٤٠١ – حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَن مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُاللہ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ إِبْرَاهِيم لا ادْرِی زَادَ أَوْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ قِيْلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللہ أحَدَتْ فِي الصَّلوةِ شَيْءٍ؟ قَالَ وَمَا ذَاكَ؟ قَالوا صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا فَثني رِجْلَيْهِ ، وَاسْتَقْبَلَ الْقبلہ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَلَمَّا أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوجھہ قالَ إِنَّهُ لَوْ حَدَتْ فِي الصَّلوةِ شَيْءٌ لنباتکم بہ ولكن إنما أنا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ، أنسى كَمَا تَنسون فإِذَا نَسِيْتُ فَذَكَرُونِي، وَإِذَا شَكَ أحَدُكُمْ فی الصلوة فَلْيَتَحَرَّى الصَّوَابَ فَلَيْتم عَلَيْهِ ثُمَّ لِسَلم ثم يسجد سجدتين.
اطراف الحدیث : ۴۰۴ – ۱۲۲۶۔۶۶۷۱-۷۲۴۹
صحیح مسلم : ۵۷۲ الرقم المسلسل : 1251، سنن ابوداؤد:۱۰۲۰ سنن نسائی: 1242، سنن ابن ماجه: 1211، مصنف ابن ابی شیبه ج ا ص 246، سنن الکبری 620، المنتقی 196، صحیح ابن خزیمہ: 595، سنن دار قطنی ج اص 339، مسند احمد ج ا ص 438 طبع قدیم، مسند احمد: 4176، جامع المسانيد الابن الجوزی: 4190، مکتبة الرشد ریاض 1426ھ)
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عثمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں جریر نے حدیث بیان کی از منصور از ابراہیم از علقمہ انہوں نے کہا: حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ابراہیم نے کہا: مجھے پتا نہیں اس نماز میں آپ نے کچھ زیادتی کی یا کچھ کمی کی’ پس جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ سے کہا گیا: یارسول اللہ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟ آپ نے پوچھا: اس کا کیا سبب ہے؟ صحابہ نے کہا: آپ نے اس طرح اور اس طرح نماز پڑھی ہے آپ نے اپنے پیر موڑے اور قبلہ کی طرف منہ کیا اور دو سجدے کیئے پھر سلام پھیرا پھر ہماری طرف منہ کرکے فرمایا : اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تمہیں اس کی خبر دیتا، لیکن میں صرف تمہاری مثل بشر ہوں، میں اس طرح بھولتا ہوں جس طرح تم بھولتے ہو، پس جب میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد دلایا کرو اور جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو اسے غور کرکے صحیح بات معلوم کرنی چاہیے پھر اپنی نماز پوری کرنی چاہیے پھر سلام پھیر کر دو سجدے کرنے چاہئیں۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(1) عثمان بن ابی شیبہ
(۲) جریر بن عبدالحمید
(۳) منصور بن معتر
(۴۳) ابراہیم بن یزید النخعی
(۵) علقمہ بن قیس النخعی
(۲) حضرت عبد لله بن مسعود رضی اللہ عنہ(عمدۃ القاری ج 4 ص ۲۰۴)
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس جملہ میں ہے: آپ نے دونوں پیر موڑے اور قبلہ کی طرف منہ کیا، کیونکہ آپ نے سلام پھیرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے تھے۔
آپ کا ہماری مثل بشریت میں حصر کس اعتبار سے ہے اور آپ کس چیز میں ہماری مثل ہیں
