Site icon اردو محفل

کتاب الصلوۃ  باب 28  حدیث نمبر 391

۲۸ – بَابُ فَضْلِ اِسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ

قبلہ  کی طرف منہ کرنے کی فضیلت

پہلے امام بخاری نے ستر عورت ( شرم گاہ چھپانے ) اور اس سے متعلق ابواب بیان کیے اور یہ نماز کی پہلی شرط ہے اس کے بعد انہوں نے قبلہ کی طرف منہ کرنے کے ابواب کو شروع کیا اور یہ نماز کی دوسری شرط ہے۔ سو امام بخاری نے کہا:

يستقبل بأطْرَافِ رِجْلَيْهِ قَالَهُ أَبُو حُمَيْد عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابو حمید رضی الله عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ( سجدہ میں ) پیروں کی انگلیوں کے سروں کو قبلہ کی طرف رکھتے تھے۔

امام بخاری نے “باب يستقبل القبلة باطراف رجلیہ” میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے اورصحیح البخاری: 828 میں اس مکمل حدیث کو پوری سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔

حضرت ابوحمید کا نام عبدالرحمن بن سعد الساعدی الانصاری المدنی ہے ایک قول یہ ہے کہ ان کا نام المنذر ہے ان پر ان کی کنیت کا غلبہ تھا یہ حضرت معاویہ کے زمانے میں فوت ہوگئے تھے ان سے ۲۶ احادیث مروی ہیں، تین احادیث کی روایت پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں اور ان میں سے ہر ایک ایک حدیث کے ساتھ منفرد ہے۔( خلاصه تذهیب تہذیب الکمال ج ۳ ص 332 دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۲ھ )

حدیث کے اس قطعہ کی باب کے عنوان سے اس طرح مناسبت ہے کہ قبلہ کی طرف منہ کرنے کی فضیلت یہ ہے کہ پورے جسم کو قبلہ کی طرف متوجہ کیا جائے، حتی کہ جب سجدہ کرے تب بھی انگلیوں کے سروں کو قبلہ کی طرف متوجہ کرے اور یہ عمل سنت یا مستحب ہے، در مختار میں زاہدی معتزلی کی اتباع میں اس کو فرض لکھا ہوا ہے یہ صحیح نہیں ہے،  فرض وہ ہوتا ہے جس کے کرنے کا لزوم ایسی دلیل سے ثابت ہو جو قطعی الثبوت بھی ہو اور قطعی الدلالہ بھی ہو اور فرض صرف سجدہ ہے اور سجدہ کی تعریف ہے: پیشانی کو زمین پر رکھنا اور جن اعضاء پر سجدہ موقوف ہے وہ ہاتھ اور گھٹنے ہیں، پیروں پر سجدہ کرنا موقوف نہیں ہے لہذا پیروں کا زمین پر رکھنا بھی فرض نہیں ہے چہ جائیکہ پیروں کی انگلیوں کے سروں کا قبلہ کی طرف متوجہ کرنا فرض ہو درمختار کے علاوہ اور فقہاء احناف کی کسی کتاب میں اس کو فرض نہیں لکھا سب نے اس کو سنت یا مستحب لکھا ہے اس کی پوری تفصیل اور مکمل تحقیق ہم نے شرح صحیح مسلم : ۹۹۸ ۔ ج اص ۱۲۹۹۔۱۲۹۱ میں کر دی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔

۳۹۱ – حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمَهْدِي قَالَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ بنْ سَعْدٍ، عَنْ مَيْمُونِ بن ساءٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا وَاسْتَقْبَل قبلتنا وَأكَلَ ذَبِيحَتَنَا ، فَذلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِي لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةٌ رَسُولِهِ ، فَلَا تُخْفِرُوا اللهَ فِي ذِمَّته۔

اطراف الحدیث: ۳۹۲ ۳۹۳ ( سنن نسائی: ۵۰۱۳-۳۹۷۳)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عمرو بن عباس نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابن مہدی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں منصور بن سعد نے حدیث بیان کی از میمون بن سیاه از حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا که رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہماری (طرح) نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہمارے ذبیحہ کو کھایا پس یہ وہ مسلمان ہے جس کے لیے اللہ کا ذمہ ہے اور اس کے رسول کا ذمہ ہے پس تم اللہ کے ذمہ کو پامال نہ کرو۔

