٤٠ – بَابُ عِظَةِ الْإِمَامِ النَّاسَ فِي إِثْمَامِ الصَّلوةِ وَذِكْرِ الْقِبْلَةِ
امام کا لوگوں کو نماز پوری کرنے کی نصیحت کرنا اور قبلہ کا ذکر کرنا
اس باب کی ابواب سابقہ کے ساتھ یہ مناسبت ہے کہ ان میں مسجد کے قبلہ کی جانب تھوکنے سے منع فرمایا ہے جو کہ ایک نصیحت ذکر کرنا ہے اور اس باب میں بھی نصیحت کا ذکر ہے۔
٤١٨ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُریرہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ تَرون قبْلَتِي هَاهُنَا؟ فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ ولا ركوعُكُمْ إِنِّي لَا رَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظھری۔
طرف الحديث : 741 ( صحیح مسلم: ۳۲۴ الرقم مسلسل: 933)
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از ابی الزناد از الاعرج از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ که رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ میری توجہ صرف قبلہ کی طرف ہوتی ہے ( اور میں کسی اور طرف نہیں دیکھتا) پس اللہ کی قسم! مجھ پر تمہارا خشوع مخفی ہے اور نہ تمہارا رکوع مخفی ہے اور بے شک میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔
دیکھنے اور دکھائی دینے میں اہل سنت کا موقف اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پس پشت دیکھنے کی کیفیت
اس حدیث میں مذکور ہے کہ پس اللہ کی قسم ! مجھ پر تمہارا خشوع مخفی ہے اور نہ تمہارا رکوع مخفی ہے اور بے شک میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔
آپ کی اس روایت کے مسئلہ میں جمہور کا موقف یہ ہے اور وہی صحیح ہے کہ یہ رویت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص میں سے ہے اور آپ کا دیکھنا اور ادراک حقیقی ہے اور یہ خلاف عادت ہے اسی وجہ سے امام بخاری نے اس حدیث کو علامات نبوت میں بھی ذکر کیا ہے اور اس حدیث میں اشاعرہ کی دلیل ہے جو یہ کہتے ہیں کہ دیکھنے کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ کوئی چیز انسان کے سامنے ہو اور بالمقابل ہو وہ کہتے ہیں کہ چین میں اندھا شخص اندلس کے شہر کو دیکھ لے تو یہ ممکن ہے اور اہل سنت کے نزدیک یہی برحق ہے کہ دیکھنے کے لیے کوئی عضو مخصوص شرط ہے اور نہ کسی چیز کا بالمقابل اور قریب ہونا شرط ہے، اسی وجہ سے انہوں نے یہ کہا ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ممکن ہے اور معتزلہ کرامیہ اور مشبہہ وغیرہ اس کا انکار کرتے ہیں، اور اہل سنت معقول اور منقول دونوں طرح سے اللہ تعالیٰ کے دکھائی دینے کو ثابت کرتے ہیں۔
اس میں بھی اختلاف ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ کے پیچھے کسی طرح دیکھتے ہیں؟ ایک قول یہ ہے کہ آپ کی پیٹھ میں ایک آنکھ تھی جس سے آپ ہمیشہ دیکھتے تھے دوسرا قول یہ ہے کہ آپ کے دو کندھوں میں سوئی کے ناکے کے برابر دو آنکھیں تھیں، جس سے آپ دیکھتے تھے اور کوئی چیز آپ کے دیکھنے میں حاجب نہیں ہوتی تھی، تیسرا قول یہ ہے کہ دیوار قبلہ میں آپ کے لیے پیچھے کی تمام اشیاء کی صورتیں اس طرح منقش ہوجاتی تھیں، جس طرح آئینہ میں صورتیں منعکس ہوجاتی ہیں اور آپ اس میں لوگوں کے افعال کا مشاہدہ کرتے تھے۔
سربراہ قوم کو چاہیے کہ وہ قوم کی عبادات کی نگرانی کرے اور ان کی خطاؤں پر متنبہ کرے
اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا: مجھ پر تمہارا رکوع مخفی ہے نہ خشوع یعنی تمہارا ظاہر اور باطن میرے سامنے عیاں اور بیاں ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ امام اور سربراہ قوم جب قوم کے کسی کام میں کوئی نقص دیکھے تو ان کو متنبہ کرے اور ان کو صحیح کرنے پر ابھارے اور نصیحت کرے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۲۳۳ – ۲۳۲ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ)
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۸۶۲ – ج ۱ ص ۱۲۱۹ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح کا عنوان ہے:
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت بصارت کے دائمی ہونے کا بیان۔
بعض علماء نے کہا ہے کہ آپ کی یہ صفت وقتی اور عارضی تھی’ دائمی نہیں تھی۔ شرح صحیح مسلم میں قرآن مجید اور حدیث سے دلائل دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ آپ کی یہ صفت دائی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاہد اور اعمال امت پر گواہ ہونے سے استدلال کیا ہے اور آپ کے فضائل میں بہت نکات بیان کیے ہیں اور خلیل احمد سہارنپوری نے شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی کے حوالہ سے جو لکھا ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو دیوار کے پیچھے کاعلم نہیں ہے اس کا دلائل سے رد کیا ہے۔ یہ بحث شرح صحیح مسلم ج ۱ ص ۱۲۲۶۔ ۱۲۲۰ پر چھ صفحات میں پھیلی ہوئی ہے۔
اس حدیث کی زیادہ تفصیل اور تحقیق ہم نے صحیح البخاری : ۷۱۸ میں کی ہے۔
