١٠ – بَابُ الْإِعْتِكَافِ لِلْمُسْتَحَاضَةِ
مستحاضہ کا اعتکاف
اس باب میں مستحاضہ کے اعتکاف کا بیان کیا گیا ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ یہ جائز ہے اعتکاف کا لغت میں معنی ہے ٹھہرنا اور شرع میں اس کا معنی ہے: مسجد میں روزے کے ساتھ اعتکاف کی نیت سے ٹھہرنا’ باب سابق میں طہارت کے لیے حیض کے خون کو دھونے کا ذکر تھا اور اس باب میں مستحاضہ کے اعتکاف کا ذکر ہے اور اس میں مناسبت یہ ہے کہ یہ دونوں کام عبادت ہیں۔
۳۰۹- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ بَنْ عَبْدِاللهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ اَنَّ النَّبِی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَكَفَ مَعَهُ بَعْضُ نِسَائه وَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ تَرَى الدَّمَ فَرُبَّمَا وَضَعَتِ الطستَ تَحْتَهَا مِنَ الدَّمِ، وَزَعَمَ عِكْرِمَةٌ أَنَّ عَائِشَةَ رَاتْ مَاءَ الْعُصْفُرِ، فَقَالَتْ كَانَ هَذَا شَيْءٌ كَانَتْ فُلَانَةُ تَجدُهُ
اطراف الحدیث : ۳۱۰۔۲۰۳۷/۳۱۱
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسحاق نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں خالد بن عبداللہ نے حدیث بیان کی از خالد از عکرمه از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی ازواج میں سے کوئی اعتکاف میں بیٹھ گئیں اور وہ مستحاضہ تھیں خون کو دیکھتی تھیں، پس بعض اوقات وہ خون کی وجہ سے اپنے نیچے تھال کو رکھ لیتیں ( تاکہ خون مسجد میں نہ گرے ) اور عکرمہ نے کہا: حضرت عائشہ نے زردرنگ کا پانی دیکھا تو انہوں نے کہا: گویا یہ وہی چیز ہے جو فلانہ (زوجہ ) دیکھتی تھیں۔
( سنن ابوداؤد: ۷۶ ۲۴ سنن ابن ماجه : ۱۷۸۰، سنن دارمی: ۸۸۲ ، سنن بیہقی ج ۱ ص 328، سنن الکبری : ٬۳۳۴۶ مسند احمد ج ۶ ص ۱۳۱ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۴۹۹۸ – ج ۴۱ ص ۴۶۰ مؤسسة الرسالة بیروت)
اعتکاف میں بیٹھنے والی آپ کی زوجہ کی تعیین اور مستحاضہ کے اعتکاف میں بیٹھنے کا جواز
اس حدیث میں مذکور ہے: آپ کی بعض ازواج اعتکاف میں بیٹھ گئیں، اس سے مراد کون سی ازواج ہیں، اس میں تین اقوال ہیں : حضرت سودہ بنت زمعہ، حضرت رملہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان اور حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہن۔
اس میں مذکور ہے : جو فلانہ دیکھتی تھی ۔ اس سے مراد وہی زوجہ محترمہ ہیں، جن کے اعتکاف میں بیٹھنے کا پہلے ذکر ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مستحاضہ مسجد میں اعتکاف میں بیٹھ سکتی ہے، مستحاضہ کے حکم میں وہ شخص ہے جس کے پیشاب کے قطرات ہر وقت جاری رہتے ہوں یا جس کے زخم سے خون ہر وقت جاری رہتا ہوں، بہ شرطیکہ ان کا خون یا پیشاب مسجد میں نہ گرے اور اس زمانہ میں عورتیں مسجد میں اعتکاف میں نہ بیٹھیں، انہوں نے اپنے گھر میں نماز پڑھنے کے لیے جو جگہ بنائی ہو وہاں اعتکاف میں بیٹھ جائیں۔ بعض اوقات ڈاکٹر آپریشن کے بعد مریض کے ساتھ پلاسٹک کی تھیلی لگا دیتے ہیں، جس میں اس کا پیشاب جمع ہوتا رہتا ہے ایسے شخص کا مسجد میں آنا جائز نہیں ہے کیونکہ مسجد میں نجاست کا لانا جائز نہیں ہے.
