسلسل :4679- ۲۳۷ سنن ابوداؤود ۴۶۷۹ سنن نسائی:۱۵۷۸- ۱۵۷۵ سنن ابن ماجہ:4003، سنن بیہقی ج ۱۰ ص ۱۴۸ شعب الایمان : ۲۹ مسند احمد ج ۲ ص ۶۷ طبع قدیم، مسند احمد: ۵۳۴۳ – ج ۹ ص ۲۴۶ مؤسسة الرسالة بیروت )

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سعید بن ابی مریم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے زید نے خبر دی جو کہ زید بن اسلم ہے از عیاض بن عبدالله از ابی سعید الخدری انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی یا عید الفطر میں عید گاہ کی طرف نکلے آپ خواتین کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت ! تم صدقہ کیا کرو کیونکہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ تم اکثر اہل دوزخ ہو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! وہ کس وجہ سے؟ آپ نے فرمایا: تم لعنت بہت کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو، میں نے کوئی ناقص عقل اور ناقص دین والی ایسی نہیں دیکھی، جو کسی محتاط مرد کی عقل کو زائل کرنے والی ہو انہوں نے کہا: یارسول اللہ ! ہمارے دین اور ہماری عقل کا نقصان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا ایسا نہیں ہے کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی کی نصف کی مثل ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: یہ عورتوں کی عقل کا نقصان ہے، کیا ایسا نہیں ہے کہ عورت کو جب حیض آتا ہے تو وہ نماز پڑھتی ہے نہ روزے رکھتی ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: یہ اس کے دین کا نقصان ہے۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے : عورت کو جب حیض آتا ہے تو وہ نماز پڑھتی ہے نہ روزے رکھتی ہے۔

اس حدیث کے پانچ رجال میں ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔

لعن، کفر اور عقل کے معانی اور عورتوں کا ناقص العقل اور ناقص الدین ہونا، اکثری حکم ہے، کلی نہیں ہے

اس حدیث میں مذکور ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے یعنی اپنے گھر سے یا اپنی مسجد سے عیدگاہ کی طرف نکلے ۔

” اللعن اس کا اسم لعنت ہے، اس کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کرنے کی دعا کرنا۔ اگر بالکلیہ رحمت سے دور کرنا مراد ہو تو یہ لعنت صرف کفار پر کی جاسکتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب خاص سے دور کرنا مراد ہو تو یہ لعنت فساق پر بھی کی جاسکتی ہے۔

یکفرن یہ لفظ کفر سے بنا ہے، اس کا معنی ستر ہے، یعنی نعمت کو چھپانا اور اس کا شکر ادا نہ کرنا یہاں مراد ہے: خاوند کی نافرمانی کرنا۔

عقل، اس کا معنی ہے: روکنا انسان میں جو ادراک کی قوت انسان کو بُرے کاموں سے روکتی ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس کا محل دماغ ہے اور امام شافعی کے نزدیک اس کا محل دل ہے عقل کی کئی تعریفیں ہیں: (۱) یہ وہ قوت ہے، جس سے غائب چیزوں کا ادراک ہوتا ہے (۲) یہ وہ قوت ہے جس سے حقائق اشیاء کا انکشاف ہوتا ہے (۳) یہ وہ قوت ہے جس سے بُرے اور اچھے کاموں کی تمیز ہوتی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا ایسا نہیں ہے کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی کی نصف کی مثل ہوتی ہے؟ اس میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے:

فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتُنِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ. (البقره: 282)

پس اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں، جن کو تم گواہوں میں سے پسند کرلو ۔

اس حدیث پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ہر عورت تو مرد سے ناقص نہیں ہوتی بعض عورتیں مرد سے کامل بھی ہوتی ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے:

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں دنیا کی عورتوں میں سے یہ عورتیں کافی ہیں: مریم بنت عمران خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد اور آسیہ زوجہ فرعون۔

(سنن ترمذی: ۳۸۷۸ مسند احمد ج ۳ ص ۱۳۵، المستدرک ج ۳ ص ۱۵۷ مصنف عبد الرزاق : ۲۰۹۱۹ شرح السنته ج ا ص ۳۴۶)

اس کا جواب یہ ہے کہ جب کل پر کسی چیز کا حکم لگایا جائے تو وہ اس کو مستلزم نہیں ہوتا کہ اس کل کے ہر فرد پر وہ حکم لگایا جائے بعض مردوں کا حافظہ کمزور ہوتا ہے اور بعض عورتوں کا حافظہ بہت قوی ہوتا ہے، بعض مرد غبی ہوتے ہیں اور بعض عورتیں بہت ذہین ہوتی ہیں، لیکن اکثر مردوں کی عقل کامل ہوتی ہے اور اکثر عورتوں کی عقل ناقص ہوتی ہے اور اس حدیث میں اکثریت کے اعتبار سے عورتوں کو ناقص العقل فرمایا ہے اور چونکہ ہر عورت حیض میں مبتلا ہوتی ہے اس لیے ہر عورت کی نماز اور روزے کی عبادت مرد کی عبادت سے کم ہوتی ہے یہ خلقت کے اعتبار سے ہے ورنہ بہت مرد ایسے ہیں، جو نماز پڑھتے ہیں نہ روزے رکھتے ہیں اور بعض عورتیں ان کی بہ نسبت زیادہ نماز پڑھتی ہیں اور زیادہ روزے رکھتی ہیں، سو عورتوں کا دین میں ناقص ہونا یہ بھی اکثری حکم ہے کلی حکم نہیں ہے اور شرع اور عرف میں اکثر افراد پر کل کا حکم لگادیا جاتا ہے۔

