Site icon اردو محفل

کتاب الصلوۃ  باب 48  حدیث نمبر 428

٤٢٨- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ أَعْلَى الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُوبَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَأَنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا قَالُوا لَا وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ فَقَالَ أَنَسٌ فَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَفِيهِ خَرِبٌ وَفِيهِ نَخْلٌ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ ثُمَّ بِالْخَرِبِ فَسُوِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ وَجعﻠُوا عِضَادَتَيْهِ الْحِجَارَةَ وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُوَ يَقُولُ:

اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ

فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجرہ

اطراف الحديث : ١٨٦٨ ، ٢١٠٦ – 2771 – ۲۷۷۹ – ۳۹۳۲ (صحیح مسلم : ۵۲۴ ، الرقم المسلسل : ۱۱۵۳ ، سنن ابوداؤد : ۴۵۳ ، سنن ترمذی : 350 ، سنن نسائی : 701 ، سنن ابن ماجہ : 742 ، مسند ابوداؤد الطیالسی : ۲۰۸۵ ، مسند ابویعلی : 4180 ، صحیح ابن خزیمہ : ۷۸۸ ، صحیح ابن حبان : ۲۳۲۸ ، حلیۃ الاولیاء ج ۳ ص ۸۳ – ۸۴ ، سنن بیہقی ج ۲ ص ۴۳۸ ، شرح السنۃ : 3765 ، جامع المسانید لابن الجوزی : ۳۰۳ مکتبۃ الرشد ریاض 1426ھ)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبدالوارث نے حدیث بیان کی  از ابی التیاح از حضرت انس رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں آئے اور مدینہ کی بلند جگہ میں ایک قبیلہ میں ٹھہرے جن کو بنو عمرو بن عوف کہا جاتا تھا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں چودہ راتیں قیام کیا پھر آپ نے بنو النجار کو بلایا پس وہ لوگ تلواریں لٹکائے ہوئے آئے گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے ہیں اور بنو النجار کی جماعت آپ کے اردگرد ہے حتیٰ کہ آپ کی سواری حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر کے صحن میں ٹھہر گئی اور آپ یہ پسند کرتے تھے کہ جس جگہ نماز کا وقت آجائے وہیں نماز پڑھ لیں اور آپ بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے اور بے شک آپ نے مسجد بنانے کا حکم دیا پھر آپ نے بنو النجار کی جماعت کی طرف پیغام بھیجا پس آپ نے فرمایا: اے بنو النجار! مجھے اپنا یہ باغ قیمت دے دو انہوں نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت صرف اللہ سے لیں گے حضرت انس نے کہا: اس باغ میں وہ چیزیں تھیں جو میں تم کو بتاتا ہوں اس میں مشرکین کی قبریں تھیں اور اس میں کھنڈرات تھے اور اس میں کھجور کے درخت تھے پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مشرکین کی قبروں کو کھودا جائے سو ان کو کھودا گیا پھر آپ نے حکم دیا کہ کھنڈرات کو ہموار کیا جائے سو ان کو ہموار کیا گیا اور کھجور کے درختوں کو کاٹنے کا حکم دیا گیا سو ان کو کاٹ دیا گیا اور مسجد کے قبلہ کی طرف ان درختوں کی قطار لگا دی گئی اور اس کے دو ستون پتھروں کے بنا دیئے وہ پتھروں کو اٹھا کر لا رہے تھے اور رجز پڑھ رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے اور آپ فرما رہے تھے:

ِاے اللہ! آخرت کی بھلائی کے سوا اور کوئی بھلائی نہیں ہے

پس تو انصار اور مہاجرین  کو بخش دے:

اس حدیث کے چار رجال ہیں:

(۱) مسدد بن مسرهد

(۲) عبدالوارث بن سعید اللتیمی

(۳) ابوالتیاح یزید بن حمید الضبعی

(۴) حضرت انس بن مالک رضی الله عنہ

( عمدۃ القاری ج 4 ص ۲۵۸)

