Site icon اردو محفل

کتاب الصلوۃ  باب 45  حدیث نمبر 424

٤٥ – بَابٌ إِذَا دَخَلَ بَيْتًا يُصَلِّى حَيْثُ شَاءَ ، أَوْ حيْثُ أُمِرَ وَلَا يَتَجَسَّسُ

جب کوئی شخص کسی کے گھر میں داخل ہو تو جہاں چاہے نماز پڑھے، یا جہاں اسے حکم دیا جائے اور وہ تجسس نہ کرے

٤٢٤ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْد،ِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَحْمُودِ بن الرَّبِيعِ عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللہ علیہ وَسَلَّمَ اتَاهُ فِي مَنزِلِهِ فَقَالَ أَيْنَ تُحِبُّ أنْ أصَلَّى لک مِن بَيْتِكَ ؟ قَالَ فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى مَكَانِ فَكَبَّرَ النبی صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَفَفْنَا خَلْفَهُ فصلی ركعتين۔

 

اطراف الديث : ۴۲۵ – ۶۶۷-686- 838- 840- 1186- 4009- 4010- 5401- 6423- 6938 –

صحیح مسلم : 33، الرقم المسلسل : 148،  سنن نسائی: ۷۸۴ سنن ترمذی 2647،  سنن ابن ماجہ : 754،  الاحاد والمثانی: 1936، عمل اليوم والليلة للنسائی : ۱۱۰۸ سنن بیہقی ج ۲ ص ۱۸۲ ۱۸۱ صحیح ابن حبان : 1612،  المعجم الکبیر : ۴۹- ج ۱۸ مسند ابوداؤد الطیالسی: ۱۲۴۱ صحیح ابن حبان : ۲۲۳ مسند احمد ج 4 ص 44 طبع قدیم مسند احمد :16482 ج 27 ص ۱۰ مؤسسة الرسالة بیروت

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں عبد اللہ بن مسلمہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے حدیث بیان کی از ابن شہاب از محمود بن الربیع از حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں آئے پس آپ نے فرمایا: تم اپنے گھر میں کسی جگہ چاہتے ہو کہ میں وہاں تمہارے لیے نماز پڑھاؤں؟ حضرت عتبان نے کہا: پس میں نے ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا تو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر پڑھی پس ہم نے آپ کے پیچھے صف بنائی، سو آپ نے دو رکعت نماز پڑھائی۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(1) عبد اللہ بن مسلمہ القعنی

(۲) ابراہیم بن سعید ،یہ حضرت عبد لرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کے پوتے ہیں

(۳) محمد بن مسلم بن شبہب الزہری

(۴) محمود بن الربيع الخزرجی الانصاری الصحابی

(۵) حضرت عتبان بن مالک انصاری السالمی المدنی رضی اللہ عنہ یہ نابینا تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اپنی قوم کے امام تھے ان سے ۱۰ احادیث مروی ہیں صحیح البخاری میں ان کی ایک حدیث ہے یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مدینہ میں فوت ہوگئے تھے ۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۲۴۴)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت پر کرم فرمانا مسجد بیت اور گھر میں نوافل کی جماعت

اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عتبان بن مالک کے گھر آئے۔

علامہ عینی نے لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس ہفتہ کے دن آئے تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے اور ایک روایت میں ہے کہ جمعہ کے دن حضرت عتبان کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے آپ سے کہا: میں چاہتا ہوں آپ میرے گھر تشریف لائیں اور امام ابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انصار کے ایک شخص نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ پیغام بھیجا، آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں مسجد کے لیے ایک جگہ مقرر کردیں جس میں میں نماز پڑھا کروں۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب انسان کبھی عذر کی وجہ سے مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے نہ جاسکے تو اپنے گھر میں نماز پڑھنے کے لیے ایک جگہ مقرر کرلے اس کو مسجد بیت کہتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں دو رکعت نماز جماعت سے پڑھائی اس سے معلوم ہوا کہ گھر میں نوافل کی جماعت کرانا جائز ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر آئے اس سے معلوم ہوا کہ استاذ،  امام اور رئیس کو اپنے متبعین کے گھر ( بلانے پر ) جانا چاہیے۔

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق آپ کی تواضع اور آپ کی جلالت قدر کی دلیل ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۲۴۵)

Exit mobile version