خواتین کو وعظ کرنا، عیدین اور جمعہ کے لیے خواتین کو مساجد میں جانے سے فقہاء کا منع کرنا’ وعظ کا طریقہ اور حدیث مذکور کے دیگر متعدد فوائد

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عیدالفطر یا عیدالاضحی کے دن امام کو قوم کے ساتھ نماز عید پڑھنے کے لیے عیدگاہ جانا مستحب ہے۔

عید کے دن مسلمانوں کو نیکیوں اور صدقات کی ترغیب دینی چاہیے کیونکہ اس دن اغنیاء اور فقراء جمع ہوتے ہیں اور اغنیاء کو دیکھ کر فقراء کو حسرت آتی ہے، خصوصا یتیم فقراء اور بیوہ فقراء کو نبی کی ہم نے خصوصاً خواتین کو صدقہ کی ترغیب دی کیونکہ ان میں سے اکثر پر بخل غالب ہوتا ہے۔

اس حدیث سے واضح ہوا کہ نماز عید کے لیے عورتوں کا عیدگاہ میں جانا جائز ہے علماء نے کہا: یہ صرف آپ کے زمانہ کے ساتھ مخصوص تھا لیکن آج کل خوب صورت اور جوان عورت نہ جائے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ( بناؤ سنگھار) کو دیکھ لیتے’ جو عورتوں نے آپ کے بعد ایجاد کیا ہے تو ان کو مساجد میں آنے سے اسی طرح منع کر دیتے، جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو مساجد میں آنے سے منع کر دیا گیا۔ (صحیح البخاری: ۸۶۹ صحیح مسلم : ۴۴۵ سنن ابوداؤد :۵۶۹)

علامہ عینی فرماتے ہیں: حضرت عائشہ کا یہ کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تھوڑے عرصہ بعد کا ہے، لیکن آج کل جو عورتیں اپنے حسن کی نمائش کرتی ہیں، نعوذ باللہ من ذالک، تو انہیں عید یا غیر عید میں گھر سے نکلنے کی بالکل اجازت نہیں دینی چاہیے امام ابو حنیفہ نے ایک بار اجازت دی اور دوسری بار منع کردیا بعض فقہاء نے نوجوان عورتوں کو منع کیا ہے اور بوڑھی عورتوں کو اجازت دی ہے امام مالک اور امام ابویوسف کا یہی مذہب ہے علامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی متوفی 587ھ نے کہا ہے: اس پر اجماع ہے کہ جوان عورت کو عیدین نماز جمعہ بلکہ کسی بھی نماز کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں سے فرمایا ہے:وقَرْنَ فِي بُيُوتِكُن ( الاحزاب : ۳۳) اور تم اپنے گھروں میں رہو کیونکہ ان کا گھر سے نکلنا فتنہ کا سبب ہے اور بوڑھی عورتوں کو نماز عیدین کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت دی جائے گی۔ علامہ نووی نے شرح المہذب میں کہا ہے کہ جوان عورت اور جس پر شہوت آئے اس کا گھر سے نکلنا مکروہ ہے اور جن احادیث میں عورتوں کو نمازعید وغیرہ میں نکلنے کی اجازت دی گئی ہے وہ آپ کے زمانہ کے ساتھ مخصوص ہے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وعظ اور نصیحت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانا چاہیے اور کسی شخص معین کو مخاطب نہیں کرنا چاہیے بلکہ عموم اور شمول کے صیغوں سے خطاب کرنا چاہیے اور یہ کہ صدقہ عذاب کو دور کرتا ہے اور گناہوں کو مٹاتا ہے اور نعمت کا انکار کرنا اور اس کا شکر ادا نہ کرنا حرام ہے اور باعث عذاب ہے اور گفتگو میں کسی پر لعنت کرنا یا اس کو گالی دینا حرام اور فسق ہے اور کفر باللہ کے غیر پر کفر کا اطلاق جائز ہے خواتین نے آپ سے پوچھا کہ ہمارے بہ کثرت دوزخی ہونے کا کیا سبب ہے؟ اس سے معلوم ہوا کہ متعلم استاذ سے سمجھنے کے لیے سوال کرسکتا ہے۔

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حائض کا نماز پڑھنا اور روزے رکھنا منع ہے نماز اس سے ساقط ہوجائے گی اور روزوں کی وہ قضاء کرے گی اور اس میں یہ تصریح ہے کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی کی نصف ہے اور اس حدیث میں نیک کاموں کے لیے چندہ کرنے کی اصل ہے اور اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق عظیم اور آپ کی رحمت اور آپ کی شفقت کا بیان ہے، آپ پر افضل صلوات اور اشرف تحیات نازل ہوں۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۰۳-۴۰۵ ملخصا )

Exit mobile version