مدینہ منورہ آنے کی تاریخ

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

حاکم نے لکھا ہے کہ تواتر سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں ۸ ربیع الاول کو پیر کے دن آئے تھے اور الخوارزمی نے لکھا ہے: اس وقت آپ کی عمر تریپن (۵۳) سال تھی ۔ طبقات ابن سعد میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 4 ربیع الاول کو پیر کی شب غار سے نکلے تھے اور ایک قول ہے کہ بارہ ربیع الاول کو غار سے نکلے تھے اور حضرت کلثوم بن ھدم کے پاس ٹھہرے تھے اور ہمارے نزدیک یہی ثابت ہے اور حضرت جابر سے منقول ہے کہ جب آپ مدینہ آئے تو آپ نے ایک اونٹ ذبح کیا۔

(عمدۃ القاری ج5  ص ۲۶۲)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بنو النجار سے باغ خریدنا

اس حدیث میں مذکور ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو النجار سے فرمایا: مجھے اپنا یہ باغ قیمتا دے دو انہوں نے کہا: نہیں ! ہم اس باغ کی قیمت صرف اللہ تعالیٰ سے لیں گے، اس کا معنی یہ ہے کہ ہم آپ سے اس کی قیمت طلب نہیں کریں گے بلکہ ہم آپ کو یہ باغ بلا معاوضہ دیں گے اور اس کی قیمت یعنی اس کا اجر اللہ تعالیٰ سے لیں گے، امام محمد بن سعد نے الواقدی سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ باغ دس دینار میں خرید لیا تھا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کی قیمت ادا کی تھی۔

علامہ ابو العباس احمد بن عمر القرطبی المتوفی ۶۵۶ ھ لکھتے ہیں:

یہ باغ سہل اور سہیل نام کے دو یتیم لڑکوں کا تھا۔ (وفاء الوفاء ج ا ص ۳۲۳) اور اس کی قیمت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ادا کی تھی ۔ (الطبقات الکبری لابن سعد ج ا ص ۲۴۰ ۲۳۹) اگر یہ روایت صحیح ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باغ کو بغیر قیمت کے قبول نہیں فرمایا تھا کیونکہ یہ باغ دو یتیم لڑکوں کا تھا اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ جس دیہات یا بستی میں رہائش ہو وہاں جمعہ قائم کرنے کے لیے شعائر اسلام کے اظہار کے لیے مسجد بنانا جائز ہے۔ (فقہاء احناف کے نزدیک یہ ابتداء کا واقعہ ہے بعد میں جمعہ کے لیے شہر کا ہونا شرط قرار دیا گیا’ جیسا کہ اپنے مقام پر یہ بحث آئے گی ۔ سعیدی غفرلہ )

ضرورت کی بناء پر مشرکین کی قبروں کو کھودنے کا جواز

اس حدیث میں مذکور ہے کہ مشرکین کی قبروں کو کھودا گیا۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ان قبروں کو کھودنا اور ان کے مردوں کو قبروں سے نکالنا کس طرح جائز تھا، اور قبر مردے کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے اور اس میں مردہ کو محفوظ کیا جاتا ہے اسی وجہ سے قبر کو بیچنا اور اس قبر سے مردہ کومنتقل کرنا، ناجائز ہوتا ہے تو اس کے دو جواب میں ایک یہ کہ جس زمین میں ان مشرکین کو دفن کیا گیا تھا وہ ان کی ملکیت نہ تھی، بلکہ وہ زمین غصب شدہ تھی دوسرا جواب یہ ہے کہ قبر میں مردہ کا محفوظ ہونا وغیرہ یہ مسلمان کی قبر کے احکام میں سے ہے کیونکہ مسلمانوں کو قبروں میں دفن کرنا عبادت کے قبیل سے ہے اور کفار اور مشرکین کا قبروں میں مدفون ہونا از قبیل عبادت نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ضرورت کی وجہ سے ان کی قبروں کو کھودنا جائز ہے،کیونکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بتایا کہ ابو رغال کی قبر میں اس کے ساتھ سونا مدفون ہے تو صحابہ نے اس کی قبر کو کھود کر وہ سونا نکال لیا تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رجز پڑھنا، آپ سے تعلیم شعر کی نفی کے خلاف نہیں ہے