اس حدیث میں مذکورہ ہے لیکن میں صرف تمہاری مثل بشر ہوں ۔ ” انما ” کا کلمہ حصر کے لیے ہے لیکن کبھی یہ حصر مطلق کے لیے ہوتا ہے اور کبھی حصر مخصوص کے لیے ہوتا ہے جو قرائن اور سیاق کلام سے سمجھ میں آتا ہے اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اور کچھ نہیں ہوں، صرف بشر ہوں، کیونکہ آپ کی بہت صفات ہیں’ آپ نبی اور رسول ہیں، بلکہ قائد المرسلین میں سید آدم و بنی آدم ہیں رحمتہ للعلمین ہیں، شفیع المذنبین ہیں اللہ تعالیٰ کے نائب مطلق ہیں، اس لیے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہاری مثل بشر ہوں فرشتہ نہیں ہوں یا خدا نہیں ہوں کہ میرے لیے بھولنا محال ہو۔
ایک غور طلب چیز یہ ہے کہ آپ کس چیز میں ہماری مثل ہیں؟ آپ کی کوئی صفت ہماری کسی صفت کی مثل نہیں ہے آپ کا دیکھنا ہمارے دیکھنے کی مثل نہیں ہے آپ آگے پیچھے، دائیں بائیں اوپر نیچے یکساں دیکھتے تھے آپ کے لیے شش جہات ایک جہت کے حکم میں تھیں’ آپ جنات اور فرشتوں کو دیکھتے تھے حتی کہ آپ نے اللہ عزوجل کو دیکھا، اسی طرح آپ حیوانات کی باتیں سنتے تھے جنات اور فرشتوں کی باتیں سنتے تھے خود اللہ عزوجل کا کلام سنتے تھے اس لیے آپ کا سننا’ آپ کا دیکھنا’ آپ کا کسی چیز کو چکھنا اور چھونا کوئی وصف ہمارے کسی وصف کی مثل نہیں ہے بعض لوگوں نے کہا: آپ نفس بشریت میں ہماری مثل ہیں، میں کہتا ہوں : مجرد نفس بشریت خارج میں متحقق نہیں ہے خارج میں جو بشریت ہے وہ بشریت مخصوصہ ہے اور آپ کسی مخصوص بشر کی مثل نہیں ہیں، پھر آپ کس چیز میں ہماری مثل ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آپ خدا نہ ہونے میں ہماری مثل ہیں، جس طرح ہم خدا نہیں ہیں، آپ بھی خدا نہیں ہیں، کسی وجودی صفت میں آپ ہماری مثل نہیں ہیں بلکہ عدمی صفت میں ہماری مثل ہیں، یعنی عدم الوہیت میں آپ ہماری مثل ہیں۔
آپ کے بھولنے اور ہمارے بھولنے کا فرق
اس حدیث میں ہے: میں اس طرح بھولتا ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو۔ لغت میں نسیان ” حفظ اور یاد رکھنے کی ضد ہے اور اصطلاح میں نسیان کا معنی ہے: دل کا کسی چیز سے غافل ہونا یعنی دل کا ایک چیز سے غافل ہوکر دوسری چیز میں مشغول ہونا بلکہ ایک چیز میں شدت اشتعال کی وجہ سے دوسری چیز سے غافل ہوجانا۔ ہمارا نماز میں بھولنا یہ ہے کہ ہم دنیا کی کسی چیز میں شدت اشتغال کی وجہ سے نماز کے کسی رکن کو بھول جاتے ہیں اور آپ کا بھولنا یہ ہے کہ حسن الوہیت کے جلووں میں شدت اشتغال کی وجہ سے نماز کے کسی رکن کو بھول جاتے ہیں، سو ہمارا بھولنا نقص ہے اور آپ کا بھولنا عین کمال ہے۔
آپ نے فرمایا: پس تم مجھے یاد دلا دیا کرو، یعنی میں جب سلام پھیرنے کے قریب پہنچ جاؤں تو مجھے سبحان اللہ کہہ کر یاد دلادیا کرو۔
اُمور تبلیغیہ میں آپ کا بھولنا ممکن نہیں اور احکام کے منسوخ ہونے کا ثبوت
آپ سے کہا گیا: یا رسول اللہ! کیا نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟ اس میں یہ دلیل ہے کہ اسلام میں احکام منسوخ بھی ہوتے رہتے تھے کیونکہ آپ نے فرمایا: اگر نماز میں کوئی نیا حکم نازل ہوتا تو میں تم کو اس کی خبر دیتا۔
قاضی عیاض نے کہا ہے کہ آپ کے بعض افعال میں سہو اور نسیان واقع ہوجاتا تھا لیکن آپ اس پر برقرار نہیں رہتے تھے لیکن اُمور تبلیغیہ میں اور کسی چیز کی خبر دینے میں آپ سے سہو اور نسیان نہیں ہوتا تھا اور یہ ممکن نہیں ہے کہ انبیاء اپنی یا کسی چیز کی واقع کے خلاف خبر دیں عمدا نہ سہوا، صحت میں نہ مرض میں رضا میں نہ غضب میں۔ ( اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ۲ ص ۵۱۴ ملخصا دار الوفا :1419ھ)
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۱۷۶- ج ۲ ص ۱۴۱ پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوان ہیں :
(۱) خصائص مصطفی
(۴) بشریت
(۴) مثلیت
(۴) آپ کا نسیان
(۵) پانچ رکعات کی تصحیح ۔
