Site icon اردو محفل

کتاب الحیض  باب 27 حدیث نمبر 328

۲۷ – بَابُ الْمَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَ الْإِفَاضَة

ِ جس عورت کو طواف زیارت کے بعد حیض آجائے

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جس عورت کو طواف زیارت کے بعد حیض آجائے اس کا کیا حکم ہے؟ آیا وہ طواف وداع کو ترک کرکے قافلہ کے ساتھ جاسکتی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں وہ طواف وداع کو ترک کرکے قافلہ کے ساتھ جاسکتی ہے باب سابق کے ساتھ اس کی یہ مناسبت ہے کہ باب سابق میں مستحاضہ کا حکم بیان کیا گیا تھا اور اس باب میں حائض کا حکم بیان کیا گیا ہے اور مستحاضہ اور حائض دونوں ایک جنس سے ہیں۔

۳۲۸ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا :مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْم،ٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ،عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَارَسُولَ اللهِ ، إِنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَى قَدْ حَاضَتْ ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّها تَحْبِسُنَا ، أَلَمْ تَكُن طَافَتْ مَعَكُنَّ ؟. فَقَالُوا بَلَى ، قَالَ فَاخْرُجِي.

صحیح مسلم : ۱۲۱۱ سنن ترمذی: ۹۴۳، سنن نسائی فی الکبری: ۴۱۹۳، مسند الحمیدی: ۲۰۲ ، صحیح ابن حبان : 3902، شرح السنته : ۱۹۷۴، سنن بیہقی ج ۵ ص ۱۶۲ مسند احمد ج ۶ ص ۳۹ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۴۱۱۳، ج ۰ ۴ ص ۱۳۹ مؤسسة الرسالة بیروت

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبردی از عبدالله بن ابى بكر بن محمد بن عمرو بن حزم از والد خود از عمره بنت عبدالرحمان از حضرت عائشہ زوجہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ ! بے شک صفیہ بنت حی (رضی اللہ عنہا ) کو حیض آگیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید یہ ہم کو روکنے والی ہیں، کیا انہوں نے تمہارے ساتھ طواف ( زیارت) نہیں کیا تھا؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: پھر وہ روانہ ہوں۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: بے شک حضرت صفیہ بنت حیی کو (طواف زیارت کے بعد ) حیض آگیا ہے۔

اس حدیث کے چھ رجال ہیں ان کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔

ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ

اس حدیث میں حضرت صفیہ کا ذکر ہے یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کی بیٹیوں میں سے ہیں، فتح خیبر میں یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیدی ہوگئی تھی، آپ نے ان کو آزاد کرکے ان کے ساتھ نکاح کرلیا اور ان کے آزاد کرنے کو ان کا مہر قرار دیا ان کے ساتھ نکاح کرنے کی حکمت یہ تھی کہ ان کو قیدی بنائے رکھنا، ان کے جاہ اور مرتبہ کے خلاف تھا اور کیونکہ یہ نبی زادی تھیں، اس لیے اور کوئی مسلمان ان کے ہم پلہ نہ تھا، اس لیے آپ نے خود ان سے نکاح فرمالیا، ان سے دس احادیث مروی ہیں، امام بخاری نے ان میں سے ایک حدیث روایت کی ہے علامہ واقدی نے کہا ہے : یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں 60 ھ میں فوت ہوگئی تھیں اور دوسروں نے کہا ہے : یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ۳۶ھ میں فوت ہوئی تھیں ۔ (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۴۶۳)

Exit mobile version