اس حدیث میں مذکور ہے کہ وہ رجز پڑھ رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ رجز پڑھ رہے تھے۔

اس میں اختلاف ہے کہ آیا رجز بھی شعر کی اقسام سے ہے یا نہیں؟ اور صحیح یہ ہے کہ یہ بھی شعر کی قسم سے ہے کیونکہ شعر اس کلام موزون کو کہتے ہیں جس میں قافیہ کی رعایت کی جائے اور رجز بھی اسی طرح سے ہے۔

بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ رجز اس لیے شعر نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجز پڑھا ہے اگر رجز شعر ہو تو لازم آئے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعر کا علم تھا حالانکہ قرآن مجید میں ہے: ” وَمَا عَلَّمْنَهُ الشَّعْرَ (یس: 69 ) ہم نے آپ کو شعر نہیں سکھایا۔ یہ قوال صحیح نہیں ہے کیونکہ جو ایک یا دو شعر پڑھ لئے اس پر شاعر کا اطلاق کیا جاتا ہے نہ ہی یہ کہا جاتا ہے کہ اس کو شعر کا علم ہے۔

مصنف کے نزدیک اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ اہل عرب اس کلام کو شعر کہتے تھے جس میں خیال آرائی اور مبالغہ اور جھوٹ بو، اسی وجہ سے وہ قرآن مجید کو شعر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر کہتے تھے کہ جنت،  دوزخ،حور اور غلمان وغیرہ یہ سب خیال آفرینی اور مبالغہ آرائی ہے اللہ تعالٰی نے اس کا رد فرمایا کہ ہم نے اپنے نبی کو شعر نہیں سکھایا یعنی خیال آفرینی اور جھوٹ کی تعلیم نہیں دی ورنہ کلام موزون کے اعتبار سے تو قرآن مجید کی بہت سورتوں میں کلام موزون اور کلام منظوم ہے ( مثال سورۃ الکوثر کو دیکھ لیں ) تو اگر کلام موزوان پر شعر ہونے کا مدار ہے تو قرآن مجید کی بہت سی سورتیں شعر قرار پائیں گی۔

سماع پر علامہ قرطبی کا تبصرہ

نیز علامہ قرطبی لکھتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رجزیہ کلام پڑھا ہے، اس سے صوفیہ نے سماع کی اباحت پر استدلال کیا ہے، لیکن انہوں نے اس میں افراط کیا ہے اور حد جواز سے تجاوز کیا ہے اور آلات موسیقی جو حرام ہیں، ان کو مباح کہا ہے اور رقص کرنے کو بھی جائز کہا ہے اور یہ مجنونوں، باطل پرستوں اور فساق کے افعال ہیں اور یہ لوگ شریعت میں ان چیزوں کو داخل کردیتے ہیں، جو شریعت میں داخل نہیں ہیں، اللہ تعالی اپنے فضل اور احسان سے ہمیں ان کاموں سے محفوظ اور مامون رکھے۔ (آمین )

المفہم ج ۲ ص ۱۲۴-۱۲۱ ملخصا” دار ابن کثیر بیروت 1420ھ )

شیخ عبدالعزیز بن باز کا اولیاء اللہ کے مولد کے نزدیک مسجد بنانے پر اعتراض اور مصنف کے جوابات

اس حدیث کی شرح میں حافظ شباب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی المتوفی ۸۵۲ھ نے بھی لکھا ہے:

البیضاوی نے کہا ہے کہ جب یہود اور نصاری انبیاء علیہم السلام کی تعظیم کے لیے ان کی قبروں کو سجدہ کرتے تھے اور ان کی قبروں کو اپنی نمازوں کا قبلہ قرار دیتے تھے اور ان کی قبروں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے اور انہوں نے ان کی قبروں کو بت بنالیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ایسا کرنے سے منع فرمایا،  لیکن جن لوگوں نے صالحین کی قبر کے جوار اور قرب میں مسجد بنائی اور ان کے قرب سے حصولِ برکت کا قصد کیا نہ کہ ان کی تعظیم کا اور ان کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا، تو وہ اس وعید میں داخل نہیں ہیں ۔