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں قبلہ کی طرف منہ کرنے کا ذکر ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) عمرو بن عباس الاحوازی البصری یہ ۲۳۵ھ میں فوت ہو گئے تھے

(۲) عبد الرحمان بن مہدی بن حسان ابو سعید البصری اللولوی

(۳) منصور بن سعد یہ اللؤلؤی البصری کے صاحب تھے

(۴) میمون بن سیاہ سیاہ فارسی کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: کالا اس کو منصرف اور غیر منصرف دونوں طرح پڑھنا جائز ہے

(۵)حضرت انس بن مالک رضی الله  عنہ(عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۸۵)

خفر “ کا معنی

اس حدیث میں مذکور ہے: ” فلا تخفروا “خفر ” کا معنی ہے: عہد شکنی کرنا۔

جو شخص توحید و رسالت کا اقرار نہ کرے اور فرائض اسلام میں سے کسی فرض کا انکار کرے، وہ کافر حربی ہے

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث کی بعض سندوں میں یہ عبارت ہے: مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا گیا ہے، حتی کہ وہ یہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ (سنن نسائی: ۵۰۱۳) اور اس باب کی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمائی تھی جب بت پرست اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار نہیں کرتے تھے اور جب ان سے کہا جاتا : ” لا اله الا اللہ کہو تو وہ تکبر کرتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو وحدانیت کا اقرار کرنے اور بت پرستی کو ترک کرنے کی دعوت دی، پس ان میں سے جس نے اس کا اقرار کرلیا وہ اسلام کے رنگ میں داخل ہوگیا اور آپ نے دوسرے ان کافروں سے قتال کیا، جو اللہ کی توحید کو مانتے تھے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا انکار کرتے تھے اور تب آپ نے فرمایا: مجھے لوگوں سے قتال کرنے کا حکم دیا ہے حتی کہ وہ یہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور جس نے توحید اور رسالت کا اقرار کیا اور فرائض میں سے کسی چیز کا بھی انکار کیا’ اس کا خون حلال ہے اور وہ حربی کافر ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص 60 -59 دار الکتب العلمیہ بیروت، ۱۴۲۴ھ )

جو شخص توحید و رسالت کا معتقد ہو لیکن کسی کفریہ عقیدہ کا حامل ہو یا توہین رسالت کا مرتکب ہو، وہ بھی کافر ہے

جو لوگ توحید اور رسالت کا اقرار کرتے ہوں لیکن نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور شخص کو بھی نبی مانتے ہوں،  تو وہ بھی کافر ہیں کیونکہ وہ ختم نبوت کے منکر ہیں، اس طرح جو لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صحابی ہونے کا انکار کریں یا یہ کہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صرف چھ مسلمان رہ گئے تھے باقی سب مرتد ہوگئے تھے یا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائیں یا جو قرآن مجید میں تحریف کا عقیدہ رکھیں وہ سب کافر ہیں اسی طرح جس نے آپ کے زمانہ میں یا آپ کے بعد کسی اور نبی کے مبعوث ہونے کو جائز قرار دیا یا جس نے آپ کے علم کو شیطان اور ملک الموت کے علم سے کم کہا یا جس نے آپ کے علم غیب کو بچوں، پاگلوں اور جانوروں کے علم سے تشبیہ دی یا جس نے نماز میں آپ کے خیال کو گدھے اور بیل کے تصور میں ڈوب جانے سے زیادہ بُرا کہا یہ سب لوگ کافر ہیں اور جو شخص ان کی کفریہ عبارات پر مطلع ہوکر اور وجہ کفر کو سمجھ کر ان کو مسلمان سمجھے اور ان کی تعظیم بجالائے وہ بھی کافر ہے خواہ وہ اللہ تعالی کی توحید اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو مانتا ہو اور ہماری طرح نماز پڑھتا ہو اور نماز میں ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرتا ہو یہ اجمالی عبارت ہے۔ اس کی تفصیل اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ کی ان کتابوں میں ہے:

