٣٤٣- حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ مِنْ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَر قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٌ، عَنِ ابْنِ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزى ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ قَالَ عَمَّارٌ فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ ، فَمَسَحَ وجهة وكفيه. ( جامع المسانيد لابن الجوزی: ۵۶۶۴)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن بشار نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں غندر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از الحکم از ذر از ابن عبدالرحمان بن ابزی از والد خود انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا پھر اپنے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کیا۔
اس حدیث پر بھی مبسوط بحث صحیح البخاری: ۳۴۱ میں گزرچکی ہے تاہم حضرت عمار کی تیمم کے متعلق ہم دیگر روایات بھی بیان کررہے ہیں تاکہ واضح ہوجائے کہ تیمم کے متعلق حضرت عمار کی روایات مضطرب ہیں ۔
تیمم کے متعلق حضرت عمار کی مضطرب روایات
قتادہ بیان کرتے ہیں کہ ان سے سفر میں تیمم کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا : حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہنیوں تک مسح کرے۔
( معرفة السنن والآثار : 325، سنن الکبری ج ۱ ص ۲۱۰ سنن ابوداؤد : 328، البحر الزخار مسند البزار:۱۳۹۰ – ج 4 ص ۲۲۸)
عبیداللہ بن عبدالله از والد خود از حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کندھوں تک تیمم کیا ہے ۔
معرفته السمن والآثار : ۳۱۷ السنن الکبری ج ۱ ص ۲۰۵ – ۲۰۴ سنن ابن ماجه : ۵۵۶ ، سنن ابوداؤد : ۳۲۰ شرح السنه ج ۲ ص ۱۰۴)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے تیمم کی رخصت نازل کی تو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، انہوں نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے پھر اپنے چہروں اور ہاتھوں پر کندھوں تک مسح کیا اور ہاتھوں کے باطن سے بغلوں تک مسح کیا۔ ( معرفة السنن والآثار :320،سنن الکبری ج اص 209 سنن ابوداؤد: ۳۲۰)
ابوموسیٰ اور ابن الزبیر نے حضرت عمار سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے ان کو چہرے اور کلائیوں تک لوٹا دیا۔( معرفته السنن والآثار : ۳۳۷)
حضرت عمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں صرف اس طرح کرنا کافی ہے آپ نے اپنے ہاتھ کو زمین پر مٹی کی طرف مارا پھر اس پر پھونک ماری اور اپنے چہرے پر اور ہاتھوں کے جوڑ تک مسح کیا اور اس میں کلائیوں کا ذکر نہیں ہے ۔ ( معرفیۃ السنن والآثار: 323، سنن ابوداؤد : 326، صحیح ابن خزیمہ :270، السنن الکبری ج اص ۲۰۹)
حضرت عمار بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں صرف اس طرح کرنا کافی تھا، پھر آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان پر پھونک ماری، پھر ان کے ساتھ اپنے چہرے اور اپنے ہاتھوں پر نصف کلائیوں تک مسح کیا۔(سنن ابوداؤد : ۳۲۳-٬۳۲۲ مصنف عبد الرزاق: ۹۱۵)
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھونک ماری اور اس کے ساتھ اپنے چہرے اور ہتھیلیوں پر کہنیوں تک یا کلائیوں تک مسح کیا۔ (سنن ابوداؤد: ۳۲۵)
حضرت عمار بیان کرتے ہیں کہ میں مسلمانوں کے ساتھ تھا، حتی کہ یہ رخصت نازل ہوگئی کہ جب ہمیں پانی نہ ملے تو ہم مٹی سے تیمم کرلیں، پس ہمیں یہ حکم دیا گیا کہ ہم ایک بار چہرے کے لیے زمین پر ہاتھ ماریں اور دوسری بار کہنیوں سمیت ہاتھوں کے لیے زمین پر ہاتھ ماریں ۔ (البحر الزخار مسند البزار: ۱۳۸۴ – ج 4 ص ۲۲۱ مكتبة العلوم والحکم المدینہ المنورة 1324ھ سنن ابوداؤد : 325، مسند ابویعلی : ۱۶۳۰)
حضرت عمار کی یہی وہ حدیث ہے، جو قابل عمل ہے اور دوسری احادیث صحیحہ کے موافق ہے اور امام ابوحنیفہ امام مالک اور امام شافعی نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے اور اگر یہ حدیث امام بخاری کے معیار پر پوری نہیں تو کوئی حرج نہیں، امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے معیار پر پوری ہے اور انہوں نے اس سے اس وقت استدلال کیا جب امام بخاری پیدا بھی نہیں ہوئے تھے ہو سکتا ہے کہ بعد میں اس کی سند میں کوئی ایسا راوی آگیا ہو، جس کی وجہ سے یہ حدیث امام بخاری کے معیار سے گرگئی ہو لیکن امام ابوحنیفہ امام مالک اور امام شافعی امام بخاری پر مقدم ہیں، سو جس سند سے ان کو یہ حدیث پہنچی اس میں وہ راوی نہ تھا، لہذا امام بخاری کے معیار پر پوری نہ ہونے کی وجہ سے یہ لازم نہیں آتا کہ حدیث فی نفسہ صحیح نہ ہو حافظ ابن حجر عسقلانی اس نکتہ کو نہ سمجھ سکے اور انہوں نے امام بخاری کی تائید میں اس حدیث کو فاسد الاعتبار قرار دے دیا۔
حضرت عمار سے تیمم کے متعلق جو احادیث مروی ہیں ان میں مذکور ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیلیوں پر مسح کے لیے فرمایا اور ہاتھوں کے جوڑ یعنی پہنچوں تک مسح کے لیے فرمایا اور نصف کلائیوں تک مسح کے لیے فرمایا اور کہنیوں تک مسح کے لیے فرمایا اور آپ نے اور مسلمانوں نے کندھوں تک مسح کیا اور بغلوں تک مسح کیا اور دوضربوں کے ساتھ چہرے اور کہنیوں سمیت ہاتھوں پر مسح کیا، سو حضرت عمار کی حدیث میں اتنا شدید اضطراب ہے اور جو حدیث مضطرب ہو وہ لائق استدلال نہیں ہوتی پھر حافظ ابن حجر کا اس مضطرب حدیث کی صحت پر اصرار کرنا اور اس کو ترجیح دینا سخت باعث حیرت ہے جب کہ جمہور فقہاء نے اس مضطرب روایت کو مسترد کردیا ہے۔
