Site icon اردو محفل

کتاب الصلوۃ  باب 26  حدیث نمبر 389

٢٦ – بَابٌ إِذَا لَمْ يُتِمَّ السُّجُودَ

جب کوئی شخص مکمل سجدہ نہ کرے

اس باب میں بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص مکمل سجدہ نہ کرے تو اس پر وعید شدید ہے اس باب کی اس سے پہلے مذکور اس باب کے ساتھ مناسبت ہے جس میں کپڑے پر سجدہ کرنے کا جواز بیان کیا گیا تھا، ان دونوں بابوں سے سجدہ کرنے کا حکم بیان کیا گیا ہے۔

۳۸۹ – أَخْبَرَنَا الصَّلْتُ بَنْ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا مَهْدِي ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ أَبِى وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ انَّهُ رَای رَجُلًا لا يتم رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ ، فَلَمَّا قَضى صَلوتَهُ ، قَالَ لَهُ حُذَيْفَهُ مَا صَلَّيْتَ . قَالَ وَاحْسِبُهُ قَالَ لَوْ مُتَ مُتَ عَلَى غَيْرِ سُنَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم . [ اطراف الحديث : 791- ۸۰۸]

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں الصلت بن محمد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں مہدی نے خبر دی از واصل از ابي وائل از حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ انہوں نے ایک شخص کو دیکھا وہ پورا رکوع اور پورا سجدہ نہیں کررہا تھا جب اس شخص نے نماز پڑھ لی تو حضرت حذیفہ نے اس سے کہا: تم نے نماز نہیں پڑھی اور میرا گمان ہے انہوں نے کہا: اگر تم (اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے ) مرگئے تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غیر پر مرو گے۔

( سنن نسائی : ۱۳۱۱ مصنف عبد الرزاق: 3732، 3733 مسند البزار: ۲۸۱۹ صحیح ابن حبان : 1894، شرح السنة : ۶۱۲ سنن بیہقی ج ۲ ص 386 السنن الكبرى للنسائي : 1235 – ۶۰۸ مسند احمد ج 5 ص 384 طبع قدیم، مسند احمد : ۲۳۲۵۸ – ج ۳۸ ص ۲۹۴ مؤسسة الرسالة بیروت)

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ جو شخص جلدی جلدی نماز پڑھے اور کامل سجدہ نہ کرے اس کو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ وعید سنائی ہے کہ اگر وہ اسی طرح نماز پڑھتا رہا تو رسول الله  صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر نہیں مرے گا۔

حدیث مذکور کے رجال

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں :

(1) الصلت بن محمد بن عبد الرحمان الخار کی البصری، ان کی نسبت الخارک کی طرف ہے، یہ جگہ بصرہ کے سواحل میں سے ہے

(۲) مہدی بن میمون ابو یحیی الازدی،  یہ ۱۷۲ھ میں فوت ہوگئے تھے

(۳) واصل بن حبان، یہ کبڑے تھے

(۴) ابو وائل شقیق بن سلمہ

(۵) حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ- (عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۸۱)

رکوع اور سجود کو طمانیت کے ساتھ ادا کرنے میں مذاہب ائمہ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا: تم نے نماز نہیں پڑھی اس کا معنی یہ ہے کہ تم نے کامل نماز نہیں پڑھی، کیونکہ نفس رکوع اور نفس سجدہ نماز میں فرض ہے اور رکوع اور سجدہ میں طمانیت امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک سنت ہے اور امام شافعی اور امام ابو یوسف کے نزدیک رکوع اور سجود میں طمانیت فرض ہے ان کے نزدیک ایسی نماز حقیقہ نہیں ہوتی اور اس نماز کو دوبارہ پڑھنا فرض ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۸۱ دار الكتب العلمیة بیروت 1421ھ )

تعدیل ارکان کا امام ابوحنیفہ کے نزدیک واجب ہونا

علامه سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی ۱۲۵۲ ھ لکھتے ہیں:

قاضی الصدر نے اپنی شرح میں تعدیل ارکان میں بہت تشدید کی ہے، انہوں نے کہا: امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک ہر رکن کو مکمل کرنا واجب ہے اور امام ابو یوسف اور امام شافعی کے نزدیک فرض ہے، لہذا رکوع سجود اور قومہ کے درمیان اتنی دیر ٹہرے کہ ہر عضو مطمئن ہوجائے اور یہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک واجب ہے حتی کہ اس کو ترک کیا یا اس میں سے کچھ کو ترک کیا تو اس پر سجدہ سہو کرنا لازم ہے اور اگر عمدا ترک کیا تو بہت شدید مکروہ ہے اور اس پر لازم ہے کہ وہ نماز دوبارہ پڑھے اور یہ ترتیب کے ساقط ہونے میں بھی معتبر ہے (یعنی جس نے پانچ نمازیں ایسی پڑھیں وہ صاحب ترتیب نہیں رہے گا) جیسے کسی شخص نے حالت جنابت میں طواف کیا تو اس پر اس طواف کا اعادہ لازم ہے اور معتبر پہلا قول ہے۔ ( یعنی تخریج جرجانی کے اعتبار سے امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے

نزدیک تعدیل ارکان سنت ہے اور تخریج کرخی کے اعتبار سے واجب ہے حتی کہ تعدیل کو ترک کرنے سے سہو کے دو سجدے لازم آئیں گے، اسی طرح ہدایہ میں ہے اور دوسرے قول پر کنز، الوقایہ اور ملتقی میں جزم کیا ہے اور دلائل کا تقاضا بھی یہی ہے البحر الرائق میں مذکور ہے کہ اس سے جرجانی کا قول ضعیف ہوجاتا ہے اسی طرح قومہ یعنی رکوع سے اٹھنے میں اور جلسہ یعنی دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے میں بھی تعدیل یعنی طمانیت واجب ہے یہی علامہ ابن ھمام کا مختار ہے، البحر الرائق میں کہا ہے کہ چاروں میں طمانیت واجب ہے یعنی رکوع سجود قومہ اور جلسہ میں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مواظبت ( دوام ) کی ہے اور جس اعرابی نے جلدی جلدی نماز پڑھی تھی آپ نے اسے نماز دہرانے کا حکم دیا تھا اور اس لیے کہ قاضی خان نے کہا ہے کہ جس نے سہوا قومہ کو ترک کردیا تو اس پر سجدہ سہو لازم ہے اور اسی طرح المحیط میں ہے اور دو سجدوں کے درمیان جلسہ کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ سب میں کلام واحد ہے اور ان سب میں طمانیت کو واجب قرار دینا یہ محقق ابن ھمام کا قول ہے اور ان کے شاگرد ابن امیر حاج کا قول ہے حتی کہ انہوں نے کہا: یہی قول صحیح ہے)۔

خلاصہ یہ ہے کہ روایت اور درایت کے اعتبار سے زیادہ صیح تعدیل ارکان کا وجوب ہے اور رہا قومہ اور جلسہ تو مشہور یہ ہے کہ ان میں تعدیل سنت ہے اور وجوب کی بھی روایت ہے اور یہی دلائل کے موافق ہے اور یہی علامہ ابن همام اور ان کے بعد متاخرین کا قول ہے اور تم جان چکے ہو کہ ان کے شاگرد نے کہا: یہی صحیح ہے اور امام ابو یوسف نے ان تمام میں تعدیل کو فرض کہا ہے اور المجمع میں اور العینی نے اسی کو اختیار کیا ہے اور امام طحاوی نے ہمارے تینوں اماموں سے اسی کو روایت کیا ہے اور الفیض میں مذکور ہے کہ اسی میں زیادہ احتیاط ہے اور یہی امام مالک امام شافعی اور امام احمد کا مذہب ہے اور علامہ البرکلی نے ایک رسالہ لکھا ہے: ” معدل الصلاة” اس میں اس مسئلہ کو بہت وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس میں وجوب کے دلائل بہت تفصیل سے بیان کیے ہیں اور ذکر کیا ہے کہ اس کو ترک کرنے سے میں آفات لازم آتی ہیں اور ایک دن اور ایک رات کی نمازوں میں جو اس کے ترک سے مکروبات لازم آتے ہیں ان کی تعداد تین سو پچاس ہے اس رسالہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ (رد المختار ج 2 ص 139 دار احیاء التراث العربی بیروت 1419ھ )

مصنف کے نزدیک بھی راجح یہی ہے کہ رکوع سجود قومہ اور جلسہ کو اطمینان سے ادا کرنا واجب ہے، اول اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ہمیشہ اطمینان سے ادا کیا ہے اور مواظبت اور دوام دلیل وجوب ہے اور ثانی اس لیے کہ جس اعرابی نے ان میں طمانیت کو ترک کیا تھا آپ نے اس کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا تھا اور فرمایا تھا: نماز پڑھو تم نے نماز نہیں پڑھی۔ (صحیح البخاری : ۷۹۳ ) اور ثالث اس لیے کہ اس طرح نماز پڑھنے والے کو حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے وعید سنائی کہ اگر تم اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے مرگئے تو تم رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کے خلاف پر مرو گے۔

Exit mobile version