(فتح الباری ج ا ص  524 دار نشر الكتب الاسلامی 1401ھ، فتح الباری ج ۲ ص 82 دار المعرفة بیروت )

شیخ عبدالعزيز بن عبداللہ بن باز، اس کے حاشیہ پر لکھتے ہیں:

اس عبارت کا غلط ہونا واضح ہے، صحیح یہ ہے کہ یہ حرام ہے اور یہ بھی ان احادیث کے تحت داخل ہے، جن میں قبروں کو مسجد بنانے سے منع فرمایا ہے۔ ( حاشیہ عبد العزیز بن باز فتح الباری ج ا ص ۵۲۵ مطبوعہ لاہور )

میں کہتا ہوں کہ شیخ عبدالعزیز بن باز نے جو لکھا ہے وہ صراحتا اور بدا ہتہ غلط ہے، قبر پر مسجد بنانے کا معنی یہ ہے جیسا کہ علامہ عینی نے علامہ الطند نیجی سے نقل کیا ہے کہ قبر کو ہموار کرکے اس کے اوپر مسجد بنائی جائے اور اس پر نماز پڑھی جائے ۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص 257 دارالکتب العلمیہ بیروت) اور یہ ہمارے نزدیک بھی جائز نہیں ہے اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے جس کو جائز کہا ہے وہ یہ ہے کہ کسی مرد صالح اور ولی اللہ کے قرب میں مسجد بنائی جائے اور نماز میں اس کی تعظیم کا قصد کیا جائے نہ اس کی طرف منہ کیا جائے اور حدیث میں اس کی ممانعت نہیں ہے۔ حدیث میں اس بات کی ممانعت ہے کہ قبر کی طرف منہ کرکے صاحب قبر کی تعظیم کے قصد سے نماز پڑھی جائے اور اس کی ممانعت نہیں ہے کہ نہ صاحب قبر کی طرف منہ کیا جائے اور نہ اس کی تعظیم کے قصد سے نماز پڑھی جائے ۔ کیا شیخ عبدالعزیز بن باز کے نزدیک ان دونوں باتوں میں فرق نہیں ہے! قبر کی طرف منہ کرنے اور نہ کرنے یعنی اثبات اور نفی میں کوئی فرق نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف قبر والے کی تعظیم کے قصد سے اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور قبر والے کی تعظیم کے قصد کے بغیر اس کی قبر کی طرف منہ کیے بغیر اس کے نزدیک بنی ہوئی مسجد میں کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے سے منع نہیں فرمایا، پھر شیخ عبدالعزیز بن باز نے اس کی ممانعت کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیوں کی ہے اور جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی، اس بات کی آپ کی طرف نسبت کرتے وقت انہیں درج ذیل حدیثوں کی وعید میں داخل ہونے کا کوئی خوف اور خطرہ نہیں تھا کہ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے مجھ پر وہ بات کہی جو میں نے نہیں کہی وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے۔ (صحیح البخاری: ۵۰۲ مسند احمد :۱۰۵۲۰- ج ۲ ص ۵۰۴)

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر جھوٹ نہ باندھو، پس جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے وہ دوزخ میں داخل ہوجائے ۔ (صحیح البخاری : 106، مقدمه صحیح مسلم :2، سنن ترمذی : ۳۱۷۵-2660 سنن ابن ماجہ :۳۱ مسند احمد ج 1 ص ۸۳)

باب مذکور کی حدیث کی شرح، شرح صحیح مسلم : ۱۰۷۵- ج ۲ ص 63 پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوان ہیں :

مساجد بنانے کی ذمہ داری

پھل دار درختوں کا کاٹنا 

قبور مشرکین پر مسجد بنانا

 رجز کی تعریف

 حضور کی شعر گوئی۔

 

 

Exit mobile version