(۱) قہر الدیان علی مرتد بقادیان

(۴) الجزاز الدیانی علی المرتد القادیانی

(۳) رد الرفضته

(۴) تمہید ایمان

(۵) حسام الحرمین

(۲) الکوکب الشبابية

واضح رہے کہ ان لوگوں کے رد میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کی یہ کتابیں سال با سال سے چھپ رہی ہیں اور ان کی تبلیغ تام ہوچکی ہے اور ان لوگوں پر حجت تمام ہوچکی ہے اور جو لوگ ان کفریہ عبارات کے قائل اور معتقد نہیں ہیں، ان پر فتویٰ تکفیر نہیں ہے خواہ وہ اپنے آپ کو شیعہ دیوبندی یا وھابی کہتے ہوں۔

اکابر علماء دیوبند کا اہل سنت و جماعت کے علماء اور عوام پر فتوی تکفیر نہیں ہے

بارہ ربیع الاول 1427ھ / گیارہ اپریل ۲۰۰۶ء کو عید میلاد النبی کے دن نشتر پارک میں بم دھماکا کیا گیا، جس کے نتیجہ میں سٹیج پر بیٹھے ہوئے تقریباً ساٹھ سے زیادہ علماء اہل سنت شہید ہوگئے اس الم ناک موقع پر ممتاز دیوبندی عالم شیخ سلیم اللہ خان کا درج ذیل بیان روز نامہ جنگ میں شائع ہوا، جس سے اس موضوع پر روشنی پڑتی ہے:

جلاؤ گھیراؤ کے بجائے صبر و ضبط سے کام لیا جائے، مولانا سلیم اللہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) صدر اتحاد تنظیمات المدارس دینیہ پاکستان، صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان شیخ الحدیث و مہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی، مولانا سلیم اللہ خان نے ۱۲ ربیع الاول کو نشتر پارک میں دہشت گردی کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے امت مسلمہ کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ سانحہ نشتر پارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں نذرانہ عقیدت و محبت پیش کرنے والے 60 سے زائد شہید اور بہت سے زخمی ہوئے، یہ صرف بنیاد پرست، کلمہ گو، نمازی، چہروں پر ڈاڑھی، سروں پر عمامے اور شرعی لباس میں ملبوس تھے ان کا قصور اسلام و ایمان پر جمے رہنا، اسلام کو اپنی شناخت بنالینا، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عقیدت کے اظہار میں جذباتی انداز اختیار کرنا تھا۔ وہ مسلمان تھے، ان کے نقطہ نظر کے بعض حصوں سے اختلاف رکھنے کے باوجود ہمیں ان کے اس بربریت اور ظلم کے ساتھ شہید اور زخمی کیے جانے کا بے حد افسوس ہے ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ درجات عطا فرمائے، پس ماندگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل عطا فرمائے اور ان کی بہترین کفالت فرمائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلاؤ گھیراؤ کے بجائے صبر و ضبط سے کام لیا جائے اور اتحاد کی فضاء قائم رکھی جائے۔ مولانا سلیم اللہ نے کہا کہ مولانا رشید احمد گنگوہی مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا خلیل احمد سہارنپوری، مولانا اشرف علی تھانوی وغیرہ اکابرین و علماء دیوبند کا بریلوی مکتب فکر سے اختلاف کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن انہوں نے کبھی ان کی تکفیر نہیں کی ان کے بعض نظریات و اعمال سے اختلاف کیا ہے اور ایسا اختلاف ایمان و کفر کا اختلاف نہیں ہوتا بلکہ علماء محققین کے نزدیک تو جتنے فرقے اپنی نسبت اسلام کی طرف کرتے ہیں خواہ قدریہ ہوں یا جبریہ معتزلہ ہوں یا خوارج مرجئہ ہوں یا جہمیہ وغیرہ اسلام سے خارج نہیں ہیں، ان کا مسلک یقینا غلط ہے اور ان سے استدلال میں غلطی ہوئی ہے ۔ انہوں نے اسلام ہی کو اپنا دین سمجھا ہے اس سے بیزاری کا اظہار کبھی نہیں کیا لہذا جب تاویل کی گنجائش رہتی ہے تو ان کو اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مسلم شریف کتاب الایمان میں صفحہ ۱۰۳-۱۰۲ میں بخاری شریف کی کتاب التوحید والرد علی الحجميه ج ۲ ص ۱۱۰۸ – ۱۱۰۷ میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی مفصل روایت ہے۔

(روز نامہ جنگ کراچی جمعرات ۱۴ ربیع الاول 1427ھ/ ۱۳ اپریل 2006 ء)

Exit mobile version